کافر سازی کی فیکٹریاں

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم بقائمیء ہوش و حواس خُدا اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عملاً اطاعت کرنے اور اعمالِ صالحہ کے ذریعے دین کے روز مرہ احکامات کو زندہ کرنے کے بجائے تقلید ، مذہبی تقریبات ، مونہہ زبانی عقیدت اور عقائد کے روبوٹ بن چُکے ہیں ۔

اسلام ہمارے لیے تاریخی حوالوں ، ماضی کے واقعات اور رٹے رٹائے کلمات کا وہ پُشتارہ ہے جسے ہم اپنے کندھوں پر اُٹھائے اور پیٹھ پر لادے لادے پھرتے ہیں ، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے اعمال دم توڑ چکے ہیں، جن کی لاشیں ہم دن بھر ڈھوتے رہتے ہیں ۔ ہماری معاشرت ہماری کم مائگی کی بنا پر اسلام کی اعلیٰ اور ارفع قدروں کی واضح تردید بن چکی ہے ۔ ہمارے لیے مذہب ایک کلچرل شو بن چکا ہے جس میں ہم حمدیں ، نعتیں اور قوالیاں سُن کر جھومتے ہیں اور اسی کو دین سمجھتے ہیں ۔

کس قدر افسوس ناک بات ہے کہ ہمارا معاشرہ ہر اعتبار سے ناقابلِ حکومت بن چکا ہے ۔ حکمرانی ، شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ اور مبالغہ آمیز حد تک اسراف پر مبنی پوٹوکول کا نام نہیں بلکہ حکمرانی قانون کی بالادستی کا نام ہے ، جس میں ہر شخص کو خواہ وہ حکومت میں ہو یا حکومت سے باہر ، قانون کی بالادستی کے آگے سرِ تسلیم خم کرنا ہوتا ہے ۔ اور قانون کے احترام اور اطاعت کی ذمہ داری ، عوام سے زیادہ حکمرانوں پر عاید ہوتی ہے کہ وہ قانون کو مقدس جان کر ، اپنے عوام کے لیے اُس کی پابندی کی مثال بنییں اور سب سے پہلے مراعات یافتہ طبقات کو اُس کا پابند بنائیں اور پھر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی شفافیت کی ضمانت لے کر عوام کو قانون کی شاہراہ پر اپنے پیچھے لے کر چلیں ۔

چنانچہ جس ملک کے حکمران قانون کے احترام اور بالادستی میں رہتے ہیں ، قانون کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں ، قانون کے مطابق کھاتے پیتے ، اُٹھتے بیٹھتے ، پہنتے اوڑھتے اور قانون کے مطابق سانس لیتے ہیں، وہاں عوام بھی اُنہی کی چال چلتے ہیں اور قانون کے مطابق زندگی گزارتے ہیں ۔ لہٰذا کسی معاشرے میں لاقانونیت ، جرائم کی بہتات اور کرپشن کی فراوانی اور افزائش اس بات کا واضح ثبوت ہوتی ہے کہ ملک کے حکمران قانون شکن اور کرپٹ ہیں ۔

قانون شکنی جہالت کی سب سے مردود صورت ہوتی ہے ، جس میں بنیادی انسانی حقوق بشمول حقوق العباد بُری طرح پامال ہوتے ہیں ۔ اور وہ معاشرے جو مذہبی بنیادوں پر استوار سمجھے جاتے ہیں ، وہاں جہالت کی وجہ سے مذہب خود اپنی تردید بن جاتا ہے۔ اور لوگ مذہب کے نام پر ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہو جاتے ہیں۔ ملّی وحدت کو پارہ پارہ کردیتے ہیں اور اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مذہبی اداروں کے درمیان دو طرفہ تعاون موجود نہ ہو تو آوے کا آوا بگڑ جاتا ہے ۔ تب مذہب مذہب نہیں رہتا بلکہ ایک سزا بن جاتا ہے اور یہی بات قرآنِ حکیم نے بھی کہی ہے کہ بد کردار لوگوں کو سزا دینے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ لوگوں کو فرقوں میں بانٹ کر آپس میں لڑوا دیا جاتا ہے ۔ اور یہ صورتِ حال بعینہ ویسی ہی ہے جس کا ہمیں آج سامنا ہے۔ کہ اسلام کوجو بنی نوعِ انسان کی وحدت اور امنِ عالم کا علمبردار ہے ، عالمی مذہب کے بجائے فرقہ واریت کے اکھاڑے میں تبدیل کر دینے کی سازش کی جا رہی ہے اور رب العالمین کو رب المسلمین بنا کر رحمت اللعالمینی کے شرف کو محدود کرنے کی ناپاک جسارت کی جا رہی ہے ۔ بر بنائے انا پرستی و جہالت ہر فرقہ دوسرے کے عقائد کو غلط قرار دیتا ہے ، ایک دوسرے پر کافر ہونے کا الزام عائد کرتا ہے ۔

اگر ایک دوسرے کو کافر قرار دینے کی روایت کو سنجیدگی سے لیا جائے تو لگتا ہے کہ ہر فرقہ دوسرے کے عقائد کی کسوٹی پر کافر ہے ، مسلمان تو کوئی بچا ہی نہیں ۔ لگتا ہے یہ فرقہ وارانہ مسالک نہیں بلکہ کافر سازی کی فیکٹریاں ہیں ، جن میں کافر تیار ہوتے ہیں ۔

یہ صورتِ حال صرف پاکستان تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ ایک بین الملکی سازشی تحریک کی صورت اختیار کر گئی ہے ، جس کا تازہ ترین شاہکار سعودی مفتی اعظم عبدالعزیز الشیخ کا وہ فتویٰ ہے، جس میں شیعوں کو غیر مسلم قرار دے کر اُن کو زرتشتی روایات کا حامل گردانا گیا ہے ۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اس فتوے کا سبب ایرانی لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے وہ اعتراضات ہیں جو سعودی حج پالیسی پر کیے گئے تھے، جس کو سعودی حکومت نے دخل در معقولات کہہ کر رد کردیا اور پھر اس کا جواب کفر کے فتوے سے دیا گیا ۔ اس کی سزا تمام شیعہ جمعییت کو ملی اور وہ اسلام کے خیمے سے اُٹھا کر باہر پھینک دیے گئے ۔

یہ صورتِ حال افسوسناک بھی ہے اور شرمناک بھی ، جوایک اعتبار سے ہی نہیں بلکہ ہر اعتبار سے اسلامی ممالک کے رہنماؤں کی علمی ، فکری اور دینی نا پختگی اور ناعاقبت اندیشی کی گواہی ہے۔  جو یہ کہتی ہے کہ اس عہد کے مسلمان سیاسی حکمران اس قابل ہی نہیں کہ وہ اُمتِ محمدیہ کی رہنمائی کر سکیں ۔ یہ ایک ایسی سنگین صورتِ حال ہے جو قیامتِ صغریٰ کی نشان دہی کرتی ہے ۔ اس قیامت میں جو اس وقت مچی ہوئی ہے ، داعش ، طالبان ، شبابِ ملی ، بوکو حرام اور دوسری عسکری تنظیمیں مسلمان ملکوں کی معاشرتوں کو تہ و بالا کر رہی ہیں۔ مگر مسلمان ممالک کے سربراہوں میں وہ مردِ مومن موجود ہی نہیں جو صاحبِ فراست ہو اور اللہ کے نور سے دیکھتا ہو اور اِس فتنے کا تدارک کر سکے جو کسی طور بھی فتنہء کُبریٰ سے کم نہیں ہے ۔ انا للہ و انا لیہ راجعون ۔
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں ؟
ایک ہی سب کا بنی ، دین بھی ، ایمان بھی ایک
کیا بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
وما علینا الالبلاغ