ملک دشمنوں کے دن گنے جاچکے

طب کے ادنیٰ سے طالب علم کی حیثیت سے مجھے معلوم ہے کہ زخم کیسا بھی ہو اگر ابتدا سے ہی اس پر توجہ دی جائے تو اس پر قابو پایا جاسکتا ہے، ورنہ وہی زخم بڑھتے بڑھتے لاعلاج بن جاتا ہے۔ کئی اقسام کے کینسر ایسے ہیں جن کا ابھی تک میڈیکل سائنس علاج دریافت نہیں کر سکی اس کی صرف کوششیں جاری ہیں۔ کیونکہ ایسے اقسام کے کینسر کا اگر آپریشن کر بھی دیا جائے تو اس کی شاخیں وسیع ہونے کے سبب جسم کے کسی اور حصے سے سر نکال لیتی ہیں ، جو قبر کی اندھیری کوٹھری میں پہنچا کر ہی انسان کی جان چھوڑتی ہیں۔

ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے آج تک ایسے کئی قومی زخموں کی پرورش کی ہے۔ ہم نہ تو اس کی ٹھیک طریقے سے تشخیص کر سکے ہیں اور نہ ہی علاج ۔ بغیر آپریشن کچھ کڑوی میٹھی گولیوں سے مرض کا عارضی علاج تو ہوجاتا ہے لیکن مرض اندر ہی اندر بڑھنے سے مزید مشکلات پیدا کرتا ہے۔

یوں تو پاکستان کے وجود کو دنیا کے نقشے پر ابھرے 69برس ہوگئے ہیں۔  ہمارے سیاست دانوں ، ہماری بیوروکریسی اور یہاں کے تاجروں نے اس کے وجود میں جگہ جگہ گھاؤ لگائے۔ پھر اس میں  بددیانتی ، کرپشن کی ’’ٹینکچر ‘‘ بھری جس سے زخم تو ٹھیک نہ ہوا البتہ پھیلتے پھیلتے کینسر کی شکل اختیار کر گیا۔  معاملہ یہاں نہیں رکا۔ جب اس کینسر کی جڑیں پیدا ہوئیں تو انہیں بھی پاکستان کے وجود میں مزید مضبوط کرکے مرض کو بڑھنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا گیا ۔

جنرل سکندر مرزا وہ پہلے فوجی جرنیل تھے جنہوں نے مارشل لاء متعارف کروا کر فوجی جرنیلوں کےلئے اقتدار کے دروازے کھولے۔ جنرل ایوب خان پہلے فیلڈ مارشل اور حکمران تھے جنہوں نے امریکہ سے قرضہ لینے کی لت لگائی ، ذوالفقار علی بھٹو پہلے حکمران تھے جنہوں نے سیاسی انتقام لینے کےلئے ملک میں بڑی بڑی صنعتیں بند کروائیں۔ ساتھ ہی ایف ایس ایف کے نام پر فورس بناکر بدمعاشی کے کلچر کو پروان چڑھا یا۔ جنرل عبداللہ خان نیازی پہلے فوجی جنرل تھے جنہوں نے 71ء کی جنگ میں ڈھاکہ ایئر پورٹ پر ہمارے ازلی دشمن بھارت کے جرنل اروڑہ کو پستول جمع کروائی۔

 ملک کے منتخب وزیراعظم کو جسٹس مولوی مشتاق کی سربراہی میں بنے والے ججوں کے پینل نے پہلی بار 4اپریل1979کو پھانسی کی سزا سنائی ۔ جنرل ضیا ء الحق ملک کے پہلے فوجی حکمران تھے جن کا طیارہ سازش کے تحت 17اگست 1988ء کو بہاولپور میں گرا گیا ، جس میں پاک فوج کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا۔ 1993ء میں وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت فارغ ہوئی تونواز شریف سپریم کورٹ چلے گئے۔ پہلی بار سپریم کور ٹ نے نوازشریف حکومت کی برطرفی کوغیرآئینی قراردیتے ہوئے ان کی بحالی کا حکم جاری کر دیا۔ 12 اکتوبر 1999ء کو جنرل پرویزمشرف نے پہلی بار ملک کے منتخب وزیراعظم میاں نواز شریف کے خلا ف طیارے کواغواکرنے کامقدمہ بنایا اورعدالت نے سماعت کے بعد نوازشریف کوقید کی سزاسنائی۔

جنرل پرویز مشرف کے دور اقتدار 2007 ء میں پہلی بار سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو غیر فعال کیا گیا۔ اسی سال 5 اکتوبر کو قومی مصالحتی آرڈیننس (این آر او) کے تحت 8041 ا فراد کے کالے دھن کو سفید کرکے ان کے خلاف مقدمات ختم کر دیئے گئے۔ وکلا کی کامیاب تحریک کے بعد 22مارچ 2009ء کو پہلی بار چیف جسٹس افتخار محمد چودھری بحال ہوئے۔

2011 میں بدنام زمانہ  میمو گیٹ سکینڈل سامنے آیا، جسے حکومت اور ملکی اداروں نے ملی بھگت سے دبا دیا ۔  آخر میں بیرون ممالک میں آف شورز کمپنیوں بنانے پر رواں سال 17اپریل کو پانامہ سکینڈل کی دستاویزات سامنے آئیں جس میں وزیر اعظم میاں نوازشریف سمیت دو سو سے زائد پاکستانیوں کے نام ہیں جنہوں نے ملکی پیسہ لوٹ کر باہر کی فرضی کمپنیوں میں منتقل کیا۔  یہ پاکستان کے وجود میں پھیلنے والے کینسر کی اقسام تھیں جنہیں میں نے اپنی ناقص تحقیق کے ذریعے آپ تک پہنچایا ہے۔

یہاں کوئی نیا پاکستان بنانے کا عندیہ دے رہا ہے کوئی پاکستان بدلنے کا، کوئی پاکستان بچانے کا لیکن عملی اقدامات کہیں نظر نہیں آرہے ۔ قوم کو بیوقوف تو بنایا جاسکتا ہے ، لیکن دھرتی ماں کو دھوکہ نہیں دیا جاسکتا۔ اس کی بنیادوں میں ان شہدا کا خون ہے جن کی روحیں تمہاری چالاکیوں سے بخوبی واقف ہیں۔ ملک کو کینسر زدہ کرنے والوں کے دن گنے جاچکے۔۔۔