کچھ ابن خلدون کے بارے میں ۔ 4

  • تحریر
  • جمعہ 09 / ستمبر / 2016
  • 8252

اس ملاقات میں ابن خلدون کی ایک درخواست پر تیمور نے اس سے کہا کہ شہر سے نقل مکانی کر کے لشکر گاہ میں آ جائے اور اس کے پاس قیام کرے، وہ انشاء اللہ اس کی بڑی سے بڑی خواہش پوری کر دے گا۔ ابن خلدون کا بیان ہے کہ اس پر میں نے اس کا شکریہ ادا کیا، اسے دُعا دی اور کہا ’’میری ایک اور درخواست بھی ہے۔‘‘ اس نے پوچھا ’’وہ کیا ہے‘‘ میں نے جواب دیا! یہ معلمینِ قرآن، یہ معتمدین، یہ دفتری عہدے دار اور عُمال جنھیں سلطانِ مصر اپنے پیچھے چھوڑ گیا ہے، ان کے لیے امان نامہ چاہتا ہوں، تاکہ وہ اسے ضرورت پڑنے پر دکھا کر اپنا بچاؤ کر سکیں۔ اس نے کاتب کو حکم دیا ’’ان کے لیے اس قسم کا امان نامہ تحریر کردو۔‘‘

ابن خلدون 10 جنوری 1401 کو تیمور سے پہلی بار ملا تھا۔ اس کے بعد اس فاتح کے ساتھ اس کا تعلق اسی سال فروری کے آخر تک رہا اور اس دوران میں ان کے درمیان کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ ابن خلدون نے تیمور کے ساتھ جو ربط رکھا تو اس سے اس کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ دنیا کے فاتح اور تاریخ کے بڑے صورت گر کس طرح کی شخصیت کے مالک ہوتے ہیں۔ دوسری طرف تیمور جو دنیا کو فتح کرنے نکلا تھا جانتا تھا کہ ابن خلدون جیسے وسیع النظر اور تجربہ رکھنے والے شخص کی اس کے دربار میں موجودگی اس کے لیے کتنی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ چناںچہ اس صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے ابن خلدون سے شمال مغربی افریقہ کے ملکوں کے جغرافیائی اور سیاسی حالات کے بارے میں کرید کرید کر سوالات کیے اور اس کے جواب سننے کے بعد اس سے کہا کہ وہ اس کے لیے ان علاقوں کا مفصل بیان قلم بند کر دے۔ اس کی نیت دراصل یہ تھی کہ ان کا منگولی زبان میں ترجمہ کر کے اپنی اور اپنے فوجی مشیروں کی راہ نمائی کے کام میں لائے۔ ابن خلدون نے تیمور کے ہاں اپنے قیام کے زمانے میں ایک مفصل رسالہ اس موضوع پر لکھ کے دے دیا۔ لیکن جب وہ کچھ عرصہ بعدبہ حفاظت مصر پہنچ گیا تو اپنے ضمیر کی خلش دور کرنے کے لیے اس نے اتنا ہی طویل رسالہ شمال مغربی افریقہ کے حکمران (غالباً فاس میں مرینی حاکم) کے نام لکھ کر بھیجا، یہ بتانے کے لیے کہ تاتاری کس قسم کے لوگ ہیں اور کس ارادے سے اپنے ملک سے نکلے ہوئے ہیں اور ان کا امیر تیمور کس طرح کی شخصیت کا مالک ہے۔ مقصد یہ تھا کہ شمال مغربی افریقہ کی ریاستیں تاتاری پیش قدمی کے خطرے سے آگاہ رہیں۔

ابن خلدون ابھی تیمور کے ہاں قیام پذیر تھا جب اس فاتح نے پوری شدت کے ساتھ قلعے کا محاصرہ کیا۔ اس کے سامنے منجنیقیں اور آگ اور پتھر برسانے والی مشینیں اور شگاف ڈالنے والی توپیں نصب کر دیں۔ اہل قلعہ پر محاصرہ سخت تر ہوتا گیا اوراس کی دیواریں ہر طرف سے گرنے لگیں۔ اس پر ان لوگوں نے جو اس کی حفاظت پر مامور تھے امان طلب کی، جن میں بہت سے ایسے لوگ بھی تھے جو سلطان مصر کی ملازمت میں رہ چکے تھے اور ایسے بھی تھے جنھیں وہ اپنے پیچھے چھوڑ گیا تھا۔ تیمور نے ان کو امان دے دی اور وہ اس کے حضور میں لائے گئے۔ شہر کے باشندوں سے اس نے عقوبت دے دے کر بہت سا روپیہ حاصل کیا اور ساتھ ہی وہ تمام املاک اور گھوڑے اور خیمے بھی اپنے قبضے میں لے لئے جنہیں سلطان مصر اپنے پیچھے چھوڑ گیا تھا۔ اس کے بعد اس نے اجازت دے دی کہ شہر کے باشندوں کے مکانات لوٹ لیے جائیں اور ان کا تمام سازوسامان اور مال و متاع چھین لیا جائے اور گھروں میں دیواروں اور چھتوں کو آگ لگا دی جائے۔ یہ آگ جلتی رہی یہاں تک کہ وہ جامع مسجد تک پہنچ گئی۔ ابن خلدون نے یہ سب کچھ دیکھ کر اتنا کہا کہ یہ فعل بے حد بزدلانہ اور قابل نفرت ہے، لیکن انسانی امور خدا کی دستِ تصّرف میں ہیں، وہ اپنی مخلوق کے ساتھ جیسا چاہتا ہے سلوک کرتا ہے اور اپنی شہنشاہی میں جس طرح سے چاہتا ہے حکم کرتا ہے۔

تیمور کے ساتھ اپنی آخری ملاقات کا ذکر ابن خلدون ان الفاظ میں کرتا ہے:
’’جب تیمور کے سفر کا زمانہ قریب آیا اور اس نے دمشق چھوڑنے کا ارادہ کرلیا تو میں ایک دن اس کی خدمت میں حاضر ہوا۔ باہمی سلام و دُعا کے بعد وہ میری طرف متوجہ ہوا اور کہا ’’کیا تمھارے پاس کوئی خچر ہے؟‘‘ میں نے جواب دیا ’’ہاں‘‘ اس نے کہا ’’کیا وہ اچھا ہے؟‘‘ میں نے جواب دیا ’’ہاں‘‘ اس نے کہا ’’کیا تم اسے فروخت کرو گے؟ میں تم سے اسے خریدنا چاہتا ہوں‘‘ میں نے جواب دیا ’’اﷲ آپ کو نصرت عطا فرمائے مجھ جیسا آدمی آپ جیسے آدمی کے ساتھ خرید و فروخت نہیں کر سکتا۔ البتہ میں اظہار عقیدت کے طور پر اسے آپ کی خدمت میں پیش کئے دیتا ہوں۔‘‘ اس نے کہا ’’ میرا مطلب محض یہ تھا کہ میں تمہیں اس کا صلہ فیاضی سے دوں...‘‘
وہ خاموش ہوگیا اور ساتھ ہی میں بھی۔ دربار میں میری موجودگی کے دوران میں خچر اس کے پاس لایا گیا اور پھر میں نے اسے نہیں دیکھا۔‘‘

اس ملاقات کے بعد تیمور نے ابن خلدون کو اپنے اہل و عیال میں اور اپنے لوگوں میں واپس جانے کی اجازت دے دی۔
مارچ 1401 میں ابن خلدون پانچ چھہ ماہ کی غیر حاضری کے بعد مصر واپس آیا۔ سوائے اُن تاریخوں کے جن میں وہ قاضی کے عہدے پر تعینات ہوا اور پھر سے علاحدہ کر دیا گیا ہم اس کی زندگی کے آخری پانچ سالوں کے متعلق بہت کم جانتے ہیں۔ وہ اپریل 1401 میں تیسری بار قاضی مقرر ہوا اور مارچ 1402 میں سبکدوش کر دیا گیا۔ پھر جولائی 1402 میں وہ قاضی تعینات ہوا اور ستمبر 1403 میں علاحدہ کر دیا گیا۔ اس کی اگلی تقرری 11 فروری 1405 کو ہوئی اور اس دفعہ اس کی مدت ملازمت مئی 1405 کے آخر تک رہی۔ اس کی آخری تعیناتی مارچ 1406 میں ہوئی اور اس کے کچھ ہی دن بعد بدھ 17 مارچ 1406 کو موت نے اچانک اسے اپنے عہدے سے سبکدوش کر دیا۔ وہ قاہرہ کے بابِ نصر کے باہر صوفی قبرستان میں دفن ہوا۔

مشرق اور مغرب میں ابن خلدون کی ساری شہرت اس کے ’’مقدمے‘‘ کی وجہ سے ہے۔ جن دنوں میں عربی زبان و ادب کا مطالعہ کر رہا تھا، میں نے مولانا مسعود عالم ندوی کے ایک مختصر سے رسالے ’’عربوں کی قومی تحریک‘‘ میں ان کی ایک تحریر دیکھی جس میں انہوں نے لبنان کے بُستانی خاندان کی (جو مذہباً عیسائی تھا) عربی زبان و ادب کی جلیل القدر خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ’’سلیمان بستانی نے ہومر کی ایلیڈ کا عربی نظم میں کام یاب ترجمہ کیا جو ’’الیاذہ ہومیروس‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ سلیمان بستانی کا لکھا ہوا الیاذہ کا مقدمہ عربی زبان میں ابن خلدون کے مقدمے کے بعد دوسرا مقدمہ شمار کیا جا سکتا ہے۔‘‘ مولانا مسعود عالم کی یہ رائے پڑھ کر، جو ایک لحاظ سے میرے ہادی اور مرشد تھے، میں نے عربی میں’’ مُقدمہ ابن خلدون‘‘ کی تلاش شروع کردی، اور بالآخر اسے حاصل کرنے میں کام یاب ہوگیا۔