ستمگر ستمبر کیا گل کھلائے گا
- تحریر
- ہفتہ 10 / ستمبر / 2016
- 6614
امریکہ اور دنیا کو ستمبر نائین الیون کی وجہ سے یاد رہتا ہے لیکن اپنے ہاں اب دھیرے دھیرے یہ کسی ان دیکھے ستم کے انتظار اور خوف کا استعارہ بن گیا ہے۔ پیش گو ئیوں کے ماہر اپنی تمام ناکام پیشگوئیوں کے اسی مہینے میں وجود پزیر ہونے کے دعویدار ہیں۔ بلکہ اس دعوے کو کسی مہم کی طرح ستمگر ستمبر کا نام بھی دے ڈالا ہے۔
اس مہینے کا آغاز لاہور اور راوالپنڈی میں دو ریلیوں سے ہوا۔ جس دھمکی کا سال بھر سے شہرہ تھا اس کا بالآخر شیڈول آ ہی گیا۔ پی ٹی آئی نے 24 ستمبر کو رائے ونڈ کا رخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ابھی اعلان کی گونج مان نہ پڑی تھی کہ تاریخ میں ممکنہ تبدیلی کی بات بھی چل نکلی ہے۔ اب دیکھیں رائے ونڈ کے جانب ریلی نکلتی ہے یا اس کا رخ یہ ستمگر ستمبر کسی اور جانب موڑ دے گا۔
ہم ستارہ شناس ہیں نہ واقعات کی چال کے ماہر، لہٰذا آنے والے چند ہفتوں کے بارے میں قطعیت کے ساتھ کچھ کہنے سے قاصر ہیں لیکن کچھ جانے پہچا نے انداز ضرور دیکھ رہے ہیں۔ ان میں سے ایک انداز ہے پارلیمنٹ کو نظر انداز کرنے کا یا صرف بوقتِ ضرورت گلے لگانے کا۔ بقول چیرمین پی ٹی آئی تمام فورمز سے مایوس ہو کر سڑکوں پر نکلنے کے باوجود وہ قو می اسمبلی میں ہی یہ بتانے کے لیے آئے کہ ان کے نزدیک سپیکر اب سپیکر نہیں رہے۔ ابھی وہ یہ بتا کر اسمبلی سے نکلے ہی تھے کہ اپوزیشن نے بھی علامتی واک آؤٹ کیا۔
اپوزیشن کو گلہ یہ تھا کہ حکومت نے اسمبلی کو بائی پاس کرنے کی عادت ہی بنا لی ہے۔ قومی اور سینیٹ کے اجلاسوں کا شیڈول طے ہونے کے باوجود حکومت نے ٹیکس کا ترمیمی آرڈینینس نافذ کر ڈالا اور اب بڑی معصومیت سے اسے اسمبلی میں پاس کرانے لے آئے ہیں۔ چند دن ٹھہر جاتے تو کیا برا تھا۔ اب حکومت اسے جوں کا توں منظور کرنے پر مصر ہیں۔ اپوزیشن اگر اس میں کچھ ترامیم کی بات کرے گی تو حکومت اپنی عددی اکثریت سے اسے ہمیشہ کی طرح بلڈوز کرنے پر کمر بستہ ہے۔ یہ رویہ پارلیمنٹ کے احترام کے بھی خلاف ہے اور قومی اسمبلی کے بنیادی مقاصد سے بھی انحراف ہے۔ بقول نوید قمر قومی اسمبلی کے دو ہی بنیادی مقاصد ہیں، سالانہ بجٹ منظور کرنا اور ملک کے لیے قانون سازی کرنا۔ اگر حکومت کو گلشن کے کاروبار آرڈی نینس سے ہی چلانا ہیں تو ہم تو چلے واک آؤٹ پر۔
جمہوریت میں پارلیمنٹ ہی تبدیلی کا محورہوتی ہے۔ حکومتی تبدیلی کے لیے بھی اور گورنینس کے ڈھانچے میں تبدیلی کے لیے بھی۔ لیکن کیا کیجیے کہ ہمارے ہاں تبدیلی سڑکوں پر ڈھونڈی جا رہی ہے اور گورنینس کے لیے آرڈی نینس کا سہارا لینا معمول کی بات ہے۔ ایسے میں جمہوریت کی مضبوطی کی باتیں بے وزن سی لگتی ہیں۔ ستمبر حکومت کے لیے ستم گر ہو گا یا یا اپوزیشن کے لیے ہلال عید ، یہ تو دعائے خیر مانگنے والے جانیں یا امید دلانے اور باندھنے والے ۔ ہمیں یہ ستمبر بھی باقی مہینوں کی طرح ضائع ہوتا ہوا ایک اور مہینہ دکھائی دے رہا ہے۔
اس مہینے کی پہلی اچھی خبر یہ ہے کہ بند پڑی پاکستان اسٹیل مل کے ملازمین کو حکومت نے دو مہینوں کی تنخواہیں ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ بقول ایک معاصر ان ملازمین کے ہاں عید کے دنوں میں چولہے جلیں گے۔ اس خبر کا دوسرا پہلو ہماری ریاست کی اہلیت کا پول کھول رہا ہے کہ ملک کا سب سے بڑا صنعتی ادارہ مسلسل عہد بہ عہد کرپشن اور بد انتظامی کی وجہ سے نہ صرف بند پڑا ہے بلکہ گلے کا ہار ہو چکا۔ اونے پونے داموں بیچنے کی کوشش کو چند سال قبل سپریم کورٹ نے روکا۔ موجودہ حکومت نے یہ ڈھول حکومت سندھ کے گلے میں باندھنے کی کوشش کی لیکن حکومت سندھ نے دامن بچا لیا۔ دنیا بھر میں اسٹیل انڈسٹری ترقی کررہی ہے، پاکستان میں میں بھی سالانہ اربوں ڈالر کا اسٹیل اور اسٹیل پراڈکٹس درآمد ہو رہے ہیں لیکن پاکستان اسٹیل مل کی قسمت ہے کہ بند کی بند ہے ۔
ایک سٹیل مل ہی کیا ، جس لوڈ شیڈنگ کا اتنا شور و غوغا ہے، اس سیکٹر میں موجود پیداواری صلاحیت installed capacity ضرورت سے کہیں زائد ہے۔ ( ہماری معلومات کے مطابق بائیس ہزار میگا واٹ کے لگ بھگ) لیکن اس کے باوجود ملک گذشتہ نو دس سالوں سے اندھیروں میں بھٹک رہا ہے۔ آئی پی پی کے ساتھ معاہدے کچھ اس طرح کے ہیں کہ بند ہونے کے باوجود حکومت پیداواری گنجائش کے لیے ادائیگی کی پابند ہے۔ زیادہ تر اداروں کی مشینری فرسودہ ہے ۔ نئی ٹیکنالوجی میں ایندھن کا استعمال بہت کفایتی ہو چکا لیکن ہم انہیں فرسودہ اداروں کے ساتھ جلد بازی اور مصلحت پسندی کے کیے ہوئے معاہدوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ لوڈ شیڈنگ کے سیاسی ہتھیار کے خوف کا یہ عالم ہے کہ سی پیک کے چھیالیس ارب ڈالرز کے وسائل میں سے چونتیس ارب ڈالر بجلی منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ ترجیحات سیاسی مصلحت کے تابع ہوں تو یہی کچھ ہو سکتا ہے۔ جہاں اپوزیشن کو ستمبر کے ستم سے آگے دکھائی نہ دے اور حکومت کو الیکشن سال 2018 سے اِدھر کچھ دکھائی نہ دے تو اس ملک کے آنے والے وقت کی فکر کون کرے؟
دنیا کے امیر ترین ممالک جی 20 کی سربراہی کانفرنس اسی ہفتے چین کے شہر ہوانگ ذو میں ہوئی۔ ہم دنیا کا چھٹا سب سے بڑا ملک ہونے کے دعوے دار ہیں لیکن دنیا کی پہلی پچاس معیشتوں میں بھی شامل نہیں۔ سو جی 20 سے ہماراکیا لینا دینا۔ ہاں مگر دو باتیں ہمیں کھٹکیں۔ اول جس دشمن کو صبح شام رگیدتے ہیں وہ ان سربراہان میں براجمان تھا۔ دوم یہ کہ چین جس کی صنعتی ترقی نے دنیا کو بے آرام کیا ہوا تھا، اس کے صدر کو اب پریشانی ہے کہ دنیا کی معیشت کی کمزوری جا نہیں رہی۔ اوور کیپیسٹی جان کا وبال بن گئی ہے۔ بینک آف جاپان کے سربراہ کہتے ہیں کہ منفی شرح سود بھی بیکار گئی کہ معیشت کی زردروئی نہیں جا رہی۔ عالمی بینک کے ماہر فرماتے ہیں کہ شرح سود کم کرکے معیشت میں جان ڈالنے کا حربہ اپنی افادیت کھو چکا۔ اب کچھ نیا کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ اور یورپ میں نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری نے ضبط کے کئی بندھن توڑے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ ہوں یا یورپ میں بڑھتی ہوئی بنیاد پرست کٹر سیاسی دھڑوں کا ظہور، ان کے ڈانڈے معیشت کی ناآسودگی سے جا ملتے ہیں۔ اسی ہفتے آسیان کا اجلاس ہوا تو بھی معیشت ہی زیر بحث رہی۔ دنیا کے امیر ممالک پریشان ہیں کہ شرح نمو کیسے بحال کی جائے؟ عالمی معیشت کی افزائش کیسے برقرار رکھی جائے؟ لیکن ہمارے ہاں ان مضامین کے بارے میں سوچنے کی فرصت ہے نہ یارا کہ ستمبر کا ممکنہ ستم ہی گلے کی ہڈی بن گیا ہے۔
گزشتہ سال کے مالیاتی اعدادوشمار حتمی شکل میں سامنے آگئے ہیں۔ بجٹ خسارہ 4.6% رہا۔ اخراجات میں سب سے بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی کا ہے۔ دفاع اور ڈیویلپمنٹ کل ملا کر بھی قرض ادائیگیوں سے کم ہیں۔ تمام کوششوں کے باوجود ٹیکس جی ڈی پی شرح میں اضافہ نہیں ہو سکا۔ برآمدات گذشتہ سال سے بھی کم ہیں۔ ترسیلات زر نے جو بھرم رکھا تھا اس کی خیر ہو کہ سعودی عرب اور مڈل ایسٹ میں ورکرز کی چھانٹی زیادہ اور بھرتی کم ہو رہی ہے۔ عالمی معیشت میں مندی کی وجہ سے اشیاء اور اجناس کی قیمتیں بدستور نچلی سطح پر برقرار ہیں۔ دنیا کے چھٹے سب سے بڑے ملک پاکستان میں گزشتہ سال بھر میں کل براہ راست سرمایہ کاری فقط 1.2 ارب ڈالر رہی۔ زر مبادلہ کے ذخائر کا آسرا انہی انڈیکیٹرز پر ہے۔ اعتماد کو بے اعتمادی کی ٹھوکر لگنے کی دیر ہے، یہ ذخائر سب سے پہلے زد میں ہوں گے۔ سیاسی استحکام میں عدم استحکام کا رخنہ در آیا تو معیشت کا ستر سب سے پہلے کھلنے کا اندیشہ ہے۔
دنیا کو اپنی معیشت کی فکر کھائے جا رہی ہے کہ مظبوط معیشت ہے تو سیاست بھی ہے ورنہ ستم ہی ستم۔ لیکن ہمیں ستاروں کی چال کی فکر کھائے جا رہی ہے۔ اپنے چال چلن کی فکر ہے نہ پریشانی ۔ ایسے میں ستمبر کا مہینہ ہو یا کوئی اور مہینہ، خود رسیدہ ستم سے اس قدر آسانی سے جان چھوٹنے والی نہیں ۔