جمہوریت کے پاسدار کسان، مگر کیسے؟

اگر آپ تربوز بوئیں اور امید رکھیں کہ کھلیان سے آپ زعفران کی فصل اٹھائیں گے تو یہ دیوانے کا خواب نہیں تو اور کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں جس قدر سیاسی جماعتیں جمہوریت کی دعوے دار ہیں، اسی قدر مسلح افواج بھی جمہوری نظام کا دعویٰ کرتی ہیں۔ اگر آپ حلف اٹھانے والے کسی منتخب وزیر اعظم کی جمہوریت کے حوالے سے تقریر اٹھا کر دیکھ لیں اور اس کا موازنہ کسی آمر کی طرف سے آمریت مسلط کرتے ہوئے تقریر سے کریں تو دونوں میں کوئی فرق نہیں ہوگا۔ دونوں ہی جمہوریت کا درس دیتے ہوئے نظر آئیں گے۔

آمریت جب حکومت سازی کا کام مکمل کر لیتی ہے تو آپ کو آمرانہ حکومت میں وہی چہرے مکمل شان و شوکت سے نظر آئیں گے جو جمہوری حکومت میں بھاگ دوڑ کر کے ملک کی ترقی، خوش حالی اور عوامی خدمت کر تے نظر آرہے تھے۔ آپ ذرا میاں نوازشریف، وزیر اعظم پاکستان کی 1999ء میں ختم ہونے والی حکومت میں شامل وزرا اور اعلیٰ عہدے داروں کو ایک دو سال بعد جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت میں دیکھ لیں۔ یا پھر جنرل پرویز مشرف کی آمرانہ حکومت میں متحرک چہروں پر نظر دوڑائیں،ا ن میں سے تقریباً تمام موجودہ حکومت میں موجود ہیں، سوائے ان کے جو زندگی کے ریٹائرڈ لمحات گزارتے ہوئے اپنی تکان دور کر رہے ہیں۔

تو پھر سوال یہ ہے جمہوریت کہاں آئی؟ صرف انتخا بات کا نام جمہوریت ہے؟ بالکل نہیں۔ جمہوریت میں جمہورنہ ہوں تو ایسا ہی نقشہ ابھرتا ہے جو ہمارے ہاں شروع دن سے بنتا بگڑتا آرہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پنجاب میں حکومت کیا عوام کے پاس ہے؟ چلیں چھوڑیں عوام کو۔ کیا حکومت مسلم لیگ(ن)کے اندر تقسیم ہے؟ کیا صوبے میں حکومت ہر سطح پر موجو دہے؟ ہر ضلع،  تحصیل اور ٹاؤن میں؟ بالکل نہیں! حکومت وزیر اعلیٰ ہاؤس سے شروع ہوتی ہے اور وہیں پر ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے ساتھ دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ ایسی جمہوریت میں جو منتخب ووٹوں سے آتی ہے، اس دوران کروڑوں انسانوں کی زندگیاں کیوں نہیں بدلتیں؟ چند ہزار یا چند سو لوگ ارب پتی کیوں اور کیسے بن جاتے ہیں؟ آخر ایسی آمریت اور جمہوریت کے پاس وہ کون سی جادو کی چھڑی ہے جس کا جادو صرف مخصوص لوگوں کی زندگیوں کو بدلتا ہے۔ وہ جادو حکمرانی کا ہے۔ اقتدار کو محدود سطح تک رکھنے کا ہے۔ جیسے اسلام میں دولت کا ارتکاز ناجائز ہے، اسی طرح اقتدار کا ارتکاز یقیناً غیر جمہوری عمل ہے۔ اقتدار اور دولت کا ارتکاز جمہوریت کا قاتل ہے۔ اسی لیے ایک وقت آتا ہے کہ لوگ ووٹوں سے منتخب ہوئے بغیر مسیحا کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔

پاکستان ایک زرعی ملک ہے، لیکن میرے سامنے ایسی کوئی مثال نہیں کہ میاں نواز شریف، شہباز شریف یاکسی اور منتخب حکمران نے کہا ہو، پاکستان کسانوں کا ہے جن کے سر پر ساری ریاست بلکہ خطہ چل رہا ہے، جن کی پیداوار سے سارا نظام چل رہا ہے۔ اور کسی منتخب حکمران نے کہا ہو کہ پاکستان کسانوں کا ہے، ہم کسانوں کو دورِ غلامی سے نکال کر دورِآزادی میں داخل کرنا چاہتے ہیں۔ اُن کو چند ایکڑ کا مالک، گاؤں میں چند مرلے کا مکان اور ان کی بستی کو وہ سب کچھ دینا چاہتے ہیں جو دنیا کی کوئی جدید جمہوریت دے رہی ہے۔ جب یہ سب کچھ کرلیں تو پھر دیکھیں کوئی طالع آزما کیسے آپ کی جمہوریت (حکمرانی) پر شب خون مارسکتا ہے۔

لیکن اگر آپ کا تصورِجمہوریت یہ ہے کہ مریم نواز سمیت خاندان کے ستر کے قریب لوگوں کی حکمرانی کو جمہوریت قرار دیتے ہیں، جو لوگ دِن رات جمہوریت کے نام پر حکمرانی میں مصروف ہیں۔ تو پھر اوپر سے برآمد ہونے والے مسیحا اور اس کے ہم نوا، لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیں تو اچنبھے کی بات نہیں۔ چلیں ہم یہ بھی قبول کرنے کے لیے تیار ہیں کہ اگر کسی منتخب حکومت نے پاکستان کی ملکیت کے حقوق اس کی تقریباً70فیصد آبادی (کسان) کو دینے کا آغاز کیا ہو اور اس عمل کے دوران اُن کے خلاف فوج اور جاگیرداروں کی بغاوت سراٹھالے اور اُن کو اقتدار سے باہر پھینک دے تو ہم کہیں گے جمہوریت اپنی پٹڑی پر چل رہی تھی، طالع آزما پاکستان کی ملکیت کے حقوق اس کی اکثریت کو دینے پر نالاں تھے۔

کسان جمہوریت میں کیوں اہم ہیں؟ دنیا کی کوئی بھی جدید جمہوریت ہو، اس کا پہلا سماجی تقاضا جاگیرداری کا خاتمہ ہی نہیں بلکہ کسان، دہقان کو مکمل حقوق دینا ہے۔ جاگیرداری اور جمہوریت ایک دوسرے کا تضاد ہیں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ہر جمہوریت میں، چاہے ذوالفقار علی بھٹو شہید کی جمہوریت ہو ، جاگیردار ہی اس میں حکمران بن جاتے ہیں۔ اگر ذوالفقار علی بھٹو نے زرعی اصلاحات سے بڑھ کر جاگیرداری نظام کا مکمل خاتمہ کیا ہوتا اور پاکستان کے تمام کسانوں کو سر زمینِ پاک میں سے چند ایکڑ زمین کا مالک بنا دیا ہوتا تو 5جولائی1977ء کو جنرل ضیاالحق کو آدھی رات کو منتخب وزیراعظم کو فون کر کے یہ اطلاع دینے کی جرأت نہ ہوتی کہ ’’آپ کی حکومت ختم ہو چکی ہے، ہم نوے دن کے لیے آئے ہی۔ غلط فہمیاں بڑھ گئی تھیں۔ افسوس، یہ قدم اٹھانا پڑا۔‘‘  ذوالفقار علی بھٹو تاریخ کا شعور رکھتے تھے۔ انہوں نے مسلح افواج کے سالار کے فون پر ردِعمل دینے کی بجائے اپنے آپ کوفوج کی تحویل میں دے دیا۔ بعد میں پھانسی کی کوٹھڑی میں انہوں نے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب ’’اگر مجھے قتل کر دیا گیا‘‘ میں یہ بتایا کہ اُن کی سب سے بڑی غلطی دو طبقات کے درمیان مفاہمت ہے جو کہ ایک یوٹوپیائی بات ہے۔ اوپری اور نچلے طبقات کے درمیان مفاہمت اور اسی مفاہمت کے نتیجے میں ہی پھانسی کی تنگ کوٹھڑی میں موت کی سزا کا منتظر ہوں۔

معذرت کے ساتھ میاں نواز شریف کا ذوالفقار علی بھٹو سے کوئی مقابلہ  نہیں ہے۔ اگر وہ اس جبر کے سامنے بے بس نظر آئے تو نواز شریف  کی تو حیثیت ہی کچھ نہیں۔ اُن کے کسی بچے ، بچی، چاچے ، مامے، سمدھی، سالے، پھوپھو کے بیٹے نے نہ کسی مِل کا پرمٹ لیا اور نہ ہی دولت کے انبار لگائے۔ اور یہ بھی کہ ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کے باہر تو کیا ملک کے اندر بھی ناجائز یا جائز آمدن سے کاروبار نہیں کیے۔ وہ ایسی آمریت کے سامنے اس لیے بھی بے بس نظر آئے کہ انہوں نے پاکستان میں جمہوریت کا پہلا حقیقی سماجی ستون ہی کھڑا نہیں کیا کہ کسانوں کو ادھورے نہیں مکمل اختیارات کا مالک نہیں بنایا۔ وہ صرف پابند سلاسل ہی نہ ہوئے نہ ہی جلاوطن بلکہ اُن کو اس دنیا سے جلاوطن کر دیا گیا۔ اگر وہ جمہوریت کے اِس پہلے ستون ، یعنی کسان کو اس دھرتی کا مالک بنا دیتے تو فوجی طالع آزما اور نہ ہی امریکی سامراج اُن کو اقتدار سے باہر کر سکتا تھا۔

جدید جمہوریت کا دوسرا اہم ستون سیکولرازم ہے ۔ جی ہاں۔ اس کے بغیر لفظ جمہوریت ایک ادھورا تصور ہے۔ آپ جس ترکی پر مرتے ہیں، اُس کی جمہوریت میں یہ ستون بنیاد ہے اور یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ اس جمہوریت کے بھی یہ دو ہی ستون اہم ہیں جنہوں نے پچھلے نوے سالوں میں وہاں کی جمہوریت کو مضبوط کیا۔ کسان اور سیکولرازم۔ یہ باتیں کتابی نہیں حقیقی ہیں۔ اور اگر آپ یہ یقین کیے بیٹھے ہیں کہ تربوز بیج کر خوشبو دار زعفران حاصل کریں گے تو آپ شوق سے کوشش کر دیکھیں۔ سڑکیں، شاہراہیں، فلائی اوور، لائٹ ریل ٹرینیں، تیسری دنیا کے سادہ لوگوں کے لیے پولٹیکل سائنس میں کھلونے کے طور پر پڑھائی جاتی ہیں کہ حکمران اپنے عوام کی اِن جدید کھلونوں سے کھیلنے میں مصروف کر دیتے ہیں اور وہ غربت میں اس عیاشی پر پھولے نہیں سماتے۔

اگر آپ جمہوریت کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں تو پاکستان کے حقیقی مالک اس کے کسان اور دیہات ہیں۔ انہیں وہ سب کچھ دے دو یا دینے کا آغاز کر دو، ایک ہی بات ہے۔ پھر دنیا کی کوئی طاقت جمہوریت کو پاکستان سے اکھاڑ نہیں سکتی۔ نظریۂ پاکستان کی تعریف میرے نزدیک یہی ہے۔ پاکستان جن کے لیے بنایا تھا، یعنی کسانوں کے لیے، اکثریت آبادی کو اقتدار کا مالک اور وسائل کا مالک بنا دواور اکثریتی آبادی کسان ہیں۔ اُن کو اُن کا پاکستان دے دو، وہ جمہوریت کے محافظ بن کر خود ایسی جمہورتیوں کا دفاع کریں گے۔

قلم کار اور کالم کار آج آپ کا دفاع کر رہے ہیں، کل آمریت کا کرتے تھے۔ اپنے اردگرد جمع ہونے والے لوگوں کو کیا آپ جنرل مشرف اور جنرل ضیا کے قریب نہیں دیکھتے  رہے؟