چانسلر انجیلا مرکل پر شدید سیاسی دباؤ
جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل پراُن کی حکومت میں شامل کرسچئین ڈیموکریٹک یونین پارٹی (سی ایس یو) کی جانب سے شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ جرمنی کی امیگریشن پالیسیوں کو تبدیل کرتے ہوئے انہیں سخت ترین کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں ۔
سی ایس یو پارٹی نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ مسلمان تارکین وطن پر مسیحی تارکین وطن اور مہاجرین کو ترجیح دی جائے ۔ اور مسلمان خواتین کے حجاب و نقاب اوڑھنے پر مکمل پابندی لگا دی جائے ۔ اور ملک میں آنے والے تارکین وطن اور مہاجرین کو پابند کیا جائے کہ وہ جرمن قوانین و سماجی اقدار کا احترام کریں ۔ اور انہیں جرمن زبان سکھانےکے ساتھ ساتھ جرمن معاشری رسوم و اقدار سے یوں آشنا کرایا جائے تاکہ وہ سماج میں انٹگریٹ ہو سکیں ۔ پچھلے سال جرمنی نے ایک ملین سے زائد مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دی تھی جن میں اکثریت کا تعلق شام سے تھا ۔
ان مہاجرین کی جرمنی میں آمد کے بعد ملکی سطح پر اور خاص کر علاقائی سطحوں پر انتہائی دائیں بازو کی پارٹیاں اور تارکین وطن مخالف نئے نازیوں کے گروپوں کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے اور یہ گروپ سیاسی طور پر مقامی و ریاستی سیاست میں کافی مضبوط ہوتے جا رہے ہیں۔ کئی ریاستوں میں خاص کر سابق مشرقی جرمنی کے علاقے میں ان نئے نازیوں اور دوسرے انتہا پسند اینٹی امیگرنٹ گروپوں نے مقامی انتخابات میں چانسلر انجیلا مرکل کی پارٹی کو پیچھے دھکیل دیا ہے اور مبصرین کے مطابق اگرچہ اب تک انجیلا مرکل اپنی معتدل امیگریشن پالیسیوں کا دفاع کرتی آ رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ مصیبت کے مارے بے سروسامان مہاجرین کو ملکی قانون اور عالمی کنونشنوں کے تحت سہولتیں مہیا کرتی رہیں گی۔ لیکن آثار بتاتے ہیں کہ اب اُن کے اقتدار میں شامل ، سی ایس یو پارٹی کی جانب سے اُن پر ڈالا جانے والا سیاسی دباؤ انہیں اپنی امیگریشن پالیسیوں پر نظر ثانی کے لیے مجبور کر سکتا ہے ۔
سی ایس یو پارٹی نے اعلانیہ مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں موجود اور نئے آنے والے مہاجرین میں سے مسیحی پناہ گزینوں اور تارکین وطن کو مسلمانوں پر ترجیح دی جائے اور ملک بھر میں اسلامی حجاب و نقاب اوڑھنے اور چہرہ چھپانے پر پابندی لگا دی جائے ۔ سی ایس یو پارٹی جو چانسلر انجیلا مرکل کی جرمنی میں مہاجرین کے لیے اب تک ’’ اوپن ڈور پالیسیوں ‘‘ پر سیاسی حملے کرتی چلی آ رہی ہے ، اُس نے اب اپنے سیاسی دباؤ کو مزید بڑھانے کے لیے اپنی طرف سے سخت ترین نئی امیگریشن پالیسیاں تجویز کرنے اور انہی دنوں پیش کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ جرمن میڈیا کے مطابق، اس سلسلے میں سی ایس یو پارٹی نے پانچ صفحات پر مشتمل جو اعلامیہ جاری کیا ہے اسے ’’ جرمنی کو جرمنی ہی رہنا چاہیئے‘‘ کا عنوان دیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ’’ ہم مہاجرین کی لہر بہ لہر آمد کی وجہ سے ملک میں ہونے والی تبدیلیوں کے سخت خلاف ہیں ۔ ہم نے پچھلے سال دیکھا کہ ہزاروں کی تعداد میں مہاجرین ہماری سرحدوں سے ملک کے اندر گھس آئے اور آناً فاناً ہمارا ماحول بدل گیا ۔ ہم دوبارہ ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ حالات خواہ کیسے ہی کیوں نہ ہوں اور دنیا ہمیں جو بھی کہے، ہمیں اس کی پرواہ نہیں۔ ہم اپنے ملک جرمنی میں اب ایسا نہیں ہونے دیں گے اور مہاجرین کی آمد کو روکیں گے ۔
سی ایس یو پارٹی انتہائی کیتھولک اور قدامت پسند علاقوں میں قوت رکھتی اور مقبول پارٹی ہے۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک میں مہاجرین کی سالانہ آمد کی تعداد مقرر کی جائے، جس میں اضافہ قابل قبول نہیں ہوگا۔ عیسائی مہاجرین کو مسلمانوں پر ترجیح دینے کے لئے یہ دلیل دی جارہی ہے کہ عیسائیوں کی مذہبی اورسماجی و معاشری اقدار ہماری اقدار سے ملتی جلتی ہیں۔ یہ لوگ جرمن سماج میں انٹگریٹ بھی جلد ہو جاتے ہیں۔ جب کہ مسلمان پناہ حاصل کر لینے کے بعد معاشرے میں الگ تھلگ اپنے گروہ بنا لیتے ہیں ۔ اس اعلان میں مزید کہا گیا ہے کہ ریاست کو یہ اختیار ہونا چاہیئے کہ وہ کس مہاجر کو قبول کرے اور مہاجرین کو ہرگز یہ حق نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اس کا فیصلہ کریں کہ انہیں جرمنی میں رہنا ہے ۔
صومالی و افغان اور بیشتر دوسری مسلمان خواتین کی جانب سے برقع پہننے یا نقاب و حجاب سے چہرہ ڈھانپنے پر مکمل پابندی لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس طرح کی ’’ اسلامی وردی‘‘ کا جرمن معاشرے میں کوئی وجود نہیں ہونا چاہیئے ۔ کیونکہ یہ اِن خواتین کی جرمن سماج میں انٹگریشن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ عورتوں کو دبا کر رکھے جانے کی علامت ہے ۔ جو جرمنی میں کبھی بھی قبول نہیں کی جا سکتی ۔ برقع و حجاب اور نقاب کے استعمال کے خلاف بڑی سختی سے انتباہ کرتے ہوئے، کہا گیا ہے کہ: ’’ وہ (مسلمان عورتیں) جو برقع و حجاب کے بغیر نہیں رہنا چاہتیں وہ یہاں سے چلی جائیں اور اپنے ساتھ اپنے خاندان کو بھی لے جائیں “۔
سی ایس یو پارٹی کی طرف سے یہ مطالبات ایسے وقت ہیں جب چانسلر انجیلا کی سیاسی پارٹی کو ایک دو ریاستوں میں کرائے گئے مقامی انتخابات میں اپنی امیگریشن پالیسیوں کی وجہ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مہاجرین اور تارکین وطن اور خاص کر مسلمان مخالف انتہائی دائیں بازو کی ’’ الٹرنیٹوو فار جرمنی (اے ایف ڈی)‘‘ نامی پارٹی نے انجیلا مرکل کے خلاف فتح حاصل کی ہے ۔ اور ملک بھر میں اُن کی پارٹی کی مقبولیت کا گراف دن بدن نیچے گرتا جا رہا ہے ۔
چانسلر انجیلا مرکل اپنی پارٹی کی مسلسل گرتی ہوئی مقبولیت سے پریشان تو ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ انسانیت کے خلاف قوتوں کو پروان چڑھنے کا موقع دیا جانا بذات خود انتہا پسندی کو فروغ دینے کی دلیل ہے اور جرمنی اس کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ انہوں نے کھلے الفاظ میں جرمن سیاستدانوں کو خبردار کیا ہے کہ ’’ نسل پرستی ‘‘ کو ہوا دینا ایک ایسا تباہ کن عمل ہے جو جرمنی میں اسلام مخالف ’’ ڈی اے ایف پارٹی ‘‘ کو اپنے مکروہ ارادوں کی تکمیل کے لیے تقویت مہیا کر سکتا ہے۔ لہٰذا اس عمل سے دور رہا جائے ۔