شام، جمہوریت اور جنگ کی نئی منصوبہ بندی
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- بدھ 14 / ستمبر / 2016
- 6226
سوال یہ ہے کہ شدید تنازع اور جنگ میں گھرے شامی عوام بشارالاسد کی حکومت کو کیوں گرانا نہیں چاہتے۔ لندن میں شامی صدر بشارالاسد کے مخالف گروپوں کی ایک میٹنگ میں ایک بار پھر شام میں حکومت کی جمہوری طریقے سے تبدیلی کا منصوبہ بنایا گیا۔ ان گروپوں کے اتحاد کو مبینہ طور پر ترکی، یورپین یونین، امریکہ اور خلیجی ریاستوں کی حمایت حاصل ہے۔
اسے شام میں جمہوری اور مذہبی کثیر الجہتی Pluralism کے لیے تفصیلی منصوبے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ جیساکہ ہر کوئی سمجھ سکتا ہے، اس اجلاس میں طے منصوبے میں بشارالاسد کو حکومت سے ہٹانے کی پیشگی شرط شامل ہے۔ اس بچگانہ منصوبے کو بنانے والے اتحاد کا نام ہے Higher Negotiating Committee ہے اور اس میں تیس مختلف ’’اعتدال پسند‘‘ سیاسی اور فوجی گروپ اس مقصد کے تحت اکٹھے ہوئے ہیں کہ بشارالاسد کو شام کے صدر کے عہدے سے ہٹا دیا جائے۔ یہ گروپ اور لوگ شام میں کن لوگوں کی نمائندگی کرتے ہیں ، اس بارے میں کسی کو کچھ علم نہیں۔ ہمیں بس یہ معلوم ہے کہ بشارالاسد کو اب بھی شامی عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے جو اپنے صدر کو اس کے عہدے سے ہٹانے کے لیے کسی نو آبادیاتی منصوبہ بندی پر راضی نہیں ہوں گے۔
شام کی حکومت نے پچھلے پانچ طویل برسوں میں متواتر بے رحم تنازعوں کے خلاف نبرد آزما ہوتے ہوئے ملکی بقا کے لیے ناگزیر کردار ادا کیا ہے۔ اُس حکومت کو ہٹانے کا مطالبہ کرنے والے گروپوں کا ظہور خطے کے اُس عدم استحکام کا نتیجہ ہے جس کا سبب امریکہ اور اس کے اتحادی ہیں، جنہوں نے عراق پر 2003ء میں حملے سے اس عمل کا آغاز کیا۔ 1916ء میں Sykes-Picot معاہدے کے کالونیل اور سامراجی جرائم کا منظر، جسے عربوں کو ان کے حق خود ارادی اور خودمختاری سے محروم کرنے کے لیے تیار اور منظم کیا گیا تھا، اسی لندن کا ہے جہاں اس کے سو سال بعد شامی عوام کو شامی حکومت کی جمہوری تبدیلی کے بھیس تلے ان کی خودمختاری اور وقار سے محروم کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔
متشدد سفاکی کے سامنے جھکنے سے انکار کرتی عوام کی حمایت یافتہ افواج سے بڑی جمہوریت کی کوئی مثال نہیں ہوسکتی۔ برطانوی صحافی اور مشرقِ وسطیٰ کے نمائندے رابرٹ فسک نے اس سال کے آغاز میں آشکار کیا تھا کہ خطے کے اس انتہائی سفاک اور بے رحم تنازع میں ساٹھ ہزار سے زائد شامی افسران اور فوجی مارے جا چکے ہیں اور اس جیسا شدید تنازع 1980-88ء تک ایران عراق جنگ کے سوا نہیں دیکھا گیا۔ شامی افواج جن میں عیسائی، علوی، سنی، شیعہ اور دُروز فوجی شامل ہیں، اپنے لبنانی اور ایرانی حامیوں کے ساتھ اس کا سامنا کررہی ہے۔ ایک ایسے سفاک دشمن کا کہ جس کا موازنہ 1970ء کی دہائی کے کمبوڈیا کے Khmer Rouge سے کیا جا سکتا ہے۔ اور یہ سب جانتے ہوئے کہ اس کے ساتھی فوجی اور شہری انہی افواج کے ہاتھوں بے رحمی سے مارے جا رہے ہیں، جنہیں مغربی پشت پناہوں کے علاوہ ترکی، سعودی عرب، قطر، اردن جیسی ہمسایہ ریاستوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ پھر شامیوں سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ مستقبل میں ’’جمہوریت‘‘ اور شامی حکومت کی تبدیلی کے لیے انہی ممالک اور حکومتوں پر بھروسہ کریں؟ شام کو مغربی حکومتوں اور سعودی عرب جس پر قرونِ وسطیٰ کے سے بادشاہوں کی حکومت ہے، کے اتحاد کی گرفت میں ممکنہ طور پر کیسے دیا جا سکتا ہے؟
مغرب کی نگاہ میں شامی حکومت کا جرم جمہوریت کی عدم موجودگی نہیں بلکہ یہ حقیقت ہے کہ بشارالاسد کی حکومت میں شام نے امریکہ اور مغربی برتری کے آگے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کردیا ہے۔ خصوصاً لبنانی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کی ملکی حمایت کے سلسلے میں اور ایران کے ساتھ اپنی دوستی اور اتحاد کے سلسلے میں۔ یہ مل کر مزاحمت کا ایک ایسا محور Axis بناتے ہیں جسے امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادی ایک عرصے سے توڑنے کا ارادہ اور عزم رکھتے ہیں۔
شامی فوج اور عوام کے حوصلے اور ثابت قدمی کے باوجود، ستمبر 2015ء تک اس بارے میں شبہ تھا کہ وہ تنازع میں روسی مداخلت کے بغیر کامیاب ہو سکیں گے۔ جس روز روسی طیاروں نے شام میں حکومت مخالف طاقتوں کے خلاف اپنی پہلی پروازیں کیں، اس سے ایک روز پہلے روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 70ویں اجلاس سے خطاب کیااور موثر طور پر ایک Multipolar دنیا کے اعلان کے ساتھ 1990ء کی گمشدہ دہائی سے روس کی بحالی مطالبہ کیا، جس کا سبب واشنگٹن اور اس کے یورپی اتحادیوں کی سوویت یونین کے انہدام کے بعد ملک میں Carthaginian امن کے نفاذ کی کوشش تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ چین کی ذبردست ferocious معاشی پیداوار کا بھی۔
روس کی فوجی مداخلت اُس لاجسٹک، پلاننگ اور تنظیم کی ایک شاندار کامیابی ہے، جو اپنی سرحدوں سے ہزاروں میل دور اپنی طاقت کی پروجیکشن کے لیے ضروری تھی۔ اس سے اس کو اپنے جدید ترین طیارے، میزائل سسٹم اور ہتھیاروں کی جدید ٹیکنالوجی آج کی دنیا کو دکھانے کا موقع ملا۔ اس عمل میں روس نے امریکہ کو خود اُسی کے کھیل میں مات دی۔ یقیناً پچھلے لگ بھگ ایک برس سے روسی صدر کو مغربی مین سٹریم میڈیا پر منفی تاثر میں دکھانے کی یہی وجہ ہے۔
روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور روس نے شام میں تنازع کے انجام کے لیے بہت کچھ داؤ پر لگا دیا ہے، جس تنازع کا مقصد یہ ہے کہ بشارالاسد کو امن منصوبے کے بھیس میں اقتدار سے کسی نہ کسی طرح ہٹا دیا جائے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ شام پر ہمیشہ بشارالاسد ہی کی حکومت رہے۔ تاہم شام پر کون حکومت کرے یا کون نہیں، یہ سراسر شامی عوام کا مسئلہ ہے اور یہ کہ اس مقام پر شام کے ایک غیرفرقہ وارانہ اور سیکولر ریاست رہنے کے لیے اس وقت بشارالاسد کی حکومت کا قائم رہنا ضروری ہے۔
لیکن اس سے ہمیں یہ نتیجہ اخذ نہیں کر لینا چاہیے کہ اسد حکومت کو ہٹانے کی اس حالیہ کوشش کو سامنے لانے کے وقت کا تعلق کسی طرح شام اور شامی عوام کے حالات سدھارنے اور تکالیف کم کرنے سے ہے۔ اس کی بجائے یہ ان لوگوں کی مایوسی کا ثبوت ہے جو جنگ ہار رہے ہیں۔ وہ شامی عوام جو انتہائی مصائب اٹھا چکے اور قربانیاں دے چکے ہیں، ان کا مقصد حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ ان حالات میں مخالف طاقتوں کے مقابلے میں فتح ہے۔