ایک ترک شادی کا احوال
ترکی ایک تاریخی ملک اور استنبول علم کا گہوارہ اورمحبتوں کا شہر ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں کے ساتھ یہاں بہت اچھا برتاؤ کیا جاتا ہے۔ پاکستان بننے کے بعد یہ رشتے مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں نے سلطنت عثمانیہ کے خلاف ہونے والی مغربی سازشوں اور جارحیت کے دوران بڑھ چڑھ کر ترکوں کا ساتھ دیا تھا۔ سن تہتر میں ترکی اور یونان کےتنازعہ کے دوران پاکستان، ترکی کو فوجی مدد دینے والا واحد اسلامی ملک تھا جس کی وجہ سے پاک ۔ ترک دوستی کو مزید جلا ملی۔
بلا شبہ برصغیر کے مسلمانوں نے سلطنت عثمانیہ کو سہارا دینے کے لیے بہت قربانیاں دیں اور پاکستان نے بھی یونان کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن میرے نزدیک پاک ۔ ترک دوستی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ترکی کے لوگ با اخلاق اور احسان مند ہیں۔ ورنہ اگر صرف پاکستان کی قربانیوں کی وجہ سے دوستی ہوتی تو پھر پاکستان کے سب سے بڑے دوست امریکہ اور برطانیہ ہوتے، جن کی عالمی پالیسیوں اور عالمی مفادات کے لیے پاکستانی قیادت نے پاکستان کو روز اول سے ہی داؤ پر لگا کر اندرونی استحکام اور امن درہم برہم کر رکھا ہے۔ جس پاکستان نے 1954 کے معاہدہ سیٹو سے لے کر9/11 تک اور موجودہ افغان جنگ میں امریکہ کی حمایت کی اس کا مغرب میں بہت عزت و احترام ہوتا لیکن حقائق مختلف ہیں۔ 1979 میں جب میں یورپ آیا تو یورپ میں پاکستان پر بہت کم ویزا پابندیاں عائد تھیں۔ پاکستانیوں کے خلاف مغرب والوں کا رویہ اتنا منفی نہیں تھا جتنا آج ہے۔ لیکن مغرب کا ساتھ دے کر پاکستان کے خلاف صرف شکوک و شبہات میں اضافہ ہؤا ہے۔۔ پاکستانی پاسپورٹ دیکھتے ہی مغربی ادارے سوچتے ہیں شاید یہ پاکستانی اور افغانی کیمپوں میں تربیت پانے والا دہشت گرد ہو گا حالانکہ یہ کیمپ خود امریکہ نے پہلے سوویت یونین کے خلاف قائم کیے اور اب افغانستان میں اپنا تسلط قائم رکھنے کے لیے چلائے جا رہے ہیں۔
ترکوں کی طرح پاکستان کا احسان مند ہونے کی بجائے پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ 9/11 کے واقعہ کا جموں کشمیر کے ساتھ کوئی تعلق نہ تھا لیکن اسے بہانہ بنا کر جموں کشمیر کی وحدت کی بحالی کے لیے چلنے والی کشمیریوں کی اپنی جد و جہد کو بھی دہشت گردی قرار دے کر کشمیر کی تحریک کو روکنے کے لیے پاکستان پر دباؤ ڈالا اور اب بھی امریکہ اپنی ایشیائی پالیسیوں کے لیے تعاون تو پاکستان سے لے رہا ہے مگر مدد ہندوستان کی کر رہا ہے۔ رہائی کے بعد میں نے پہلی بار 2012 ء میں ترکی کا نجی دورہ کیا ۔ میری متعدد سیاسی اور حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں ہوئی تھیں ۔ اس وقت ترکی میں بہت امن تھا جس کی سب سے بڑی وجہ ترکی کی اپنے پڑوسیوں کے ساتھ تنازعہ سے پاک پالیسی تھی۔ عراق اور لیبیا سے فارغ ہو کر جب امریکہ نے شام پر ہاتھ ڈالا تو ترکی ایک بالغ نظر اور اسلام پسند قیادت ہونے کے باوجود امریکہ کی شام پالیسی میں الجھ کر رہ گیا۔ ترک عوام سخت پریشان ہیں کہ کسی بھی پڑوسی کے ساتھ ان کے تعلقات اچھے نہیں رہے۔ زیروکنفلکٹ پالیسی اب مکمل طور پر سو فی صد کنفلکٹ میں بدل چکی ہے، جس سے فائدہ اٹھا کر ترکوں کے مقبول ترین صدر طیب اردگان کا صرف تختہ الٹنے کی ناکام کوشش نہ کی گئی بلکہ ان کو ایف 16 کے زریعے قتل کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ مگر وہ چند منٹ قبل اپنی رہائش گاہ سے نکل چکے تھے۔ جوں ہی یہ خبر پھیلی ترک عوام نے تمام سرکاری اداروں کو اپنی حفاظت میں لے لیا جس کی وجہ سے باغی جرنیل بے بس ہو کر خود اپنی جان بچانے کے لیے فرار ہو گئے۔
مختصر دوروں پر وقتا فوقتا ترکی آنے کی وجہ سے بے شمار لوگوں کے ساتھ میرے ذاتی تعلقات قائم ہو چکے ہیں۔ اوزنار ترک فیملی کے ساتھ میرا تعلق ان کے ایک نوجوان فرزند میمت کی وجہ سے بنا جو اب اعلی تعلیم کے لیے سکالر شپ پر لندن گئے ہوئے ہیں۔ شادی میمت کے بڑے بھائی اوندر کی تھی جس میں مجھے خصوصی شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ میں صرف شادی میں شرکت کے لیے ایک دوسرے ملک میں جانے کی پوزیشن میں تو نہ تھا لیکن مجھے ترکی میں ایک ذاتی کام بھی تھا جس کی وجہ سے دونوں مواقع کو ملا کر سفر کی نیت کرلی۔
میمت کے والد حلوک اوزنار ایک ریٹائرڈ پولیس افسر ہیں جنہوں نے مجھے الوداع کرتے ہوئے کہا ترکی کی سلامتی کے لیے دعا کرنا جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ لوگ کس قدر ترکی کے مستقبل بارے متفکر ہیں۔ حالانکہ ترک معاشرے میں شادی جیسے موقع پر کبھی سیاسی گفتگو نہیں ہوتی۔ اب شادی بارے میں بھی کچھ بات ہو جائے جو اس کالم کا اصل موضوع تھا ۔ یہ ایک بڑی مگر کم وقت اور کم اخراجات سے ہونے والی شادی تھی۔ کوئی تیل مانیوں کی تقریبات نہیں تھیں۔ صرف نکاح کیا گیا اور شام سات بجے سے رات 11 بجے تک ایک ہال بک کروایا گیا، جس میں عزیز و اقارب اور مخصوس دوستوں کو دعوت دی گئی۔ پانچ سو کے قریب مہمان تھے۔ سارے کے سارے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ لیکن ایک میز پر بیٹھے ہوئے مہمانوں کی گفتگو کی آواز پڑوسی میزوں پر مہمانوں کو سنائی نہیں دے رہی تھی ۔ کسی کو کسی نے ڈسٹرب نہیں کیا۔ کوئی گدا گر، صدقہ مانگنے والا اور خود ساختہ بازیگر وہاں نہیں آیا۔ ہماری شادیوں کی طرح کوئی فضول خرچی بھی نظر نہ آئی۔ دولہن نے درمیانی قسم کا زیور پہنا تھا۔
اوزنار ایک لبرل فیملی ہے۔ پروگرام کے آخر میں قریبی دوستوں نے رقص کیا اور فوٹو بنوائے۔ ہم نے رقص تو نہ کیا لیکن چند ایک فوٹو ضرور بنوائے جن میں سے ایک قارئین کے ساتھ شئیر کی جا رہی ہے۔ ہم نے ایشائی اور ترک شادیوں میں یہ فرق دیکھا کہ ہم قرض لے کر بھی غیر ضروری رسومات پر عمل کرتے ہیں جبکہ یہاں غیر ضروری رسومات سرے سے ہے ہی نہیں۔ اور نہ ایک دوسرے کی نقل کی جاتی ہے۔ کھانے کا کوئی انتظام نہ تھا۔ صرف جوس اور کیک پیش کیے گئے۔ نیوندرہ کی رسم بھی نہ دیکھی گئی۔ چند ایک قریبی دوستوں نے تحفے ضرور دئیے۔ کم خرچ بالا نشین والی بات تھی۔
ہمارے ملک میں لوگ امیرمگر ملک غریب نظر آتا ہے، مگر ترک لوگوں کی طرح ان کا ملک بھی امیر نظر آتا ہے۔ یہ لوگ اپنے ملک کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ اپنے قومی محسنوں پر لوگ جان نچھاور کرتے ہیں۔ وہ اچھے برے میں تمیز کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں۔ شخصیت پرستی کے وہ سخت خلاف ہیں۔ اﷲ تعالی ترکوں کے شعور اوران کے عظیم ملک کو مزید استحکام بخشے۔