مکالمے کے آداب

ستر کی دہائی کی بات ہے کہ ایک وکیل صاحب سے ملاقات کا سلسلہ شروع ہوا۔ موصوف کا تعلق ایک نامور مذہبی گھرانے سے تھا اس لیے مولویوں کے لطائف و ظرائف کا ایک وسیع ذخیرہ ان کی یاد داشت میں محفوظ تھا۔ ان کے والد صاحب ایک مناظر تھے۔ ایک دن انھوں نے اپنے والد صاحب کا یہ قول فیصل بیان کیا کہ مناظرہ اس وقت تک کامیاب نہیں ہوتا جب تک فریق مخالف کو پھینٹی نہ پڑے۔

یہ واقعہ یاد آنے کا سبب یہ ہے کہ آج کل کچھ لوگ دوسروں کو مکالمے کی دعوت دیتے نظر آتے ہیں۔ اگر کوئی بدقسمتی کا مارا اس دعوت کو قبول کر لے تو جلد ہی حرف ناملائم بلکہ حرف دشنام کا ہدف بن جاتا ہے۔ اگر گفتگو کا موضوع مذہبی معاملہ ہو تو آغاز ہی ملحد و زندیق، یہود و نصاریٰ کا ایجنٹ، سامراجی گماشتہ جیسے فاضلانہ القابات سے ہوتا ہے۔

اس کا سبب یہ ہے کہ ہمارے ہاں مناظرے اور فتوے کی روایت تو موجود ہے مگر مکالمے کی روایت کا کہیں سراغ نہیں ملتا۔ بنو امیہ کے عہد میں ہی مذہبی مناقشات کا آغاز ہو گیا تھا جہاں فریق مخالف کو گمراہ اور زندیق قرار دیا جاتا تھا۔ اہل قدر جبریہ کو یہود کے پیروکار قرار دیتے تھے تو اہل جبر قدریہ کو مجوسی ہونے کا طعنہ دیتے تھے۔ آج جب متعدد لوگوں کے نزدیک فقہ ابوحنیفہ کا ایک شوشہ بھی قیامت تک متغیر نہیں ہوسکتا اور مابعد نسلوں پر علم فقہ کے باب بند ہو چکے ہیں تو وہ یہ بتانا پسند نہیں کرتے کہ امام ابوحنیفہ کو اپنی زندگی میں کس مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ان کی وفات پر بھی ایک بہت جید متقی بزرگ کا یہ کہنا تھا کہ خدا کا شکر ہے آج وہ شخص دنیا سے رخصت ہو گیا جو ہر روز دین میں ایک نیا فتنہ پیدا کرتا تھا۔ ابن تیمیہ کو شیخ الاسلام قرار دے کر ان کے فتاوی کی بنیاد پر بہت سے گروہوں کو ضال و مضل قرار دیا جا رہا ہے۔ مگر خود ابن تیمیہ کو اپنی زندگی میں کتنے فتوؤں کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں حران کا زندیق تک قرار دیا گیا تھا۔

برصغیر میں شیخ احمد سرہندی جنہیں مجدد الف ثانی قرار دیا جاتا ہے اور وہ خود بھی یہی سمجھتے تھے، ان کے بعض مکاشفات کو بنیاد بنا کر ان کے کفر پر علمائے حجاز سے فتاوی حاصل کیے گئے تھے۔ جب سرسید پر کفر کے فتاویٰ کی بارش ہوئی تو انہوں نے مسکرا کر جواب دیا تھا کہ مجھے بہت بڑے لوگوں کی صف میں کھڑا کر دیا گیا ہے۔

مذہبی فتوے اور مناظرے کی عام لغت کے چند نمونے میں نے ایک کتاب سے جمع کیے ہیں اور یہ مشتے نمونہ از خروارے کے مصداق ہیں: بد مذہب، کافر گمراہ، سردارن کفر و بد مذہبی و گمراہی، بے دین ، مرتد، دین سے ایسے نکل گئے جیسے آٹے سے بال، بدکار، کافر، ملعون ہیں خبیثوں کی لڑی میں بندھے ہوئے۔۔۔ فرقہء شیطانیہ، ابلیس لعین کے پیرو ۔ اب اس لغت دشنام میں استعماری منکرین حدیث کا نیا اضافہ کیا گیا ہے۔

ساٹھ کی دہائی میں پاکستان میں بریلوی دیوبندی مسئلہ کافی شدت اختیار کر گیا تھا اور حسب دستور دونوں جانب سے دشنامیات کے نئے ابواب رقم کیے جا رہے تھے۔ آغا شورش کاشمیری بھی موقع پا کر اس تنازعہ میں کود پڑے تھے۔ اس دور کی کہی گئی نظموں کا مجموعہ چہ قلندرانہ گفتم کے نام سے شائع بھی کیا تھا۔ بریلوی حضرات سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے ایک خطیب کو ، جو احرار میں بھی رہ چکے تھے، ابوالکلام کہا کرتے تھے۔ اس پر بھنا کر آغا شورش نے ایک نظم دو ابوالکلام لکھی تھی جس کا پہلا شعریہ تھا:
اک وہ ابوالکلام تھا اک یہ ابوالکلام
وہ شہ سوار علم تھا یہ خنگ بے لگام

اس وقت ایک لطیفہ یا سانحہ یہ ہوا تھا کہ دیوبندیوں نے حزب اللہ کے نام سے ایک جماعت بنائی تھی، اس کے مقابلے میں بریلویوں نے حزب رسول کی بنیاد رکھی۔ اس پر آغا شورش کاشمیری نے یہ بلیغ تبصرہ کیا تھا کہ اب اللہ اور رسول کی فوجیں ایک دوسرے کے مقابل صف آرا ہوں گی۔ اس صورت حال پر کچھ سمجھدار لوگوں نے دونوں گروہوں میں بیچ بچاؤ کرا دیا تھا۔

ستر کی دہائی کی بات ہے کہ میرے ماموں جان کو اپنے چھوٹے بیٹے کو مدرسہ میں پڑھانے کا خیال آیا۔ سب گھر والوں کی مخالفت کے علی الرغم اسے کراچی کے ایک بہت بڑے مدرسے میں داخل کروا دیا گیا۔ تقریباً تین ماہ بعد جب وہ رخصت پر گھر آیا تو پتہ چلا کہ اس عرصے میں اس نے صرف تین گردانیں سیکھی ہیں: اقبال کافر، جناح کافر، مودودی کافر۔

حقیقی مکالمے کی کوئی روایت تو ہماری تہذیب میں موجود نہیں البتہ پرانی کتابوں میں ایک فرضی مکالمہ ضرور پایا جاتا ہے۔ جس کا انداز یہ ہوتا ہے: اگر تم یہ کہو گے تو میرا جواب یہ ہو گا اور اس مکالمے کے اختتام پر اپنی فتح کا اعلان کر دیا جاتا تھا۔ امام شافعی کے ایسے ہی ایک اعلان فتح پر کسی ستم ظریف نے تبصرہ کیا تھا کہ اگر وہ شخص قائل ہو گیا تھا تو اسے امام صاحب کی کرامت سمجھنا چاہیے وگرنہ دلائل میں ایسی کوئی بات نہیں۔

غیر مذہبی مباحثوں کا آغاز و انجام بھی کم ہی خوشگوار رہا ہے۔ مجلہ نقوش نے دوجلدوں میں ادبی معرکے نمبر شائع کیا تھا جو کمال کی ایک دستاویز ہے۔ اس میں مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا عبد الماجد دریابادی کے درمیان ہونے والا قلمی مناظرہ درج ہے جو کافی تلخ گوئی کے ساتھ انجام کو پہنچا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا تھا کہ مولانا دریا بادی باقی زندگی مولانا آزاد کے خلاف لکھتے رہے اور آغا شورش کاشمیری نے تمام عمر مولانا دریابادی کو اپنی قلمی ترک تازیوں کاہدف بنائے رکھا۔

اردو صحافت نے بھی دشنامیات کے بحر ظلمات میں بہت گھوڑے دوڑائے ہیں اور کشتوں کے پشتے لگائے ہیں۔ شاعروں نے ہجو کے نام پر دوسروں کے حسب نسب پر دست درازی کی ہے۔ غرض ہماری تاریخ میں شریفانہ مکالمے کا سراغ لگانا اگر ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہو گا اور اس کا شمار مثتثنیات میں ہی ہو گا۔

میرا تجربہ یہ ہے کہ مکالمہ فی الواقع اگرچہ ناممکن تو نہیں مگر ایک دشوار امر ضرور ہے۔ مغربی دنیا میں بھی شریفانہ مکالمہ کی مثالیں بہت کم ملیں گی۔ ایک زمانے میں ارنسٹ گیل نر اور ایڈورڈ سعید کے مابین ٹائمز لٹریری سپلیمنٹ کے صفحات پر مجادلہ برپا ہوا تھا۔ مجھے وہ پڑھنے کا تو موقع نہیں ملا مگر اس کے بارے میں یہی پڑھا ہے کہ وہ بہت تلخ اور دشنام آمیز تھا۔ کچھ ایسی ہی صورت امریکی فلسفی جان سرل اور ژاک دریدا کے درمیان ہونے والے قلمی مباحثے کی تھی۔ سن ساٹھ میں جرمنی میں فرینکفرٹ سکول کے اڈورنو اور ہابرماس اور کارل پوپر کے مابین مباحثے کے لیے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا مگر وہ کوشش ناکام رہی تھی کہ مطلوبہ مکالمے کی صورت ہی پیدا نہ ہو سکی۔ اس سیمینار کی جب روداد شائع ہوئی تو وہ بہت زیادہ تنازعہ کا باعث بنی تھی۔ اس پر گیل نر کا تبصرہ تھا کہ کسی ایک کتاب میں حرف ناملائم کا اتنا زیادہ استعمال شاید کم ہی ہوا ہو۔

ترقی یافتہ دنیا کی یونیورسٹیوں میں صورت حال بھی کچھ بہتر نہیں۔ کوئی ساٹھ سال قبل کارل پوپر نے یونیورسٹی پرفیسروں کو جیبی سائز ڈکٹیٹر قراد دیا تھا۔ کسی یونیورسٹی میں طالب علم کا اپنے نگران اور پروفیسر سے اختلاف کرتے ہوئے ڈگری حاصل کرنا اگر ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہو گا۔ ایسے پروفیسروں کا بہت حیرت کے ساتھ تذکرہ کیا جاتا ہے جو طالب علم کی طرف سے کی گئی تنقید کو برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ ان میں ایک نمایاں نام نوبل انعام یافتہ ایف۔ اے۔ ہائک کا تھا۔ خود پوپر کا معاملہ عجیب و غریب تھا۔ وہ عقلی فکری انتقاد کا بہت بڑا علم بردار تھا مگر قطعاً یہ پسند نہیں کرتا تھا کہ اس کے شاگرد اس پر تنقیدی مضامین چھپوانے کی جسارت کریں۔ جو کوئی اس حرکت کا مرتکب ہوتا تھا اس سے وہ تعلقات منقطع کر لیتا تھا۔ ارنسٹ گیل نر جو لنڈن سکول آف اکنامکس میں اس کا کولیگ تھا اور پوپر کا مداح بھی تھا وہ کارل پوپر کی کتاب The Open Society and Its Enemies کے بارے میں مذاقاً کہا کرتا تھا کہ اسے اصل میں یوں ہونا چاہیے تھا: The Open Society by one of its Enemies

مکالمے کی روایت کی بنیاد تو سقراط نے رکھی تھی مگر سقراط سے بہت پہلے یونان میں ایک ایسی روایت جنم لے چکی تھی جسے تنقید فکر کی روایت کہا جاتا ہے اور فلسفے اور سائنس کا بھی نقطہ ء آغاز ہے۔ تھیلیز سے ارسطو تک جتنے بھی فلسفی گزرے ہیں وہ زیادہ تر استاد شاگرد تھے۔ اس دور کا امتیاز یہ ہے کہ ہر شاگرد نے اپنے استاد سے مختلف نظریہ اور فلسفہ پیش کیا ہے۔ شاگردوں نے استاد کے خیالات و افکار کی روایت پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ استاد سے اختلاف بھی کیا، اس کے افکار کو تنقید کی کسوٹی پر جانچا، اس میں غلطیوں کی نشان دہی کی اور پھر اپنا مختلف موقف بھی بیان کیا۔ اس معاملے میں ارسطو کا یہ بیان قول فیصل کا درجہ رکھتا ہے کہ مجھے افلاطون عزیز ہے مگر صداقت عزیز تر ہے۔

محمد حسین آزاد نے آب حیات میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ ایک مشاعرے میں جرآت میاں نے اپنی غزل سنائی اور خوب داد سمیٹی۔ اس محفل میں میر تقی میر صاحب بھی موجود تھے۔ جرآت نے میر صاحب سے بالاصرار تقاضا کیا کہ وہ غزل پر اپنی رائے دیں تو میر صاحب نے فرمایا: ’’کیفیت اس کی یہ ہے کہ تم شعر تو کہہ نہیں جانتے ہو، اپنی چوما چاٹی کہہ لیا کرو۔‘‘

مکالمے کے انعقاد کے لیے ایک خاص قسم کی تہذیب نفس کی ضرورت ہوتی ہے جس کے بغیر یہ کام ممکن نہیں رہتا۔ ارد گرد موجو د تازہ وارد شائقین کے مکالمے کا انداز دیکھ کر یہی کہنا پڑتا ہے کہ مکالمے کے آداب کا تو آپ کو پتہ نہیں، بس کچھ گالم گلوچ کر لیا کیجیے۔ اگر دھول دھپے سے پرہیز کریں تو بہت عنایت ہو گی۔