ہم نے ڈگری حاصل کی
- تحریر سرور غزالی
- جمعہ 16 / ستمبر / 2016
- 6164
صاحب جب ہم نے بڑی مشکلوں سے انجینئرنگ پاس کر لی تو نہ پوچھیئے ہماری خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا۔ ہمارے تو پاؤں ہی زمین پر نہ ٹک رہے تھے۔ اور بقول دادی اماں کے ’’ اس چھوکرے نے بی سی ایس کر کے نہ جانے کون سا تیر مار لیا ہے کہ ہر وقت اتراتا پھرتا ہے۔‘‘
اب بھلا ان بیچاری کو کوئی کیا بتائے کہ اول تو ہم نے بی سی ایس نہیں بلکہ بی ایس سی اور وہ بھی بہت عرصے قبل پاس کر لیا تھا البتہ انجینئرنگ پاس کرکے ہم جو اترا رہے ہیں تو وہ واقعی ہم ناچیز کے لیے یہ ایک تیر مارنے سے کم نہ تھا۔ یہ اور بات ہے کہ دادی اماں کی طرح ہمیں انجینئرنگ کونسل بھی بس گریجویٹ سے زیادہ کا رتبہ دینے کو تیار نہیں تھی۔ اس سازش کی تفصیل پھر کبھی۔ بہر کیف ہم نے میدان مار کربھیا کا سارا رعب ختم کر دیا تھا کہ اب تک صرف ان کو ہی یہ شرف حاصل ہوا تھا۔
ہمارے بھیا خاندان کے پہلے انجینئر تھے، وہ بھی فرسٹ کلاس۔ اس پر طرہ یہ کہ انہوں نے اپنی ڈگری کے ساتھ بڑی سی تصویر بنواکر بیٹھک میں لگا رکھی تھی، تاکہ ہر آنے جانے والے کو پتہ چل جائے کہ موصوف ڈگری شدہ ہیں۔ ان کی یہ تصویر دیکھ دیکھ کر ہماری کیا کیفیت ہو تی ہوگی اس کا اندازہ آپ کر سکتے ہیں۔ اور پھر جب ابا بڑے طمطراق سے ہر کسی سے ان کو متعارف کرواتے، کہ یہ میرا بڑا بیٹا ہے، نہایت ذکی اور ذہین ہے۔ فرسٹ کلاس ڈگری ہولڈر ہے۔ تو ہمارا کام اپنا خون جلانے کے علاوہ اور کچھ نہ ہوتا تھا۔
دراصل بات یہ تھی کہ ہم بھی ماشااللہ صاحب ڈگری ہونے کی عمر کو پہنچ چکے تھے۔ اور ہمیں یقین تھا کہ ہماری وسیع معلومات ہمارے صاحب ڈگری کے اہل ہونے کے بین ثبوت ہیں۔ مگر اس کو کیا کیجیے کہ ہمارے اس نظریے سے ممتحن حضرات کو بہت اختلاف تھا۔ جبھی تو ہماری اب تک کی ساری کوششیں بے سود ثابت ہوتی رہی تھی۔ ممتحن حضرات کا اصرار ہوتا کہ میں آئین اسٹائن کی تھیوری پر اپنے قلم کی سیاہی اور اپنا وقت برباد کروں جبکہ میں آئین اسٹائن کا شجرۂ نسب نیوٹن سے ملا کر اس بات پر زور دیتا کہ وہ کونسی پراسرار صلاحیت ہے جو اس خاندان میں ایسے ایسے ہو نہار سائنسدانوں کو جنم دے رہی ہے۔ آئن اسٹائن اور نیوٹن سے ایسے فصیح و بلیغ مفروضے وضع ہو رہے ہیں۔ اس نظر یاتی اختلافات کا نتیجہ کئی سال سے ہماری ڈگری کے ساتھ N.y.C کا لاحقہ کا لگا رہا تھا۔ یعنی ناٹ یٹ کمپلیٹ (ابھی مکمل نہیں ہؤا)۔
تو صاحب جب ہم بھی انجینئرنگ پاس کرچکے تو ہمارا سر بھی غرور سے تن گیا۔ اور جو پہلا کام ہمیں سوجھا وہ یہ کہ ایک بڑی سی تصویر بنوا کر بھیا کی تصویر کے برابر میں لگائی جائے۔ ایسی ایک تصویر لگانے کا مشورہ تو ہمارے کئی دوست پہلے ہی دے چکے تھے کہ کیا ہوا اگر تم نے ابھی تک ڈگری مکمل نہیں کی، جلد یا بدیر کر ہی لو گے۔ ایک گاؤن اور ٹوپی کی تو بات ہے کرائے پر لےکر بنواڈالو تصویر۔ مگر صاحب ضمیر کی خلش تھی جو روکے رکھتی تھی۔ مگر اب تو ہم صاحب ڈگری ہو چکے تھے۔ سو جناب گاؤن اور ٹوپی کی تلاش شروع ہوگئی ۔ شومئی قسمت سے ہمارے پاس گاؤن تھا ہی نہیں، چونکہ ہمارے دور میں گاؤن پہنے کا رواج ہی متروک ہو چکا تھا۔ پر ہم نے اپنے دوستوں کو کہہ رکھا تھا کہ اس بار ہماری کامیابی لازمی ہے اس لیے نتیجہ آتے ہی گاؤن پہنچ گیا۔
گاؤن دیتے وقت ہمارے دوست فرمانے لگے میاں گاؤن چھوڑو، ڈگری کی فکر کرو۔ یوں آرام سے نہیں مل جاتی ہے ڈگری، کئی جوڑے جوتے گھسنے پڑتے ہیں۔ ان کی باتیں سن کر ہمارے تو ہوش اڑ گئے۔ مگر پھر ہم نے یہ کہہ کر اپنے دل کو بہلالیا کہ بندہ مذاق کے موڈ میں ہوگا۔ جب ہم یونیورسٹی کے اعلان کے مطابق صاحب ڈگری ہو چکے ہیں تو ہمیں ڈگری کے کاغذات کے حصول میں کیا دقت ہو سکتی ہے ۔ لیکن جب ہم یونیورسٹی پہنچے تو معلوم ہوا کہ بیچارہ ٹھیک ہی کہتا تھا۔ پتہ یہ چلا کہ ہمیں تین ماہ سے پہلے کسی طور ڈگری نہیں مل سکتی۔ سخت تعجب کے ساتھ غصہ بھی آیا۔ دل چاہاکہ یونیورسٹی کے کسی چبوترے پر چڑھ کر زور زور سے چیخ کر لوگوں کو بتاؤں کہ یہ یونیورسٹی کی زیادتی ہے۔ ہمیں تین ماہ تک لنڈورا رکھ کربے روزگار رکھنے کی سازش ہے۔ لیکن میں ایسا نہ کر سکا ۔ حالاںکہ لیڈر بننے کا اس سے اچھا موقع شاید پھرکبھی ہاتھ نہ آتا۔
لیکن یہاں تو ایک اور ہی لطیفہ ہو گیا۔ تصویر گئی بھاڑ میں، مجھے تو اب عازم امریکہ ہونے کے لیے ڈگری فوری طور پر چاہیے تھی۔ صاحب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ منصوبہ تصویر سے عازم امریکہ میں کیا اسرار ہے۔ تو جناب ہوا یہ کہ بھیا کو جونہی خبر ملی کہ میں آخرکار ڈگری مکمل کر چکا ہوں تو انہوں نے امریکہ سے میرا داخلہ کسی جامعہ کا بھیج دیا، کہ پاکستان میں رہ کر آوارگی ہی کروگے لہذا ڈگری پکڑو اور ٹکٹ کٹاؤ۔ اوپرتلے مصیبتیں دامن گیر تھیں اور سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کروں ایک طرف ڈگری تھی کہ ملتی ہی نہ تھی اور اپنے ہم جلیسوں کے چھٹ جانے کا الگ قلق تھا۔ کیونکہ ایسا موقع گنوانا بھی عقلمندی کی دلیل نہ تھی۔ سچی بات یہ تھی کہ مجھے پڑھنے کےلئے تو امریکہ وغیرہ کیا جانا تھا۔ ایسا پڑھنے کا شوق ہوتا تو کیا اپنے ملک میں جامعات کی کمی تھی۔
ایک پھیرا البتہ امریکہ کا لگ جائے تو بس قسمت ہی بدل جاتی۔ کئی حسین وخوش رنگ، شوخ وشنگ غزالائیں شادی کی آرزومند ہوتی نظر آتیں۔ بہت بھاگ دوڑ کے بعد کچھ دے دلا کرڈگری نکلوالی تو مجھ پر ایک اور راز کا انکشاف ہوا۔ ہماری اتنی جدوجہد اور طویل انتظار کے بعد ملنے والی ڈگری کا حدودِاربعہ اور مو ٹے گتے کے کاغذ پر لگی یہ ڈگری ایسی نہ تھی جسے گول کر کے ہم ہاتھ میں پکڑے گاؤن پہنے تصویر بنواسکتے۔ اور بغیر گول کیے ہم تصویر بنوانے کو معیوب سمجھتے تھے۔ اور وہ بات بھی تو نہ ہوتی جو بھیا کی تصویر میں تھی۔
تصویر نہ بنوا سکنے کا غم ایک نئی مشکل نے بھلا دیا۔ اس غیر معمولی ڈگری کا سائز کسی بھی فوٹو کاپی کی مشین کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا تھا اور آپ یقین کریں یہ مسئلہ آج تک حل نہیں ہو سکا ہے کہ اس سائز کی ڈگری کا عکس کہیں کیسے بھیجا جائے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہم آج تک اس ڈگری کی برکت سے فیضیاب ہونے سے محروم ہی رہے ہیں۔