مجھے ترکی لے چلو!
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- ہفتہ 17 / ستمبر / 2016
- 6238
مجھے ترکی لے چلو! یہ مطالبہ کرنے والوں کی ایک طویل فہرست ہے۔ پچھلے 32برسوں سے یہ مطالبہ اب بڑھتا ہی جا رہا ہے، درجنوں نہیں ایسے احباب کی تعداد اب سینکڑوں میں ہے۔ کیا طفلانہ مطالبہ ہے۔ کبھی انہوں نے غور ہی نہیں کیا۔ بھلا میں کوئی صدرِ مملکت یا وزیراعظم ہوں کہ سرکار کے جہازمیں اُن کو ساتھ لے چلوں۔
33 سالوں میں ترکی کے میرے چالیس سفروں کی سینکڑوں داستانیں ہیں۔ اس مزدور نے اپنی زندگی کی کمائی کا بڑا حصہ ترکی اور دوسرے سفروں کی نذر کر دیا۔ میرے ترکی جانے کا سبب کوئی ٹی وی ڈرامہ نہیں تھا اور نہ ہی ڈرامے کے سبب سلطانوں کے محل توپ کاپی میں بلقان، کاکیشیااور جہان بھر سے اکٹھی کی گئی کنیزوں کا حرم دیکھنے کی خواہش تھی اور نہ ہی کوئی عیاشی کے سامان تلاش کرنا مقصود تھا۔ یہ تو میرا شوقِ علم ہے جو مجھے ترکی لے جاتا ہے اور اگر کوئی اب مجھے یہ کہتا ہے کہ ترکی بڑا خوب صورت ہے تو میں سر جھٹک کر کہتا ہوں، کبھی آپ جار جیا گئے، بلقان، لبنان، سربیا یا وسطی فرانس۔ دنیاکے ہر خطے کا اپنا حسن ہے۔ صرف ترکی ہی خوب صورت نہیں۔ یہ تو میرے مطالعے، تحقیق کا ایک موضوع ہے۔ پولیٹکل سائنس کے طالب علم کی حیثیت سے مجھے اس کے نظام میں دلچسپی ہے کہ ایک ایسی ریاست جو عالی شان سلطنت عثمانیہ کے بکھر جانے کے بعد معرضِ وجود میں آئی۔ اس کی جمہوری تاریخ، سیکولرازم، تہذیب، آرکیالوجی، تمدن، یہ میرے موضوعات ہیں۔ یہ علم کا تجسس ہے کہ ایک خاص موضوع کو ذیادہ سے ذیادہ سمجھنے کی کوشش کرتا رہوں۔
ہمارے ہاں اب ترکی جانا فیشن بھی ہے اور سٹیٹس بھی۔ جب میں نے ترکی جانا شروع کیا تو لوگ مجھے شک کی نظر سے دیکھتے تھے۔ پہلے سفر میں تو لوگوں نے کہا، جھوٹ بولتا ہے۔ وہاں سے یورپ فرار ہونے کا راستہ ہے۔ یہ نوجوان بھاگ کر کسی مغربی ملک میں پناہ گزین ہوجائے گا۔ اُن دنوں ترکی جانا نہ فیشن تھا اور نہ ہی سٹیٹس۔ پاکستان سے سینکڑوں نہیں ہزاروں، ممکن ہے لاکھوں لوگوں نے یورپ میں ہجرت کے لیے جو روٹ اپنایا، ترکی اس روٹ کی آخری منزل تھی۔ اس کے بعد جو سرحد پار کرتا،اس کی زندگی بدل جاتی۔ لاہور، پشاور، جلال آباد، ہرات، مشہد، تہران، تبریز، استنبول، یہ روٹ تھا روزگار کی تلاش میں ملک کو الوداع کہنے والوں کا۔ ان دنوں استنبول کا وہ علاقہ جو اب سیاحوں کی سب سے ذیادہ دلچسپی کا مرکز ہے، سلطان احمت، ایمی نونو، سرکیجی، پاکستانیوں سے بھرا ہوتا تھا۔ بلکہ لاتعداد پاکستانیوں نے وہاں ٹریول ایجنسیاں کھول رکھی تھیں جو فضائی کمپنیوں کے ٹکٹ بھی بنا کر دیتے تھے۔ مختلف یورپی ممالک کے لوگ بھی سمگل کرتے تھے۔ اِن میں ہی میرا قیام ہوتا تھا ۔ تب یہاں ہپی، بے پیکراور میرے جیسے بے وسیلہ، تاریخ و تہذیب میں دلچسپی رکھنے والے سیاح ہی رہتے تھے یا یورپ سمگل ہونے والے پاکستانی۔ اسی لیے جب مجھے وہاں کے انسانی سمگلروں نے دیکھا اور جب میں نے ان سے کہا کہ میں اشتراکی بلغاریہ سیاحت کے لیے جارہا ہوں تو انہوں نے یقین ہی نہ کیا بلکہ مذاق اڑایا اور اپنے خفیہ کوڈ ورڈ میں استاد سمگلر نے اپنے ایک شاگرد کو کہا، پارسل ہے(یعنی یورپ کو ترسیل ہوگی اس کی)۔
اِن سمگلروں کا دوسرا کام پھیرے بازی تھا۔ ایک ملک کا مال دوسرے ملک میں بیچنا۔ استاد سمگلر نے جب دیکھا، ’’پارسل‘‘ اُن کو لفٹ نہیں کرا رہا تو اس نے برطانوی پاسپورٹ کی آفر کردی۔ ’’قیمت پانچ سو برطانوی پونڈ، بالکل اصل جیسا ہے۔‘‘ اس نے زور دے کر کہا، ’’اچھے خاندان سے لگتے ہو اس لیے کم مانگ رہا ہوں۔‘‘ اور جب میں طے شدہ دنوں میں بلغاریہ سے واپس آگیا تو وہ میرااحترام کرنے لگے کہ ’’خاص آدمی‘‘ ہے جو آہنی دیوار کو پار کر کے واپس آیا ہے۔ اب وہ مجھ سے کہنے لگے کہ آپ کے وہاں تعلقات ہیں، ہمارا ایک خاص دوست پاؤڈر بیچنے کے جرم میں پابند سلاسل ہے۔ اس کی رہائی کرادو۔ نوٹوں کی بارش کر دیں گے۔
یہ سفر میں نے جہاں خون پسینے کی کمائی سے کیے، وہیں جانفشانی سے مشاہدے کا سفر جاری رہا۔ میرے لئے ترکی کی سیاست اور تہذیب کو سمجھنا واحد نکتہ تھا اور اب بھی ہے۔ بلا مبالغہ اس دوران ترکی کی تاریخ، سیاست ، تہذیب حتیٰ کہ ترکوں کو سمجھنے کے اس عمل میں ریڑھی بان سے لے کر حکمران تک سے دوستی بنائی۔ میرے سارے سفر میرے اس رزق کے سبب ممکن ہوئے جو میں اپنی مادرِوطن میں کماتا ہوں۔ ہمارے پینتیس روپے ترکی کے ایک سکہ کے برابر ہیں۔ لیکن کبھی یہاں کماتے اور وہاں خرچ کرتے وقت Convert کا فلسفہ نہیں اپنایا جو ہمارے تارکین وطن دہائیوں سے مغرب میں کما کر خرچ کرتے ہوئے اب بھی اپنے ملک کے حساب کو شمار میں لا کر کرتے ہیں۔
مجھے ترکی لے چلو، اب میرے لیے ایک خطر ناک سوال بن گیا ہے۔ میں اُن لوگوں کی عقل پر حیران ہوں کہ وہ مجھے کہتے ہیں اگلی بار جاؤ تو مجھے ساتھ لے چلنا۔ یہ ایک مکمل بے ہودہ مطالبہ ہے۔ انہوں نے کبھی یہ سوال اپنے آپ سے نہیں کیا کہ میں انہیں کیسے اپنے ساتھ لے چلوں۔ اُن کے لیے میں وقت بھی لگاؤں اور چار پانچ لاکھ روپے بھی۔ یہ مطالبہ کرنے والوں کے درجنوں دلچسپ واقعات ہیں۔ ایک صاحب ایک دن میرے پاس تشریف لائے، تب میرے مرحوم دوست بلند ایجوت وزیراعظم ترکی تھے۔ کہنے لگے، بس میری ایک ہی درخواست ہے میرے بیٹے کو ترکی کا ویزا لگوادیں۔ پھر اپنے ساتھ لے جاکروزیر اعظم ترکی سے رقعہ لے کردیں تاکہ اس کو ترکی کے کسی شہر میں انگوروں کی ریڑھی لگانے پر کوئی نہ روکے۔ بیٹے سے لڑائی میں محلے دار قتل ہوگیا تھا۔ آج کل ضمانت پر ہے۔ آپ کا کیا جاتا ہے ۔
ایک معروف کالم نگار جن کی روشن خیالی کی چمک پورے ملک میں دکھائی دیتی ہے، وہ بھی سالوں سے مطالبہ کرتے رہے، مجھے ترکی لے چلو۔ تم سے بہتر کون رہنمائی کر سکتا ہے۔ جاؤں گا تو تمہارے ساتھ بس۔ اور پھر جب بھی ملے کہنے لگے، تم مجھے لے کر نہیں گئے چلو آئندہ لے چلو۔ بھلا ہوفتح اللہ گلین کے لوگوں کا، انہوں نے ایسے ویسے سب کو ترکی دکھلا دیا۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ گلین جیسے تحریکی لوگ جب آپ کو اپنے ملک لے جاتے ہیں تو پھر وہی ملک دکھا تے ہیں جو انہوں نے اپنی تنظیم کے تحت آباد کیا ہوتا ہے۔ یہ روشن خیال بلکہ انتہائی روشن خیال کالم نگار بھی گلین کے لوگوں کے ذریعے ترکی گئے۔ اس کے بعد ملے۔ دیکھو، تم نہیں لے کر گئے مگر میں ہو آیا ہوں۔ انہوں نے جو ترکی دیکھا، وہ یقیناً وہ تھا جیسے روسی کمیونسٹ اپنے ہاں مہمانوں کو دکھاتے تھے۔ یہ روشن خیال کالم نگار گلین کی تنظیم کے دائرے میں ترکی دیکھ کر آئے اور تحریکی لوگ آپ کو وقت ہی نہیں دیتے، وہ تو اپنی کامیابیاں، کا مرانیاں اور منصوبے دکھاتے ہیں۔ لیکن مجھے یقین ہے ہمارے یہ معروف کالم نگار شام ڈھلے اس ترکی کا چسکا بھی لیتے ہوں گے جس کے بغیر اُن کا دن مکمل ہوتا ہے نہ ہی روشن خیالی۔
ایک لمبی فہرست ہے میرے ہمراہی بننے کی خواہش کرنے والوں کی۔ جب سے ترک ڈرامے شروع ہوئے ہیں، ہمارے ہاں خبر آگئی ہے کہ ترکی بڑا خوب صورت ہے۔ اب تعداد سینکڑوں سے بڑھ گئی بلکہ ایسے لوگ رابطہ کرتے ہیں ، جن سے میں کبھی ملا نہیں۔ وہ مجھے میرے قلم اور علم یا کسی وجہ سے جانتے ہیں۔ عجیب مطالبے آنے شروع ہو گئے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ میں ترکی کے حکمرانوں کا خاص مہمان ہوتا ہوں۔ میرے اوپر عنایات برستی ہیں۔ میرے ایک لفظ اور سفارش سے ترکی جانے کے دروازے ہی نہیں، جہاز کے ٹکٹ سے لے کر ہوٹل کے قیام اور وہاں کے عجائب گھر دیکھنے کا اہتمام سب مفت میں ہو جائے گا۔ انہیں کیا علم کہ جب بلند ایجوت نائب وزیر اعظم اور پھر وزیر اعظم تھے، میں تب بھی اپنے وطن کی بدولت وہاں جاتا تھا۔ مجال ہے کبھی میں نے اُن سے کسی مقام ہر بھی ایک رات قیام کی ہی خواہش کی ہو۔ حالاںکہ وہ مجھے تمام پروٹوکول چھوڑ کر وزیراعظم سیکریٹریٹ کے دروازے سے لینے آتے تھے اور پھر چھوڑنے بھی آتے۔ ساری کابینہ کے لوگ حیران ہوتے تھے کہ وزیر اعظم کا یہ کون سا دوست ہے جس کے لیے وزیراعظم پروٹوکول کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔ میں اُن دنوں بھی انہی ہوٹلوں میں قیام کرتا تھا جہاں پہلے ٹھہرتا تھا۔ اپنے وسائل سے ہی ترکی کی تاریخ، تہذیب، سیاست تمدن کے مطالعے ومشاہدے کی جستجو پوری کرتا۔
بڑے بڑے کاروباری لوگ بھی رابطہ کرتے ہیں۔ ترکی لے چلو۔ کتنے کمزور لوگ ہیں جو دوسرے کے سہارے یا بیساکھیوں کے بغیر چل نہیں سکتے۔ اگر ایمانداری سے مجھ سے کوئی پوچھے کہ تم ترکی کیا کرنے جاتے ہو تو میراجواب نبی آخر الزمان حضرت محمدﷺ کی ایک حدیث کے مطابق ہے، ’’علم حاصل کرو چاہے چین جانا پڑے۔‘‘ تو جناب میں ترکی اپنے علم کی پیاس بجھانے جاتا ہوں۔ مگر خواہش کرنے والے تو اب مطالبے کرتے ہیں۔ ہمیں توپ کاپی حرم دیکھنا ہے، جہاں سلطان کی پسندیدہ کنیز رہتی تھیں۔ حرم کیا ہے، مرغیوں کے ڈربے جیسا، جہاں سلطان غیر اسلامی طریقے سے تین چار سو دوشیزاؤں کو اپنی جنسی خواہشات کے لیے در حقیقت قید کرتے تھے۔ محل کا سب سے تاریک حصہ ہے یہ۔ بس ڈرامے نے ایسا گلیمر دیا کہ وہ کہتے ہیں ہمیں حرم سلطان کی رہائش گاہ دیکھنی ہے۔ ہاں، یہ بھی مطالبہ ہوتا ہے کہ ہمیں اس ایکٹریس سے ملوا دو جو ڈرامے میں حرم سلطان بنی۔ اپنے ہاں وہ جناب سہیل احمد کو ملنے کا موقع حاصل نہیں کرسکتے۔
خدا کی ساری کائنات خوب صورت ہے۔ بحیثیت سیاح یہ میرا تجربہ ہے۔ مجھے پچھلے پندرہ سالوں سےکہون وادی، سون وادی اوراس کے اردگرد علاقوں کی سیاحت کا جنون ہے۔ کلر کہار کے ایک رہائشی دوست نے ایک دن کلر کہار کی اتنی تعریف کی کہ جب سکندر اعظم یہاں آیا تو وہ کلر کہار اور نمک کے پہاڑوں پر پھیلی وادیوں کا مداح ہو گیا اور نہ جانے اس دوست نے بڑھا چڑھا کر ایسا کیا پیش کیا کہ بس سکندر اعظم عشق میں گرفتا ر ہوگیا کلر کہار سے۔ میں نے اُسے کہا، تم کو علم ہے کہ سکندر اعظم ، مقدونیہ میں پیلا میں پیدا ہوا، وہ کتنا خوب صورت ہے اور جن جن ملکوں کو وہ تاراج کرتا آیا تھا، سینکڑوں خطوں، وادیوں، پہاڑوں اور علاقوں کو عبور کرتا ہوا وہ یہاں پہنچا۔ اُن کو کبھی جا کر دیکھو ، پھرتمہیں پتا چلے کہ خدا کی کائنات کتنی وسیع اور خوب صورت ہے۔
ترکی ہمارا دوست ملک ہے، ہمارے اور بھی دوست ملک ہیں، جو مسلمان بھی نہیں۔ جیسے چین، سرکاری سطح پر امریکہ۔ وہ بھی بڑے خوب صورت ہیں۔ اب تو ہمارے ہاں ترک علوم کے ماہر بھی پیدا ہو گئے ہیں۔ انہی میں سے ایک، دوسال قبل مجھے کہنے لگے کہ تم استنبول جارہے ہو، واہ واہ جی واہ۔ میں بھی لندن سے واپسی پر آؤں گا، وہاں ملیں گے۔ میں ہاں میں ہاں ملا رہا تھا۔ مجھے علم تھا یہ صاحب اور دیگر معروف و مقبول کالم نگار کسی بھی ملک جائیں، اُن کا آنا جانا ’’تارکینِ وطن‘‘ تک ہی محدود ہوتا ہے۔ مقامی لوگوں سے میل ملاپ تو ان کے نصیبوں میں کم ہے۔ یہ صاحب بڑے چوٹی کے کالم نگار ہیں، لوگ اُن کو کھڑے ہو کر سلام کرتے ہیں۔ میں اُن کی ہاں میں ہاں ملاتا رہا۔ پھر انہوں نے کہا ، تم بہت ترکی جاتے ہو نا؟ میں نے کہا، جی ہاں۔ انہوں نے بڑے جوش سے کہا، تو اب میں تمہیں استنبول دکھاؤں گا۔ میں نے جواب دیا، جی جناب بہت مہربانی۔ انہوں نے بڑے مغرورانداز میں کہا، تم استنبول کو کتنا جانتے ہو،کیا کیا جانتے ہو۔ کیا بے ہودہ سوال تھا۔ میں چپ رہا کہ ادب کا تقاضا بھی یہی تھا۔ پھر خود ہی بولے، تم نے کبھی وہ دو فٹ لمبا کباب کھایا ہے استنبول میں۔ میں نے اپنی جہالت کا اِعتراف کرتے ہوئے کہا، مجھے بھلااس بارے میں کیا علم ہوگا۔ تو وہ کہنے لگے، بس یہ دیکھا ہے تم نے استنبول۔ تیار رہو، ہم کوارڈینیٹ کریں گے، میں تمہیں دو فٹ لمبا کباب کھلاؤں گا۔ اس ڈیرے کو میں نے ڈھونڈا ہے۔ وہ میری اس جہالت پر بڑے خوش ہوئے، جی بالکل سنجیدگی سے خوش کہ میں اُن کے علمِ ترکی کے سامنے ہیچ ہوں۔ لیکن ایک بات کی خوشی ہوئی کہ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے مجھ سے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ مجھے ترکی لے چلو۔ بلکہ الٹا مجھے کہا کہ میں تمہیں دکھاؤں گا استنبول۔
اب چار دہائیاں ہونے کو ہیں۔ ان 33برسوں میں جب بھی میں نے ترکی کا سفر کیا، ہر بار نئی بات آشکار ہوئی۔ اس قوم و ملک کی تاریخ، تہذیب، تمدن ، سیاحت، سیاسی نظام، کے بارے میں کتابیں پڑھ کر جب مشاہدہ کرتا ہوں تو اپنے علم کی کم مائیگی کے نئے راز کھلتے ہیں۔ بس یہ شوقِ علم ہے کہ ترکوں کو جانوں، اُن کے ماضی میں جھانکوں اور حال اور مستقبل کی جھلک دیکھوں۔ یہ مہربانی میرے وطن کی ہے جس نے مجھے اس قابل بنایا کہ میں اِس میں کماتا ہوں اور ترکی پہ لگا دیتا ہوں۔ علم کی جستجو کے پیچھے میرا وطن ہی ہے، جس نے مجھے اس قابل بنایا۔