اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر اٹھانے سے کیا ہوگا؟
- تحریر
- ہفتہ 17 / ستمبر / 2016
- 5002
وزیراعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے لئے روانگی سے پہلے جمعہ کو مظفرآباد کا دورہ کیا اور وہاں وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان، صدر مسعود خان اور حریت رہنماؤں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کبھی کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے فورم پہ کشمیریوں پر بھارتی مظالم کا معاملہ اٹھاؤں گا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو اپنی خاموشی توڑنی پڑے گی، بھارت کا جبر اور بربریت کسی صورت قبول نہیں۔ وقت آگیا ہے کہ کشمیریوں کی خواہش کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ جانے سے پہلے کشمیری قیادت اورحریت رہنماؤں کو اعتماد میں لینا چاہتا تھا۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ وہ پہلے وزیراعظم ہیں جو دورہ امریکہ سے پہلے کشمیر آ کر مشاورت کر رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں ظلم اور بربریت کی انتہا ہو چکی ہے۔ کشمیری انصاف اور حق خودارادیت کا مطالبہ کرتے ہیں، کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کو عالمی برادری تسلیم کر چکی ہے۔ عالمی برادری کو اپنی خاموشی توڑنا ہو گی جبکہ اقوام متحدہ اپنی قراردادوں ے مطابق حق خود ارادیت کا وعدہ پورا کرے۔ آج کشمیری اور ہم جذباتی اور غصے میں ہیں تو یہ بجا اور درست رد عمل ہے۔
پاکستان میں بھارت کی خفیہ مداخلت اب کھل کرسامنے آگئی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی کی طرف سے بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں رابطے بڑھانے کے بعد بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کے لئے ریڈیو سٹیشن قائم کیا ہے اور سوئٹزر لینڈ میں مقیم براہمداخ بگٹی کو دنیا بھر میں آسانی سے سفر کی سہولت دینے کے لئے بھارتی پاسپورٹ دینے کا اقدام کیا ہے۔ بھارتی جاسوس کی گرفتاری سے بلوچستان میں بھارتی مداخلت کا ثبوت سامنے آنے پر پاکستان کی طرف سے اہم ملکوں کو اس صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔ دوسری طرف بھارت مقبوضہ کشمیر کے آزادی پسند عوام کی بے مثال جدوجہد اور سخت ترمزاحمت میں ہزیمت خیز صورتحال سے دوچار ہے۔ بھارت یہ تو کہتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں پاکستان مداخلت کرتا ہے ، کشمیریوں کو بھارت کے خلاف اکساتا ہے لیکن مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر نظر رکھنے والی عالمی برادری میں بھارت کے اس دعوے کو پزیرائی حاصل نہیں ہے۔
بہر حال دنیا کے اہم ملکوں بالخصوص امریکہ کی حمایت سے بھارت کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے کہ وہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ مسئلہ کشمیر کے حل سے انکار کرتے ہوئے حق خود ارادیت کا مطالبہ کرنے والے کشمیریوں کی عوامی جدوجہد اور سخت مزاحمت کو کچل دے۔ اور کشمیری عوام کوفورسز کے ظالمانہ استعمال سے دبانے کی کاروائی مسلسل جاری رکھے۔
خود بھارت میں بھی کشمیریوں پر وحشیانہ مظالم کے خلاف آواز اٹھ رہی ہے لیکن مقبوضہ کشمیر کے حالات بتاتے ہیں کہ بھارت کشمیریوں کوطاقت سے دبانے کی پالیسی میں تبدیلی نہیں لانا چاہتا۔ کشمیری مظاہرین کے خلاف چھروں والی بندوق استعمال نہ کرنے کی بات تو کی جاتی ہے لیکن یہ نہیں کہا جاتا کہ کشمیری عوام کے خلاف ریاستی طاقت کا ظالمانہ استعمال کیوں کر جائز قرار دیا جا رہا ہے؟ کشمیری عوام تو اپنے سیاسی مستقبل کے تعین کے لئے حق خود ارادیت کا مطالبہ کر رہے ہیں، جس کا وعدہ خود بھارت اور عالمی برادری نے کر رکھا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں مزید فوجی دستے بھیجے جا رہے ہیں۔ انہی دنوں جنوبی کشمیر میں بی ایس ایف(باڈر سیکورٹی فورس) کے چار ہزار اہلکار متعین کئے گئے ہیں۔ وادی کشمیر کے ہرعلاقے میں فوجی دستے متعین کئے گئے ہیں۔ بھارتی فوجیوں سے لدے طیارے سرینگر ایئر پورٹ پہنچ رہے ہیں۔ جبکہ مقبوضہ وادی کشمیر میں پہلے سے ہی غیر معمولی تعداد میں بھارتی فوجی مستقل بنیادوں پر تعینات ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں 70روز سے بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں جاری عوامی جدوجہد اور سخت مزاحمت میں ایک نئی خبر یہ ہے کہ جموں کے مسلم اکثریتی اضلاع میں بھی عوامی مزاحمت کی بیدار ہو رہی ہے۔
عید کے موقع پر اس خبر پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار سامنے آیا کہ عیدا لاضحی کے موقع پرپاکستان اور بھارت کی سرحدوں پر مٹھائی دی اور لی گئی ہے۔ بھارتی میڈیا میں’’عید پر ہند۔پاک سرحد پر مٹھائیوں کا ہوا لین دین‘‘ کے عنوان سے شائع اس خبر کے مطابق ’’عیدالاضحی کے موقع پر ہند۔ پاکٍ سرحدوں پر مٹھائیوں کا لین دین ہوا۔ اس موقع پرپونچھ، راولاکوٹ کراسنگ پوائنٹ و کرشناگھاٹی سیکٹر میں تتہ پانی، منڈھیر کراسنگ پوائنٹ پر بھارتیی فوج کے جوانوں نے پاکستانی رینجرز کو مٹھائیاں بھینٹ کر عید کی مبارکباد دی‘‘۔ اس وقت جبکہ بھارت افغانستان کے راستے بھی پاکستان میں دہشت گردی کرواتے ہوئے دھڑلے سے بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کی ہر طرح سے کھلے عام مدد و حمایت کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں70دنوں سے مسلسل بھارتی فورسز کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلتے ہوئے کشمیریوں کو وحشیانہ طور پر تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے، اس صورتحال میں کشمیر کی سیز فائر لائین (لائین آف کنٹرول) پر مٹھائی کے اس تبادلے کا کیا مقصد ؟ ایک طرف پاکستان دنیا بھر میں بھارت کے خلاف اپنے ملک میں دہشت گردی کروانے اور مقبوضہ کشمیر میں حق خود ارادیت کا مطالبہ کرنے والے کشمیریوں کو ظالمانہ طور پر ہلاک کرنے کا شور مچا رہا ہے تو دوسری طرف مٹھائیوں کا یہ تبادلہ! اس عمل سے دنیا کویہ پیغام ملتا ہے کہ پاکستان بھارت کے خلاف کسی بھی سخت ردعمل کے لئے ہر گز تیار نہیں ہے۔ صرف جنگ ہی نہیں، پاکستان کی طرف سے بھارت کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار بھی خارج از امکان ہو چکا ہے۔
بھارت کا یہ کہنا کہ اگر پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر کا مسئلہ اٹھایا تو بھارت بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ اٹھائے گا، سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت اقوام متحدہ ،عالمی اداروں میں مسئلہ کشمیر اٹھانے سے خوفزدہ ہے۔ جینوا میں13ستمبر سے شروع ہونے والے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کو بتایا گیا ہے کہ کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں دو ماہ سے زائد وقت سے جاری مسلسل ہڑتال ، کرفیو، بھارت مخالف مظاہروں اور بھارتی فورسز کی فائرنگ سے سویلین ہلاکتوں کی صورتحال بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔
سید علی شاہ گیلانی نے کشمیریوں کو بچانے کی ’’ ایس او ایس‘‘ کال دیتے ہوئے کشمیریوں کو بھارت کی طرف سے قتل وغارت گری کی مہم سے بچانے کی اپیل کی ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ بھارت نے کشمیری حریت پسندعوام کے اہم افراد کو ہلاک کرنے کے لئے ایک لسٹ تیار کی ہے۔ اس لسٹ میں آزادی پسند رہنما، کارکن، سول سوسائٹی کے ممبرز، تاجر نمائندے ، سرکاری ملازمین اور صحافیوں کے نام شامل ہیں۔ ڈاکٹر سید نذیر گیلانی کا کہنا ہے کہ بھارتی اسٹیبلشمنٹ اور خفیہ ایجنسیوں نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دبانے کی حکمت عملی تیار کی ہے۔ لیکن اس تمام صورتحال کے تناظر میں آزاد کشمیر اور حکومت پاکستان کی طرف سے کچھ بھی نہیں کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے کئی اقدامات اٹھانے ضروری ہیں۔ لیکن اس موضوع پر بحث کے لئے کوئی فورم مہیا نہیں ہے۔ ڈاکٹر سید نذیر گیلانی نے کہا کہ 20 ستمبر سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 71واں اجلاس شروع ہو رہا ہے، جس میں وزیر اعظم نواز شریف مسئلہ کشمیر اٹھائیں گے۔
وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے جنرل اسمبلی اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر بات کرنے سے کیا ہوگا کیونکہ ان کی طرف سے جنرل اسمبلی کے69ویں اور70ویں اجلاس میں کشمیر پر بات کرنے کے بعد کیا ہوا؟ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ’او آئی سی‘ کے کشمیر رابطہ گروپ کا اجلاس بھی ہو گا۔ ڈاکٹر سید نذیر گیلانی نے درست نشاندہی کی ہے کہ پاکستان کی طرف سے عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر اٹھایا تو جا رہا ہے لیکن ایسے اقدامات نہیں کئے جا رہے جس سے عالمی برادری اور عالمی ادارے یہ سمجھ سکیں کہ پاکستان حقیقی طور پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھارت کے جارحانہ روئیے پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتا۔ تب ہی توقع کی جاسکتی ہے کہ اقوام عالم مسئلہ کشمیر کے حل اور پاکستان اور بھارت کے درمیان دیرینہ تنازعات کے منصفانہ اور پرامن حل کے لئے موثر کردار ادا کریں۔