چھین لے یہ ٹیکس گوشوارے کوئی
- تحریر
- ہفتہ 17 / ستمبر / 2016
- 4698
عید قربان سے پہلے قربانی کی اتنی دھوم رہی کہ عید قربان کے موقع پر میڈیا کو اس موضوع کے سوا کچھ خیال ہی نہیں آیا۔ ہمارا بچپن گاؤں میں گزرا ، یوں اس وقت کے بکرے اور ہم نے بارہا مل کر اچھل کود میں حصہ لیا۔ عید قربان کے وقت آرام سے بکرے کی قربانی ہو جاتی اور ہم اسے اپنے کھیل کا حصہ سمجھ کر اگلے سال کے لیے مخصوص کم سن بکرے کے ساتھ اچھل کود میں مصروف ہو جاتے۔ یہ تو شہروں میں آ کر اور با لخصوص میڈیا کی برکتوں سے انکشاف ہوا کہ بکرے کو فقط بکرا جاننا ناسمجھی کی انتہا ہے۔ اور یہ بھی کہ یوں خاموشی سے بکرا خرید کر قربانی کر دینا بھی کوئی قربانی ہوئی۔ عید قربان سے ایک ہفتہ قبل تک تمام نیوز چینلز نے مویشی منڈیوں سے لمحہ بہ لمحہ ان بکروں اور گایوں کی رپورٹنگ کر کے ان میں تقدس کا عجیب رنگ بھر دیا۔ کہیں پہاڑ جیسا بیل دریافت ہوا تو کہیں فلمی نام والے بکرے کا شہرہ رہا۔ کہیں لاکھوں روپے والے بکرے سکرین کی رونق بنے اور کہیں اونٹوں کا تذکرہ رہا۔
ہر نیوز بلیٹن میں خبر ہائے مویشیاں کے ساتھ ساتھ ایک اور قربانی کا بھی ذکر ہیڈ لائنز میں رہا۔ شیخ رشید کی پیش گوئی کے مطابق عید قربان سے پہلے ایک اور قربانی طے تھی جس کی تلاش میں میڈیا ہلکان ہوتا پھرا۔ اسی سلسلے کی کڑی کے طور پر پی ٹی آئی کی طرف سے رائے ونڈ کی طرف مجوزہ مارچ کی بھی خوب شہر ت رہی۔ محبوب کے چاند کی طرح عجیب چہ میگوئیاں رہیں ۔ کچھ نے کہا مارچ ہے کچھ نے کہا فقط جلسہ ہے۔ کچھ نے کہا جاتی امرا نہیں جانا بلکہ اس کے نزدیک اڈا پلاٹ میں جلسہ ہو گا ، کچھ نے کہا رائے ونڈ میں آج تک کسی نے ڈھنگ کا جلسہ تک نہیں کیا ، رائے ونڈ کا کہا تھا سو رائے ونڈ میں ہی جلسہ کریں گے۔ ثبوت کے طور پر پی ٹی آئی کا وفد جگہ منتخب کرنے نکلا تو رائے ونڈ میں کئی میدانوں کی خاک بھی چھانی۔ لمحہ بہ لمحہ اس رپورٹنگ سے جو وقت ملا میڈیا نے وہ وقت اس دریافت پر صرف کیا کہ عمران خان اس مہم کے لیے تنہا ہو گئے ہیں۔ عوامی تحریک نے معذرت کر لی۔ جماعت اسلامی نے بھی دعائے خیر تک ساتھ دیا، عملاّ معذوری ظاہر کر دی۔ پی پی پی کا گلہ اپنی جگہ رہا کہ ارادہ ء سفر کے وقت ہم سے کچھ کہا نہ سنا، اب ایسے سفر میں ہمرکابی کیا معنی؟
دل لبھانے والے ایسے قیامت خیز موضوعات میں ایک دو دن کے لیے ایک خبر نے کچھ ارتعاش پیدا کیا لیکن پھر وہی لذت پسندی غالب آ گئی۔ پارلیمانی ارکان کی تیسری ٹیکس ڈائریکٹری برائے سال 2015 چَھپی تو اندازہ ہوا کہ اس نہاں خانے میں کیا کیا چھپا ہوا ہے۔ وہ حکمران اور لیڈر جن کے قافلے میں درجن دو درجن مہنگی بڑی گاڑیاں معمول ہے، ٹیکس ڈائریکٹری کے مطابق ان کی ٹیکس ادائیگی تو ان گاڑیوں کے قافلے کے ایک دن کے پٹرول سے بھی کہیں کم ہے۔ بڑے لیڈرز اور حکومتِ وقت کے کارسازوں کو تو چھوڑیں ، ہم نے ایک آدھ استثنیٰ کے سوا زیادہ تر سیاست دانوں کو کروفر کے ساتھ ہی آتے جاتے دیکھا۔ ایک دو مہنگی اور تازہ ترین ماڈل کی گاڑیاں، ایک یا دو تازہ ترین ماڈل کے جیپ نما ادھ کھلے ڈالّے جن میں ان کے محافظ جدید اسلحے سے لیس سوار ہوتے ہیں۔ اس طرح کے عام سے قافلے کی گاڑیوں اور اسلحے کی مالیت نکالیں تو کروڑوں سے کم نہیں ہوتی۔ ان گاڑیوں پر پٹرول ، مرمت اور ملازمین کی تنخواہیں لاکھوں روپے ماہانہ نکلتی ہیں لیکن ان میں سے بیشتر پارلیمانی ارکان انکم ٹیکس کے لیے چند ہزار روپے ہی نکل پائے۔ 160 کے لگ بھگ قومی اسمبلی کے ارکان کی انکم ٹیکس کی ادائیگی سترہ ہزار روپے سے پچاس ہزار روپے کے درمیان رہی۔ پچھتر ارکان کی ادائیگی پچاس ہزار روپے سے ایک لاکھ کے درمیان رہی۔ یہی عالم سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں بھی رہا۔ اس کھلے تضاد پر ایک معاصر نے خوب کہا کہ اکثر ارکان کی انکم ٹیکس ادائیگی ان کے ماہانہ بجلی کے بلز سے بھی کم رہی!
ہم نے ٹیکس ڈائریکٹری کو پڑھا تو طبعیت باغ باغ ہو گئی۔ ہم خواہ مخواہ اپنی تنگ دامنی پر اکثر کڑھتے رہے۔ کبھی خود کو کوسا کبھی اپنی قسمت کو لیکن ٹیکس ڈائریکٹری میں ارکان اسمبلی کے انکم ٹیکس سے ان کی آمدن کا اندازہ لگایا تو ایک مجرمانہ سی تشفی ہوئی کہ ہم بہتوں سے بہتر نہ سہی بہتوں سے کم بھی نہیں۔ سینیٹر مشاہد اللہ کے بارے میں گمان تھا کہ کھاتے پیتے آدمی ہیں لیکن ان کے انکم ٹیکس سے ان کی آمدنی کا اندازہ لگایا تو وہ قریب قریب زکوٰۃ کے حقدار نکلے۔ تبدیلی کے لیے نکلے ہوئے عمران خان کی ٹیکس ادائیگی سکہ رائج الوقت 76 ہزار کے لگ بھگ تھی۔ اپنے ایک ٹیکس ایکسپرٹ کے ذریعے ان کی آمد ن کا تخمینہ لگوایا تو اندازہ ہوا کہ انکم ٹیکس کی ادائیگی کے حساب سے ان کی ماہانہ آمدن تقریباّ ایک لاکھ روپے بنتی ہے۔ لاہور اور بنی گالا کی رہائش گاہ میں بجلی اور دیگر بلز اور تنخواہوں کے بعد عمران خان کے بعد مشکل ہی سے کھانے پینے کے لیے کچھ بچنا چاہیے ۔ اسی طرح مولانا فضل الرحمان، اکرم درانی، مولانا غفور حیدری، وزیر اعظم کے داماد کیپٹن صفدر علی سمیت کئی نامی گرامی ارکان کی انکم ٹیکس ادائیگی پچاس ہزار سے بھی کم رہی۔ وزیر اعظم اور ان کے خاندان نے البتہ چند ملین روپے ضرور ادا کیے۔ اسی طرح اسد عمر، اعتزاز احسن سمیت چند دیگر ارکان نے بھی کچھ لاج رکھی لیکن مجموعی طور پر یہ سوال ہے کہ ٹلنے کا نام نہیں لے رہا کہ جن ارکان کی اپنی ٹیکس ادائیگی کا یہ عالم ہے وہ کس منہ سے دوسروں کو ٹیکس ادائیگی کے لیے آمادہ کر سکتے ہیں۔
ہمارے ٹیکس سسٹم میں زرعی انکم ٹیکس ایک بہت بڑا بلیک ہول ہے۔ کروڑوں کی سالانہ آمدن اس میں کھپ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ گفٹ سمیت چند کونے کھدرے قانون میں ایسے مزید موجود ہیں کہ کروڑوں کی آمدن کے باوجود چند ہزار روپے کا انکم ٹیکس ادا کر کے آپ سینہ تان کر دنیا کو بتاتے ہیں کہ ہم ٹیکس گزار ہیں ! ماہرین ان ٹیکس گو شواروں اور ان کی بنیاد پر ادا شدہ ٹیکس کے بارے میں کئی سوال اٹھاتے ہیں ۔ ٹیکس گزاری اور شاہانہ لائف سٹائل کا تقابل کریں تو تضاد کے سوا کچھ سمجھ نہیں آتا۔ اس پر طرّہ یہ کہ وزیر خزانہ نے اس پر بھی کریڈٹ لیا کہ ان کی حکومت نے مسلسل تیسری بار یہ ڈائریکٹری ترتیب دی ہے۔ ہمارے دوست عبدل کا خیال ہے کہ اس ٹیکس ڈائریکٹری سے گوشوارے جمع نہ کرانے والوں کا بھی خوف کم ہو گا کہ اگر اسے اَفشا کرنا کہتے ہیں تو چھپانا کِسے کہتے ہیں۔ لہٰذا چھپانے کے گناہ بے لذت کا کیا فائدہ۔ ایسے ٹیکس دوست ماحول میں ڈر کاہے کا۔
یوں تو میڈیا سیاست دانوں کی ہر چھوٹی بڑی خبروں کی ٹوہ میں رہتا ہے لیکن اس ٹیکس ڈائریکٹری میں موجود ہمارے بیشتر ارکان کے متضاد ٹیکس رویے سے ایک دن حِظ اٹھا کر مویشی منڈی اور عید قربان سے پہلے قربانی کی تلاش میں ہلکان رہا۔ بیشتر ارکان کی شاہانہ یا کم از کم آرام دہ لائف سٹائل ، الیکشن پر کروڑوں کے اخراجات ، بیرون ملک جائیدادوں، دوروں اور اولادوں کی بیرون ملک تعلیم کے لیے درکار دولت اور ادا کیے گئے ٹیکسوں میں کھلے تضاد کی خبر پر دوسرے نیوز سائیکل غالب آگئے۔ یہ نکتہ بھی کم کم ہی اٹھایا گیا کہ پارلیمانی ارکان کی حد تک ان کی آمدن، ذرائع آمدن، اخراجات اور ٹیکس کا حساب کتاب بھی سامنے لایا جائے تاکہ اس قدر کم ٹیکس ادا کرنے کا یہ گر دوسروں کو بھی معلوم ہو سکے۔ اور یہ بھی کہ جن ارکان کا قومی خزانے میں اس قدر حقیر حصہ رہا، ان ارکان کی تنخواہوں، رہائش، سفر اور دیگر اخراجات کے لیے قومی خزانے سے اوسطاّ فی رکن کتنا صرف ہوا۔ کیا یہ مناسب نہ ہوگا کہ جو رکن ان اخراجات کے برابر خزانے کو ٹیکس نہیں دیتا وہ ان مراعات کا حقدار کیوں ہو؟