مکالمہ نہیں مجادلہ

مکالمے کی نوعیت اور اہمیت کو جاننے کے لیے قبلِ مسیح کے یونان کا سفر کرنے کے بجائے اگر کراچی میں مدفون محمد علی جناح کے افکار سے استفادہ کر لیا جائے تو اس میں دو فائدے ہیں کہ ایک تو گھر کی بات گھر میں ہی رہ جائے گی اور دوسرے عام پاکستانی کو یونان کے سفر کی اذیت نہیں ہوگی کیونکہ اب یونان کے ویزے کے لیے ایجنٹوں کو جتنی رقم دینی پڑتی ہے اُس میں گھر بھی بک سکتا ہے ۔ آپ سب کی سہولت کے لیے میں وہ فارمولا یاد دلادوں جو محمد علی جناح کی تحریکِ آزادی کے بارے میں مشہور ہے کہ :
HE WON BY REASON , NOT BY FORCE.
لیکن اب جو کچھ سیاسی ریسلرز ، فری سٹائل سیاست کے طور پر رواج دے رہے ہیں ، وہ مکالمہ نہیں مجادلہ ہے ۔ لیکن اصل مکالمہ ہے کیا ؟ حوالہ : اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ آپس میں تفرقہ نہ ڈالو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں ۔ البقر ۔ ۱۲

یہی کیفیت صدیوں سے فرقہ آرائی کے سلطانوں کی رہی ہے کہ جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ آپس میں تفرقہ نہ ڈالو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اُمّت کی وحدت کے نقیب ہیں ، مگر وہ وحدت اس زمین پر کسی اسلامی ملک میں دکھائی نہیں دیتی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اقتدار کی کرسیوں کے پالتو سیاسی مفکرین نے اپنی فرقہ وارانہ حکمتِ عملی کو اسلامیانے کی ایک باقاعدہ سازش تیار کر رکھی ہے اور وہ قرآن کے واضح احکامات کی تردید میں اپنی موضوع حدیثوں سے حوالے لے آتے ہیں اور اپنی فرقہ واریت کی کھیتی کو بڑی ڈھٹائی سے مسلسل سینچتے رہتے ہیں ۔ ان سازشیوں کی وجہ سے مسلمان دنیا کی ارضی حقیقت یہ ہے کہ جس طرح اجنبی کُتّا ، دوسرے اجنبی کُتّے کا بیری قرار دیا جاتا ہے ، اسی طرح ہر فرقہ پرست مسلمان دوسرے فرقہ پرست کا بیری ہے ، اور مکالمہ ۔۔۔۔ وہ مکالمہ جو دلوں ، ذہنوں اور روحوں کو جوڑ دے مذہب کے ضمن میں جوڑنے کے بجائے اُمّت کو توڑنے کا تجربہ بن گیا ہے جو خُدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے خلاف ایک کھلی سازش ہے ۔

مذہب کے نام پر فرقوں میں بٹے ہوئے لوگ ہر شعبہ ء زندگی میں بٹ جاتے ہیں ۔ چنانچہ وہ سیاست میں بٹے ہوئے ہیں ، صحافت میں بٹے ہوئے ہیں ، ادب میں بٹے ہوئے ہے ، فنونِ لطیفہ میں بٹے ہوئے ہیں اور یہ تقسیم مسلمان ملکوں کا بین الملی عارضہ اور روگ بن چکا ہے اور وہ اس طرح کہ وہابی مملکت ، شیعوں کو من حیث الملک دل سے تسلیم نہیں کرتی ۔ فقہ کے پانچوں اماموں نے اگرچہ اپنی اپنی جگہ فقہ کے قوانین قرآن اور سُنّت سے اخذ کر کے مُرتب کیے ہیں مگر وہ قوانین مسلمانوں کو خانوں میں بانٹنے کا باعث بن گئے ہیں ، جس سے مسلمان مالکی ، شافعی ، حنبلی ، حنفی اور جعفری کے نام سے پانچ ملتوں میں بٹ گئے ہیں۔ اور ان کے درمیان آج تک کوئی نتیجہ خیز مکالمہ نہیں ہوسکا جو ان کو اتحاد کی لڑی میں پروسکتا ۔ جس حد تک وہ سماجی روایات سے ہم آہنگ رہتے ہیں اُنہیں قبول کیا جاسکتا مگر جب وہ فقہی مسالک لوگوں کو ایک دوسرے کا دشمن بنا کر ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کردیں تو مذہب رُخصت ہو جاتا ہے اور خلطِ مبحث باقی رہ جاتا ہے ۔
جو لوگ خُدا اور رسول کے نام پر بٹے ہوئے ہیں وہ مُلک ، قوم اور عوام کے بہتر مفاد میں مکالمہ کیسے کر سکتے ہیں ؟

اگر پاکستانی مسلمانوں کی مکالمے کی صلاحیت ، نوعیت اور تاثیر کو دیکھنا ہو تو ٹاک شوز کے اکھاڑوں میں اُترے سیاسی پہلوانوں کو دیکھیے : یہ طلال چودھری ، وہ عابد شیر علی ، ادھر احمد رضا قصوری، ادھر پی ٹی آئی کے مراد، جس طرح ایک دوسرے کے لتّے لیتے ہیں ، اُن کو دیکھ اور سُن کر کانوں میں انگلیاں ٹھونسنے اور آنکھیں میچ لینے کو جی چاہتا ہے ۔ قومی اسمبلی کے مولا جٹ خواجہ آصف اور نوری نت خواجہ سعد رفیق جب اپنے سیاسی ڈائیلاگ بولتے ہیں تو پرانی پنجابی فلموں کے مناظر آنکھوں کے سامنے از سرِ نو جاگ اُٹھتے ہیں ۔ کچھ ایسی ہی کیفیت پبلک جلسوں میں عمران خان کی تقریروں میں نظر آتی ہے ۔ وہ حکومت کو اس طرح للکارتے ہیں ، جیسے مظہر شاہ کسی پنجابی فلم میں ( ہلا اوئے جے آگیا ایں تے ) کا ڈائیلاگ چبا رہے ہوں ۔
یہ ساری منفی اور مضحکہ خیز کیفیت ہمارے ہاں پیدا کیسے ہوئی ہے ؟

اس کا جنم دہشت گردی کی دائی ماں ضیا الحق کی گود میں ہوا ، جنہوں نے امریکہ کی خوشنودی کی خاطر ہر کن ٹُٹّے ، موالی ، لفنگے اور اُجڈ کو دین کا چولا پہنا کر جہادی تنظیموں میں بھرتی کر لیا اور پورے خطّے کو میدانِ جنگ میں تبدیل کر دیا ہے ۔ یہ تیسری عالمی جنگ ہے جو 1980 سے اب تک لڑی جا رہی ہے اور مشرقِ وسطیٰ کو تہ و بالا کرنے کے بعد یورپ اور امریکہ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے ۔ امریکہ نے جو گیند کابل میں روس کے خلاف پھینکی تھی وہ لوٹ کر ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر گری اور امریکہ اپنے ہی پھیلائے جال میں پھنس کر رہ گیا ہے۔ چاہ کن را چاہ در پیش ۔ اور یہ تو ہونا ہی تھا مگر کوئی اسمبلی ، کوئی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی ، کوئی عرب لیگ اور کوئی اسلامی کانفرنس اس ڈائیلاگ کا اہتمام نہیں کر سکی جو اس جنگ سے نکلنے کا راستہ سجھاتا اور جنگ کو عقلی دلائل سے ختم کر سکتا ۔

ضیا الحق سے نواز شریف تک گزشتہ چالیس سال سے ہم اس جنگ کے اسیر ہیں ۔ دنیا اسے دہشت گردی کی جنگ کہتی ہے مگر انسانیت اسے قتلِ انسانیت کی کربلا کہتی ہے ۔ ہمارے سیاسی رنگ منچوں پر یہ جنگ پنجابی فلمی ڈائیلاگوں کی طرز پر جاری ہے ۔ یہ جنگ ہمارے پورے کمیونی کیشن سسٹم پر ایک لسانی استہزا ہے اور بات اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ لوگ اپنی چھوٹی چھوٹی ذاتی رنجشوں کا بدلہ لینے کے لیے الیکٹرانک سوشل میڈیا پر قلمی بم پھوڑنے لگتے ہیں ۔ یہ بالکل اسی طرح کی کیفیت ہے جو ان بد باطن لوگوں نے پیدا کی جنہوں نے ذاتی انتقام لینے کے لیے اپنے مخالفین پر توہینِ رسالت ، قرآن کی بے حرمتی اور توہینِ مذہب کے مقدمات درج کروانے کی گھٹیا حرکتیں کی ہیں ۔

یہ ہمارے تہذیبی زوال کی شرمناک صورتِ حال ہے جس میں ہمارا معاشرہ ملک کے اندر اور ملک سے باہر آباد سمندر پار پاکستانوں میں دوچار ہے ۔ ایسے میں مکالمے کے ڈانڈے سکولی انداز میں سقراط اور ما قبلِ سقراط کے مکالمے سے جوڑنا ایک ذہنی تلذذ کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ المیہ در المیہ یہ ہے کہ غیر پیشہ ور صحافیوں اور سوشل میڈیا کے شوقیہ فن کار قلمکاروں نے اپنی خلطِ مبحث کی منحوس روایت کو اور بھی پیچیدہ ، گمبھیر اور غیر معیاری بنا دیا ہے ۔ ایسے لوگوں کو شائستہ انداز میں شٹ اپ کہنا ہوگا ۔ انہیں خاموشی کی اہمیت سمجھانا ہوگی اور بتانا ہوگا کہ ( ہوچھے جٹ کٹورا لبھا ، پانی پی پی آپھریا ) ایک منفی رویہ ہے ۔ ان لوگوں کو بتانا ہوگا کہ آدمی کا اصل مکالمہ خود اُس کی اپنی ذات اور خُدا سے ہوتا ہے ۔ لہٰذا یہ سوسفطائی انداز کے مناظرے ، فقرہ بازی ، بازاری پن اور پھکڑ پن مکالمہ نہیں ہے ۔ جو لوگ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کو مکالمہ سمجھتے ہیں اُنہیں باور کرنا ہوگا کہ یہ مکالمہ نہیں ہے ، نہیں ہے ، نہیں ہے ۔ مگر مکالمہ کیا ہے ؟
حوالہ : جو بات کو سُنتے اور اچھی باتوں کی پیروی کرتے ہیں ، وہی لوگ ہیں جن کو خُدا نے ہدایت دی ہے اور یہی عقل والے ہیں ۔ الزمر ۔ ۱۸

لہٰذا ، اس ساری صورتِ حال کا تقاضا صرف اتنا ہے کہ ہم مان لیں، اس بات کا اعتراف کرلیں کہ ہم مکالمے پر نہیں مجادلے پر یقین رکھتے ہیں اور ان دنوں ٹی وی سکرینوں پر لہراتے گنڈاسے اور لاٹھیاں یہ بتاتی ہیں کہ ہم لوٹ کر جنگل کی تہذیب کی طرف واپس چلے گئے ہیں ۔ اور یہ وہی جہادی جیش اور جتھے ہیں جو اب ایک نئے روپ میں جلوہ گر ہو رہے ہیں ۔

اے میرے ماں باپ کے وطن پاکستان ! اللہ تیرے اٹھارہ کروڑ لوگوں کی حفاظت کرے کیونکہ یہ کام حکمرانوں کے بس کا نہیں رہا ۔ 

(ماکلمہ کے موضوع پر ڈاکٹر ساجد علی کا مضمون “مکالمہ کیا ہے“ چند روز قبل کاروان میں شائع ہو چکا ہے۔ موضوع سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کاروان کے مباحث میں اس کا مطالعہ کرسکتے ہیں)