بھارت کی سفارتی تخریب کاری کا توڑ

  • تحریر
  • بدھ 21 / ستمبر / 2016
  • 4966

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان کی طرف سے عالمی ادارے میں کشمیر کا مسئلہ پیش کرنے کی صورت بھارت پاکستان کے خلاف بلوچستان کا مسئلہ اٹھائے گا۔ اس طرح بھارت پاکستان کو’’ بلیک میل‘‘ کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ اگر اس نے کشمیر کا مسئلہ عالمی سطح پر اٹھایا تو بھارت اس کے جواب میں بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بات کرے گا۔

عالمی سطح پر تسلیم شدہ مسئلہ کشمیر اور بلوچستان کا آپس میں کوئی موازنہ نہیں ہے۔ اگر بھارت پاکستان کے ایک صوبے کے مسائل کو عالمی سطح پر انسانی حقوق کے مسئلے کے طور پر اٹھاتا ہے تو اس صورت میں پاکستان کے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ بھارت کی طرف سے پاکستان میں کھلی مداخلت کے جواب میں بھارت کی کئی ریاستوں میں جاری آزادی کی تحریکوں اور وہاں بھارت کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بھی عالمی پلیٹ فارم پہ پیش کیا جائے۔

بھارت اگر بلوچستان کے مسئلے کو عالمی ادارے میں اٹھانے کا خواہشمند ہے تو پاکستان کے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ انڈیا کی اس کوشش کو بھارت میں آزادی کی جدوجہد کرنے والی ریاستوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بھی اقوام متحدہ میں اٹھائے۔ ریاست کشمیر بھارت کا حصہ نہیں ہے اور اقوام عالم کے علاوہ خود بھارت نے مسئلہ کشمیر کا حل رائے شماری کے ذریعے کرائے جانے کا عالمی اور علاقائی عہد کر رکھا ہے۔ بھارت ریاستوں تریپورہ، مانی رام، آسام اور ناگالینڈ میں عشروں سے بھارت سے آزادی کی سیاسی اورمسلح تحریکیں جاری ہیں۔ اور ان ریاستوں میں بھارت نے آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ نافذ کرتے ہوئے انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ انڈین پنجاب میں سکھوں کی بھارت سے آزادی کی سیاسی اور مسلح جدوجہد خاص طور پر اسی کی دہائی میں تیز ہوئی۔ بھارت نے ہزاروں سکھوں کو ظالمانہ طریقے سے ہلاک کرتے ہوئے اور دوسرے بھیانک مظالم سے وقتی طور پر سکھوں کی آزادی کی مسلح جدوجہد پر قابو پالیا تھا۔ لیکن دنیا کے مختلف ملکوں میں مقیم سکھ اب بھی اس تحریک کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بھارت نے سکھوں کی طاقت کو تقسیم کرنے کے لئے پنجاب کو کئی حصوں میں تقسیم کردیا ۔ سکھوں کے تحریک آزادی کے خلاف بھارت کی ظالمانہ کاروائیوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ اگر بھارت کھل کر بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کی مدد و حمایت کرتا ہے تو پاکستان کے لئے بھی بھارت کی کئی ریاستوں میں چلنے والی علیحدگی کی تحریکوں کی حمایت ضروری ہو جاتی ہے۔

بھارت کی ہٹ دھرمی کے باوجود مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر حل طلب مسئلے کے طور پر تسلیم شدہ ہے اور اب مقبوضہ کشمیر میں آزادی کے حق اور بھارتی مخالفت میں جاری مسلسل عوامی مزاحمت تیسرے مہینے میں داخل ہو چکی ہے۔ بھارتی حکومت اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق  حق خود ارادیت کے مطالبے کے لئے پرامن مظاہرہ کرنے والے کشمیری عوام کو اپنی فورسز کے ظالمانہ ،انسانیت سوز طریقوں سے دبانے کی ناکام کوشش میں مصروف ہے۔ دوسری طرف بلوچستان اسی طرح پاکستان کا صوبہ ہے جس طرح باقی تین صوبے ہیں۔ امریکہ نے بھی واضح کیا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا صوبہ ہے اور امریکہ اس کی علیحدگی کی تحریک کی حمایت نہیں کرتا ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف نے گزشتہ روز امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ملاقات میں اس بات پر زور دیا کہ امریکہ مسئلہ کشمیر پرامن طور پر حل کرانے کے لئے اپنا موثر کردار ادا کرے ۔ نواز شریف نے جان کیری کے سامنے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی صورتحال بھی بیان کی۔ اس کے بعد وزیراعظم محمد نوازشریف نے برطانوی وزیراعظم تھریسامے سے ملاقات میں کہا کہ نہتے کشمیریوں کوظلم وجبرکانشانہ بنایاجارہاہے۔ مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اوربھارتی جارحیت فوری بند ہونی چاہیے۔ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت کوریاستی مظالم بند کرنے کیلئے کہے۔ اگرعالمی برادری بھارتی ریاستی دہشتگردی بند کرانے میں کامیاب نہ ہوئی توبھارت کی حوصلہ افزائی ہوگی اوربھارتی ریاستی دہشتگردی میں مزیداضافہ ہوگا۔ کشمیرپرسلامتی کونسل کی قراردادوں پرفوری عمل کیاجائے۔ جموں و کشمیرکے عوام کواپنا فیصلہ خود کرنے کااختیار دیاجائے۔ ہم دنیا کو کشمیرکے حوالے سے کئے گئے وعدے سے بھاگنے نہیں دیں گے۔  کشمیرکاز کےلئے پاکستان کامقف دوٹوک اورواضح ہے۔ کشمیریوں کوکسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ برطانوی وزیراعظم مقبوضہ کشمیر کے عوام پرظلم وستم بند کرانے میں کردارادا کریں۔ اسی روز امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ماری ہارف نے پریس بریفنگ میں ایک سوال کے جواب میں واضح کیا کہ کشمیر کا تنازعہ دہشت گردی کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ تنازعہ جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کے معاملے سے قطعی مختلف ہے اور ان دونوں معاملات کا ایک دوسرے سے کنفیوز نہیں کیا جانا چاہئے۔ امریکی ترجمان نے کشمیر کے بارے میں امریکی پالیسی دہراتے ہوئے کہا کہ امریکہ کشمیر کو ایک تنازعہ سمجھتا ہے جسے انڈیا اور پاکستان کے درمیان باہمی مذاکرات سے حل ہونا چاہئے۔

بھارت کشمیریوں کو اپنی فوجی طاقت سے کچلنے کی مسلسل کاروائیوں میں انسانیت سوز جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے ۔ کشمیرمیں معصوم بچوں، خواتین، بوڑھوں ، جوانوں کو ہلاک، تشدد، گرفتاریوں اور معذور کرنے کے بھیانک جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے۔ اس صورتحال میں بھارت کے لئے بہت مشکل ہے کہ وہ اوڑی میں فوجی کیمپ پر ہونے والے حملے میں اپنے سترہ فوجیوں کی ہلاکت کے واقعہ کی آڑ لیتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر ہونے والی مسلسل پامالی اور مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی ضرورت پر پردہ ڈال سکے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں جو کر رہا ہے ، اسے صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا ، بلکہ یہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کے مہذب نہتے عوام کے خلاف قتل و ٖغارت گری اور بھرپور مظالم کی صورتحال ہے۔