ہم سیاست چھوڑ چلے، یاد آئے تو گالی مت دینا

برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے سیاست سے کنارہ کشی کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے ساتھ ہی ان کے حلقے وٹنی جو کے آکسفارڈ شائر کے علاقے میں واقع ہے وہاں ا ب ضمنی الیکشن کی تیاری شروع ہوچکی ہے۔ 49 سالہ ڈیوڈ کیمرون  نے حال ہی برطانیہ میں یورپ میں شامل رہنے اور علیحدہ ہونے کے ریفرنڈم میں شکست کھانے کے بعد وزیر اعظم کے عہدہ سے استعفیٰ دیا تھا۔ ڈیوڈ کیمرون نے سوموار 12 ستمبر کو بطور ایم پی بھی  استعفیٰ دے دیا اور کہا کہ وہ نئی وزیر اعظم تھریسا مے کے لئے دشواری کا سبب نہیں بننا چاہتے۔

ڈیوڈ کیمرون 2001سے وٹنی حلقے سے کنزر ویٹیو پارٹی کے ایم پی منتخب کئے جاتے رہے ہیں اور 2005میں انہوں نے کنزرویٹیو پارٹی کی لیڈرشپ کا انتخاب جیت کر سب سے کم عمر لیڈر بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ 2010 میں کنزرویٹیو پارٹی نے لبرل ڈیموکریٹ کے ساتھ مل کر مشترکہ حکومت بنائی تھی اور ڈیوڈ کیمرون وزیر اعظم بنے تھے۔

ڈیوڈ کیمرون نے اپنے بیان میں کہا کہ انہیں اپنے حلقہ وٹنی کا ایم پی بننا ایک بہت بڑا اعزاز رہا ہے لیکن انہیں بطور بیک بینچر موجودہ حکومت پر نکتہ چینی کئے بغیر ایم پی بنے رہنا ایک مشکل کام ہوگا۔ ڈیوڈ کیمرون نے اس بات کی بھی تردید کی ہے کہ ان کا یہ اعلان موجودہ حکومت کی نئی گرامر اسکول پالیسی کی وجہ سے کیا گیا ہے، جسے ڈیوڈ کیمرون نے اپنے دور میں مسترد کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ حکومت کے گرامر اسکول پالیسی کا اعلان پچھلے ہفتہ ہی ہوا ہے جو کہ ایک اتفاقیہ بات ہے۔ ظاہر سی بات ہے مختلف مسائل پر میرے نظریات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی کیونکہ وہ میرے اپنے ہوں گے۔ لوگ جانتے ہیں کہ بطور سابق وزیر اعظم یہ ایک بہت مشکل کام ہوگا اس کے علاوہ میں بیک بینچر کی حیثیت سے حکومت کے تئیں اگر خاموشی اختیار کروں گا تو یہ ایک اچھی بات نہیں ہوگی۔

لیکن ڈیوڈ کیمرون کے ساتھی ان کی بات سے اتفاق نہیں رکھتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ڈیوڈ کیمرون دراصل اپنی جانشین کے کام کاج سے خوش نہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو ایک بے بس اور الگ تھلگ محسوس کر رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ سب سے دشوار کن بات یہ ہے کہ ڈیوڈ کیمرون کا منہ کھولنا مشکلات کا سبب ہو گا۔ کیونکہ ڈیوڈ کیمرون نے برطانیہ کے یورپ میں رہنے کی حمایت کی تھی اور اگر وہ اب کسی بات پر تبصرہ یا تنقید کریں گے تو ی موجودہ حکومت اور وزیر اعظم تھریسامے کے لئے درد سر  ہوگا۔

زیادہ تر لوگوں کا ماننا ہے کہ ڈیوڈ کیمرون کا بطور ایم پی نہ رہنا کو ئی تعجب کی بات نہیں ہے کیونکہ لیڈرجب اپنی اہمیت کھو دیتا ہے تووہ دوبارہ اس حکومت میں یا تو باغی بن کر ابھرتا ہے یا اس کا کیرئیر ختم ہوجاتا ہے۔ لیکن ڈیوڈ کیمرون نے جس طرح سے اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا اور اب بطور ایم پی استعفیٰ دیا اس سے یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ ڈیوڈ کیمرون نہ  تو وزیر اعظم کے عہدے کے بھوکے ہیں اور نہ  وہ اپنا وقار کھونا چاہتے ہیں۔

ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ وزیر اعظم تھریسا مے سے ان کی تفہیم اچھی ہے اور وہ دونوں ایک دوسرے کو خوب اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ ڈیوڈ کیمرون نے اپنی میراث کے بارے میں بتایا کہ لوگ انہیں ایک مضبوط معیشت اور ایک اہم سماجی اصلاحات کے لئے یاد رکھا جائے گا۔ ایک ایسا لیڈر جس نے  پارٹی کو اُداسی کے دلدل سے نکال کر اس میں ایک نئی جان ڈالی تھی۔ ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ فی الحال انہوں نے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے کہ وہ اب کیا کریں گے لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ عوامی زندگی میں شراکت کرتے رہنا پسند کریں گے۔

ان تمام باتوں کے علاوہ ایک خبر 14 ستمبر کو اخبارات ، ٹیلی ویژن اور ریڈیو میں سرخی بنی رہی کہ ڈیوڈ کیمرون کا لیبیا میں مداخلت کرنا ایک غلط قدم تھا۔ یوکے پارلیمنٹری رپورٹ نے برطانیہ اور فرانس دونوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 2011 میں معمر قدافی کو ہٹانے کے لئے جو اقدامات کئے گئے تھے وہ ایک ایسی غلطی تھی جس کا خمیازہ اب بھی لیبیا کے لوگ اٹھا رہے ہیں۔ 

(The foreign affairs committee) امور خارجہ  کمیٹی نے اُس وقت کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کو ملزم ٹھہر اتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ہوائی حملہ کے متعلق مربوط حکمت عملی کی کمی پائی گئی ہے۔اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مداخلت کے سلسلے میں انٹیلی جینس نے درست رپورٹ نہیں دی تھی۔ جس کی وجہ سے شمالی افریقہ میں اسلامک اسٹیٹ جیسے گروپ کو ابھرنے کا موقع ملا۔ برطانوی حکومت نے اپنے دفاع میں کہا ہے کہ لیبیا میں مداخلت صرف برطانیہ کا فیصلہ نہیں تھا بلکہ اس میں عالمی برادری بھی شامل تھی۔ دفترِ خارجہ نے مزید کہا کہ لیبیا میں مداخلت کا سب سے پہلی درخواست عرب لیگ نے کی تھی اوریو این سیکورٹی کونسل نے اس کی منظوری دی تھی، جس کے بعد بین الاقوامی اتحاد نے برطانیہ اور فرانس کی سربراہی میں مارچ 2011 میں لیبیا کے معمر قذافی کے فورس پر حملہ کیا تھا۔

لیبیا مداخلت اور معمر قذافی کا تختہ الٹے کے بعد لیبیا کی حالت اور بھی بُری ہوگئی ہے۔ اب لیبیا میں آئے دن  حکومت اور مخالفین کے درمیان تشدد ہورہا ہے۔ متعدد ملیشیا گروپ کا تشکیل پا چکے ہیں۔  جن میں نام نہاد اسلامک اسٹیٹ یا داعش جیسے گروپ ہیں۔ یہ  اپنے اپنے طور پر مختلف علاقوں میں اپنی حکومت چلا رہے ہیں۔

امور خارجہ کمیٹی  نے اپنی رپورٹ کے اختتام میں اُن باتوں کو اُجاگر کیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ ڈیوڈ کیمرون اس کے ذمّہ دار ہیں۔ اس رپورٹ کے چند اہم پوائنٹ یہ ہیں کہ ڈیوڈ کیمرون نیشنل سیکورٹی کونسل میں اپنا فیصلہ کرتے وقت بالآ خر اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ وہ لبیا کی حکمت عملی میں ناکامیاب تھے۔ ا س بات کو نظر انداز کیا گیا کہ انتہا پسند اس مداخلت سے فائدہ اٹھائے گے۔ کہیں اس بات کا ثبوت نہیں ملتا ہے کہ برطانوی حکومت نے لیبیا کے باغیوں کا کوئی تجزیہ کیا ہو اور برطانوی حکمتِ عملی زیادہ تر مفروضوں پرمبنی  تھی۔ لوگوں کے تحفظ کے لئے سیاسی اقدام ممکن تھا جو کہ نہیں کیا گیا۔  برٹش فورس کو تب تک لیبیا میں ٹریننگ کے بنا پر نہیں بھیجنا چاہئے تھا جب تک لیبیا میں ایک سیاسی کنٹرول نہ ہوجاتا۔ لیبیا میں جب اندرونی سیکورٹی قائم ہوجاتی تب وہاں کی حکومت برطانوی حکومت کو ایک رسمی درخواست بھیجتی ا ور اس  پر برطانوی پارلیمنٹ فیصلہ کرتی۔

ڈیوڈ کیمرون نے اپنے دفاع میں کہا ہے کہ انہوں نے ہوائی حملہ لیبیا کے لوگوں کی بھلائی کے لئے کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ قذافی اپنی طاقت کی بنا پر بن غازی میں معصوم لوگوں کو چوہوں کی طرح مار رہا تھا۔ ایسی صورتِ حال میں برطانیہ کا یہ فرض تھا کہ وہ وہاں کے لوگوں کی حفاظت کرے۔ لیکن امور خارجہ  کمیٹی نے کہا ہے کہ حکومت اس بات کا پتہ لگانے میں ناکام رہی کہ کیا واقعی لیبیا کے لوگوں کی جان خطرے میں تھی اور اس بات کو کافی بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ برطانوی حکومت باغیوں کو پہچاننے میں ناکام رہی۔اس حملہ کی وجہ سے  لیبیا کی صورتِ حال ابتر ہو گئی ہے۔

کمیٹی کے چئیر مین کرسپین بلنٹ کا کہنا ہے کہ لیبیا میں مداخلت کے لئے  فرانس نے ہمیں گھسیٹا تھا ورنہ اس مسئلہ  کا حل فوجی مداخلت کے بغیر نکالا جا سکتا تھا۔ برطانیہ نے فرانس کی باتوں کو مان کر بن غازی کے لوگوں کو محفوظ کرنے کے لئے ساتھ دیا۔ لیکن ثبوت بتا رہے ہیں کہ دراصل بن غازی کے لوگوں کو محفوظ کرنے کی بات کو خوب بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تھا جو کہ محض ایک جان بوجھ کر کی گئی غلطی سمجھی جائے گی۔ کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ یقیناً سیاسی حل ایک ذریعہ تھا لیکن برطانوی حکومت نے اسے نظر انداز کر کے فوجی مداخلت کو ترجیح دی جو کہ بہت بڑی بھول تھی۔

ان باتوں سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ ڈیوڈ کیمرون نے شاید عراق جنگ سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا اور نہ ہی اس بات پر دھیان دیا کہ اس مسئلے کا واحد حل فوجی مداخلت نہیں ہے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ عراق جنگ میں برطانوی فوج نے مداخلت کے بعد قبضہ کیا تھا جب کہ لیبیا میں برطانوی فوج نے نام نہاد اسلامک انتہا پسند گروپ کو ملک میں خانہ جنگی کے لئے کھلا چھوڑ دیا ہے۔

ڈیوڈ کیمرون کے سیاسی کئیریر کے خاتمے پر امور خارجہ کمیٹی کی رپورٹ ان غلطیوں کی نشاندہی کرتی ہے جو طاقت کے نشے میں کی جاتی ہیں لیکن دوسرے ملکوں کے عوام کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔  کمیٹی کی رپورٹ منظرِ عام پر آنے سے  اگرچہ نعض معلومات سامنے آئی ہیں لیکن ان غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا جاتا۔  غلطی یا جرم کرنے والا انسان اپنے دفاع میں جواز پیش کرتا رہتا ہے۔ کیونکہ اسے پتہ ہے کہ وہ مغربی ملکوں کے جمہوری نظام میں وہ اپنی جھوٹی دلیل پیش کر کے اپنا پلّو کو جھاڑ سکتا ہے۔

لیکن ان غلط فیصلوں کا شکار ہونے والے معصوم لوگوں کی آواز کون سنے گا؟ عراق ، لیبیا اور شام کے وہ معصوم لوگ جنہوں نے صدام حسین، معمر قذافی اور اسد جیسے لیڈر کو ہٹانے یا ان کی مخالفت کے لئے جن لیڈروں پر بھروسہ کیا انہوں نے  انہیں بے گھر بھی کیا  بلکہ وہ مغربی ملکوں کے پٹھو بن کر ان کے عظیم الشان ملکوں  کا نام و نشان مٹانے پر لگے ہوئے ہیں۔ ایسی رپورٹیں  آتی رہیں گی اور ہم کچھ پل کے لئے اپنے آپ کو دلاسہ دیتے رہیں گے۔ کیونکہ آج مسلم حکمران اپنے ایمان کا سودا کر چکے ہیں اور وہ اپنی منافقت اور بے حیائی کی چادراوڑھ کر حق وباطل کے تمیز بھول چکے ہیں۔ علامہ اقبال نے خوب کہا ہے:

یورپ کی غلامی پر رضا مند ہؤا تو
مجھ کو گلہ تجھ سے ہے غیروں سے نہیں ہے