اقوام متحدہ میں وزیراعظم کی مایوس کن تقریر
21 ستمبر 2016 کو وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے ایک ایسے وقت میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا کہ جب ایک طرف کشمیر میں برہان وانی کی شہادت کے بعد تحریک آزادی زور پکڑ رہی ہے تو دوسری جانب ہندوستان کا جنگی جنون بڑھتا جا رہا ہے۔
اگرچہ وزیراعظم نواز شریف بھارت سے امن اور دوستی کے خواہاں ہیں لیکن موجودہ صورتحال میں کشمیر میں پاکستان کے حق میں گونجتے فلک شگاف نعروں اور بھارتی جنگی جنون نے وزیراعظم کو اس بات پر مجبور کر دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر کے بارے میں بات کریں۔ چنانچہ وزیراعظم نے اپنی انیس منٹ کی تقریر میں سے آٹھ منٹ کشمیر کے معاملے پر تفصیل سے بات کی اور صورت حال پر روشنی ڈالی۔
اگرچہ وزیراعظم نواز شریف نے مسئلہ کشمیر کو بھرپور طریقے سے اجاگر کرنے کی کوشش کی لیکن بعض پہلوؤں سے یہ تقریر بھی پوری طرح پاکستانی عوام کے جذبات کی ترجمانی کرنے سے قاصر رہی۔ تقریر میں جناب وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر کا ذکر تو کیا لیکن انہوں نے انشاء ملک کا حوالہ دینا مناسب نہیں سمجھا۔ اسی طرح سے وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر میں آٹھ جولائی کو برہان وانی کی شہادت کے بعد سے ہونے والے مظاہروں میں سو سے زائد کشمیریوں کی شہادت کا ذکر تو کیا لیکن 90 کی دہائی سے اب تک ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کی شہادت کا ذکر نہیں کیا۔ اور نہ ہی بھارت کی ان بزدلانہ کارروائیوں کو کشمیریوں کی نسل کشی قرار دے کر بھارت کو جنگی جرائم کا مرتکب بتایا۔
اسی طرح وزیراعظم دہشت گردی کے خلاف تو صدا بلند کرتے نظر آئے لیکن انہوں نے کراچی اور بلوچستان میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے خلاف صدائے احتجاج بلند نہ کی۔ یہ تقریر سن کر محسوس ہوا کہ گویا وزیراعظم نواز شریف کسی کلبھوشن یادیو کو جانتے ہی نہیں۔ اور نہ ہی وزیراعظم نے مودی کی ڈھاکہ میں کوئی تقریر دیکھی تھی، جس میں اس نے پاکستان کو دو لخت کرنے میں بھارت کے کردار کا ذکر کیا تھا۔
ایسے دشمن کے مقابلے میں دیکھا جایے تو وزیر اعظم کی تقریر کمزور کہ جائے گی۔