’’برساتی جنگل‘‘
- تحریر ارشاد احمد صدیقی
- ہفتہ 24 / ستمبر / 2016
- 9959
پاکستان آج کل سوالات کا برساتی جنگل (Tropical Forest) بنا ہوا ہے۔ پاکستان اس وقت اندرونی اور بیرونی خلفشار میں بری طرح گھرا ہوا ہے۔ ہمارے مشرقی اور مغربی دونوں ہمسائے گِدھوں کی طرح اس سرزمین پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔ انڈیا کی بات تو بڑی حد تک سمجھ میں آ سکتی ہے جس کے محرک وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ لیکن افغانستان کے پینترے بدلنا سمجھ سے بعید ہے۔ اس پر ہمیں ایک پرانی کہانی یاد آ رہی ہے۔ راوی کہتا ہے کہ روس اور چین میں جنگ بھڑک اٹھی۔ جنگ کے پہلے دن چین کے ایک ملین سپاہی ہار مان گئے اور جنگی قیدی بنائے گئے۔ جنگ کے دوسرے دن چین کے دو ملین سپاہی ہار مان گئے اور جنگی قیدی بن گئے۔ جنگ کے تیسرے دن چین روس کو فون کر کے پوچھتا ہے کہ ’’تم کب ہتھیار ڈالو گے؟‘‘
اس وقت پشاور سے لے کر کراچی تک افغانی تارکین وطن سالوں سے پاکستان میں مقیم ہیں۔ انہیں ایک عام پاکستان کی طرح ساری سہولتیں میسر ہیں۔ وہ رزق کما رہے ہیں۔ بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔ علاج معالجے کی ساری سہولتیں ان کو حاص ہیں اور افغانستان کے صاحب اقتدار غضب کی چالاکی سے تجاہل عارفانہ برت رہے ہیں۔ اور شرمناک بات یہ ہے کہ پختون لیڈر کمال ڈھٹائی سے سرعام بیان داغ رہے ہیں کہ پاکستان کا شمال مغربی حصہ دراصل افغانستان ہے ’’چوں کنیراز کعبہ برنیزو‘‘ لیکن یہ ایک الگ بحث ہے جس کا ذکر علیحدہ ہو سکتا ہے۔
دوسری طرف ایم کیو ایم والے بے وقت کی راگنی لئے پھرتے ہیں۔ اس وقت وطن عزیز بہت سے پیچیدہ الجھاؤ میں الجھا ہوا ہے۔ آج پاکستان کو معرض وجود میں آئے آدھی صدی سے اوپر کا عرصہ گزر چکا ہے۔ 1947 کی خون کی ہولی سے گزر کر آنے والوں نے پاکستان کو لبیک کہا۔ اپنا گھر بنایا۔ نیا وطن آباد کیا۔ ان کی نسلیں اس ملک میں پروان چڑھیں۔ لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ لوگ جو انڈیا سے سراسر ناآشنا ہیں اپنے آپ کو بدستور ’’مہاجر‘‘ کہہ رہے ہیں؟ ہمارا سوال یہ ہے کہ وہ کب اپنے آپ کو ’’پاکستانی‘‘ کہیں گے؟
بیرونی خلفشار پر نظر ڈالیں تو پہلا سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ہمسایہ سرحد کے اس پار ہمارے دوست ہیں؟ جواب مثبت میں شاید ہی مل سکے۔ جیسا کہ ہم نے اوپر عرض کی کہ افغانستان کی معیشت کا بڑی حد تک انحصار پاکستان پر ہے۔ افغانستان کا دفاع، سیاسی استحکام اور معاشی صورت حال واجبی ہے۔ افغانستان کا پاکستان سے بغض نریندر مودی کی دین ہے، جسے وہ سینے سے چمٹائے بیٹھے ہیں۔ ممکن ہے سارا قصور افغانستان کا نہ ہو۔ اس سلسلے میں ہمیں پاکستان کی خارجہ پالیسی کا دامن بھی داغ دار نظر آتا ہے۔ پاکستان کو یہ خیال کبھی نہ آیا کہ وزیر خارجہ کا وجود ہر ملک میں اہم ترین مقام کا حامل ہے۔ اور شاید یہی خلا ہماری انڈیا کے ساتھ خارجہ پالیسی پر بھی حائل ہوتا نظر آرہا ہے۔ انڈیا کے ساتھ گزرے سالوں میں ہمارے تعلقات قابل ستائش نہ سہی تو کم ا زم متوازن اور مہذب تھے۔ لیکن آج انڈیا پاکستان کے وجود سے منکر نظر آتا ہے اور افغانستان اس کی بھونڈی نقل اتار رہا ہے۔
ہمیں اس وقت اپنی خارجہ پالیسی کا بنظر غایت جائزہ لینے کی ضرورت ہے ہمیں اپنے گرتے ہوئے قومی وقار کو سہارا دینے کی ضرورت ہے۔ ناگفتہ بہ اقتصادی حالت، اندرون ملک کے اندھادھند ٹیکسوں کا جائزہ لینے کی ازبس ضرورت ہے۔ بیرون ملک سے لئے گئے قرضوں کے انبار سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے مثبت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، عوام کو فی الفور ان کی بنیادی ضروریات مہیا کرنے کی اشد اور انقلابی اقدامات کرنے ہیں۔
بڑھتے بڑھتے اپنی حد سے بڑھ چلا دست ہوس
گھٹتے گھٹتے ایک دن دست دعا رہ جائے گا