عمران خان کے کرنے اور دھرنے
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- ہفتہ 24 / ستمبر / 2016
- 5129
پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان ایک بار پھر بڑے جارحانہ انداز میں حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے ہیں۔ وہ وزیراعظم نواز شریف کے ایکڑوں پر پھیلے گھر کے سامنے مظاہرہ کرکے اپنے احتجاج کی شدت واضح کرنا چاہتے ہیں۔
بس اب چاندی ہے الیکٹرانک میڈیا کی جہاں اس حوالے سے چرب زبانی سے حمایت اور مخالفت میں تجزیے پیش کیے جائیں گے۔ چاندی ہوگی ٹی وی چینلز کی۔ سب بڑھ چڑھ کر اپنے ادارے کو سب سے آگے ثابت کرنے کی کوشش کریں گے۔ ہوامیں اگر کوئی مکھی نما ڈرون بھی اڑے گا تو بریکنگ نیوز بن جائے گی۔ رپورٹرز سانس پُھلا پُھلا کر بغیر رکے رپورٹنگ کریں گے۔ ٹی وی سکرینوں پر سینئر تجزیہ نگار بڑھ چڑھ کر تجزیے پیش کریں گے، کالم نگار نوازحکومت کی حمایت یا مخالفت میں کالموں کے ڈھیر لگائیں گے۔ کوئی تجزیہ نگار ، کالم نگار ہمیں نوازشریف کی طرف کھڑا نظر آئے گا اور کوئی عمران خان کی طرف۔ اور ’’زیر زمین طریقہ کار‘‘ کے مطابق کچھ کی تو چاندی ہو جائے گی۔ خوب چلے گا گلشن کا کاروبار۔
لیکن ذرا ہماری سیاست کا تضاد دیکھیں، عمران خان جو اپنے اندر ذوالفقار علی بھٹو، مہاتیر محمد، طیب اردوآن اور نہ جانے کس کس رہنما کو محسوس کرتے ہیں، شیخ رشید کے محتاج ہیں، جن کی جماعت کے دوسرے کسی لیڈر کا کسی کو نام تک معلوم نہیں ہے۔ عمران خان کا انقلاب، تحریک، ہلہ، دھرنا، تبدیلی ، اُن کے بغیر ممکن نظر نہیں آتا۔ ذرا غور کریں جناب عمران خان کی طاقت پر۔ کیا وہ ذوالفقار علی بھٹو کی طرح ’’عوام طاقت کا سرچشمہ ہیں‘‘ پر یقین رکھتے ہیں؟ نہیں! وہ طاقت کا ایک سرچشمہ راولپنڈی کے اس ایم این اے کو سمجھتے ہیں۔ کیا مقابلہ ذوالفقار علی بھٹو کا اور عمران خان کا، ممکن ہی نہیں۔عمران خان کتنے محتاج ہیں شیخ رشید، ڈاکٹر طاہرالقادری کے، اس کا اندازہ وہی لگا سکتے ہیں ، جنہوں نے پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی عوامی طاقت پر یقین رکھنے کی سیاست دیکھی ہو یا اس کا مطالعہ کیا ہو۔ لیکن میں شیخ صاحب کو داد دیتا ہوں کہ انہوں نے کس طرح اپنا راستہ بنایا اورایک نئی جماعت (پاکستان تحریک انصاف) کو اپنے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال ہونے پر مجبور کیا۔ وہ شعلہ بیان ہیں، سچ بولیں تو اپنے راجہ بازار کی زبان استعمال کر کے میلہ لوٹ لیتے ہیں۔ تحریک انصاف جو کسی ایک لیڈر کو جنم نہیں دے سکی، یقیناً اس کا شیخ رشید کے سامنے محتاج ہونا مجبوری ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی میں ایک سے ایک بڑھ کر لاکھوں کامجمع لوٹنے والے لیڈروں نے جنم لیا۔ مجمع ہی نہیں لوٹتے تھے بلکہ عوام کے دلوں میں اپنے بیان وعمل سے راج کرتے تھے۔ لائن لگی ہوتی تھی’’ سٹیجوں کے سکندروں‘‘ کی۔ اور اس وقت یہ شیخ رشید جو آج سٹیج کے سکندر بنے پھرتے ہیں، اُن کے سامنے بھیگی بلی بنے ہوتے تھے۔ ان کے پاس ایک ہی ہتھیارہوتا تھا۔ پنڈی جلسوں میں کہ سٹیج پر چڑھ کر بولنے سے تو رہے، سٹیج الٹادو۔ اُنہوں نے اپنے اور اپنے ہمراہیوں کے زورِ بازو سے بڑے بڑے جلسے الٹائے۔ اورآج سیاست کہاں پہنچی، جو لیڈر تبدیلی لانا چاہتا ہے ، وہ پنڈی کے اس ایک فرد کا محتاج ہے۔ چوں کہ اُن کی اپنی جماعت(پی ٹی آئی) تو کسی سیاسی لیڈر کو جنم دینے میں بانجھ ثابت ہورہی ہے۔ پچھلے انیس سالوں میں ایک لیڈر کا نام بتادیں جس نے (پی ٹی آئی) کے بطن سے جنم لیا ہو اور اُس کا تبدیلیوں لانے والے عوام کے دلوں میں راج قائم ہو گیا ہے۔ اِدھر اُدھر سے اکٹھے کیے گئے لیڈر۔ اور ٹی وی چینلز پر چتر چتر بولنے والے اور بولتے رہنے والوں کے سوا ان کی پارٹی نے کسی سیاسی لیڈر کو جنم دیا؟ نہیں! یہی ان کی ناکامی Failure ہے۔ عمران خان، اپنے انقلاب اور تبدیلی کے لیے کبھی جاوید ہاشمی ، کبھی شاہ محمود، کبھی چوہدری شجاعت، کبھی طاہرالقادری، کبھی اشرف سوہنا، کبھی جنرل پرویز مشرف کے در پر کھڑے نظرآتے ہیں۔
یہ میں نہیں کہہ رہا، اُن کی انیس سالہ سیاسی زندگی کا یہ سفر کہہ رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر یقین نہیں کیا، اس پر ایمان ہی نہیں لائے کہ ’’طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔‘‘ اگر وہ ’’عوام کی طاقت‘‘ پر ایمان لاتے، تو اُن کو کسی ایمپائرکی انگلی درکار نہ تھی اور نہ کسی فوجی مداخلت کو جواز کے طور پر پیش کرنا ضروری تھا۔ اگر عمران خان عوامی طاقت پر ایمان لاتے تو اُن کو اِن کمزور سہاروں کی ضرورت نہ ہوتی۔ کتنے خوش نصیب ہیں جناب شیخ رشید، سٹیج اور عوام پاکستان تحریک انصاف کے اور خطاب اُن کا، کیوں کہ اُن کو یہ بھی معلوم ہے کہ عمران خان خطابت کا فن نہ جانتے ہیں اور نہ ہی اب عمر ہے سیکھنے کی۔ ویسے یہ بات بھی ہے کہ عمران خان کی شخصیت میں سیکھنے کا جزو کم ہے۔ وہ توپیدا ہی ہوئے تمام خوبیوں کے ساتھ، بھلا اُن کو سیکھنے سے کیا۔ شاباش شیخ رشید، ڈٹے رہو۔ شان دار چال چلتے ہیں آپ۔ دھرنا عمران خان اور کام بنے گا پنڈی کے شیخ صاحب کا۔ گلی سے جدوجہد کرکے آیا ہے یہ مرد، اس لیے جو داؤ پیچ سیاست کے یہ جانتا ہے، بھلا ایچیسن والوں کو اس کا کیا علم وتجربہ ہو سکتا ہے۔ ذرا شیخ صاحب کی خودنوشت پڑھیں کہ وہ گلی میں لگی پانی کی ٹونٹی سے سارے محلے سے پہلے کیسے پانی لینے کے لیے اپنی بالٹی کو ٹونٹی تک پہنچا دیتے تھے۔ پھر آپ کو علم ہو گا اُن کی قابلیت کا۔ جو پیدائشی سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہونے کا خود ہی دعویٰ کریں اُن کو کیا معلوم Survivor کسے کہتے ہیں۔ جو کبھی سیاست و اقتدار کا راستہ پنڈی کی گلیوں اور کبھی پنڈی کی بیرکوں سے تلاش کر تے ہیں۔
اور جہاں تک بات ہے عمران خان صاحب کے ممکنہ احتجاج کے ذریعے تبدیلی کی۔ تو کیسی تبدیلی؟ سیاست میں جذبہ ہی کافی نہیں، نظریہ اور کمٹمنٹ جذبے سے زیادہ اہم ہے ۔ عمران خان عوامی تبدیلی کے نظریے پر یقین رکھتے تو وہ ثابت کرتے۔ وہ اس راز کو ابھی جانتے ہی نہیں کہ تبدیلی کیسے آتی ہے۔ اگر جانتے ہیں تو پھر ڈرتے ہیں کہ اگر تبدیلی آگئی تو اُن سب کو بھی لے اُڑے گی جو آج اُن کی جماعت میں پناہ گزین ہوئے بیٹھے ہیں۔ یا پھر وہ اس تبدیلی پر یقین ہی نہیں رکھتے جس کا تصور انہوں نے عوام کو دیا ہے اور وہ صرف تبدیلی کا ماحول بنا کر خود ہی ’’تبدیل‘‘ ہونا چاہتے ہیں۔ کوئی بات تو ہے۔
اور یہ بات بھی اہم ہے کہ جمہوریت نواز حکومت کا نام نہیں۔ جمہوریت عوام کی رائے اور فیصلے کو کہتے ہیں۔ کسی فرد یا خاندان کی حاکمیت کو جمہوریت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ نواز حکومت کا دفاع بھی جمہوریت نہیں۔ جمہوریت عوام کے مقدمے کا نام ہے۔ افسوس یہ مقدمہ نہ نواز حکومت لڑسکی اور نہ ہی پاکستان تحریک انصاف۔ یہ ناکامی جمہوریت کی نہیں حکومت کی ہے اور عمران خان کی۔ دونوں نے اپنی اپنی جگہ جمہوریت کو کمزور کیا ہے۔ مسلم لیگ(ن) نے حکمرانی کے ذریعے اور پی ٹی آئی نے اپنی عملی جدوجہد کے دوران۔ اگر دونوں کا جمہوریت پر حقیقی یقین ہوتا تو دونوں سیاسی جماعتیںاپنے اپنے طور پر جمہور کو مضبوط کرتے۔ دونوں نے جمہور کی بجائے اشرافیائی حکمرانی، اشرافیائی جمہوریت اور اشرافیائی سیاست کو مضبوط کیا۔ اور وہ تجزیہ نگار جن کی اب چاندی ہو گی اور وہ میڈیا ہاؤسز جو اس دوران عوام کو سراب در سراب میں گم کریں گے، وہ بھی اس عمل میں برابر شریک ہیں۔
جی ہاں، پاکستان تبدیلی کا تقاضا کر رہا ہے۔ لیکن اس تبدیلی کا نہیں جس کی دعوے دار پاکستان کی تحریک انصاف ہے یا مسلم لیگ(ن) جو پُلوں اور سڑکوں اور چند ٹرانسپورٹ منصوبوں کے ذریعے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔ پاکستان ایسی تبدیلی کا تقاضا کر رہا ہے جس میں طاقت کا سرچشمہ عوام ہوں، جس میں جمہوریت کمزور ہونے کی بجائے مزید مضبوط ہو، جو اشرافیہ سے پاک اور مردہ نو آبادیاتی اداروں کی میعاد ختم ہونے کے بعد تشکیل نو ہو۔ سماج اور ریاست ایک مکمل تبدیلی کا تقاضا کر رہے ہیں۔ حکومت کی تبدیلی اور نظام کی اوورہالنگ تبدیلی نہیں کہلا سکتی۔ تبدیلی ریاست کے تمام اداروں کی تشکیل نو، سماج کی تعمیر ہوگی اور اس کے لیے یہ دونوں جماعتیں بانجھ ہیں۔عمران خان ممکن ہے تختہ الٹانا چاہتے ہوں، لیکن سماج تخت الٹنے کا تقاضا کر رہا ہے۔ اشرافیائی تخت کی جگہ عوام کا راج۔ جمہوریت، اشرافیت نہیں۔