کاروباری جدت میں خطرناک کمی کا رجحان
- تحریر
- ہفتہ 24 / ستمبر / 2016
- 4221
ابھی مالی سال شروع ہوئے تیسرا مہینہ ہے لیکن بیرونی اور اندرونی مالیاتی اور تجارتی محاذ سے پریشان کن خبریں آ رہی ہیں۔ ابتدائی دو ماہ کے دوران برآمدات میں کمی کا رجحان جاری رہا۔ گذشتہ سال جون تک برآمدات اکیس ارب ڈالر رہیں جو 2010 کے بعد کم ترین حجم ہے۔ بیر و نی ترسیلات میں بھی ان دو ماہ میں کمی واقع ہوئی۔ اس کا لازمی نتیجہ کرنٹ اکاوئنٹ خسارے میں اضافے کی صورت میں نکلا۔
ان ہی دنوں ایک عالمی نیوز ایجنسی نے ایک رپورٹ جاری کی ہے کہ پاکستان میں گذشتہ دو سال کے دوران مختلف وجوہات کی بناء پر فیکٹریاں بند ہونے سے کم از کم پانچ لاکھ سے زائد لوگ بیروزگار ہوئے۔ کاروبار میں اس پریشان کن صورتحال کے ڈانڈے بجلی کی قلت سے لےکر امن و مان تک جا ملتے ہیں اور ان پر بری بھلی بحث بھی ہو تی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک اور اہم عنصر ہے جس کی طرف توجہ نہ ہونے کے برابر ہے یعنی Enterpreneurship Deficit (نئے ادارے قائم کرنے اور چلانے کے رجحان میں کمی)۔ کاروبار کے فروغ کے لیے نجی شعبے میں Enterpreneurship ہی دنیا بھر میں کاروبار کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں اس کی اہمیت اور فروغ کا ادراک کم کم ہی ہے۔
ابھی کل کی بات ہے جب نوے کی دِہائی ایشیاء کے کئی ممالک کے لیے ہر گزرتے سال ترقی کے نئے باب کھول رہی تھی۔ کوریا، ہانگ کانگ، سنگاپور، ملائیشیا، تائیوان اور چین کی مثالی ترقی کی ہیبت اس قدر تھی کہ امریکہ اور یورپ میں ایسی کتابوں کا اور رسائل میں ایسے مضامین کا ایک لامتناہی سلسلہ تھا جس میں اکیسویں صدی ایشیا کے نام موسوم کی جا رہی تھی۔ ان ممالک کے لیے ایشین ٹائیگر کی اصطلاح استعما ل کی جانے لگی۔ ان ممالک کے علاوہ تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور فلپائین بھی ان کے نقش قدم پر چل رہے تھے۔ ان ممالک کی ترقی کے رازوں میں سے ایک راز تھا Enterpreneurship یعنی کاروباری ادارے قائم کرنے والے باصلاحیت سرمایہ کار۔
ان دنوں ایشیا بھر میں ہانگ کانگ کے لی کا شِنگ کی غیر معمولی ترقی کی دھوم تھی۔ درجنوں کتابیں ان کی کامیابی پر لکھی جا چکی تھیں۔ جنوبی کوریا میں چار بڑے انڈسٹریل گروپس جنہیں مقامی زبان میں Chaebles کہا جاتا ہے کے بانی سرمایہ کاروں کی حیثیت ایک سیلیبریٹی کی سی تھی۔ کتابوں، مضامین اور ٹی پروگرامز کا ایک انبار ان کی جدوجہد کے لیے رطب السان تھا۔ یہی حال باقی ممالک میں بھی تھا۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں بڑے صنعتی اور تجارتی ادارے قائم کرنے والوں کے بارے میں معلومات کا فقدان رہا ہے اور بہت حد تک اب بھی ہے۔ اس تلخ حقیقت کا مزید اندازہ ہمیں چند سال قبل ہوا۔ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی نے لیڈرشپ اور مینیجمنٹ کے لیے ایم فل کلاسز شروع کیں۔ ہمیں ابتدائی سیمسٹر کے تین میں سے دو مضامین پڑھانے کے لیے کہا گیا کہ ہمارا کاروبار اور نجی شعبے میں تیس سال کا تجربہ تھا۔ لکھنے پڑھنے سے بھی کچھ تعلق رہا اور پڑھنے پڑھانے سے بھی۔ اسی دھوپ میں بال سفید بھی ہوئے اور ضائع بھی ہوئے۔ ہم نے حامی تو بھر لی لیکن پڑھانے کے لیے کورس میٹیریل کی دستیابی ایک مسئلہ بن گیا۔
کورس کے دوران ہم نے طلبا کو پاکستان کے نامی گرامی صنعتکاروں اور کاروباری ادارے قائم کرنے والی شخصیات ( Enterpreneurs ) پر ریسرچ پیپر لکھنے کا کہا۔ ایسی شخصیات پر مواد کی کمی اس قدر آڑے آئی کہ آٹھ میں سے صرف ایک گروپ کسی پاکستانی شخصیت پر مقالہ لکھ سکا۔ باقی گروپس نے دنیا بھر کے نمایاں Enterpreneurs پر مقالے لکھے۔
Enterpreneurship ہے کیا؟ لٹریچر میں تو اس کی کئی تعریفیں درج ہیں لیکن آسان انداز میں یوں ہے کہ کسی بھی نئے کاروبار کو سوچنے، اسے عملی طور پر قائم کرنے اور اسے کامیابی سے چلانے والے کاروباری کو انٹرپرینیور کہہ سکتے ہیں۔ کاروبار کی ایک خاصیت اس میں مضمر نقصان یعنی رِسک کا احتمال ہے۔ ایسے کاروباری لوگوں میں رسک کا سامنا کرنے اور برداشت کرنے کی صلاحیت ایک بنیادی شرط ہے۔ لیڈرشپ کی صلاحیت بھی ایک بنیادی عنصر قرار دیا جاتا ہے۔ دورِ حاضر میں مقابلے کی فضا کاروبار کا خاصہ ہے، ایسے میں نیا کاروبار عموماٌ تبھی کامیاب ہوتا ہے اگر اس میں کچھ نیا ہو، دوسروں سے ہٹ کر ہو یعنی جدت Innovation ہو۔ دنیا بھر میں اپنے اپنے میدان میں ریسرچ اور ڈیویلپمنٹ پر خصوصی توجہ ہے تاکہ کچھ نیا اور الگ کیا جاسکے۔ زیادہ دور کیا جانا، گذشتہ دو دِہایوں میں کئی ایسے نئے پروڈکٹس ہمارے استعمال میں ہیں جن کے بارے میں ہم نے سوچا بھی نہیں تھا۔ موبائل فون ایک فون کے آلے کے طور پر ایجاد ہوا لیکن اب سمارٹ فون کی صورت میں ایک مکمل کمپیوٹر ہماری پاکٹ میں ہے۔ سوشل میڈیا کی بے شمار ایپس یعنی Apps اسی سمارٹ فون کی مرہون منت ہیں۔ اسی لیے Enterpreneurship کے لیے جدت اور نیا پن بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
دنیا بھر میں یونیورسٹیاں اور ادارے ایسی ریسرچ اور کوشش میں ہیں کہ نئے اور پرانے انٹر پرینیورز کی معاونت کر سکیں۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ یہ کمیاب کاروباری صلاحیت معاشی ترقی کے لیے اس قدر اہم ہے کہ دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی معیشتوں میں اہم ترین عنصر یہی صلاحیت ہے۔ اس صلاحیت کا بہترین اظہار عموماٌ نئے کاروباری ادارے کے قیام کی صورت میں ہوتا ہے۔ یوں ملازمت کے نئے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں ، قومی آمدنی میں اضافے کے اسباب ہوتے ہیں اور معاشرے کے لائف سٹائل میں بھی بہتری آتی ہے۔
پاکستان میں چند سال قبل SMEDA کے ایک سروے کے مطابق 98 % سے زائد کاروبار SMEs یعنی چھوٹے یا درمیانے درجے کے ہیں۔ نئے کاروبار کی تشکیل کی رفتار بھی حوصلہ افزا نہیں۔ SECP کے پاس نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کے اعداوشمار گواہ ہیں کہ انیس کروڑ کے ملک اور ایک تہائی سے زیادہ شہری آبادی کے باوجود نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی تعداد ماہانہ چند درجن سے زیادہ نہیں۔
ستر کی دہائی میں کئی شعبوں کی بنکوں، انشورنس، کاٹن جننگ، رائس ملز جیسی صنعتوں کو قومیانے کے فیصلے نے نجی سرمایہ کاروں کی نہ صرف کمر توڑ دی بلکہ سیاسی بیانیے اور انتظامی و پالیسی اقدامات کی حد تک انہیں سفاک اور حرص سے بھرپور کردار کے طور پر پیش کیا گیا۔ سرمایہ کاروں کو اپنی جان کے لالے بھی پڑے اور اپنے کاروبارکے بھی۔ سرمائے کی افزودگی کا عمل رک سا گیا۔ اسّی کی دہائی میں سیاسی بے یقینی اور نئے سیاسی تجربات کا جادو سر چڑھ کر بولتا رہا۔ صنعتوں کے لیے بھی کئی اقدامات ہوئے لیکن ساٹھ کے عشرے کا سا زور شور پھر پیدا نہ ہو سکا۔ نوّے کی دہائی میں سیاسی اکھاڑ پچھاڑ نے پالیسی تسلسل بار بار درہم برہم کیا۔ اس پر مستزاد پریسلر ترمیم نے معاشی حالات کو کئی سال دباؤ میں رکھا۔ ایٹمی دھماکوں نے حالات مزید مشکل بنا دیے۔ سن دو ہزار کے بعد والے عشرے میں درمیان کے چار سال بہتر نمو کے تھے لیکن پھر 2013 تک آٹھ سال جی ڈی پی کی سالانہ شرح تین ساڑھے تین فی صد تک رہی۔ نوّے اور دو ہزار کی دہائی میں چین اور بھارت نے دوہرے ہندسے میں معاشی ترقی کی لیکن ہم دوسرے مسائل میں ایسے الجھے کہ کئی یاد کیے ہوئے سبق بھول بیٹھے۔
جو ہوا سو ہوا لیکن آج کے لیے یہ ایک چیلنج ہے کہ ان حالات میں کیسے آگے بڑھا جائے۔ ملک میں قدرے سیاسی استحکام اور امن و امان کی بہتر صورتحال میں معاشی ترقی کا آٹھ سالہ جمود ٹوٹ رہا ہے کہ اب گزشتہ سال جی ڈی پی شرح نمو ساڑھے چار فیصد سے زائد ہوئی۔ سی پیک کی سرمایہ کاری کا سنہرا موقع ملکی معیشت میں ایک نئے دور کا نقیب ثابت ہو سکتا ہے۔ دور رس اور تسلسل سے ترقی کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان میں Enterpreneurship کی حوصلہ افزائی ہو۔ ہمارے مجموعی سماجی و سیاسی رویے، ٹیکس سسٹم، پالیسی معاملات اور میڈیا پر بعض اوقات بے جا تنقید مقامی Enterpreneurs کی حوصلہ افزائی کی بجائے حوصلہ شکنی کا باعث بن رہی ہے۔
آزادی کے بعد ہمارے ہاں نامساعد حالات کے باوجود کامیابی سے صنعتی اور کاروباری اداروں کی بنیاد رکھی گئی۔ آج بھی اسی جذبے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان Enterpreneurship deficit کے چنگل سے آزاد ہو اور دنیا کے مقابلے میں فخر سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہو کر اس مسلسل خسارے سے بھی جان چھڑا سکے۔