تیل اور تیل کی دھار
- تحریر سرور غزالی
- اتوار 25 / ستمبر / 2016
- 7016
یہ تب کی بات ہے جبکہ رائل آرمی کی بنیاد نہیں پڑی تھی۔ نہ ہی رائل ائیر لائن کی داغ بیل پڑی تھی۔ امارات کا قیام ابھی باقی تھا۔ البتہ تیل کی دھار پھوٹ پڑی تھی۔ اور اسے روکنے والا کوئی نہ تھا۔ لوگوں کو سمجھ نہیں آتی تھی کہ اس سیاہ مائع کی دھار کو قابو کیسے کیا جا سکتا ہے۔ اور یہ کہ اس کو سونے میں کیسے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
تب ایک شہزادہ دوردراز کے ایک ملک آیا اور اپنے میزبان سے کہنے لگا کہ تمہارا جھنڈا بہت خوبصورت ہے، ہمیں بھی ایسا ایک جھنڈا سلوادو۔ شہزادے کے میزبان نے کہا لو بھلا یہ کیا بڑی بات ہے۔ ایک گز لٹھا اور ایک گزسبز کپڑا خریدو، لو بن گیا جھنڈا۔ البتہ ایک ڈنڈا تمہیں ڈھونڈنا ہو گا۔ شہزادے نے کہا مگر جھنڈے کو ڈنڈے پر چڑھانا ہی تو سب سے مشکل کام ہے۔ ہمارے یہاں تو پھریروں کا رواج ہے۔
شہزادے کے میزبان کا پڑوسی ایک درزی تھا۔ اس نے درزی کو بلوایا۔ وہ کپڑا وغیرہ لے کر آیا اور اس نے کمالِ مہارت سے ایک سبز جھنڈا تیار کرکے اپنے جوشِ ایمان میں اسپر کلمہ لکھ کر شہزادے کو پیش کیا۔ شہزادے کو جھنڈا بہت پسند آیا مگر تھوڑی دیر بعد بولا اس پر اگر تم کسی طرح دو تلواریں لگادو تو بس مکمل ہو جائے گا۔ درزی نے اس پردو تلواریں بھی سی کر لگادیں شہزادہ خوش خوش اپنا جھنڈا لےکر وطن واپس روانہ ہو گیا۔
کچھ دنوں بعد وہ سیر سپاٹے اور خاص کر یہ دیکھنے کے لیے کہ دنیا میں اور کیا کچھ ہوتا ہے، اپنے دوست کے گھر پھر مہمان بن کر آگیا۔ اس کا میزبان قومی دن پر فوجی پریڈ دیکھ رہا تھا ۔ شہزادہ غور سے دیکھتا رہا اور کہنے لگا یہ تمہارا جھنڈا لے کر اتنے سارے لوگ اس مجمع میں کیا کر رہے ہیں۔ میزبان نے اسے بتایا کہ دیکھو یہ یومِ آزادی کی پریڈ ہے اور یہ مجمع نہیں لگا۔ یہ ہمارے ملک کی شان ہے، فوج ہے۔ یہ پرچم کو سلامی دے رہے ہیں۔ شہزادے کوشوق ہوا کہ اس کے پر چم کو بھی اسی طرح سے سلامی دی جائے۔
میزبان شہزادے کی ضد سے تنگ آ کر آخرکار اسے ایک فوجی کے پاس لے گیا اور اسے ساری داستان سنائی۔ فوجی نے کہا کہ میں تو کچھ نہیں کر سکتا مگر چلو میرے صاحب کے پاس چلو۔ ہوتے ہوتے معاملہ فوج کے انتہائی اعلی افسر کے پاس پہنچ گیا۔ اور کرنل صاحب نے نہایت ٹھنڈے دل ودماغ سے شہزادے کی بات سنی اور کہا کہ میں تمہارا مسئلہ حل کر دوں گا۔ لیکن اس کے لیے مجھے پوری ایک رجمنٹ لے کر تمہارے ملک آنا ہوگا۔ چلو تم اپنے ملک جاؤ اور پھر مجھے وہاں سے مطلع کرنا کہ کیا تم لوگ واقعی اس میں دلچسپی رکھتے ہو۔
کچھ عرصے بعد شہزادے نے کرنل صاحب کو خبر بھجوائی کہ وہ لوگ بھی ایسی ہی پریڈ چاہتے ہیں اور کرنل صاحب مع اپنی رجمنٹ کے آجائیں۔ چنانچہ کرنل صاحب وہاں گئے اور پھر تو وہ وہیں کے ہورہے۔ ایک تو ان کی وہاں خوب آؤ بھگت ہوئی۔ دوئم یہ کہ انہیں اس کام کے لیے بہت عرصہ لگ گیا۔ پہلے انہوں نے ایک نوجوانوں کی ٹیم تیار کی اور انہیں فوجی تربیت دینی شروع کی ۔ پھر ان کو سلامی اور جھنڈے کی پاسداری سکھائی۔ کرنل صاحب نے نہ صرف جھنڈے کی سلامی کو رائج کیا بلکہ اندرونی اور بیرونی استحکام کو بھی فروغ دینے کا گر سکھایا۔
کرنل صاحب نے یہ رائے بھی پیش کی کہ ہر ملک کی اپنی فضائی کمپنی ہوتی ہے چنانچہ ان کو بھی ایک فضائی کمپنی بنانی چاہیے۔ مسئلہ فوری طور پر جہاز کے دستیاب ہونے کا تھا۔ کرنل صاحب نے اپنے تعلقات سے ملکی فضائی کمپنی سے بات چیت کرکے انہیں راضی کر لیا کہ وہ اپنے دو بڑے جہاز لے کر آئیں اور ساتھ میں کچھ عملہ بھی ہو۔ یوں ایک نئی شاہی فضائی کمپنی کی بنیاد رکھی گئی۔ کرنل صاحب کو مزید مدد کی ضرورت پڑی تو انہوں نے سوچا کہ اپنے امریکی دوست سے مدد لیں۔ ان کے دوست وہاں چلے آئے اور ان کی مدد سے ایک تیل کی کمپنی کی داغ بیل ڈالی گئی۔
سب کچھ ٹھیک ٹھاک کاروبار کی طرح چلنے لگا۔ امریکی دوست نے کرنل صاحب کی خوب مدد کی اور کہا کہ اس ملک کو چلانے کے لیے تم اور افرادی قوت اپنے ملک میں منگواؤ اور میں اپنے ملک سے افرادی قوت کی سربراہی کے لیے ماہرین بلواتا ہوں ۔ یوں جوق در جوق لوگ آنا شروع ہو گئے۔ ایسے تمام افراد جو اپنے ملک میں رہ کر ملک کی خدمت انجام دیتے تو ان کا ملک نہ جانے کتنی ترقی کر جاتا، وہ سب کے سب یہاں آگئے اور اس نئے ملک کی ترقی میں جٹ گئے۔
شہزادہ بہت خوش تھا اس نے بدلے میں کرنل صاحب کو صلاح دی کہ ہم آپ کے ملک کے لوگوں کی دینی تعلیم کا بندوبست کرتے ہیں اور آپ ہمارے ملک کے لوگوں کو دنیاوی تعلیم سے روشناس کروائیں ۔ یوں وہ ملک اپنے تمام ماہرین تعلیم، طب اور دیگر شعبے کے ہنر مند افراد کو ایکسپورٹ کرنے لگا اور بدلے میں روپیہ پیسہ اور دینی مدارس کو امپورٹ کرنے لگا۔ کاروبار تو کاروبار ہے۔ لوگ بارود بیچ کر بھی امیر ہو جاتے ہیں۔ البتہ بارود کا دھواں اور بدبو تو صرف بارود خریدنے اور استعمال کرنے والے کے حصے میں آتا ہے۔ سو ایک نہ چھٹنے والا دھواں سا چھانے لگا۔
میزبان ملک کی بدقسمتی تھی کہ اس کا پیراسائٹ نیچر Parasite nature کا مہمان اس ملک سے تمام تر فائدہ اٹھا لینے کے بعد اسی ملک کی شکست وریخت کا خواہاں تھا۔