ڈیجیٹل عید قرباں
- تحریر عبدلرحمان شیخ
- سوموار 26 / ستمبر / 2016
- 5814
حال ہی میں عید قربان گزری ہے۔ بڑے جوش اور جذبے سے منائی گئی۔ سب نے نئے کپڑے پہنے، مہنگے سے مہنگا جانور خریدا، گوشت کھایا ، غریبوں میں تقسیم کیا یا فریزر میں رکھا۔ وہ الگ بات ہے۔ لیکن پھر بھی بہت سے لوگ گوشت نہ کھا سکےاور بہت سے لوگوں نے کھا کھا کر پیٹ خراب کر لئے.
خیر ایک صاحب اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے اتنے پیسے جو قربانی کے جانور کے لئے خرچ کئے جا رہے ہیں مقصد تو الله کو راضی کرنا ہے تو کیوں نہ یہ رقم کسی غریب کو دے دی جائے. واہ ملا صاحب قربانی کے وقت ہی آپ کو غریب کا خیال کیوں آیا۔ اس پر ایک کلین شیو ملا نے کہا کہ خدا کی خوشنودی اور مسلمانوں میں جذبہ قربانی اجاگر کرنے کے لئے جانور کی قربانی ضروری ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے اگست، سپتمبر اور مارچ کی پریڈز ہوتی ہیں۔ ان کا مقصد حب الوطنی کا جذبہ اجاگر کرنا ہوتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ یہ سب فوجی نمائشیں اور پریڈیں بند کرکے، تمام رقوم غریبوں میں کیوں تقسیم نہیں کی جاتیں.
خیر اس بات پر ایک چودرھی صاحب متفق ہو گئے اور جا کر ایک لاکھ روپے کابیل خرید لائے۔ اس پر وہ ملا جو کلین شیو نہیں تھے انہوں نے اعتراض کر دیا کے آپ پچاس پچاس ہزار کے دو جانور لے اتے، تاکہ گوشت زیادہ مل جاتا۔ ایک لاکھ کا بیل لانا تو دکھاوا ہے اور مقابلہ بازی ہے۔ یہ سن کر ایک اورصاحب اٹھ کھڑے ہوئے اور جا کر ایک لاکھ کے دو جانور لے آئے۔ اور اتے ہی سوشل میڈیا پر قیمت کے ساتھ ساتھ وزن، رنگ اور ہر قسم کی معلومات لکھ دیں.
خیر سوشل میڈیا پر بتانا بھی ایک قومی فریضہ بن چکا ہے . اس کے بعد بکرے ، بیل ذبح ہوئے۔ کچھ لوگوں کو رانیں بھیجیں گئیں، کچھ کو چانپیں کھلایئں گئیں۔ ایک دو جگہ سے ہمیں بھی دعوت آ گئی۔ ہم بھی گوشت کھانے پہنچ گئے۔ وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ سب وہی لوگ دعوت پر آئے ہیں جن صاحبان نے خود بارہ لاکھ کی گائے، پانچ لاکھ کے بکرے اور آٹھ لاکھ کے اونٹ خریدنے کے ساتھ ساتھ، اپنے اپنے اسپتالوں کے لئے کھالیں اکٹھی کی تھیں .
جوں توں کرکے عید گزری سوشل میڈیا پر اور ٹیلی ویژن پر بکرے کی سیلفیاں نشر اور کیٹ واک کے مقابلے ہوئے۔ اس طرح سنّت ابراھیمی انجام پائی۔ امید ہے ہمارے بچوں نے اس قربانی کی نیت کو خوب سمجھا ہوگا۔ الله اپ کا اور میرا حامی و ناصر ہو۔