بھارت کی لاحاصل کوششیں
دنیا بھر میں جس طرح آج مسئلہ کشمیرکی گونج ہے ، ہماری مختصر تاریخ میں پہلے کبھی نہ تھی۔ نوجوان کمانڈر برہان وانی کی شہادت نے بھارت کو اس جگہ لا کھڑا کیا ہے کہ وہ بے بسی کی تصویر بنا نظر آ رہا ہے۔ بے گناہ کشمیریوں کے درد کی کسک آج دنیا کا ہر اہل دل محسوس کر رہا ہے۔ بھارت کی قابض اور جارح فوج شہریوں کو ان کے ہر حق سے محروم اور انہیں انہی کے گھروں میں قید کر کے رکھنا چاہتی ہے مگر اس کی تمام کاوشیں سعی لاحاصل ثابت ہو رہی ہیں۔ کشمیریوں نے جان و مال کی قربانیاں دیں ، یہاں تک اپنے معصوم بچوں کی زندگیاں بھی وار دیں۔ لیکن آزاد فضا میں سانس لینے کی خواہش تمام تر ظلم و جبر پر حاوی ہے۔ وانی کی شہادت نے بھارتیوں کے سینوں میں ایسا تیر پیوست کیا ہے کہ وہ کسی پل چین سے نہیں رہ پا رہے۔
کشمیر میں ابھرنے والی حالیہ تحریک سے واضح طور پر ایک بات سامنے آئی ہے کہ اس جدوجہد کو کسی قسم کی خارجی حمایت حاصل نہیں۔ تعصب کے خمیر سے گندھے بھارتی میڈیا کا کچھ حصہ (جس کے ضمیر میں کچھ شرم و حیا باقی ہے) بھی یہ امر تسلیم کر رہا ہے۔ کشمیریوں نے یہ بھی واضح کر دیا کہ انہیں بھارت کا جابرانہ تسلط کسی صورت قبول نہیں۔ تمام ریاستی جبر ، بندوقوں کی سنگینیں ، پیلٹ گنیں ، مرچوں بھرے ہتھیار کشمیریوں کے آزادی کی خواہش سے لبریز سینوں تک پہنچ کر بیکار ہو جاتے ہیں۔ اڑی حملے سے قطع نظر (حملہ کس نے کیا، کس کو فائدہ اور کس کو نقصان پہنچا) کشمیریوں نے اپنی تحریک کو ایسی اخلاقی بنیادیں فراہم کر دی ہیں کہ دنیا بھارت کو کوسنے پر مجبور ہو گئی ہے اور مہذب دنیا کا سامنا کرنا مودی سرکار کیلئے دشوار ہو چکا ہے۔
اس پرامن جہدوجہد آزادی کے خلاف بھارت فرسودہ اور پرانے ہتھکنڈے استعمال کرنے پر اترا ہوا ہے۔ بھارت کی حکمت عملی ہے کہ اس تحریک پر ’’پاکستان کی حمایت یافتہ ‘‘ جدوجہد کا لیبل لگا دے۔ تحریک آزادی کو ’’دہشتگردی ‘‘ کا لبادہ پہنا دے۔ مگر یہ امر اس قدر دشوار ہے جس قدر طلوع صبح کو سیاہ رات قرار دینا۔ کشمیریوں کے عزم و ہمت، آزادی کے لئے ان کے استقلال نے اس حقیقت کو دنیا پر آشکار کر دیا ہے کہ بھارت اس جہدوجہد کر دبانے کی سعی لاحاصل کر رہا ہے۔ بالآخر انڈیا کو مذاکرات کی میز پر آنا اور اہل کشمیر کو ان کا حق دینا ہی ہو گا۔