جدید معاشرہ اور کرپشن کے مسائل
- تحریر مسعود مُنّور
- منگل 27 / ستمبر / 2016
- 5727
ہمارے معاشرے میں جرائم کی رفتار جس تیزی سے بڑھ رہی ہے اس سے دو ہی نتیجے اخذ کئے جا سکتے ہیں۔ پہلا نتیجہ یہ کہ انتظامیہ اور حکومت اس رفتار کو خاطر میں نہیں لاتی لہٰذا ان کے نزدیک کوئی تشویشناک بات نہیں۔ دوسرا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جرائم کو ختم کرنے کے ذرائع انتظامیہ کے پاس نہیں ہیں لہٰذا وہ بے بس ہے اور اس پر طرہ یہ کہ جرائم کی نوعیت میں بھی فرق آ چکا ہے۔
چوری، لوٹ مار، ڈکیتی، قتل و غارت تو روزمررہ کے جرائم ہیں اب ان میں جنسی جرائم بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔ جرائم میں اضافے کے کئی اسباب ہیں۔ معاشرے میں اقتصادی تغیر رونما ہو چکا ہے، قدیم زمانے کی وہ اخلاقی قدریں ختم ہو چکی ہیں جن قدروں کے حوالے سے اخلاقیات کا رونا رویا جاتا ہے۔ ہم معاشرتی تبدیلیوں کو محسوس تو کرتے ہیں لیکن ان کا تجزیہ کرنے کو تیار نہیں۔ ہماری فکر کے ڈانڈے ماضی سے ملتے ہیں حال کو دیکھنے اور پرکھنے کی جرات نہیں، یہی وجہ ہے کہ اب گفتگو اور تحریر میں مبہم اور غیر یقینی باتیں پائیں گے۔
جو لوگ کہتے ہیں کہ معاشرے کی تنظیم نو کے بغیر کوئی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا ان کی بات کوئی سننے کو تیار نہیں ہے کہ معاشرے کی تنظیم نو میں پرانے اور قدیم نظریات اور تصورات کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور اب معاشرے میں اصلاحات کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ تنظیم نو کے ضمن میں بنیادی بات تو یہ ہے کہ ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ معاشرتی زندگی کی بنیاد نظریات نہیں بلکہ ’’برادری رشتے‘‘ ہیں۔ معاشرے کی ہیئت اس کی پیداواری صلاحیت کے مطابق نہیں ہے۔ ہمارے ہاں گزشتہ 69 سالوں سے پیداوار کے ذرائع اور اس کی تقسیم میں بہت تبدیلی آ چکی ہے لیکن ہم اس تبدیلی کو معاشرے کی پرانی ہیئت پر اثرانداز ہونے نہیں دیتے۔ ہم صنعت و تجارت اور زرعی پیداوار کے نئے طریقوں اور انداز کو بحیثیت حقائق نہیں لیتے۔ مثال کے طور پر ہم چور بازاری، رشوت اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف بہت کچھ کہتے ہیں لیکن یہ سوچنے کی تکلیف گوارا نہیں کرتے کہ چور بازاری اور ذخیرہ اندوزی سرمایہ پرست معیشت کے لازمی پہلو ہیں۔ اگر آپ سرمایہ دارانہ نظام معیشت برقرار رکھنے پر تیار ہیں تو پھر چور بازاری، مہنگائی، ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کی لعنت سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتے۔
ہمارے ہاں ایسے سیاستدانوں اور رہنماؤں کی کمی نہیں جو ان معاشرتی برائیوں کو اخلاقیات کی تعلیم سے ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ دراصل معاشرتی حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔ وہ سرمایہ دار اور جاگیرداروں کے طبقوں کی حیثیت قائم رکھنا چاہتے ہیں کہ وہ خود سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ ذہنیت کے مالک ہیں۔ پنڈت جواہر لال نہرو جاگیرداری کے خلاف اپنے دلائل دیتے ہوئے اکثر کہا کرتے تھے کہ روس نے زار کے بعد یہ کام انتہائی مختصر عرصے میں کر لیا تھا تو بھارت ایسا کیوں نہیں کر سکتا؟
ہمارے ہاں کے قائدین اور رہنماؤں کےلئے سائنٹفک تنظیم نو کا لفظ انتہائی تکلیف دہ بن گیا ہے۔ دراصل یہی وہ لوگ ہیں جو معاشرے کی تبدیلی کے خواہاں نہیں۔ یہی وہ صاحب اثر ہیں جو تنظیم نو کے لفظ سے بدکتے ہیں۔ یہ عام لوگوں کی بھلائی ہرگز نہیں چاہتے بلکہ یہ لوگ ذاتی ملکیت کو زندگی کا محور سمجھتے ہیں اور ملکیت کے زمرے ہی میں اخلاق آ جاتا ہے اور اخلاق بھی ذاتی ملکیت بن گیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے ہم معاشرتی زندگی کے اقتصادی اور مادی عوامل کو زیر بحث لائیں، معاشرتی برائیوں اور ان کے اسباب کا سائنٹفک مطالعہ کریں اور حقیقت پسندانہ نگاہ سے معاشرتی زندگی کو دیکھیں۔ جب تک میں، آپ اور ہم سب ایسا نہیں کریں گے اس وقت تک معاشرے میں انتشار موجود رہے گا۔
سائنٹفک تحقیق کا انحصار کسی مسئلے کے بارے میں ذاتی نقطہ نظر، تجزیہ، تجربے یا احساس پر مبنی نہیں ہوتا بلکہ تحقیق، ریسرچ اور دستیاب مواد کو سائنسی نقطہ نظر سے زیر تجزیہ لانے کا عمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے یہ بتانا بھی ضروری سمجھا ہے کہ پاکستان کی معاشی، سماجی، مذہبی، سیاسی اور اقتصادی و معاشرتی زندگی میں تیزی سے پھیلتی ہوئی کرپشن سے افواج پاکستان بھی نہیں بچ سکیں کہ فوج کی طاقت بے حساب ہے اس لئے اس کی کرپشن کی بھی کوئی حد نہیں کہ کون اپنے ’’سیاسی کردار‘‘ سے دستبردار ہونا چاہے گا۔ خاص طور سے جب اس کردار کے ساتھ وافر مال و دولت وابستہ ہو۔ ایک بار اگر اس ادارے نے اپنی بیرکوں سے نکل کر اپنے آپ کو ملک شاد باد کی معاشی مین اسٹریم سے جوڑا تو بعض افراد کی دولت میں بے حساب و بے پناہ اضافہ لازم تھا۔ میرے حساب سے جب سیاسی اور معاشی مفادات یکجا ہو جائیں تو فوج کا اپنی بیرکوں میں رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔
اب آیئے ایک حکایت سنئے۔ یاد رہے کہ اس حکایت کا میرے کالم سے ہرگز کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایک ایسے ہی انتشار زدہ معاشرے اور لہولہان ملک کا ’’بادشاہ‘‘ جنگل میں شکار کھیلنے گیا۔ اس نے ایک خوبصورت ہرنی کا نشانہ لیا جوخطا گیا۔ بولا ’’بچ گئی‘‘۔ پھر ایک خوگوش کا نشانہ لیا وہ بھی خطا گیا۔ بولا ’’بچ گیا‘‘۔ اتنے میں پہاڑ سے ایک بھاری پتھر لڑھکا، قریب تھا کہ بادشاہ اس پتھر کے نیچے آ کر کچلا جاتا مگر وہ تیزی سےپہلو بچا گیا۔ اتنے میں کہیں سے آواز آئی ’’بچ گیا‘‘.....
لوگ بچتے ہیں محبت کی پریشانی سے
میں نے سیکھا ہے محبت میں پریشاں ہونا