نریندر مودی، جنگ کا سوداگر

بھارت اور پاکستان جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ دونوں پڑوسی ممالک اپنے قیام کے ساتھ ہی کشمیر کے تنازعے کے سبب، حقیقی معنوں میں تعلقات کبھی نارمل نہیں کرپائے۔ کشمیر جہاں ایک طرف بھارتی تسلط کے سبب پچھلے 69 سالوں سے خون کی وادی بنا ہوا ہے، اسی تنازعے کے سبب برصغیر پاک وہند پر سے جنگ وجدل کے بادل کبھی چھٹے نہیں۔

تین جنگوں نے دونوں ممالک کو اسلحے کی دوڑ میں انتہا تک پہنچا دیا ہے۔ بھارت گزشتہ ایک عشرے میں دنیا میں اسلحہ کاسب سے بڑا خریدار رہا ہے اور اسی طرح پاکستان بھی اپنے وسائل کے مطابق اسلحہ سازی سے لے کر خریداری کی  کوششوں میں ہر وقت مصروف رہتا ہے۔ دونوں ممالک کے اسی جنگجویانہ رجحان نے برصغیر کی اِن دو ریاستوں کو ایٹمی طاقت بنایا ہے۔ 1974ء میں بھارت نے ایٹمی دھماکہ کر کے پاکستان کو ایٹمی اسلحے کی دوڑ پر مجبو رکیا۔ تب وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے ہنگامی پریس کانفرنس کر کے بھارت پر الزام لگایا کہ اس نے خطے میں عدم توازن قائم کر دیا ہے اور اس کے بعد ہی انہوں نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا حتمی فیصلہ کیا ، جس سلسلے میں انہوں نے پہلی اعلیٰ سطحی میٹنگ ملتان میں کی۔ بلکہ انہوں نے تو پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کے سفر کے نتیجے میں اپنی جان قربان کردی۔ کشمیر کے تنازع نے جہاں دونوں ممالک کو روایتی اسلحے اور ایٹمی اسلحے سے لبریز کر دیا ، وہیں دونوں ممالک نے اسلحے کی دوڑ اورجنگی جنون میں اپنے اپنے ہاں موجود غربت کے خطرات پر سطحی لفاظی کی حد تک ہی توجہ دی۔ دنیا کی 85 فیصد غربت  اسی خطے میں برپا ہے۔ جنگ اور غربت کا مارا برصغیر جنگ در جنگ کے بعد بھی کسی طرح کا سبق حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

کشمیر سیاسی ، تاریخی اور عالمی قوانین کے تحت حقیقت میں بھارتی جبروتسلط کا شکار تو رہا ہی ہے، پچھلی تین دہائیوں میں وہاں سات لاکھ بھارتی فوج نے اس خطۂ جنت کو جہنم میں بدلنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ نوجوانوں، بوڑھوں، خواتین کا قتل عام، عورتوں کا گینگ ریپ کرکے کشمیریوں کو غلامی میں رہنے کے لیے مجبور کرنے کا عمل اس وقت عروج پر ہے۔ غربت زدہ برصغیر اس وقت جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے۔ اور سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ بھار ت کا منتخب اور مقبول وزیراعظم نریندر مودی جنگ کے طبل بجانے میں پیش پیش ہے۔ اور وہ لوگ جو اس خطے میں جنگوں کے سوداگر ہیں، جنگ کو ایک کھیل سمجھ کر اس عمل کو تیز کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے۔ حتیٰ کہ دونوں طرف موجود جنگی جنونی ایٹمی جنگ کے درس دے رہے ہیں۔ حتیٰ کہ سوشل میڈیا میں یہ جنگی جنونی ایٹمی حملے کی صورت میں بچاؤ کی تدابیر بھی بتارہے ہیں۔ افسوس جن لوگوں 69 برس میں پیٹ نہیں بھرے جاسکے، اب اُن کی زندگیوں کو ایٹمی حملے سے بچانے کے دعوے کئے جارہے ہیں۔ یہ انسانوں کے ساتھ مذاق ہی نہیں، اُن کے انسان ہونے کی توہین ہے۔ سرحد کے دونوں طرف لاتعداد نریندر مودی جنگ مسلط کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ درحقیقت یہ جنونی اس خطے کے کروڑوں انسانوں اور کشمیریوں کے بھی دشمن ہیں۔ وہ اس خطہ ارض کو دنیا کا بڑا ہلاکت کدہ بنانے میں تسکین حاصل کرکے عالمی سرمایہ داری کے جنگی ایجنڈے کو توسیع دے رہے ہیں ۔

بھارت میں کشمیریوں کے حقوق کے لیے جو سب سے طاقتور آواز کمیونسٹ اور سوشلسٹ  پارٹیوں کی ہے۔ وہ پورے ہندوستان اور اِس کے دِل، دہلی (دارالحکومت) میں دلیری کے ساتھ کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کر رہے ہیں یا پھر چوٹی کے ترقی پسند بھارتی دانشور اس حوالے سے امید کی کرن ہیں۔ افسوس پاکستان میں  اِن ترقی پسندوں اور سوشلسٹوں کو مٹا دیا گیا ہے، اس لیے یہاں ایسے ترقی پسند کم ہی ہیں جو بھارتی تسلط، ظلم ، بربریت اور جارحیت کے خلاف آواز اٹھائیں۔ خالی جارحیت کے خلاف آواز ہی نہیں بلکہ جنگی جنون کے خلاف بھی اور کشمیر کا مسئلہ عالمی قوانین اور کشمیریوں کی جدوجہد کو مدنظر رکھ کر حل کرنے پر زور دیں۔ یہاں تو ایک ہی آواز چھائی ہوئی ہے، ایٹمی اسلحہ گوداموں میں رکھنے کے لیے نہیں ، اٹھو وقت ہے ان کو استعمال کرو۔ ذرا تصور کریں کہ دونوں ممالک خدا نخواستہ ایٹمی جنگ کے بعد کہاں کھڑے ہوں گے؟ یقیناً پھر کروڑوں تباہ حال انسانوں کا قبرستان، عالمی طاقتوں کے زیر تسلط ہی ہو گا یہ خطہ۔

نریندر مودی ایک غریب پس منظر رکھنے والا سیاست دان ہے۔ ایک چائے فروش ۔ افسوس اگر آپ پچھلی اور جاری صدی میں ایسے مقبول لیڈروں کو دیکھیں تو آپ حیران رہ جائیں کہ اکثر ایسے مقبول لیڈر تاریخ میں جنگی جنون اور فاشزم کرتے ہی نظر آتے ہیں۔ مقبولیت ہی اُن کی فاشسٹ طاقت کا سبب ہوتی ہے۔ وہ جمہوری طریقے سے ہی منتخب ہوئے ہیں، کسی گلی میں ریڑھی لگا کر بچپن میں روٹی فروخت کرنا یا ریلوے سٹیشن پرچائے بیچنا اُن کی عظمت کی داستانوں کو مستند کردیتی ہیں۔ کوئی ایسے لیڈروں کے حال میں جھانکنے کی کوشش ہی نہیں کرتا کہ وہ طاقت اور دولت سمیٹنے میں کس طرح مصروف رہتے ہیں۔ ایسے لیڈر تنگ نظر قوم پرستی کا سہارا لیتے ہیں اور بڑی سے بڑی قوموں کو جنگی جنون میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ تنگ نظر قوم پرستی کے ساتھ عقیدہ پرستی کی بھی چاشنی لگاتے ہیں۔ ایسے لیڈر، جنگ کو ایک مقبول سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ مضبوط معیشت کے اپنے منصوبے کومضبوط کرنے کے لیے عوام کے سامنے پروپیگنڈا کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ تاریخ کو دہرانے،Revival Of Glorious History (عظمت رفتہ) ، اُن کی ہر تقریر میں آپ سنیں گے۔ اپنی قوم کو جنگ کے ذریعے اُسی عظمت رفتہ کی طرح زندہ کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ حالاںکہ تاریخ کبھی دہرائی نہیں جاسکتی۔ زمانہ یا سماج نئی ارتقائی منازل طے کر چکا ہوتا ہے۔ لیکن ہم نے پچھلی ڈیڑھ صدی میں تجربہ کیا، ایسے مقبول لیڈر قوموں کو ورغلانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنی قوم کا بیڑا غرق کرتے ہیں۔ اور اُن بدنصیب قوموں کوبھی تباہ وہ برباد اور ہلاک کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے جو اُن کے جنگی جنون میں مقابلے پر اتر آتی ہے۔ ایسے فاشسٹ مقبول لیڈر، جنگ اور عظمت رفتہ کو ایک مقبول نعرے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ ہٹلر سے لے کر نریندرمودی تک لاتعداد ایسے مقبول لیڈر پیدا ہوئے جنہوں نے اپنی قوموں اور ریاستوں کا بیڑا غرق کر دیا ۔

نریندر مودی نے  ستمبر میں چین میں جی 20 کی میٹنگ میں پاکستان کو دہشت گردی کا گڑھ اواور دہشت گردی کو اس کی ریاستی پالیسی قرار دیتے ہوئے سختی سے نمٹنے کی تجویز پیش کی۔ تب اُڑی پر مسلح لوگوں کا حملہ نہیں ہواتھا۔ اور ہم ذرا ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ نریندر مودی اپنے جنگی اور فاشسٹ ایجنڈے میں کس قدرکامیاب ہیں کہ انہوں نے دونوں ریاستوں کو جنگ کے دہانے پر لا کر کھڑا کردیا ہے۔ اور وہ عبداللہ دیوانے جو بھارت کو سبق سکھانا چاہتے ہیں، وہ اس فاشسٹ جنگی جنون کے ردِ عمل کا شکار ہیں۔ اُن کی اپنی کوئی رائے نہیں۔ ہم دعویٰ تو بہت کرتے ہیں پاک چین دوستی کا ، کاش ہم نے چینیوں نے سبق سیکھا ہوتا کہ قومی ترقی، سائنسی ترقی اور مضبوط معیشت ہی آپ کو اس قابل بناتے ہیں کہ آپ کشمیر جیسے تنازعات کو حل کروانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

نریندر مودی جہاں کشمیریوں کا قاتل ہے، وہ اس وقت بھارتی عوام کا بھی دشمن ثابت ہو گا اور افسوس اس کے ردِ عمل میں سبق سکھانے والے درحقیقت لاشعوری طور پر، اس کے حکم پر عمل کررہے ہیں  ۔ اس وقت پاکستان کو عالمی سطح پر سفارتی حوالے سے متحرک ہو کر بھارتی جنگی جنون اور اس کے کشمیر میں ظلم و جبر کو بے نقاب کر نا چاہیے اور اسی کے ساتھ اُن بھارتیوں (سوشلسٹوں، کمیونسٹوں اور ترقی پسندوں) کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا چاہیے جو بھارتی ریاست کی کشمیر میں بربریت کے خلاف ہراول دستے کے طور پر سب سے آگے ہیں۔ جن دانشوروں نے بھارتی ریاست کے کشمیر میں جبر کے خلاف بھارتی سول ایوارڈ واپس کردئیے۔ اگر پاکستان کے عوام بھارتی عوام کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو جائیں تو اس سے بڑی کامیابی کوئی نہیں ہو گی۔

کشمیریوں اور پاکستانیوں کی جنگ کا طبل نریندر مودی نے بجایا اور جنگی جنونی دونوں طرف اپنی دونوں ٹانگوں پر کھڑے ہو گئے۔ غور کریں حکم کس کا چلا؟ اگر کشمیری عوام پُرامن جدوجہد کر کے مسلح بھارتی افواج کا مقابلہ کر رہے ہیں تو پاکستان کے عوام بھارتی ریاست کے خلاف ایک آواز کیوں نہیں بن سکتے۔ اس کے لیے اُ ن بھارتیوں کے ساتھ اظہارِیکجہتی کرنا چاہیے جو بھارت نہیں بھارتی فاشزم کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان کا سیاسی موقف اس قدرطاقت ور بنادیں جو ایٹم بم سے زیادہ مؤثر ہو۔ جیسے چین نے اپنا موقف سیاسی طاقت کے ذریعے مضبوط بنایا۔ جنگوں کے سوداگر قوموں کی بربادیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔ وہ نریندر مودی ہوں یا سرحد کے دونوں طرف پھیلے تنگ نظر ہندویا مسلمان جنگی جنونی دانشورہوں۔

ایسے مشکل وقت ہی قوموں کے مقدر کا فیصلہ کرتے ہیں۔ کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی مرضی کے بغیر حل کرنا اور اُس کے لیے دونوں قوموں کو جنگ میں دھکیلنا نریندر مودی کا ایجنڈا ہے۔ گلیوں سے اٹھنے والے ایسے مقبول لیڈرہی فاشسٹ ثابت ہوتے ہیں جنہوں نے مقبول حکومتوں کے ذریعے اپنی اور پڑوسی قوموں کو برباد کر دیا۔ ماضی کے یہ غریب بچے اپنی حکمرانی میں دولت کے ڈھیروں پر کھڑے نظر آئیں گے۔ بس ذرا غور کریں۔