عارف کسانہ کے افکار تازہ
- تحریر انجینئر افتخار چودھری
- بدھ 28 / ستمبر / 2016
- 6644
میں کتاب پڑھے بغیر بھی لکھ سکتا تھا کہ کمال لکھا ہے، اس لئے کہ باہر کے ملک میں رہنے والا پاکستان، اسلام دو قومی نظریے کے سوا لکھے گا بھی کیا۔ جس بندے نے پچاس درجے پلس اور مائینس کے موسم میں پاکستان ہی لکھنا ہے خواہ وہ کہیں رہتا ہو وہ اور کیا لکھ سکتا ہے؟
سچ پوچھیں میں خود تیس سال وطن سے باہر رہا لیکن تیس گھڑی بھر کو بھی وطن سے باہر نہ تھا۔ میری طرح بیرون ملک مقیم ہر پاکستانی کو اپنی گلیاں اور وطن کی یادیں بھول نہیں سکتے۔ وطن کے موسموں کی یاد میں زندہ رہنے والے یہ لوگ اگر نہ ہوتے تو ہم میں صرف زرداری اور نواز ہی رہ جاتے۔ میں تو یہ بھی کہتا ہوں کہ چودھری رحمت علی اگر لندن نہ جاتے تو پاکستان کا نام نہ تخلیق کر پاتے۔ علامہ اقبال یورپ کی فضاؤں کا مزہ نہ چکھتے تو آفاقی اور اسلامی شاعری نہ کر پاتے اور قائد اعظم بھی تو وہیں جا کر جان پائے کہ پاکستان لے کر ہی گزارہ ہو گا۔ عمران خان بھی ملک سے باہر رہے اور پاکستانیت کی بیٹری چارج کروا کر لوٹے۔ ان کی وطن سے محبت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ہمارے ایک دوست نور جرال جدہ میں رہے۔ پاکستان کے گن گاتے رہے۔ ایک ہجرت راس نہ آئی تو وہاں سے ڈالروں کے دیس کوچ کرگئے۔ مگر پاکستان ان کے ساتھ ساتھ رہا۔ ان کا ایک قطعہ ملک سے باہر رہنے والے پاکستانیوں کی نظر کرتا ہوں اور خاص طور پر افکار تازہ کے مصنف جناب عارف محمود کسانہ کو پیش کرتا ہوں:
تلاش رزق ہی ہجرت کا اک بہانہ ہے
وطن سے دور یہ اک عارضی ٹھکانہ ہے
ہم اپنے کچے مکاں بیچ کر نہیں آئے
ڈھلے گی شام تو پھر گھر کو لوٹ جانا ہے
عارف محمود کسانہ سویڈن گئے اور وہیں کے ہو کر رہ گئے۔ میں جب وہاں کے جمہوری نظام کے گن گاتے اپنے اس دوست کے کالموں کا مجموعہ پڑھ رہا تھا تو حیرت اس بات پر ہوئی کہ کیسا مستقل مزاج شخص ہے جو کئی برسوں سے اپنے گھر میں درس قران کی محافل بھی سجاتا ہے۔ میڈیکل کے شعبے میں تحقیق کے لئے وقت بھی نکالتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بچوں کو بھی نہیں بھولتا۔ ان کی تربیت کے لئے پیاری پیاری سی کہانیاں بھی لکھتا ہے۔عارف کسانہ میں کتاب بینی پر ایمان کی حد تک یقین رکھتا ہوں۔ جس گھر میں کتاب نہیں ہوتی وہ گھر نہیں قبرستان ہوتے ہیں۔ آپ کی کتاب مجھے دو بار مفت مل چکی ہے۔ کتاب میں جمع کئے ہوئے کالم جگنوؤں کی مانند ہیں۔ اندھیرا کتنا بھی ہو ان سے روشنی مل ہی جاتی ہے۔
کتاب میں قرانی حوالوں سے آپ نے مجھ جیسے شخص کی معلومات میں اضافہ کیا ہے۔ مجھے اس کتاب سے پتہ چلا کہ حوا نامی خاتون جسے ہم اولیں ماں کا درجہ دیتے رہے اس کا ذکر اللہ کے پاک کلام میں سرے سے ہے ہی نہیں۔ میں جدہ میں تین عشرے مقیم رہا۔ حاجی حسین علی رضا بلڈنگ کے پاس مقبرے میں اماں حوا کی قبر کا بتایا جاتا رہا۔ آپ کے کالموں میں انڈیا کے چہرے سے بھی نقاب اتارا گیا ہے۔ جمہوری کلچر کا وہ سیاہ نقاب جو اس نے سکم، حیدر آباد دکن، کشمیر، جوناگڑھ اور مناور سمیت متعدد ریاستوں کے ساتھ بہیمانہ سلوک کرنے کے باوجود اوڑھ رکھا ہے۔ بھارت در اصل چانکیائی سیاست کا ایک کالا رخ ہے جو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنا ہوگا۔ ہماری نوجوان نسل کو کون بتائے گا کہ ریاست حیدر آباد کو بھارت نے اس وقت خون میں نہلا دیا جب قائد اعظم کی قبر کی مٹی بھی ابھی سوکھی نہ تھی۔ اسی نے پاکستان کو دو لخت کیا۔ میں جب آپ کے یہ الفاظ پڑھ رہا تھا تو مجھے اپنے وزیر اعظم یاد آ گئے جو ہند میں جا کر کہتے رہے کہ ہم میں اور آپ میں فرق ہی کیا ہے۔ آپ بھی آلو گوشت کھاتے ہیں، مجھے بھی پسند ہے۔ آپ بھی اسی رب کو پوجتے ہیں، جسے ہم پوجتے ہیں۔
عارف محمود کسانہ یورپ میں مقیم پاکستانیوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ لوگ مشین بن گئے ہیں۔ انہیں اپنی اولادوں کو سنبھالنے کا ہنر بھول رہا ہے۔ ہر کوئی گھنٹوں منٹوں میں پھنسا ہؤا ہے۔ میں سلام پیش کرتا ہوں آپ کی اس کاوش کو جو آپ نے جنگ لندن، اوصاف اور دیگر اخبارات میں لکھ کر سرانجام دی ہے۔ آپ کامیاب ہیں کہ تحریری شکل میں اسے پیش کر دیا۔ مجھے محسوس ہوا کہ آپ بھی انہی راستوں سے ہو کر نکلے ہیں جن پر میں بھی چل چکا ہوں۔ ہم تو شاید ابھی تک اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں۔ اللہ نے آپ پر کرم نوازی کی آپ نے کچھ کر دکھایا۔ بس ایک چیز حوصلہ دیتی ہے کہ حکمرانوں کی چیرہ دستیوں کے خلاف ڈت جانے والے لوگ اب بھی موجود ہیں۔
عمران خان خانماں برباد ہو کر پاکستان کو آباد کرنے کی لڑائی میں مصروف ہے۔ ہم اس برباد کے ساتھ برباد ہو کر پاک سر زمین شاد با د کے سفر پر جانے کی تیاری میں ہیں۔ آپ کی کتاب افکار تازہ ختم کر کے ہی رائے ونڈ جا رہا ہوں۔ اس کتاب سے نئی فکر اور نئی جہتیں ملی ہیں۔ البتہ کہیں کہیں کتابت کی غلطیاں ہیں۔ پروف ریڈر سے کچھ کوتاہی ہوئی ہے۔ مجھے آج سید مودودی بھی یاد آئے جنہوں نے 70 کے الیکشن ہارنے کے بعد ضیاء شاہد اور دیگر جوانوں سے کہا تھا کہ میرا اللہ مجھ سے میری کوشش کا پوچھے گا۔ یہ نہیں پوچھے گا کہ کتنی سیٹیں جیتیں؟ کوشش کرتے رہیں۔
آپ ادھر خوبصورت موسموں کے ملک سویڈن میں، ہم سڑکوں پر افکار تازہ سے روشنی لے کر۔ کبھی موقع ملا تو ضرور اس ملک کو بھی دیکھیں گے جہاں کی تصویر آپ نے ہمیں دکھائی۔ یہ تحریر آپ کے لئے بھی ہے اور آپ کی کتاب کے ساتھ ساتھ وطن سے دور لاکھوں بچوں کے لئے بھی جن کے دم قدم سے یہ پاکستان کا مستقبل روشن ہے۔ اللہ کرے زور قلم اور ذیادہ۔ اپنی تحریروں میں اسلام، پاکستان اور دو قومی نظرئیے کی خوبصورتی کو شامل رکھئے۔
کتاب حاصل کرنے کے لئے رابطہ: [email protected] یا 009234456663463 قیمت: 400 روپے۔ صفحات: 271