بھارت میں مسلم سیاسی پارٹی کی ضرورت کیوں

  • تحریر
  • بدھ 28 / ستمبر / 2016
  • 6552

2014 کے لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کی کامیابی کے وجہ سے مسلم رہنماؤں کا ایک بڑا طبقہ مایوسی کا شکار ہو گیاہے۔ وہ جن سیاسی پارٹیوں سے وابستہ تھے یا جن غیر مسلم رہنماؤں کو اپنا آقا بنا رکھا تھاوہ سیاسی اکھاڑے اور جنگ میں بالکل نا کام نظر آئے ہیں۔ نتیجہ میں ان کے حواریوں پر مایوسی کی کیفیت طاری ہونا لازمی بھی ہے۔ ا س وقت ایسے مسلم رہنماؤں پر عجب سی کیفیت طاری ہے ۔ کچھ لوگ اس حالت میں نظر آتے ہیں جیسے ابھی ابھی خواب غفلت سے جاگے ہوں۔

مسلم رہنماؤں کو اب محسوس ہونے لگاہے کہ وہ جس راستے پر اب تک چلتے رہے ہیں دراصل وہ غیروں کا بنایا ہوا راستہ تھا جس پر چل کر وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے ہے۔ سیکولر سیاست کے نام پر سیاسی پارٹیاں انہیں بیوقوف بناتی رہی ہیں یا اپنے مفاد کے لئے انہیں استعمال کرتی رہی ہیں ۔ مسلمان اب تک یعنی سرسٹھ سالوں تک کانگریس کی غیر مشروط اطاعت پر معمور رہے ہیں ۔ انہوں نے اپنے سیاسی و غیر سیاسی ایجنڈے کو ترک کردیا تھااور عافیت کی زندگی کی تلاش میں سب کچھ بھلا دیاتھا۔ وہ ملی مذہبی بنیادوں پر اپنی صف بندی کو ترک کرتے ہوئے ان پارٹیوں کے تابع ہوگئے اور سیکولرازم کے علمبردار اور مبلغ بن بیٹھے تھے ۔ آخر انہیں کیا ملا ۔ ذلت ورسوائی کی زندگی۔ مسلمانوں کے لئے کانگریس کے طویل دور اقتدار کا ہر دن قیامت انگیز ثابت ہوا ہے۔ اس لئے اب انہیں کچھ ضرور کر نا چاہئے۔ اس وقت ملک بھرمیں ایک بحث چھڑگئی ہے کہ کیا ہندوستان کے مسلمانوں کو ایک سیاسی پارٹی بنانی چاہئے۔ کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ اس طرح کی کوشش مسلمانوں کو ضرور کرنی چاہئے اور ایک سیکولر پارٹی بنانی چاہئے۔ جس کی قیادت مسلمانوں کے ہاتھ میں ہو ۔ توکچھ لوگ اسے ایک بیکار کی کوشش مانتے ہیں۔ مگر کچھ مبصرین کی رائے ہے کہ مسلمانوں کو اس ملک میں ایک علیحدہ سیاسی پارٹی بنانے کی ضرورت آخر کیوں آ ن پڑی ہے جبکہ انہیں اس ملک میں سب کچھ مل رہا ہے۔ حکومت کا کون سا عہدہ ہے جو انہیں نہیں مل پارہا ۔ مسلمانوں کو اس ملک میں تین بار صدار ت کی کرسی ملی، ان گنت گورنر،وزیراعلی، وزیر ، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور جسٹس، سفیر، چیف سکریٹری اور سکریٹری کا عہدہ ملا۔ اس کے علاوہ یہاں کی ہر پارٹی اس بات کا پورا خیال رکھتی ہے کہ کم از کم ایک مسلمان کو کسی بڑے عہدہ پر فائز کیا جائے اور انہیں کسی نہ کسی حلقہ انتخاب سے ٹکٹ ضرور دیا جائے۔ یہاں تک کہ اب تک مرکز میں شاید ہی کوئی ایسی حکومت تشکیل دی گئی ہوجس میں کوئی مسلمان شامل نہ ہو۔ یعنی کون سی ایسی جگہ ہے جہاں مسلمانوں کا عمل دخل نہیں ر ہا ہے ۔ پھر بھی کچھ لوگ مسلمانوں کی ایک سیاسی پارٹی کے قیام پر زور دیتے ہیں۔ کیاایسا نہیں لگتا ہے کہ مسلمانوں کی اس نئی پارٹی کے ذریعہ ان کا مقصد اپنی لیڈر شپ چمکانے کے سوا کچھ اور نہیں ہے۔

قابل غور بات یہ ہے کہ ہندوستان کی آزادی کے بعدجو لوگ مسلم رہنماؤں اور قیادت کی شکل میں حکومت کے مختلف عہدوں پر فا ئز رہے ہیں وہ درحقیقت کون لوگ ہیں۔ اور وہ اب تک کن لوگوں کی گود میں کھیلتے رہے ہیں۔ کیا ان کی ساری محنتوں کا مقصد مسلمانو ں کی خبر گیری تھی یا وہ حضرا ت ہر قیمت پر اپنے ان خود ساختہ آقاؤں کی خوشنودی کے لئے کام کر رہے تھے۔ ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ جو لوگ سیاست کے میدان میں مسلمانوں کے نمائندے شمار کئے جا تے ہیں، وہ آخر کس بنیاد پر مسلم نمائندگی کی بات کرتے ہیں۔ انہیں کس نے مسلم قیادت کرنے کا حق دے دیا اور ان کی مسلم نمائندگی کتنی قابل اعتبار ہے۔

یہ بھی عجب بات ہے کہ ان میں سے بیشتر رہنما مسلمانوں کے اکثریتی حلقہ انتخاب سے ہی منتخب ہوکر آتے ہیں۔ لیکن ان سیاسی پارٹیوں میں ان کا دخل اور ان انتخابی حلقوں میں ان کی نامزدگی کا معاملہ کلی طور پر ان کے آقاؤں کے رحم و کرم پرمنحصر ہوتا ہے۔ یعنی اگر اس شخص نے اپنے دین و ایمان اور قوم کا سودا کرنے میں،مسلم مفادات کو نظر انداز کرنے اور اپنے آقاؤں اور گاڈ فادرز کے اشارہ کو عملی جامہ پہنانے میں تھوڑی بہت بھی کوتاہی کی یا اگر وہ اس دوڑمیں ذرا بھی سستی کرتا ہے تو کوئی دوسرا اس پر سبقت لے جاتا ہے۔ مفاد پرستی اور سبقت لے جانے کی اسی دوڑ کی وجہ سے ہی اس نظام اور ان آقاؤں کو بڑی آسانی سے وفادار خادموں کی فوج فراہم ہوتی رہی ہے۔ جب وہ شخص مسلمانوں کا نام استعمال کرتا ہے اور ان کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو وہ پارٹی میں اپنا اعتبار اور اہمیت کھو دیتا ہے ۔ پھروہی سیاسی پارٹیاں اسے کسی کوڑے دان میں اس طرح پھینک دیتی ہیں جیسے کبھی اس کا کوئی وجود ہی نہیں رہا ہو۔  یعنی ان میں سے کسی بھی مسلم رہنما کواپنی پارٹی کے اندر مسلم مسائل جیسے مسجد، اوقاف ، قبرستان ، مدرسہ ، فرقہ وارانہ فسادات اور مسلمانوں کی تعلیمی ، سیاسی ، معا شی واقتصادی پسماندگی کے مسائل پر بولنے کی اجازت نہیں ہوتی ۔اگر ان لوگوں میں سے کسی نے مسلمانوں کے حق میں بولنے کی تھوڑی بہت بھی جرات کی تو انہیں پارٹی سے باہر کا راستہ دکھا دیا جاتا ہے۔ یا انہیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ اس ڈر سے وہ وہی کرتے ہیں جو انہیں پارٹی کی جانب سے حکم ملتا ہے۔ یہ لوگ ہمارے رہنما تو دور، وہ اپنی پارٹی کے اندر اور حکومت میں مسلمانوں کے نما ئندے بھی نہیں ہوتے۔ بلکہ وہ مسلمانوں کے درمیان صرف اپنی پارٹی کے نما ئند گی کرتے نظرآتے ہیں۔ اپنی پارٹی کی تصویر صاف کرنے اور بنانے میں لگے رہتے ہیں۔ یوں کہا جائے تو بہتر ہوگا کہ وہ مسلمانوں میں انتشار پھیلانے کا کام کرتے ہیں تا کہ مسلمان کسی بھی حال میں متحد نہ ہوسکیں اور ان کا ووٹ بکھرکر رہ جائے۔

آزادی کے بعد یہاں کے مسلمانوں نے پورے اخلاص اور یکسوئی کے ساتھ ہندو لیڈر شپ کی قیادت والی سیاسی پارٹیوں پر اعتماد کیاتھا بلکہ وہ اسی کے تابع ہو کر رہ گئے تھے۔ ان میں کانگریس کا نام سر فہرست ہے جو آزادی کے بعد بلا شرکت غیر پچاس سالو ں تک اس ملک پر حکومت کرتی رہی ۔اس کے بعد مرکز اور ریاستوں میں ہندو قیادت والی دوسری اور علاقائی پارٹیوں کا دور شروع ہوتا ہے۔ اس وقت بھی کسی نہ کسی صورت میں ان حکومتوں میں کانگریس کا سکہ چلتا رہا ۔ لیکن اس کے نتیجے میں مسلمانوں کو اگر کسی چیز کا تحفہ ملا تو صرف پسماندگی ، فرقہ وارانہ فسا دات اور قید وبند کی زندگی ۔ وہ پسما ندہ سے پسما ندہ ہو تے چلے گئے ۔ اس کے نتیجے میں جسٹس سچر کمیٹی کی ایک رپوٹ آگئی جس کے مطابق اس ملک میں مسلمانوں کی حالت ہر شعبے میں دلتوں سے بھی بد تر ہوگئی ہے۔ اس کے تدراک کے لئے کمیٹی نے جو سفارشات دی تھیں، وہ سب سرد خانے میں پڑی ہوئی ہیں۔ یہ قوم بدستور اپنے مسائل میں گھری ہوئی ہے۔

مسلمانان ہند کے مسائل کے بارے میں بے رخی ، بے توجہی اور عدم دلچسپی کے حوالے سے مرکز اور صوبوں کی کانگریسی و غیر کانگریسی یعنی تمام سیکولر پارٹیوں کا رویہ ایک ہی طرح کارہا ہے۔ ان میں کچھ بھی فرق نہیں ہے۔ مسلمانوں کو کمزور کرنے اور انہیں دبا کر رکھنے میں یہ سب متفق ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ان پارٹیوں کے درمیان ایک خفیہ سمجھوتہ ہے ۔

آزادی کے وقت سے مسلمانوں کے جو حالات تھے، وہ بدستور اسی طرح ہیں۔ فوج میں مسلمان ایک فیصد، پولیس میں دو فیصد، اہم عہدوں پر صفر، پارلیمنٹ ہویا ریاستی اسمبلی،پنچایت ہو یا مونسپل کارپوریشن، بلاک ہو یا ضلع پریشد ہر جگہ مسلمانوں کی نماٹندگی میں دن بدن کمی آتی جارہی ہے۔ پارلیمنٹ میں ان کی نمائندگی زیادہ تر اٹھاری سے تیس ارکان تک محدود رہتی ہے۔ اکثر ریاستوں کی اسمبلی میں مسلمان نمائیندوں کی تعداد نمائندگی صفر یا ایک دو تک ہوتی ہے۔ گجرات سے پچیس سال سے کوئی بھی مسلمان پارلیمنٹ میں نہیں آسکا ۔ شہر ہو یا دیہات مسلمانوں کی ہر جگہ معاشی حالت انتہائی خستہ ہے ۔ سرکاری ملازمتوں میں مسلمان برائے نام رہ گئے ہیں ۔

ہندوستان کو آزادی ملے 68 سال گزر چکے ہیں لیکن یہاں کا مسلمان زندگی کے ہر شعبے میں جس قدر پیچھے چلاگیا ہے ، اس کی مثال کے لئے سچر کمیٹی کی رپورٹ ہی کافی ہے۔ آج بھی وہ ان حکمرانوں اور پارٹیوں کے مکرو فریب اور پروپگنڈے کی وجہ سے سیاسی اور ذ ہنی غلامی کے سہارے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ جو لوگ پارٹی یا سرکاری عہدے پر براجمان ہوتے ہیں اور سیکولرازم کے نام پر جانے جا تے ہیں وہ کسی بھی حال میں مسلم نمائندے تسلیم نہیں کئے جاتے ۔ان میں سے زیادہ تر لوگ سیاست کے میدان میں اس لئے آتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے نام پر اپنی دوکان اور کاروبار چلاتے رہیں۔ لیکن وہ مسلمانوں کی بھلائی اور ترقی کی باتیں بالکل نہیں کرتے۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ جب کبھی مسلمانوں کی صف بندی اور ان کی بھلائی کے لئے کوئی آواز اٹھنے لگتی ہے تووہ ایسی ہر مہم کے خلاف سینہ سپر ہو جا تے ہیں۔ یہی مسلم رہنما مسلمانوں کو برا بھلا کہنے میں اور ان پر انتہا پسندی کا الزام لگانے میں اپنے غیر مسلم آقاؤ ں سے بھی کئی گنا آگے نظر آتے ہیں ۔

تو سوال اٹھتا ہے کہ یہ کیسے مسلمان ہیں اور کیسے مسلم رہنما اور نمائندے ہیں، جودن رات اس جدو جہد میں مشغول ہیں کہ کسی طرح بھی ان کی پارٹی کی آرزوپوری ہوجائے ۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم میں سے ہر با شعور مسلمان اس بات کی کوشش کرے کہ وہ ان لوگوں کے مکرو فریب کا پردہ چاک کرے ۔ سب مسلمان بات کے لئے بھی کوشاں ہوں کہ عام مسلمانوں میں اپنے حقوق حاصل کرنے کا شعور پیدا کیا جائے۔ انہیں احساس ہو کہ مسلمانوں کی وہی لوگ نمائندگی کر سکتے ہیں جو ان کی ترقی کے لئے شعوری اور عملی طور پرفکر مند ہوں۔ اب یہ سوال اٹھانا لازمی ہے کہ مسلمانوں کے لئے اس بات کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ ملک کی موجودہ سیاست میں سیکولر پارٹیوں کے دست و بازو بنیں اوراس جدوجہد میں اپنی توانائیاں ضائع کریں۔

مسلم سیاسی پارٹی کا قیام ہمارا شوق نہیں بلکہ اس کی ضرورت ہے۔ اس کے ذریعہ ہمیں یہ سمجھنا آسان ہوجائے گا کہ ہم بیک وقت دو کشتیوں پر سوار نہیں ہوں گے۔ کسی غیر مسلم سیاسی آقا کو ہمیں تسلیم کرنا آسان نہیں ہوگا ۔ اس طر ح سونیا، پوار ، ملائم، لالو، نیتش، بسو، ممتا، مایاوتی ، فاروق عبداللہ ، دیوگوڑااور مودی جیسے رہنماؤں سے تعلق رکھنا بھی ضروری نہیں رہے گا۔ انہیں یہ بھی سمجھانا آسان ہوجائے گا کہ ہمارا سیاسی منشور ان سے مختلف ہوگا۔ ہم اسی سیاسی منشور کے تحت کام کرنے کے پابند ہونں گے۔ اس کے علاوہ جو بھی کسی غیر کے منشور کو اپنا تسلیم کرے گا اور اس کے تحت کام کرنا چاہے گا، وہ ہم لوگوں میں سے نہیں ہوگا۔ اور نہ ہی ہم انہیں اپنا نمائندہ سمجھ سکتے ہیں۔ نہ ہی ان کے لئے مسلم معاشرے میں کوئی جگہ ہوسکتی ہے۔ اگر اس ایجنڈے کے تحت ہم کام کرنے میں کامیاب ہوگئے تو یقیناًہم ہندوستان کے مسلم معاشرے کو کچھ دینے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔