بھارتی اسکولوں میں تشدد کا رجحان
- تحریر ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی
- جمعرات 29 / ستمبر / 2016
- 10061
تعلیمی اداروں میں طلبا کی جانب سے جارحیت اور مجرمانہ سرگرمیوں کی خبریں ہم مغربی ممالک سے سنتے تھے کہ فلاں اسکول میں طالب علم نے بندوق چلادی وغیرہ۔ لیکن یہ مجرمانہ ماحول اب ہندوستان کے اسکولوں میں بھی پنپنے لگا ہے۔ پیر 26ستمبر کا دن دہلی کے ایک سرکاری اسکول کے ہندی ٹیچر مکیش کمار کی زندگی کا آخری دن ثابت ہوا۔ ناکافی حاضری پر کمرہ جماعت میں امتحان کی اجازت نہ دینے پر برہم ہو کربارہویں جماعت کے دو طلباء نے اپنے ٹیچر پر عین کمرہ جماعت میں چاقو سے حملہ کردیا ۔ ان کے پیٹ اور ہاتھوں پیروں پر مسلسل چاقو سے وار کئے۔ چیخوں کی آوازیں سن کر ساتھی ٹیچر مکیش کمار کی مدد کے لئے پہنچے لیکن انہیں شدید زخمی حالت میں چھوڑ کر حملہ آور طلبا فرار ہوگئے ۔ خون میں لت پت مکیش کمار کو ان کے ساتھیوں نے فوری اسپتال منتقل کیا لیکن وہ زخموں سے جانبر نہ ہوسکے۔
اس واقعہ پر دہلی مدارس کے اساتذہ نے اپنے ساتھی مکیش کمار کے قتل پر احتجاج کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مناسب قانون سازی کرے اور تعلیمی اداروں میں اساتذہ کو تحفظ فراہم کرے۔ اطلاعات میں کہا گیا کہ مکیش کمار کو مذکورہ طالب علم کی جانب سے پہلے بھی جان سے مار دینے کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ طالب علم مجرمانہ ریکارڈ کا حامل تھا۔ ماضی میں بھی اسے اسکول سے نکالا جاچکا تھا اور مسلسل غیر حاضری کے بعد امتحان میں شرکت کے مطالبے کو مکیش کمار نے نا منظور کیا تھا۔ حملہ آور اور اس کے ایک ساتھی نے اپنے استادسے بحث شروع کردی اور جب مکیش کمار نے اس طالب علم کو امتحان دینے سے روک دیا تو حملہ آور اور اس کے ساتھی نے کمرہ جماعت میں طلبا کے سامنے مکیش کمار کو چاقو سے زخمی کردیا ۔ خبروںمیں کہا گیا ہے کہ حملہ آور طالب علم کی عمر 18سال اور اس کے ساتھی کی عمر 17سال تھی۔ دونوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
اس واقعہ کے بعد ہونے والے احتجاج کے پیش نظر دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منش ششوڈیا نے مکیش کمار کے طالب علم کے ہاتھوں قتل کی مذمت کی ہے۔ متوفی کے افراد خانہ سے اظہار یگانگت کے طور پر دہلی حکومت نے انہیں ایک کر وڑ روپے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ والدین اپنے بچوں سے بات کریں اور انہیں اساتذہ کا احترام کرنے کا سبق پڑھائیں۔ دنیا میں جس تیز رفتاری سے واقعات ہورہے ہیں اور واقعات پر مبنی خبریں بھلائی جارہی ہیں یا نظر انداز کی جارہی ہیں اس سے ہمارے سماج کی بے حسی کا اندازہ ہوتا ہے۔ جب مغربی ممالک سے تعلیمی اداروں میں مجرمانہ حرکتوں کی خبریں آتی تھیں تو ہم افسوس کرتے تھے کہ مغرب میں نوجوان کس قدر اخلاقی گراوٹ کا شکار ہورہے ہیں۔ لیکن اب بات مغرب سے ہوکر ہندوستان تک پہنچ گئی ہے جہاں تعلیمی اداروں میں طلبا کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ اساتذہ ان کے معمار ہوتے ہیں اور یہ کہ استاد کا ادب کرنا چاہئے۔ لیکن دہلی کے اس واقعہ نے پیشہ تدریس سے وابستہ اساتذہ کے سامنے ایک بڑا سوال کھڑا کردیا ہے۔
بات مکیش کمار کے قتل کی ہے لیکن تعلیمی نفسیات کے اعتبار سے یہ ملک بھر کے اساتذہ کے لیے لمحہ فکر ہے کہ موجودہ دور کے نوجوان طلبا کو کیسے سنبھالا جائے اور کیسے ان کی اخلاقی تربیت کی جائے۔ مکیش کے رد عمل سے اساتذہ کی ذمہ داریوں کو سمجھنے پر بھی سوال اٹھتا ہے۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ بارہویں جماعت کے طلبا کے ساتھ کیسا رویہ اختیار کیا جائے۔ یہ واقعہ سی بی سی ایس اسکول میں پیش آیا جہاں اسکول کی طرح گیارہ اور بارہ جماعتیں ہوتی ہیں۔ اور حملہ آور لڑکے کی عمر 18سال اور متوفی مکیش کی عمر50سال بتائی گئی ہے۔ ہندوستان میں تدریس کے اصولوں میں اب یہ بات عام ہورہی ہے کہ طلبا پر مارپیٹ کی سزا سے منع کیا گیا ہے۔ اسی طرح احتجاجی طلبا نے یہ بھی سوال اٹھایا ہے کہ حکومت کی نان ڈٹنشن پالیسی یعنی غیر حاضر طلبا کو امتحان دینے سے روکنے کا قانون نہ ہونے سے اساتذہ کو ان طلبا کو قابو کرنے میں دشواری ہورہی ہے، جو غیر حاضر رہ کر بھی میڈیکل سرٹیفکیٹ یا سفارش سے امتحان میں شرکت کرتے ہیں اور اکثر طلبا امتحان میں ناکام ہوکرمتعلقہ ٹیچر اور اسکول کا نتیجہ خراب کرتے ہیں۔ حکومت غیر حاضر طلبا کو روکنے میں ناکام ہے۔ اس کمزوری سے غنڈہ عناصر کو فائدہ ہورہا ہے اور وہ مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہورہے ہیں۔
مکیش کمار کو جان لینا چاہئے تھا کہ وہ ایک حد تک طالب علم کو سمجھانے اور روکنے کی کوشش کرے اور معاملے کی سنگینی کی صورت میں اسے پرنسپل یا اسکول انتظامیہ سے رجوع کرنا چاہئے تھا۔ جب کہ اسے طالب علم نے پہلے بھی جان سے مار ڈالنے کی دھمکی دی تھی۔ دوسری اہم بات تمام اساتذہ کو جان لینی چاہئے کہ انہوں نے بی ایڈ کے دوران جو تعلیمی نفسیات پڑھی تھی، اس میں اور موجودہ دور کے نوجوان طلبا کی نفسیات میں بہت فرق ہے۔ آج کے بارہویں جماعت کے طلبا بھی تگڑے نوجوان ہیں۔ موجودہ غذائی عادات کے سبب ان کی جسمانی پرورش تیزی سے ہورہی ہے اور وہ اسکول میں رہتے ہوئے بھی بھر پور نوجوان لگتے ہیں۔ پھر اکیسویں صدی کے یہ نوجوان انٹرنیٹ ، فلم بینی اور دیگرسہولتوں سے استفادہ کرتے ہیں۔ والدین کے بے جا لاڈ و پیار، اسکول انتظامیہ کا سفارشوں کو قبول کرنا اور مجرمانہ سرگرمیوں کے حامل طلبا کو اسکول میں رکھنا وغیرہ ایسے عوامل ہیں جن کی وجہ سے اساتذہ کو چاہئے کہ وہ موجودہ نسل کے طلبا کو پرانے دور کے طلبا سے تقابل نہ کریں۔ ٹی وی اور فون پر مسلسل جرائم اور دیگر مخرب اخلاق مواد دیکھنے کے بعد ان طلبا میں سرکشی پیدا ہونا عا م بات ہے۔ استاد کو معلوم ہونا چاہئے کہ آج کے دور کے طلبا ایسے سیریل اور فلمیں کثرت سے دیکھتے ہیں جن میں پیار محبت، سیکس اور قتل و غارت گری عام ہوتی ہے۔ کثرت سے اس طرح کا مواد دیکھنے سے طلبا کے اخلاق پر مضر اثرات پڑ رہے ہیں۔ اس لئے موجودہ دور کے اساتذہ کو چاہئے کہ وہ اس طرح کے طلبا سے سخت گیر رویہ رکھنے کے بجائے ان کے مسائل کو سمجھیں۔ انہیں اپنی توانائی کو مثبت کاموں میں صرف کرنے کی ترغیب دلائیں اور انہیں کچھ اچھا انسان بننے کی راہ دکھائیں۔
تعلیمی نفسیات میں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ہر کمرہ جماعت میں تین چار شرارتی بچے ہوتے ہیں۔ ایک اچھا استاد انہیں بھی قابو کرسکتا ہے۔ استاد کو پتہ ہے کہ یہ پڑھنے والے نہیں ہیں۔ اس لئے انہیں کھیل کود اور دیگر ذائد نصابی سرگرمیوں اور کلچرل پروگراموں میں آگے بڑھائے ان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو پہچانے اور اسی میں ان کو آگے بڑھانے کی ترغیب دلائے۔ ان دنوں ہائی اسکول اور کالج کے اکثر اساتذہ کی شکایت ہے کہ نوجوان لڑکے ان کی بات نہیں سنتے اور اسمارٹ فون کھولے فیس بک اور دیگر ویب سائٹس کے مشاہدے میں لگے رہتے ہیں۔ ایسے طلبا کے لئے اساتذہ کو چاہئے کہ ان کے والدین کو بلاکر انہیں سمجھایا جائے کہ ان کے بچوں کو دوران تعلیم اسمارٹ فون کے محتاط استعمال کی ترغیب دی جائے۔ ایک ذہین استاد ایسے بچوں کو بھی تعلیم کی طرف موڑ سکتا ہے۔ وہ ان سے اسمارٹ فون کے استعمال سے مختلف تعلیمی اپلیکیشنس ڈاؤن لوڈ کرنے اور ان سے کچھ تفویضی کام کرانے کی طرف راغب کرسکتا ہے۔ طلبا کو ایسا کام دیا جائے کہ وہ کسی موضوع پر انٹرنیٹ سے مواد ڈھونڈے اور اس پر مضمون لکھ کر استاد کو میل کریں وغیرہ۔
آج کل نوجوانوں میں ویڈیو گرافی کا جنون بھی بڑھ گیا ہے۔ استاد ایسے طلبا کو کسی سماجی موضوع پر چھوٹا سا ڈرامہ بنانے کی طرف ترغیب دے سکتا ہے۔ اصل میں نوجوانی کا زمانہ بھرپور توانائی کا زمانہ ہوتا ہے جب تک نوجوانوں کی توانائی استعمال نہ ہو وہ چین سے نہیں بیٹھتے۔ اس لئے انہیں مصروف رکھنے اور ان کی پسند کے کاموں میں آگے بڑھایا جائے ۔ ذائد نصابی سرگرمیاں جیسے وال میگزین، اسکول میگزین، جنرل نالج ، کوئز، سائنسی نمائش، ڈرامے ، ممکری، مشاعرے، لڑکیوں کے لئے مہندی ، کھانا پکانے و دست کاری کے مقابلے، ڈرائنگ و کارٹون سازی ، مشاغل کے مقابلے ، بیکار چیزوں سے مفید چیزیں بنانا، کھیل کود ، مباحثے، تعلیمی ٹورز، پکنک، شہر کی قابل شخصیات سے طلبہ کی ملاقات کروانا، طلبہ کی عدالت، یا طلبہ کی پارلیمنٹ جیسی ایک طویل فہرست ہے، جس سے نہ صرف تعلیم کا عمل خوشگوار بنے گا اور طلبہ کو تفریح و مسرت محسوس ہوگی بلکہ ان کے اندر کی خوابیدہ صلاحیتیں بھی نکھریں گی۔ اس سے کلاس کے Backbenchers کو بھی اپنے کچھ، ہونے کا احساس ہوگا۔ لیکن یہ ساری سرگرمیاں ہمارے اساتذہ اپنے لئے’ بوجھ ‘ جانتے ہیں۔ اسکول و کالج انتظامیہ کو اس کے لئے اقدام کرنا ہوگا اور یہ ذہن بھی بنانا ہوگا کہ یہ سرگرمیاں تعلیم کا نقصان نہیں بلکہ وسیع تر تعلیمی عمل کا حصہ ہیں۔
تصویر کا دوسرا پہلو سزا کا ہے۔ جب کوئی شرارتی طالب علم مجرمانہ حرکت کرتا ہے تو اسے کس حد تک سزا دی جائے ۔ مکیش کمار کے قتل کی خبر کے ساتھ ہی مجرمین کی عمروں کا حوالہ دیا گیا کہ وہ ایسی عمر میں ہیں جہاں انہیں سزا ہوسکتی ہے یا نہیں۔ اگر مجرم کی عمر اٹھارہ سال ہے اور وہ قانون کی رو سے بالغ ہے اور اسے ہر قسم کی سزا دی جاسکتی ہے۔ لیکن ہندوستان میں قانون کی رفتار اس قدر سست ہے کہ مجرم کو ایک عرصے کے بعد سزا ہوتی ہے وہ بھی خاطر خواہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں خواتین پر مظالم اور قتل و غارت گری کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہورہا ہے۔ لیکن مجرمین کو سخت سزائیں نہیں دی جاتیں۔ دہلی میں عصمت ریزی کے واقعہ کے بعد ملک بھر میں احتجاج ہوا تھا کہ مجرمین کو پھانسی کی سخت سزا دی جائے لیکن ہندوستانی اجتماعی شعور اس قدر بالغ نہ ہوسکا کہ وہ اس سزا کی عمل آوری پرحتمی فیصلہ کرسکے۔ اس لئے مجرمین کے حوصلے بلند ہورہے ہیں اور سماج میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے۔
امریکہ اور دیگر یورپی ممالک کی طرح ہندوستان میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہاں بھی اظہار خیال کی آزادی ہے اور یہ کہ ہم ایک کھلے ذہن کی سوچ رکھتے ہیں۔ بنیاد پرستی اور کٹر پسندی کی تائید نہیں کرتے۔ لیکن نتائج یہ دکھا رہے ہیں۔ اس طرح کی سوچ کے منفی نتائج سامنے آرہے ہیں۔ سعودی عرب اور دیگر مسلم ممالک میں سخت سزائیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکیسویں صدی کے اس بگڑے سماج میں ان ممالک میں جرائم کی شرح بہت کم ہے اور اکثر لوگ کسی حادثے کے بعد فوری وہاں کے قانون کو پسند کرتے ہیں لیکن اسے اختیار کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ اس لئے صرف باتوں سے کام نہیں بنے گا، عمل ضروری ہے۔ جب تک جرائم کے بعد سخت سزائیں نہیں دی جاتیں اور انصاف نہیں کیا جاتا اس وقت تک ملک سے جرائم کے سدباب کی بات کرنا درست نہیں ہے۔ مدارس میں سیکوریٹی کا مسئلہ بھی اہم ہے۔ مغربی ممالک میں نوجوان اسکول میں بندوق لے کر پہنچ جاتے ہیں اور یہاں نوجوان چاقو کے ساتھ کمرہ جماعت میں اپنے استاد کا قتل کردیتا ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ مدارس میں ایسا انتظام ہو کر طلبا ہتھیار اور اس قسم کہ نقصان دہ سامان لے کر نہ پہنچیں۔
ہمارے تعلیمی نظام پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے کہ روایتی کتابی تعلیم کے ساتھ فنی تعلیم کو بھی اہمیت دی جائے اور ایسے طلبا جو کتابیں پڑھنے میں دلچسپی نہیں رکھتے انہیں فنی تعلیم کے حصول کی جانب راغب کیا جائے۔ اسی کے ساتھ اساتذہ کی تربیت کے نصاب میں بھی تبدیلی کی جائے اور دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق امور نفسیات کی تدریس کا اہتمام کیا جائے۔ مختلف ریفریشر کورسز کے انعقاد سے اساتذہ کو موجودہ دور کے تعلیمی تقاضوں سے واقف کرایا جائے۔ دہلی کا واقعہ ایک نقطہ آغاز ہے۔ اگر ہم اپنے تعلیمی نظام پر نظر ثانی نہ کی تو یہ چنگاری آگ بن کر ہمارے تعلیمی نظام کو خاشاک کر سکتی ہے۔ کالج کے طلبا کے مزاج کو اساتذہ بھی سمجھیں اور والدین بھی اور ان کی توانائی کو بہتر ذرائع کی جانب موڑتے ہوئے بہتر نتائج حاصل کریں۔