بھارتی جنون جنگی جنون تک
- تحریر
- جمعہ 30 / ستمبر / 2016
- 4961
وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا، کھسیانی بلی بالآخر کھمبا نوچنے پر تل گئی۔ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی حالیہ لہر اور مسلسل کرفیونے بھارت کی عسکری برتری اور کشمیر پر اسکے تسلط کو بے نقاب کر دیا۔ بے رحمانہ تشدد اور کرفیو کے ذریعے معاشی ناطقہ بند کرنے کے باوجود تحریک کا جوش و خروش سرد نہیں ہوا بلکہ پوری قوت سے قائم ہے۔
عالمی سطح پر ان پر تشدد کاروائیوں کا مناسب جواز نہ دے سکنے اور اڑی حملے کی ہزیمت پروہی کیا جو اس کے جوشیلے ہند و توا کے لیڈروں اور کارکنوں کا جنون ہے یعنی پاکستان پر الزامات کی بارش ۔ اس کے ساتھ ہی در اندازی کے گھڑے گھڑائے ثبوت۔ بات الزامات کی حد تک رہتی تو بھی ٹھیک تھا کہ یہ ہتھکنڈے دیکھے بھالے ہیں لیکن اس بار بی جے پی سرکار نے بین الاقوامی رکھ رکھاؤ اور معاہدوں کی بھی دھجیاں بکھیرنے کا کام شروع کر دیا ہے۔ بقول ظفر اقبال ظفر:
درخت تھے اک دو تو آگ مہلک نہ تھی زیادہ
بچاؤ خود کو کہ اب وہ جنگل جلا رہا ہے
سب سے آسان حربہ پہلے آزمایا گیا۔ نومبر میں پاکستان کی میزبانی میں ہونے والی سارک سربراہی کانفرنس میں شرکت سے معذرت کر لی۔ عذر یہ کہ سرحد پار سے در اندازی کے اس ماحول میں کیسے آئیں؟ بھارتی وزیر اعظم کا اس کانفرنس سے فرار اختیا کرنا قابل فہم ہے۔ چند ہفتے قبل اسلام آباد میں وزرائے داخلہ کی سارک کانفرنس میں راج ناتھ طے کر کے آئے کہ الزامات پر مبنی ایک تقریر کرنی ہے اور پھر واک آؤٹ۔ بھارتی میڈیا پہلے ہی سے ادھار کھائے ہوئے تھا۔ کسی نے بے پر کی اڑائی کہ راج ناتھ کا استقبال مناسب نہ تھا اور کسی نے اس پر واویلا مچایا کہ ان کی تقریر براہِ راست ٹی وی پر کیوں نہ دکھائی گئی۔ راج ناتھ نے اس کانفرنس میں وہی کچھ کیا جس سے ان کے دیس کا میڈیا اور ان کے جوشیلے حامی خوش ہو سکتے تھے۔ ناراضگی اور پھر احتجاجی واک آؤٹ۔ ہمارے وزیر چوہدری نثار علی خان نے بھی اپنے مقامی حامیوں اور میڈیا کو خوش کیا اور راج ناتھ کی تقریر سے قبل ہی طبل بجا دیا۔ اس سفارتی بد مزگی کے بعد اگر بھارتی وزیر اعظم آ بھی جاتے تو دونوں ملکوں میں اپنے اپنے حامیوں اور مخالفین اور میڈیا کے ہذیان میں روایتی سفارتی رکھ رکھاؤ کے ساتھ سارک سربراہ کانفرنس کا ہونا تقریباّ نا ممکن تھا۔
یہاں تک تو بات قابل فہم ہے لیکن بھارت نے پاکستان کو نیچا دکھانے کے لیے سارک ممبر ممالک میں دراڑ ڈال دی۔ اس کانفرنس کو ناکام بنانے کے لیے بنگلہ دیش، افغانستان اور بھوٹان کو بھی شرکت نہ کرنے پر آمادہ کر لیا۔ حسینہ واجد پہلے ہی پاکستان دشمنی میں وار کرائمز کی آڑ میں پاکستان ہمدرد رہنماؤں کو پھانسی کے جھولے پر پہنچا چکی ہیں۔ اشرف غنی اپنی تذبذب میں لت پت پالیسی کے مطابق پاکستان کو نیچا دکھانے کے شوق میں شامل باجہ ہو گئے۔ رہا بھوٹان، تو بے چارے کے پاس حوصلہ ہے نہ آزادی کے اسباب۔ سیاست اور معیشت کا بال بال بھارت کا رہین ہے۔ سو بھارت کے قدم میں قدم ملانا اس کی چوائس نہیں بلکہ واحد راستہ ہے۔ سری لنکا کی موجودہ حکومت بھی بھارت کے لیے خصوصی نرم گوشہ رکھتی ہے لیکن اب تک اس نے سفارتی آداب کا لحاظ کیا ہوا ہے۔ سارک کو پاکستان تعلقات کے لیے یرغمال بنانے کا بھارت کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔
مجموعی طور پر ماضی میں بھارت کم از کم چار بار سارک سربراہی کانفرنسوں میں عین وقت پر شرکت سے انکار کر چکا ہے۔ دو بار تو اس نے پاکستان پر الزام لگا کر شرکت سے انکار کیا۔ سارک بطور تنظیم اپنی افادیت کب کی کھو چکی۔ جو بچی کھچی روایتی اور نمائشی حیثیت تھی بھارت نے اس بار وہ بھی ٹھکانے لگا دی۔ سفارتی انداز تو یہی تھا کہ بھارت وزیراعظم کی بجائے وزیر کی سطح کا وفد بھیج دیتا لیکن وہ جنون ہی کیا جو سر چڑھ کر نہ بولے۔
جنون کے اس عالم میں بھارت نے 1960 میں طے پانے والے سندھ طاس آبی معاہدے کو بھی ہتھیار کے طور پر استعمال کر ڈالا۔ اس معاہدے کی رو سے پاکستان نے تین دریاؤں یعنی راوی، بیاس اور ستلج پر بھارت کا حق تسلیم کیا جبکہ بھارت نے دریائے سندھ، چناب اورجہلم کے پانی میں پاکستان کی شراکت تسلیم کی۔ بھارت کے اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو اور پاکستان کے صدر ایوب نے اس معاہدے پر عالمی بنک کے نائب صدر کی موجودگی میں کراچی میں دستخط کیے۔ اس معاہدے میں عالمی بنک ضامن ٹھہرا۔ اسی معاہدے کے مطابق پاکستان نے دس سے تیرہ سال کے لیے حاصل مدت میں وارسک، منگلا اور تربیلا ڈیم تعمیر کیے۔ گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان کو بھارت سے شکایت رہی کہ وہ معاہدے کے برخلاف پانی کے زیادہ مصرف کے لیے دو ڈیم بنا رہا ہے۔ کشن گنگا ڈیم کے خلاف پاکستان کو عالمی عدالت سے بھی رجوع کرنا پڑا۔ پانچ دہایوں اور دو باہمی جنگوں کے باوجود کسی بھارتی حکومت نے اس بین الاقوامی معاہدے کو پاکستان دشمنی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کا نہیں سوچا لیکن بی جے پی کے جنون نے یہ حد بھی پار کر ڈالی۔
ہمارے ہاں میڈیا نے اس مسئلے پر شوروغوغا تو خوب مچایا لیکن بھارت کے اس اقدام پر معاہدے کی رو سے کیا ہو؟ اس پر تدبر کا کلمہ خال خال ہی سننے میں آیا۔ پاکستان کا رد عمل نہایت دانشمندانہ اور تحمل پر مبنی رہا۔ پاکستان کا ایک وفد فوری طور پر سیکریٹری پانی و بجلی کی وزارت کی سربراہی میں اٹارنی جنرل کی ہمراہ عالمی بنک کے حکام سے واشنگٹن جا کر ملا اور معاہدے کی پاسداری اور عہد شکنی کے جواب میں پاکستان کے لیے دستیاب آپشنز پر ماہرین سے مشاورت کی۔ بھارت کے اندر اور کئی عالمی ماہرین کا یہ خیال ہے کہ بھارت فوری طور پر پانی روکنے کا اہل نہیں۔ اگر یہ قدم اٹھایا گیا تو نقصان اسی کی زراعت کا ہوگا۔ اسی لیے تمام خواہش کے باوجود غور و خوض کے بعد بھارت نے یہی فیصلہ کیا کہ پہلے سے جاری غیر قانونی پاور پروجیکٹس پر کام تیز کیا جائے۔ جنون کا یہ وقت تو گزر جائے گا لیکن ان بد ترین واہموں کو یہ لمحہ سچ ثابت کر گیا کہ بھارت وقت پڑنے پر پاکستان پر آبی جارحیت مسلط کر دے گا۔
جنون کے اس عالم میں ایک اور شوشہ یہ چھوڑا کہ پاکستان کے لیے عالمی تجارت کے معاہدے کے تحت 1996 میں دیا گیا پسندیدہ ترین ملک کا سٹیٹس واپس لے لے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ابتدائی رپورٹ کے برعکس بھارت پاکستان کے خلاف WTO کی Dispute Resolution Body میں شکایت لے کر جائے گا کہ پاکستان نے عالمی معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد بیس سال گزرنے کا باوجود بھارت کو ایم ایف این کا جوابی اسٹیٹس نہیں دیا۔ پاک بھارت تجارت کا کل حجم اڑھائی ارب ڈالر ہے۔ پاکستان کی برآمدات چار سو ملین ڈالر ہیں جبکہ درآمدات سوا دو ارب ڈالر ہیں۔ بھارت کی کل عالمی تجارت میں پاکستان کے ساتھ ٹریڈ کا حصہ فقط 0.4 فی صد جبکہ پاکستان کی عالمی تجارت مبںیہ حصہ ساڑھے چار فی صد ہے۔ دونوں ملکوں میں باہمی تجارت سیاسی اور سیکیورٹی حالات کے تابع رہی ہے لیکن تجارت کو یوں ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا جنون پہلی بار سامنے آیا ہے۔
بھارتی میڈیا اور سیاست میں ایسے عقابوں کی کمی نہیں جنہیں جنگ کی جلدی ہے بلکہ ایسے تمام سفارتی اور تجارتی ہتھیار ایک ساتھ استعمال کرکے اپنے تئیں پاکستان کا حقہ پانی بند کرنے کا جنون سوار ہے۔ اتفاق یہ ہے کہ ہمارے ہاں بھی ایسے زندہ دلان کی کمی نہیں جو فرماتے ہیں کہ ایٹم بم شو کیس میں سجانے کے لیے نہیں بنائے۔ جنون کا مقابلہ جنون سے کرنا دانشمندی نہیں۔ عالمی معاہدوں اور سفارتی آداب سے پیچھا چھڑانا اتنا آسان نہیں۔ ان اقدامات سے بھارت اپنا چہرہ بے بقاب کر رہا ہے جسے سلامتی کونسل میں نشست کا بھی جنون ہے اور اس خطے میں ایک ذمہ دار طاقت کے طور پر تسلیم کیے جانے کا بھی جنون ہے۔ بھارت کا یہ رویہ اس خطے میں جنونی رویے کی مثال بن کر اس کے اپنے مستقبل کا راستہ کاٹ سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے تحمل اور سفارتی محاذ ہی بہترین آپشن ہیں۔ جنگجو مال روڈ اور رائے ونڈ مارچ پر ہی توجہ رکھیں تو بہتر رہے گا۔