ڈینش قومیت وثقافت پرستی کا زہر
ڈنمارک میں قومیت و ثقافت پرستی کو سیاسی سطح پر جس طرح ہوا دی جا رہی ہے یہ کوئی نئی بات نہیں البتہ قومیت و ثقافت پرستی کے اِس رجحان میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ کئی سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں کی جانب سےاس کے حق میں دیے جانے والے زوردار بیانات ثابت کرتے ہیں کہ ملک میں نسلی اقلیتوں اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے میں یہ سیاستدان ایک دوسرے پر بازی لے جانے میں مصروف ہیں۔ یہ رویہ کسی بھی لحاظ سے سود مند نہیں۔ اس سے ثابت ہو تا ہے کہ ڈنمارک میں نسلی تعصب ایک نئے انداز میں سر اٹھا رہا ہے۔ اس سے غیر یورپی تارکین وطن ، مہاجرین اور سیاسی پناہ گزینوں میں خوف پیدا ہو رہا ہے۔ وہ خود کو سماج میں غیر محفوظ سمجھنے لگے ہیں ۔
ڈینش معاشر ے میں ڈینش قومیت و ثقافت پرستی کو ہر شے پر مقدم قرار دیتے ہوئے سب پر اس کے اطلاق کی بات کی جاتی ہے۔ یہ پرچار کرنے والوں میں حکمراں وینسٹرا پارٹی کی وزیر انٹگریشن انگر سٹؤبرگ، حزب اختلاف کی انتہائی قومیت پرست، غیر ملکیوں اور خاص کر مسلمانوں مخالف ڈینش پیپلز پارٹی کے مارٹن ہنرکسن اور حال ہی میں قائم ہونے والی تارکین وطن مخالف نئی سیاسی پارٹی ‘‘Nye Borgerlige’’ کی رہنما پرنیلے ور مونڈ پیش پیش ہیں۔ انہوں نے تو سیاست میں قدم رکھتے ہی اِس بات کو اپنے انتخابی منشور کا حصہ بنانے کا اعلان کیا ہے کہ سکولوں میں سکارف یا حجاب اوڑھنے والی مسلمان طالبات کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ غیر ملکیوں اور خاص کر مسلمانوں کے مخالف سیاستدانوں کی بیان بازی اور اِس پر ڈینش میڈیا کی حاشیہ آرائیاں دن بدن بڑھتی جا رہی ہیں ۔ ڈینش پیپلز پارٹی کے متذکرہ بالا رہنما تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ غیر ڈینش پس منظر رکھنے والا کوئی فرد خواہ ڈنمارک ہی میں پیدا ہوا ہو، ڈینش زبان بولتا ہو، یہاں کے سکولوں و کالجوں میں پڑھا ہو اور ڈینش شہرت بھی رکھتا ہو لیکن وہ ’’ ڈینش‘‘ نہیں ہو سکتا ۔
حکومت اور اُس کی سیاسی حمایت کرنے والی پارٹیوں نےملک میں موجود مہاجرین کو کم سے کم گرانٹ دینے کی پالیسی اپناتے ہوئے، ان کی مالی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔ ڈینش سرحدیں پہلے ہی مہاجرین و سیاسی پناہ گزینوں پر بند کی جا چکی ہیں، انہیں مستقل طور پر بند رکھنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ ڈنمارک ہر سال اقوام متحدہ کے مہاجرین میں سے اپنے ’’ کوٹے کے جو مہاجرین‘‘ قبول کرنے کا پابند ہے، اب اسے بھی ختم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اس کے لیے حکومت پر ڈینش پیپلز پارٹی کے دبا ؤ کے علاوہں نئی سیاسی پارٹی‘‘Nye Borgerlige’’ نے بھی دباؤ ڈالنا شروع کردیا ہے ۔ حکومت نے غیر ملکیوں سے متعلقہ اپنی پالیسیوں کو مزید سخت کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں قانونی تجاویز پیش کی ہیں۔ پارلیمانی اکثریت ان پر فی الوقت مزاحمت دکھا رہی ہے لیکن سوشل ڈیموکریٹ اگر حکومت کے ساتھ ان تجاویز پر ’’ کچھ لو، کچھ دو‘‘ کے تحت کوئی سودے بازی کر لیتی ہے تو ڈینش امیگریشن پالیسیاں سخت ترین ہو جائیں گی ۔
ڈینش پیپلز پارٹی تو یہاں تک مطالبہ کر رہی ہے کہ ڈنمارک کو اقوام متحدہ کے اُن عالمی اور یورپی کنونشنوں اور معاہدوں سے باہر نکل جانا چاہئے جو اِس کی امیگریشن پالیسیوں کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں ۔ غور سے دیکھا جائے تو اِس وقت ’’نئی لبرل ڈینش قومیت و ثقافت پرستی‘‘ کا پرچار کیا جا رہا ہے اور اسے اپنانے کے لیے سرتوڑ کوششیں کی جا رہی ہیں۔ یہ رویہ ایک ’’ نئی اقتصادی سیاست‘‘ کی پالیسی ہے۔ اس کے لیے محاذ کھولا جا چکا ہے۔ یہ مزاج یورپی یونین کے اُس اقتصادی میثاق پر استوار ہے جو غربت اور سماجی عدم مساوات کو جنم دے رہا ہے ۔
با اختیار سیاستدانوں اور دیگر حلقوں کی جانب سے ’’ ڈینش قومیت و ثقافت‘‘ کو مستحکم بنانے اور اقلیتوں کی ثقافت و اقدار کو دبانے کی دانستہ کوششیں، محنت کش طبقے کو ’’ نسلی‘‘ یا ’’مذہبی‘‘ بنیادوں پر منقسم کر دیں گی ۔ ڈینش آئین مملکت میں ہر فرد کو اپنے دین و مذہب اور ثقافت کو اپنانے کا حق دیتے ہوئے اسے فرد کا ذاتی معاملہ قرار دیتا ہے ۔ اس آئینی اصول کی حفاظت کے لیے ڈینش محنت کش واعتدال پسند سیاسی حلقوں کے علاوہ دیگر سماجی حلقوں نے برسوں جد و جہد کی تھی ۔ ملک کا آئین تمام افراد کو مذہبی و ثقافتی حقوق کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ وینسٹرا، ڈینش پیپلز پارٹی اور ‘‘Nye Borgerlige’’ اور اُن کے ہمنواؤں کے غیر ملکیوں مخالف رویے آئین کی روح سے متصادم ہیں۔ لہٰذا ڈینش سیاسی پارٹیوں اور سماج کے اُن حلقوں کو جو ’’ ڈینش قومیت و ثقافت ‘‘ کے نام پر ملک میں تارکین وطن اور مہاجرین کو نشانہ بنا رہے ہیں، یہ بات مد نظر رکھنی چاہیئے کہ وہ ڈینش آئین کے خلاف اقدام کے مرتکب نہ ہوں۔ انہیں یہ بھی سمجھنا ہو گا کہ ڈنمارک نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق اور مہاجرین سے متعلقہ کنونشنوں پردستخط کر رکھے ہیں۔ وہ جنگ و جدل سے متاثرہ مہاجرین کی مدد کرنے کا پابند ہے ۔ اسی طرح عالمی کنونشنوں اور یورپی یونین کے قواعد و ضوابط کے تحت ڈنمارک اپنے ہاں نسلی اقلیتوں کے سماجی و ثقافتی اور لسانی حقوق کی پاسداری کرنے کا بھی پابند ہے۔
اس لئے لازم ہے کہ حکومتی پارٹی وینسٹرا ، پارلیمنٹ میں اس کی سیاسی حمایت کرنے والی ڈینش پیپلز پارٹی، سوشل ڈیموکریٹ اور نئی سیاسی پارٹی ‘‘Nye Borgerlige’’ غیر ملکیوں اور خاص کر مسلمانوں کے خلاف متعصبانہ ڈفلی بجاکر لوگوں کو ’’ڈینش اقدار و ثقافت ‘‘ کے تحفظ کے نام پر بیوقوف بنانا چھوڑ دیں۔ انہیں غیر ملکیوں اور تارکین وطن کو نفسیاتی طور پر ہراساں کرنے سے باز رہنا چاہئے۔ ملک میں معتدل منصفانہ انٹگریشن پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔ غیر ملکیوں کو ساتھ لے کر ملک میں غربت و افلاس اور سماجی عدم مساوات کے خلاف کام اہم ہے۔ اسی طرح اصل ڈینش کلچر کو فروغ و تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے ۔
(نصر ملک ڈنمارک سے شائع ہونے والے ویب جریدے ‘اُردو ہمعصر ڈاٹ ڈی کے‘ کے مدیر ہیں)