انسانی جسم میں سؤر کے اعضا کی پیوند کاری
- تحریر ڈاکٹر عارف محمود کسانہ
- جمعہ 30 / ستمبر / 2016
- 12046
کیاا ب انسانی جسم میں خنزیر کے اعضا لگائے جائیں گے؟ کیا اب انسان کے سینے میں سؤر دل کا دھڑکے گا؟ اس سے پہلے کہ اسے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مغرب کی سازش قرار دیا جائے ، حقائق جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس کی ضرورت کیوں پیش آسکتی ہے۔
اسلامی دنیا کے اہل علم جسم انسانی میں اعضا کی پیوندکاری کو جائز سمجھتے ہیں چاہے یہ زندہ انسان سے عطیہ ہوں یا مردہ سے۔ بہت سی بیماریوں اور جسم انسانی کے بعض اعضا کی خرابیوں کو دور کرنے کے لئے خو ن اور خلیوں کا عطیہ اور اعضا کی پیوندکاری اب عام سی بات ہے۔ لیکن چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ کیا ہمیں اب سؤر کے خلیوں اور اعضا کا مرہون منت ہونا پڑے گا۔ سؤر جسے نجس اور حرام ہی نہیں بلکہ روایتی طور پر کچھ لوگ تو اس کا نام لینا بھی نجاست کے مترادف سمجھتے ہیں۔ حالانکہ خنزیر کا ذکر تو قرآن حکیم میں چار مرتبہ موجود ہے۔ جہاں تک حرام ہونے کا تعلق ہے قرآن نے مردار، خون، غیر اللہ کے نام پر ذبیحہ اور سؤر کو ایک ہی قسم میں شمار کیا ہے۔ اسلام اور یہودیت میں سؤر کا گوشت حرام ہے بلکہ عیسائیت میں بھی ایسا ہی ہے اورمذہبی عیسائی اسے حرام ہی گردانتے ہیں۔ اگرچہ مغربی معاشرے میں سؤر کا گوشت عام کھایا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود اسے گندہ جانور سمجھا جاتا ہے۔ کسی کو برا بھلا اور گندا کہنا ہو تو اسے سؤر سے تشبیہ دیتے ہیں۔ سویڈش زبان میں تو ایسا ایک محاورہ بھی ہے۔ قرآن حکیم نے بھی اسے آلائشوں سے پاک نہ ہونا بتایا ہے۔
انسانی بیماریوں کے علاج کے لئے ادویات میں شامل اہم عناصر جانوروں سے لیے جاتے ہیں۔ جسم انسانی میں سؤر کے اعضا کی پیوندکاری کی ضرورت اس لیے پیش آرہی ہے کہ ضرورت مند بہت زیادہ ہیں لیکن عطیہ ملنے کی صورتیں بہت محدود ہیں۔ اس لیے طبی ماہرین نے اس کا متبادل سوچنا شروع کیا۔ انسانی جسم میں جانوروں کے اعضا کی پیوند کاری کو سائنسی زبان میں زینتھو ٹرانسپلانٹ کہتے ہیں۔ حیاتیاتی اعتبار سے سؤر کے بہت سے افعال جس میں نظام ہضم بھی شامل ہے، جسم انسانی کے قریب ترین ہیں۔ سؤر کا دل، گردے، جگر، پھیپھڑے اور آنکھ کی پتلی اپنی ساخت، جسامت اور کاردگی کے اعتبار سے انسانی جسم سے بہت مماثلت رکھتے ہیں۔ ان کے علاوہ آنتیں، جلد اور ہڈیوں کے گودے کو بھی پیوند کاری کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ کسی دوسرے جانور کے اعضا ایسی مناسبت نہیں رکھتے۔ اس کے علاوہ سؤر کے لبلبہ کے خلیے جسم انسانی میں داخل کرکے قدرتی انسولین پیدا کی جاسکتی ہے۔ اس طرح ذیابیطس کے مریض مستقل صحت مند ہوسکتے ہیں۔ انہیں ادویات کی ضرورت نہیں رہی گی۔ فالج، رعشہ، اعصابی اور عضلات کی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے لیے امید کی کرن واضح نظر آرہی ہے۔
جن ہسپتالوں میں ایسی پیوندکاری کی جائے گی ان کے ساتھ سؤروں کا ایک فارم بھی قائم کیا جائے جو فیکٹری کی صورت میں کام کرے گا۔ لیکن یہ سب اس قدر آسان نہیں۔ اس میں بہت سی پیچیدگیاں اور مشکل مراحل بھی ہیں، جن کا خیال رکھنا لازمی امر ہے۔ سب سے بڑی مشکل یہ ہے سؤر کے گوشت میں موجود وائرس ہیں۔ یہ انسانی صحت کے لئے خطرناک ہیں اور اعضا کی پیوند کاری سے قبل انہیں ان سے پاک کرنا بہت ضروری ہے۔ اس کے لئے ایک طریقہ کار سائنسدانوں نے وضع کرلیا ہے۔ ممکن ہے قرآن حکیم نے سؤر کے گوشت کو حرام اسی لئے قرار دیا ہے اور ایسے وائرس کی موجودگی کی وجہ سے آلائشوں سے پاک نہ ہونا بتایا ہے۔ (سورہ الاانعام 145)۔
یہاں اس طبی تحقیق کا ذکر کرنا بھی مناسب ہوگا کہ جن ممالک میں سؤر کا گوشت زیادہ کھایا جاتا ہے وہاں قولون (آنتوں) کے سرطان کی شرح بہت زیادہ ہے اور جن ممالک میں خنزیر کا گوشت نہیں کھایا جاتا وہاں یہ سرطان بہت ہی کم ہے۔ وائرس سے پاک سؤر کے اعضا حاصل کرنے کے لئے جنیٹک انجنئیرنگ کو بروئے کار لایا جارہا ہے اور حال ہی دریافت ہونے والی ایک تکنیک CRISPR Cas کو استعمال کرتے ہوئے سؤر کے بیضہ میں ڈی این اے اور آراین اے کو تبدیل کرکے ایسے سؤر پیدا کئے جائیں گے جو مضر وائرس سے پاک ہوں گے اور ان کے اعضا، جسم انسانی میں پیوند کاری کے لئے استعمال کئے جا سکیں گے۔
سؤر کے اعضا کی جسم انسانی میں پیوند کاری کے سلسلہ میں ایک اور مشکل انسانی جسم کا مدافعاتی نظام ہے جو کسی دوسرے عضو یا خلیوں کو قبول نہیں کرتا۔ سؤر کے جسم میں ایک مخصوص جین کے جوڑے کی موجودگی یہ مشکل پیدا کرتی ہے۔ اس مشکل سے نجات بھی جیناتی انجنئیرنگ نے دلائی ہے اور ان جین کو ناکارہ بنا کرسؤر کے ایسے بچے پیدا کئے جاسکتے ہیں جن کے خلیے اور اعضا آسانی سے انسانی جسم میں منتقل کئے جاسکیں گے۔ پیوند کاری کے یہ تجربات پہلے بندروں پر کئے جائیں گے اور کامیابی کی صورت میں انسانوں کے لئے مروج ہوں گے۔
سویڈن اور دنیا کے کئی ممالک میں اس تحقیق پر کام جاری ہے۔ طبی ضروریات اپنی جگہ لیکن یہ بہت حساس معاملہ ہے اور اس بارے میں اخلاقی اور مذہبی سوالات ضرور اٹھیں گے۔ یورپ میں بھی اس بارے اخلاقی اور سماجی سوالات مو جود ہیں ۔ ہمارے ہاں توکسی شخص کو گالی دینی ہو اور بہت برا کہنا ہو تو اسی سؤر سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ ہمارے ایک بزرگ تھے جو کسی بہت برے شخص کے بارے میں کہتے تھے کہ اس کی آنکھ میں سؤر کا بال ہے۔ لیکن تب کیا ہوگا جب کسی کے سینے میں سؤر کا دل دھڑک رہا ہوگا۔ خیر یہ تو از راہ مذاق ہے۔ لیکن سنجیدہ بات یہ ہے کہ اسلامی دنیا میں اسے قبول کرنا آسان نہیں ہوگا۔ مذہبی طبقہ کی جانب سے اس کی اسی طرح مخالفت سامنے آئے گی جیسے خون اور اعضا کے عطیہ کا معاملے میں آئی تھی۔ شروع میں بہت مخالفت کی گئی تھی یہ الگ بات ہے کہ اب آنکھوں، گردوں، جگر اور کئی دوسرے ا عضا کی پیوند کاری اور خون کے عطیہ کی نہ صرف مخالفت ختم ہوگئی ہے بلکہ سب اس سے مستفید ہورہے ہیں ۔
شریعت اسلامی جان بچانے کے لئے حرام چیزکھانے بھی اجازت دیتی ہے اور جب کسی انسان کی زندگی بچانے کے لئے عضو کی پیوند کاری ہی آخری حل رہ جائے تو پھر اس کی اجازت ہوسکتی ہے۔ جب کسی کے پیارے کی زندگی کا چراغ گل ہورہا ہو اور آخری چارہ یہی رہ جائے تو پھر مجبوری کی صورت میں یہی راستہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ ہر کوئی اپنے پیارے کو موت سے منہ سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔