ترکی میں تعلیم کے مواقع
سلطنت روم نے جب مشرق کی طرف پیش قدمی کی تو ترکی نے صرف اسے روکا ہی نہیں بلکہ استنبول چھین کر مغرب کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے اٹلی تک تمام ممالک کو سلطنت عثمانیہ کا حصہ بنا لیا۔ یہ سلطنت سات سو سال تک قائم رہی۔ مگر اس نے برطانیہ اور فرانس کی طرح کسی بھی کالونی کی زبان ختم کرنے کی کوشش نہ کی۔
ہنگری کے ایک مفکر کے مطابق اگر برطانیہ اور فرانس کا وہاں قبضہ ہو جاتا تو ہنگری کا اپنا معاشرہ ختم ہو جاتا۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران مغربی اتحادیوں نے سیاسی طور پر نابالغ عربوں کو ساتھ ملا کر پہلی جنگ عظیم میں سلطنت عثمانیہ کو تہس نہس کر دیا۔ مغربی استعماری قوتوں نے عربوں کو بے وقوف بناتے ہوئے لالچ دیا کہ عرب ایک برتر قوم ہے اگر وہ جنگ میں مغرب کا ساتھ دیں تو ترکوں کی جگہ ان کو مسلمانوں کی قیادت کرنے میں مدد کی جائے گی۔ کیونکہ عرب ترکوں سے زیادہ مسلمانوں کی قیادت کا حق رکھتے ہیں۔ عربوں نے مغرب کے جھانسے میں آ کر ترکوں کے خلاف جنگ شروع کر دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مغرب نے پہلے فلسطین یہودیوں کے حوالے کیا، پھر عرب دنیا کو 22 کٹھ پتلی ریاستوں میں تقسیم کر کے آپس میں بانٹ لیا۔ اسی وجہ سے وہ مکمل طور پر مغرب کے تسلط کا شکار ہو گئے اور آج تک زلیل و خوار ہو رہے ہیں۔
جنگ میں برصغیر کے مسلمانوں نے بڑھ چڑھ کر سلطنت عثمانیہ کا ساتھ دیا۔ جس کی وجہ سے ترک آ ج بھی ہمارے لوگوں کی دل و جان سے قدر کرتے ہیں۔ کمال پاشا اتا ترک نے بہترین جنگی حکمت عملی کے تحت چار سال کے عرصہ میں ترکی کو مغرب کے تسلط سے آزاد کروا کر1923ء میں ایک نئی ترک ریاست قائم کی۔ اس کا دارالحکومت انقرہ مقرر ہؤا۔ اس نئی ترک ریاست نے عربوں کی غداری کی وجہ سے ان کے ساتھ تمام لسانی و معاشرتی رشے ختم کرکے نیا رسم الخط ایجاد کیا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ترک معاشرہ مغرب سے بھی آگے نکل گیا۔ مسجدوں کو تالے لگ گئے اور پردہ کرنے والی خوا تین پر کسی بھی ادارے میں تعلیم یا کام کرنے کی پابندی عائد کر دی گئی۔ لیکن آہستہ آہستہ ترک اپنے عظیم ماضی کی طرف لوٹنا شروع ہوئے ۔
گزشتہ پندرہ سالوں سے موجودہ پارٹی انصاف و ترقی کے نام پر حکومت کر رہی ہے طیب اردگان کی قیادت میں ترکی نے ہر میدان میں ترقی کی۔ قومی بجٹ کا بڑا حصہ تعلیم اور صحت پر صرف کیا جاتا ہے۔ اردگا ن کا موقف ہے کہ ایک تعلیم یافتہ اور صحت مند قوم ہی ترقی کر سکتی ہے۔ یہ صرف نعرہ ہی نہیں بلکہ نتائج سامنے نظر آ رہے ہیں۔ اس وقت ترکی کا تعلیمی اور صحت کا نظام کسی بھی ترقی یافتہ ملک سے کم نہیں۔ ترکوں کو اپنی زبان پر فخر ہے۔ ان کی تدریسی و سرکاری زبان ترکی ہے لیکن ہر فیکلٹی میں انگریزی کا اپشن بھی موجود ہے۔
کہتے ہیں غربت انسان کی سب سے بڑی دشمن ہے اور غلامی اپنے ساتھ بہت ساری بیماریاں لاتی ہے۔ ہندوستان اور پاکستان نے بظاہر تو انگریزوں سے آزادی حاصل کر لی لیکن آج تک اپنا نظام لانے میں کامیاب نہیں ہوئے بلکہ رٹی رٹائی انگلش کی بنیاد پر حاصل کی جانے والی اسناد نے ہماری نوجوان نسل کی تحقیقی و فکری سوچ پر تالے لگا دئیے ہیں۔ عرصہ دراز تک ہمارے بچے ہر قیمت پر یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے تھے لیکن اب ترکی ان کے لیے ایک پسندیدہ ملک بنتا جا رہا ہے ۔ یہاں تعلیمی و صحت کی سہولتوں کے ساتھ ساتھ ہمارے لوگوں کو معاشی، سیاسی اور معاشرتی تحفظ حاصل ہے۔ کسی بھی جگہ یہ پوچھنا نہیں پڑتا کہ کیا گوشت ہلال ہے؟ ہر گلی میں مسجد اور ادارے میں نماز کی سہولتیں موجود ہیں۔ مذہبی انتہا پسندی اور فرقہ واریت بالکل نہیں۔ البتہ مشرق وسطی میں مغربی مداخلت کے اثرات یہاں بھی پائے جاتے ہیں اور ترکی کے عوام اپنی حکومت پر خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کے لئے زور دے رہے ہیں۔
ہمارے بےشمار طلبا کو جب اپنے ملک میں میڈیکل سیٹیں نہیں ملتیں تو وہ چین یا دوسرے غیر اسلامی ممالک کا رخ کرتے ہیں، جہاں ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد انہیں وطن واپس لوٹ کر لائسنس حاصل کرنے کے لیے دوبارہ کئی امتحانات سے گزرنا پڑتا ہے۔ لیکن ترکی نے یہاں تعلیم حاصل کرنے والوں کو یہاں پر ہی لائسنس حاصل کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ اعلی نمبر لینے والے طلبا و طالبات کو سکالرشپ بھی دی جاتی ہے۔ لیکن جو اس معیار پر پورا نہ اتریں وہ اپنے اخراجات پر بھی داخلہ لے سکتے ہیں۔ ہر فیکلٹی میں داخلے کی سہولتیں موجود ہیں اور کوئی بھی ڈگری حاصل کرنے کے بعد یہاں ملازمت حاصل کرنے کی اجازت بھی ملتی ہے۔ دوران تعلیم بھی کام کرنے کی اجازت ہے ۔
میں نے چار سال قبل جب پہلی بار ترکی کا دورہ کیا تو چند یونیورسٹیوں کے ساتھ اپنے ملک کے طلبا و طالبات کو سہولتیں دینے پر بات کی۔ لیکن اس دوران میر اپنا پانچ سالہ اکلوتا بیٹا برہان ایک حادثے کا شکار ہو گیا، جس کی وجہ سے میرے رابطے معطل ہو گئے۔ اب میں چند ہفتے قبل دوبارہ ترکی آیا۔ رابطہ بحال کرنے پر مجھے یونیورسٹیوں میں داخلوں کے انتطامات کرنے کے لیے قائم سٹڈی نیٹ ورک سے میرا ربطہ کروایا گیا۔ ان کے ساتھ میرا ایک معاہدہ ہوا ہے۔ اس معاہدے کے تحت کسی بھی شعبے میں تعلیم حاصل کرنے والے امیدوار کو پہلے اپنی سند کے ساتھ گیارہ سو ڈالر ارسال کرنے پڑیں گے۔ نیٹ ورک سند کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کرے گا کہ کیا امیدوار سکالرشپ کے معیار پر پورا اترتا ہے یا نہیں۔ کم نمبر والوں کو نصف سکالرشپ دلوانے کی بھی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن جو اس معیار پر بھی پورا نہیں اترتا اسے اپنے اخراجات پر تعلیم حاصل کرنی پڑتی ہے۔
ہر دو صورتوں میں ایک ہزار ڈالر محفوظ ہے جو ویزہ ملنے کے بعد امیدوار کی اصل فیس میں شمار کیا جائے گا۔ ویزہ نہ ملنے کی صورت میں واپس کر دیا جائے گا۔ جب بھی کوئی امیدوار 1100 ڈالر اور اپنی سند نیٹ ورک کے پاس جمع کروائے گا تو نیٹ ورک امیدوار کے لیے یونیورسٹی سے داخلے کا مشروط خط حاصل کرے گا۔ اسکی مدد سے وہ ترک سفارتخانے میں ویزہ کی درخواست دے گا۔ یونیورسٹی کی طرف سے داخلے کا مشروط خط ملنے کی صورت میں ویزہ ملنے کا قوی امکان ہوتا ہے۔ اب تک کسی بھی امیدوار کی درخواست مسترد نہیں ہوئی۔