پاک و ہند کے درمیان سگی بہنوں کا رشتہ

دو سگی بہنیں اتفاقی، حادثاتی اور کسی بھی سماجی مجبوری کے تحت ایک ہی گھر میں بیاہ دی جائیں اور ان کے شوہر سگے بھائی بھی ہوں تو یہ دونوں بہنیں سگی بہن ہونے کے ساتھ ساتھ سماج کی بے تکی رسم ورواج کی بھینٹ چڑھا کر آپس میں ایک دوسرے کی بھاوج بنا دی جاتی ہیں۔  اسی معاشرے میں جہاں یہ رسم جنم لیتی ہے، وہاں  یہ  ریت بھی رہی ہے کہ سسرال اور سسرالی رشتہ دار کتنے ہی اچھے کیوں نہ ہوں آنکھوں کو کھٹکتے بہت ہیں۔ چنانچہ اچھی بھلی پہلے محبت سے رہنے والی دو بہنیں سسرالی رشتہ میں بندھ کر ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگتی ہیں۔ ایک بھائی کو کچھ ملے تو دوسری اپنے شوہر کو چڑاتی ہے کہ دیکھو اس کو  تمہارے ابا نے یہ دیا اور تمہیں کیا ملا صرف دلاسہ۔

ساس اگر بہو سے خوش رہتی تو پھر بھلا وہ ساس کیوں کہلاتی اور وہ ایک بہو کے سامنے اپنی دوسری بہو جوکہ پہلی کی سگی بہن ہی ہوتی ہے،  شکایتوں کا دفتر کھول دیتی ہے ۔ یوں دو بہنوں کے درمیان خلیج وسیع تر ہوتی جاتی ہے۔ یہ خلیج بڑھتے بڑھتے خانگی جنگی حالات میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ دراصل ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات بھی بالکل ایسے ہی ہیں ۔ جب بھی جنگ و جدل کی باتیں ہوتی ہیں، دونوں کو یاد آجاتا ہے کہ اصل میں تو وہ سگی بہن ہیں لہذا پھر سے میل ملاپ اور محبت کی باتیں ہونے لگتی ہیں۔ مستقبل میں جھگڑے ختم ہونے کے وعدے ہوتے ہیں۔ لیکن تھوڑے ہی عرصہ میں  ‘ساس، سسرال‘  اور دیگر عناصر پھر سےجھگڑے کھڑے کرنے لگتے ہیں اور آخر کار بات تنازعہ پر ہی ختم ہوتی ہے۔

جھگڑے ہمارے معاشرے کا سب سے اہم جز ہے۔ اور کیوں نہ ہو،  جب کسی معاشرے میں تعلقات اور رشتہ داریاں ایک دوسرے سے گندھے ہوں،  وہاں اور کیا ہو سکتا ہے۔ ماں باپ چاہتے ہیں کہ بچے جوان ہو کر بھی ان کے بنائے اصولوں اورقدامت پرستی کے راستوں پر چلتے رہیں۔ اپنی آنکھیں، دل اور دماغ کی کھڑکیاں بند کر لیں۔ جہاں کسی نے اپنی مرضی پوری کرنے کی کوشش کی تو اعلان ہؤا کہ اولاد  اولاد گستاخ ہو گئی۔ جب ہر بات سبھوں کو بتا کر کرنا ہو گی، ہر کسی کو یہ جستجو ہو گی کہ دوسرا کیا کر رہا ہے۔ ہر کسی کی دلی خواہش ہو گی کہ وہ دوسرے کو اپنے قیمتی مشورے سے نوازے، خواہ اسے مکمل واقعات کا علم ہو یا نہ ہو، تو ایسی صورت میں پھر معاشرے میں زندہ رہنے کا بس ایک راستہ باقی بچتا ہے کی  جھوٹ بولا جائے۔ 

گھر سے نکلو تو پوچھا جاتا ہے کہ کہاں جا رہے ہو۔ اب بھلا کوئی نوجوان یہ تو کہنے سے رہا کہ وہ ڈیٹ پر جا رہا ہے یا جا رہی ہے اور یہ بھی ہونے سے رہا  کہ وہ ڈیٹ پر بتا کر جانے کے ڈر سے ڈیٹ ہی نہ کرے۔ یہ بھی تو نہیں ہو سکتا کہ وہ کہہ دے کہ آج میری ڈیٹ ہے، بس مجبوراََ اسے کہنا پڑتا کہ کالج جانا ہے یا شاپنگ کرنی ہے وغیرو وغیرہ ۔۔۔۔ آپ کا کوئی عزیز ترین رشتہ دار آپ سے قرض مانگ لے آپ ذرا اس سے یہ کہہ کر تو دیکھیں کہ میاں قرض کیوں مانگتے ہو، میں قرض نہ لیتا ہوں نہ دیتا ہوں۔ اگر اس دن سے رشتہ داری ختم نہ ہو جائے تو میرا نام بدل دیں۔  معاشرے میں بنا کر رکھنے کا احسن طریقہ جھوٹ میں پوشیدہ ہے۔ کہہ دیجیئے کہ میں کہاں سے دوں میرا تو کاروبار میں نقصان ہوگیا، اس ماہ تنخواہ نہیں ملی، جیب کٹ گئی وغیرہ وغیرہ۔ مانگنے والا برا بھی نہیں مانے گا اور آپ کی بےعزتی بھی نہیں ہو گی اور رشتہ داری آئندہ قرض کی فرمائش تک تو ضرور محفوظ رہ جائےگی۔

آپ اپنے بچوں کی شادی کرنے والے ہوں تو ہرگز اپنے قریبی رشتہ داروں سے مشورہ نہ کریں ورنہ وہ رنگ میں ایسا بھنگ ڈالیں گے کہ بنا بنایا کھیل بگڑ جائے گا۔ ہونے والے سسرال میں ایسی ایسی باتیں گھڑ کر کہہ کر آئیں گے کہ سسرالی بھاگنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اگر اتفاق سے سسرالی رشتہ دار جوکہ ابھی بنے نہ ہوں، آئے ہوئے ہوں اور بن بلائے کوئی  مہمان بھی ٹپک پڑیں تو فوراََ بہانہ بنا دیں کہ فلاں رشتہ دار ہیں یا ان کے دوست کے رشتہ دار ہیں۔ ہرگز مت بتائیے گا کہ یہ ہونے والے سسرالی رشتہ دار ہیں۔ نہ ہی سسرال والوں کو یہ پتہ چلے کہ آ پ کے بن بلا ئے رشتہ دار کہاں رہتے ہیں اور ان سے رابطہ کیسے ہو سکتا ہے ۔ ورنہ آپ کو درمیان سے نکال دیا جائے گا اور ہونے والے سسرال کا تعلق آپ کے ان رشتہ دار سے ہو جانا یقینی ہے۔

اس پس منظر میں ہندوستان اور پاکستان دو سگی بہنوں کا ساس سسر کو ن ہے اور کون سے رشتہ دار ہیں جو انہیں اس حد تک بد گما ن کر چکے ہیں کہ وہ مورچہ سنبھالے بیٹھے ہیں۔ جب دنیا ہمیں یہ کہتی ہے کہ تم لوگ ایٹمی ہتھیار نہ بناؤ، تمہارا کچھ بھروسہ نہیں کب استعمال کر ڈالو۔ تو ہمیں یہ بات بہت بری لگتی ہے۔ لیکن ہم جب بیٹھ کر بات چیت نہیں کر سکتے، کوئی معاہدہ  کرنے کے اہل نہیں ہیں تو دنیا ہم پر کیوں کر بھروسہ کر سکتی ہے۔ اب تک کی تین جنگوں میں پاکستان نے ہی پہل کی مگر اب ایسا لگ رہا ہے کہ بھارت ہی پہل کرنے کے لئے بے چین ہے۔

اے دونوں بہنو! لڑائی جھگڑے میں کسی کا کچھ نہ جائے گا بس تمہارا ہی گھر تباہ ہوگا۔ لہذا ساس سسر اور رشتہ دار جو فیس بک سے لےکر ہر جگہ ادھر ادھر بکھرے پڑے ہیں، ان باتوں کی پر کان دھرنے کی بجائے ہوش کے ناخن لو۔