ڈنمارک: سیاست میں پھیلا لفظوں کا زہر

ڈنمارک میں نسلی تعصب کے خلاف قانون کی75 ویں سالگرہ مناتے ہوئے دو سال قبل 2014 میں نسلی تعصب کے خلاف کام کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اِس قانون پر تسلی کا اظہار کیا تھا۔ قانون کے حق میں مختلف اجتماعات  بھی ہوئے تھے لیکن سرکاری سطح پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔  بائیں بازو کی ایک دو سیاسی پارٹیوں کو چھوڑ کر کسی بھی سیاسی پارٹی کے کسی سرکردہ رہنما نے اس قانون کے حق میں کوئی بیان تک نہیں دیا تھا۔ تاہم  غیر یورپی تارکین وطن کے خلاف متحرک سیاسی  پارٹیوں اور دیگرحلقوں نے اسے غیر ضروری قانون قرار دیتے ہوئے اِس کی منسوخی کے مطالبے کو دہرایا تھا ۔

تارکین وطن، وہ غیر یورپی ہوں یا یورپی، مہاجرین ہوں یا  کیمپوں میں پڑے ہوئے پناہ کے طلبگار،  وہ اس قانون کی موجودگی کو اپنے لیے غنیمت سمجھتے ہیں اور کم و بیش نصف صدی سے ڈنمارک میں رہائش رکھنے والے تارکین وطن، جن میں سے اب بیشتر ڈینش شہریت اختیار کر چکے ہوئے ہیں، وہ اِس قانون کو  نسلی منافرت و تعصب کے خلاف ڈھال سمجھتے ہیں۔  اورہر حال میں برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ قانون نسلی اقلیتوں کے ساتھ  متعصبانہ برتاؤ کے خلاف  تحفظ مہیا کرتا ہے اور اس طرح کے برتاؤ کو ’’مجرمانہ فعل‘‘ سمجھتے ہوئے قابل سزا قرار دیتا ہے ۔

اس وقت ملک بھر میں جس طرح کی سیاسی فضا قائم ہو رہی ہے اور سیاستدان مختلف  سیاسی امور پر متفق ہونے کی بجائے ایک دوسرے سے دور ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ سیاسی پارٹیاں  رائے دہندگان کو ساتھ ملائے رکھنے اور ان کی تعداد میں اٖضافے کے لیے  سیاسی حربے اختیار کرتی ہیں۔  اس طرح یہ اس بات کا کھلا اشارہ ہے کہ اب ’’انتخابی مہم ‘‘ شروع ہونے والی ہے ۔ اس سیاسی کھیل میں نئی پارٹی ’’Ny Borgerlige‘‘ پہلی بار شامل ہوئی ہے اور اُس نے سیاست میں قدم رکھتے ہی ’’ غیر ملکیوں ‘‘ اور خاص کر ’’ مسلمانوں‘‘ کو اپنے نشانے پر رکھا ہے۔ پارٹی کے اس روّیے کو  بعض محققین اور خود تارکین وطن اور مسلمان حلقے باعثِ تشویش قرار دیتے  ہیں۔ پارلیمانی انتخابات کے موقع پر ایک بار پھر تارکین وطن سیاسی پارٹیوں کے نشانے پر ہوں گے اور انتخابی مہم کے دوران  گرما گرم موضوع بنیں گے ۔ فی الوقت دائیں بازو کے کئی سیاسی رہنما  مسلمانوں کو تنقید و دشنام طرازی کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان میں نئی پارٹی’’ Ny Borgerlige‘‘ غیر ملکیوں اور خاص کر مسلمانوں کے خلاف ڈینش پیپلز پارٹی کو بھی پیچھے چھوڑ گئی ہے ۔

رائے عامہ کے ایک سروے کے مطابق اگر آج پارلیمانی انتخابات ہوں تو یہ نئی پارٹی کم سے کم نو پارلیمانی نشستیں حاصل کر سکتی  ہے ۔ اس نئی پارٹی کی رہنما پرنیلےورمونڈ نےمسلمانوں کے خلاف جو شعلہ بیانی کی ہے، اسے ٹھنڈا کرنے کی بجائے دائیں بازو کی دوسری پارٹیاں بھی اب اُس سے دو قدم آگے نکلنے اور اپنی سیاسی ساکھ اور عوامی مقبولیت بحال رکھنے کی کوشش میں ہیں ۔ اس بیان بازی میں غیر ملکیوں اور مسلمانوں کے متعلق ہتک آمیز زبان و الفاظ استعمال کر رہی ہیں۔ ماہرین لسانیات سے منسوب ایک کہاوت ہے کہ ’’ الفاظ  سنکھیا کی ایک چھوٹی خوراک کا کام کر سکتے ہیں ‘‘ ۔  یعنی کسی فرد یا سماج میں کسی مخصوص طبقے کے خلاف بولے گئے متعصبانہ الفاظ فوراً کوئی اثر شاید نہ دکھائیں لیکن یہ بولے گئے الفاظ سنکھیے کی طرح اپنا اثر دکھانا شروع کر دیتے ہیں پھر زہر پھیلنے لگتا ہے ۔ اس لیے ضروری  ہے کہ سماج میں سیاسی بیان بازی کے دوران  متعصبانہ الفاظ نہ بولے جائیں۔ ورنہ ان کا زہر پورے سماج کو اپنی گرفت میں لے لے گا۔ اس صورت حال میں  اقلیتیں  خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگیں گی۔ 

2001 میں ہوئے انتخابات میں  فریمسکرڈ پارٹی( جو اب اپنی موت آپ مر چکی ہوئی ہے) اور ڈینش پیپلز پارٹی، دونوں غیر ملکیوں کے سخت خلاف تھیں۔ اوّل الذکر پارٹی تو مسلمانوں کو قطعاً برداشت نہیں کر رہی تھی ۔ انتہائی  دائیں بازو کی یہ دونوں قومیت پرست پارٹیاں غیر یورپی تارکین وطن اور مسلمانوں کے خلاف شعلہ بیانی میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے میں  کوشاں تھیں۔  اور اسی انتخابی مہم کے دوران ایک پارٹی کے رہنما نے کہا تھا کہ ’’ محمڈن (مسلمان) چوہوں کی طرح بچے پیدا کرتے ہیں اور وہ ہم پیدائشی ڈینشوں کو مار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘ اسی انتخابی تحریک کے دوران ڈنکے کی چوٹ پر یہ مطالبہ بھی کیا گیا تھا کہ، ’’ مسلمانوں کو جبراً کیمپوں میں بھیج دیا جائے یا انہیں کسی بے آباد جزیرے پر رکھا جائے۔‘‘  2001 ہی کے  انتخابات کے بعد فریمسکرڈ پارٹی اور ڈینش پیپلز پارٹی کے اُن رہنماؤں کو ’’ نسلی تعصب کے خلاف قانونی شق‘‘ کے تحت عدالت کی جانب سے سزائیں بھی سنائی گئی تھیں ۔

ڈینش تعزیراتی قانون میں نسلی تعصب کے خلاف شِق 1939 میں ڈینش پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر منظور کی تھی۔ اوراسے قانون کا حصہ بنایا گیا تھا۔ اِس کا بنیادی  مقصد ڈینش یہودیوں کو نازیوں کی جانب سے نفرت و حقارت اور نسلی تعصب کے برتاؤ سے محفوظ رکھنا تھا ۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد یہی قانونی شق ’’ عبوری نظام عدل ‘‘ کا حصہ رہی اور اس پر عمل کیا جاتا رہا جو کہ ایک بہت ہی مثبت اور قابل فخر بات تھی ۔ یہ بھی فخر کی بات ہے کہ سنہ 2001 کے پارلیمانی انتخابات کے بعد ڈینش پیپلز پارٹی اور فریمسکرڈ پارٹی کے سیاستدانوں کو نسلی تعصب برتنے کے جرم میں اسی قانونی شِق کے تحت سزائیں دی گئیں تھیں۔ بدقسمتی سے  عدالتوں کے اِس عمل کے باوجود سیاستدانوں نے  غیر ملکیوں اور مسلمانوں کے خلاف  اپنا متعصبانہ و منافقانہ رویہ بدلنے کی بجائے، اُن پر الزام تراشی کے لیے مفروضوں کی بنیادوں پر تنقید کرنے کے طریقے اپنانے شروع کردئے۔ اس طریقہ کو ’’ اظہار خیال کی آزادی ‘‘ کا حق قرار دیا گیا۔ 

ڈینش آئین  افراد کو’’ اظہار خیال کی آزادی کا حق ‘‘ دیتا ہے اور اب یہی حق استعمال کرتے ہوئے دائیں بازو کے سیاستدان اور بعض اوقات بائیں بازو کے بعض سیاستدان بھی  تارکین وطن کے خلاف بولنے اور اُن پر معاشرتی برائیوں، جرائم اور تشدد کی وارداتوں میں ملوث ہونے کا الزام لگانے لگے۔  یوں یہ لوگ نسلی تعصب کے خلاف قانون کی متذکرہ بالا شق کی گرفت میں آنے سے کسی حد تک بچ جاتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی اور ناقابل تردید مثال یہ ہے کہ ڈینش پیپلز پارٹی کی (تب کی) چیئرپرسن  پیا کھیآ سگورڈ ( جو اب ڈینش پارلیمنٹ کی سپیکر ہیں ) نے اپنی ایک تقریر میں مسلمانوں مخالف زہر افشانی کرتے ہوئے صومالی مسلمانوں کو بچوں کے ساتھ جنسی بد فعلی کرنے اور زنا کی وارداتوں میں ملوث ہونے والے قرار دیا تھا۔ لیکن پراسیکیوٹرز نے ان پر’’نسلی تعصب کے خلاف قانونی شق‘‘ کے تحت مقدمہ چلانے کی بجائے ’’اظہار خیال کی آزادی کے حق‘‘ کا سہارا لیتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی سے گریز کیا۔  اِس پر  ’’ نسلی تعصب کے خلاف اقوام متحدہ کی کمیٹی‘‘ نےاز خود نوٹس لیتے ہوئے فیصلہ دیا تھا کہ ، ’’ ڈنمارک اس مخصوص کیس میں  اقوام متحدہ کے اُس کنونشن کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے جو نسلی تعصب کے خلاف اور اس کا ہر ممکن طریقے سے خاتمہ کرنے کے بارے میں  ہے۔ ڈنمارک نے اس پر دستخط کر رکھے ہیں ۔

لیکن اقوام متحدہ کی اس شدید تنقید کے باوجود  ڈینش پیپلز پارٹی کے ایک اور سرکردہ رہنما سؤرن ایسپرسن نے  اسی  طرح کا ایک بیان دیتے ہوئے  مسلمانوں کو مفروضوں کی بنیادوں پر تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں سماجی برائیوں کی جڑ اور قومی خزانے پر بوجھ اور ڈینش سماج میں ایک ’’ متوازی سماج ‘‘ کھڑا کرنے والے قرار دیا۔ انہوں نے  صومالی باشندوں کے خلاف پیا کھیآسگورڈ کے بیانات کا اعادہ  بھی کیا۔ ان کے خلاف پولیس کو رپورٹ تو درج کرائی گئی لیکن ڈینش پراسیکیوٹرز نے یہ کہہ کر اُن کے خلاف عدالتی  چارہ جوئی نہیں کی کہ  یہ کیس عدالت میں نہیں لے جایا جا سکتا ۔ اس پر بھی اقوام متحدہ کی نسلی تعصب کے خلاف کمیٹی نے وہی فیصلہ دیا جو وہ اس سے پہلے ڈینش پیپلز پارٹی کی پیا کھیآسگورڈ کے خلاف دے چکی تھی۔ ان دو کیسوں اکے علاوہ  حالیہ برسوں میں  ایسے ہی کئی ایک دوسرے معاملہ  کو سامنے رکھا جائے تو  کہا جا سکتا ہے کہ ڈینش  پراسیکیوٹرز  نے سیاستدانوں کو کھلی چھٹی دیتے ہوئے ڈھیل دے رکھی ہے کہ وہ ملکی آبادی کے مختلف گروپوں، طبقوں اور ان کے دین و مذہب اور رسوم و اقدار کے متعلق  نفرت آمیز بیان بازی کرتے رہیں۔

کون نہیں جانتا کہ یہ سیاستدان نسلی اقلیتوں اور خاص کر مسلمانوں کے خلاف کس طرح کا زہراگلتے رہتے ہیں اور یہی وہ عمل ہے جو سیاستدان اپنے  الفاظ ‘کے ذریعے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ گویا ’’ الفاظ سنکھیا کی وہ چھوٹی سے خوراک ہوتے ہیں جو سماج کو زیر آلود کردیتے ہیں‘‘۔ فی الوقت ڈینش سیاست میں ایک نئی سیاسی پارٹی’’ Ny Borgerlige‘‘ کے قائم ہوجانے کے بعد سے اب تک لفظوں کا یہ سنکھیا سیاسی فضا میں گھولا جا رہا ہے۔  آثار بتاتے ہیں کہ آنے والی اتنخابی مہم میں اس زہر آلود سیاسی بیان بازی میں اضافہ ہو گا اور تارکین وطں اور بالخصوص مسلمان نشانے پر ہوں گے۔  ڈینش تعزیراتی قانون میں نسلی تعصب کے خلاف قانونی شق شاید قانون ہی کی کتابوں میں ہی بند رہے گی۔ خدا کرے ایسا وقت نہ آئے ۔

( نصر ملک ‘اُردو ہمعصر ڈاٹ ڈی کے‘ کے مدیر ہیں)