ترک دارالحکومت انقرہ
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- سوموار 03 / اکتوبر / 2016
- 6992
جب میں چھ ہزار کلو میٹر کا سفر کرکے صبح کے وقت انقرہ ریلوے سٹیشن پر پہنچا تو اس شہر کے تازہ حُسن کے عشق میں گرفتار ہو گیا۔ ٹرین ساری رات اور سارا دن چلنے کے بعد ارضِ روم سے یہاں پہنچی تھی۔ ان چوبیس گھنٹوں کے سفر کی تھکاوٹ اس شہر کی تازگی دیکھ کر ختم ہو گئی۔ میں لاہو ر سے سڑک اور ریلوے ٹریکوں پر سفر کرتے کرتے یہاں پہنچا تھا۔
پہلے تو مجھے یقین نہیں آیا کہ میں انقرہ پہنچ گیا تھا۔ چڑھتی جوانی کا یہ پہلا سفر میں نے اپنی زندگی کی دوسری دہائی میں کیا۔ ٹرین انقرہ کے ریلوے سٹیشن پر رکی تو میرا دل یک دم خوشی سے دھڑکنا بھول گیا۔ جدت اور صفائی اور منظم شہر انقرہ۔ یہاں پہنچنا میری زندگی کی بڑی خوشیوں میں سے ایک تھا۔ وہ شہر جہاں ترک قوم نے غیر ملکی حملہ آوروں کے خلاف منظم ہو کر بچی کھچی ریاست کو بچانے اور نئی ریاست بنانے کا فیصلہ کیا۔ اتاترک کا انقرہ۔ میرے لیے ترکی ، اتاترک کا ترکی ہے۔ اگر وہ نہ ہوتا تو آج ترکی مسلم سپین کی طرح1915ء کے بعد اسلامی تاریخ کا صرف عجائب گھر ہوتا۔ غرناطہ کے زوال کی طرح۔ انقرہ میں بیٹھ کر ترک قوم کے سپوت مصطفی کمال پاشا نے فرانسیسی، برطانوی، اطالوی، حتیٰ کہ ابھرتی امریکی ریاست کی طرف سے ترکوں کو تقسیم کرنے کے منصوبہ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا۔ انقرہ ترک تاریخ کا سنگ میل ہے۔ آج ترکی ترقی اور جدت میں جہاں کھڑا ہے، اس کی بنیاد اِسی شہر میں رکھی گئی۔ اتاترک کا ترکی۔ مولانارومیؒ ، آپ کسی افغانی کے سامنے کہیں، وہ فوراً آپ کو کہے گا، مولانا بلخی۔ اس لیے کہ مولانا رومی، جن کو ترکی میں میولانا کے نام سے پکارا جاتا ہے، بلخ افغانستان میں پیدا ہوئے اور ساری شاعری فارسی زبان میں کی۔ ترک تو یونس ایمرے سے آشنا ہیں۔ مولانا رومی نے خطۂ روم (ترکیہ) میں آکر اپنے افکار کو پھلنے پھولنے کے مواقع فراہم کیے۔ انقرہ میں پہلی صبح جس چیز کو ریلوے سٹیشن کے باہر سب سے پہلے دیکھا، وہ شہر میں لگی ترکوں کے باپ ( اتاترک) کی قد آور تصاویر تھیں۔ انہوں نے اسی شہر میں بیٹھ کر مٹتی ملت کو حیاتِ نو دی اور پھر اسی شہر کو آج کے ترکی کا دارالحکومت قرار دیا۔ اتاترک کا ترکی دیکھنے کی خواہش کا جنون تھا جس نے مجھے چھ ہزار کلو میٹر کا سفر کرنے پر مائل کیا۔ اتاترک انقرہ میں ابدی نیند سو رہے ہیں۔
کتنی دلچسپ بات ہے کہ علامہ اقبال اور اتاترک کی وفات کا سال ایک ہی ہے۔ ترکوں کا باپ ابھی اپنی زندگی کی چھٹی دہائی مکمل نہیں کر پایا تھا کہ وہ اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گیا۔ مجھے اتاترک کا ترکی ہی کھینچ کھینچ کر اپنے ہاں لاتا ہے اور پھر میں اتاترک کے ترکی سے عثمانی ترکیہ اور سلجوق ترکیہ کے ماضی میں اس سرزمین کی تلاش میں نکل پڑتا ہوں۔ جب ترکوں کا باپ اس جہانِ فانی سے رخصت ہوا، بابائے قوم محمد علی جناحؒ نے حکم نامہ جاری کیا:
"I request Provincial, District and Primary Muslim Leagues all over India to observe Friday the 18th of November as Kemal Day and hold public meetings to express deepest feeling of sorrow and sympathy of Musalmans of India in the irreparable loss that the Turkish Nation has suffered in the passing away of one of the greatest sons of Islam and a world figure and the saviour and maker of Modern Turkey--- Ghazi Kemal Ataturk."
Date: 11-11-1938 (Quaid e Azam Papers, National Archives of Pakistan)
ریلوے سٹیشن اترا اور اُلس کے علاقے میں ایک ہوٹل میں قیام کیا۔ اُلس میں ترکوں نے ریپبلک کی بنیاد رکھنے کے بعد پہلی ترک ملی مجلس کبیر(Grand Turkish National Assembly) کی عمارت قائم کی۔ اور اس کے مرکزمیں اتاترک کا قدآور مجسمہ بھی ہے، جس میں وہ گھوڑے پر سوار اپنی قوم کا دفاع کر رہے ہیں۔ وہ خاموش مجاہد نہیں تھے، نہ ہی گفتارکے غازی۔ اس لیے ترک قوم آج بھی اُنہیں اپنا باپ مانتی ہے۔ کبھی لوگوں نے اپنے باپ بھی بدلے ہیں؟ شہر کی سب سے اونچی پہاڑی پر اتاترک کا مقبرہ ہر وقت ترکوں سے بھرا رہتا ہے۔ پچھلے 33 برسوں میں جب بھی گیا، ترک بچے، جوان اور بوڑھے، اپنے باپ کے لیے ہاتھ اٹھائے دعا کرتے اور اس کی عظمت کو سلام پیش کرتے نظر آئے۔ اور نوبیاہتا جوڑے، جی ہاں وہ بھی اپنے باپ کے ہاں حاضری دینا سعادت تصور کرتے ہیں۔ ان نوے سالوں میں سامراج بدل گیا، مگر ہر سامراج نے دنیا بھر کو یہی کہا، اتاترک دفن ہو گیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کا جسم دفن ہو گیا، اس کی فکرامر ہو گئی۔ اسی لیے اس کا مقبرہ روشن پایا۔ اپنے ترک بچوں کو وہ ہر روز ملتا ہے اور اس کا ترکی زندہ ہے۔ ترکی درحقیقت اتاترک کا ترکی ہے اور جو ترکی سے عشق کرے اور اس کے باپ سے عشق نہ کرے، اس کے عشق میں جھول ہی نہیں، یقیناًکوئی بغض بھی شامل ہے۔
یہی عشق مجھے ہر بار ترکی اور انقرہ لے جاتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کا اوّلین منصوبہ کے تحت بنا ہؤا شہر Planned City، جہاں مڈل ایسٹ ٹیکنیکل یونیورسٹی جیسی عالم میں مقبول یونیورسٹی ہے۔ حاجی بیرام پاشا کا انقرہ، تقریباًہزار سال سے اس صوفی نے ترکوں کو روحانی اورعملی زندگی میں کامیابی کا پیغام دیا۔ انقرہ ایک جدید شہر ہے۔ لیکن اس شہر کی تاریخ استنبول سے بھی قدیم ہے۔ اناطولیہ کا دل انقرہ۔ جدید ترکی، عثمانی، سلجوقی، بازنطینی، رومی، یونانی، حتّی تہذیب تک پھیلا ہو اہے۔ انقرہ ہزاروں سال کی تاریخ کو اپنے سینے میں سمیٹے ہوئے ہے۔ کوئی اِسے تلاش تو کرے:
ڈھونڈنے والے کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں...
میرا ترکی وہ ترکی ہے جو ترکوں کا ترکی ہے، اتاترک کا ترکی۔ میرے لیے سفرِ ترکی حرام ہے، اگر میں انت کبیر میں خوابیدہ اتاترک کی قبر پر حاضری نہ دوں اور اس کے بنائے شہر انقرہ کو نہ چھولوں۔ اس کے بغیر میراسفرِ ترکی ادھورا رہتا ہے۔ یہی عشق مجھے ترکی اور انقرہ لے جاتا ہے۔ انقرہ ایک پیالے کی طرح ہے اور اس پیالے میں کئی پہاڑیاں ہیں۔ صدیوں پرانا حصار آج بھی قائم ہے۔ آخری دور میں عثمانیوں نے اس حصار نما قلعے کو اپنے دفاع کے لیے استعمال کیا۔ سلجوقی دور تک یہ اہم ترین حصار تھا۔ اور دلچسپ چیز جو دیکھنے والی ہے کہ اِس حصار میں مختلف زمانوں کے پتھر لگے ہیں۔ سلجوقی دور میں کسی بازنطینی کھنڈروں سے اکٹھی کی گئی بڑی بڑی سنگِ مر مر کی سلیں Slabes بھی پیوست کر دی گئی ہیں، پتھر کے طور پر، جن پر خوب صورت مجسمے اور قدیم تحریریں کندہ ہیں۔ اس حصار سے عجب سحرو اسرار جھلکتا ہے۔ ساراانقرہ یہاں سے نظر آتا ہے۔ چاروں طرف پھیلا سرخ چھتوں پر مشتمل شہر۔ ہزاروں سال پرانے دفاعی حصار پر جدید ترکی کا سرخ ہلالی پرچم ہر وقت لہراتا ہے۔ حصار کے اندر پورا شہر آباد ہے، جدید اور قدیم۔ پتھر کی گلیاں اور سینکڑوں برس سے موجود کچھ گھر اور نئے ریستوران۔ عجیب ملاپ ہے تہذیبوں کا یہاں۔ اور یہاں پر موجود1178ء میں لکڑی سے تعمیر کی گئی جامع علاؤالدین آج بھی آباد ہے۔ یہ مسجد نوصدیوں سے خدا کے حضور سجدہ کرنے کے لیے ہر وقت کھلی ہے۔
انقرہ ایک تازہ شہر ہے۔ ہزاروں سال کی تاریخ اورجدت کا حسین امتراج۔ کنرلائی کا علاقہ ہو یا رات کو سقاریہ میں قہوہ خانے جہاں ترک فوک بجاتے یونیورسٹیوں کے طالب علم ہی اکٹھے نہیں ہوتے بلکہ شہر بھر کے دانشور بھی یہاں موجود ہوتے ہیں۔ عجب سماں ہوتا ہے جب نوجوان ساز پر ناظم حکمت یا یونس ایمرے کے گیت گاتے ہیں۔ اسی کنرلائی میں وزیراعظم ترکیہ کا دفتر ہے جہاں میں ترک قوم کے عظیم رہنما بلند ایجوت کو ملنے جاتا اور وہ مجھے اپنے دفتر کی چوکھٹ پر ریسیو کرتے تھے۔ انقرہ میں تاریخ اور جدید کی کشش کے علاوہ کچھ قابل توجہ چیزیں اور بھی ہیں۔ یہاں اتاترک اور بلند ایجوت جو ابدی نیند سوئے ہیں۔ چاق و چوبند ڈاکٹر اے بی اشرف بلاغرض ادب کے ذریعے پاکستان ترکی دوستی کا انمٹ باب ہیں۔ ہمارے سفیر سہیل محمود جنہوں نے روایتی سفارت کاری کے ساتھ ساتھ اس سے بالا تر ہو کر دونوں قوموں کی دوستی کی آبیاری کے لیے علم وادب اور عوام دوستی کی نئی راہیں استوار کی ہیں۔ یہ دو پاکستانی سپوت، قائداعظم محمد علی جناحؒ کے سفیر ہیں اس شہر میں۔ ان سے ملے بغیر سفرِ ترکی اب مکمل نہیں ہوتا اور پچھلے ہفتے ان کے ساتھ گزارے لمحات اسی محبت کا مظہر تھے۔