فیس بُک: اسرائیل کا نیا ہتھیار
’’ فیس بُک ‘‘ کے مقاصد سے متعلقہ ضوابط پر نگاہ ڈالی جائے تو وہاں صاف لکھا ہے کہ فیس بُک کی سہولت مہیا کیے جانے کا مقصد لوگوں کو یہ موقع فراہم کرنا ہے کہ وہ دنیا کو زیادہ آزاد اور مربوط بنا سکیں ۔ اس ضابطے یا اصول کو سامنے رکھتے ہوئے فیس بک اور اسرائیلی حکومت کے مابین طے پائے ایک نئے معاہدے پر بیشتر سیاسی و سماجی اور اظہار خیال کی آزادی کے علمبردارحلقوں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے ۔
فریقین کے مابین اس معاہدے میں یہ بات شامل ہے کہ فیس بک انتظامیہ اور اسرائیلی حکومت مشترکہ طور پر ایسے اقدام لیں گے اور فیس بک سے ایسے پیغامات کو ہٹا دیا جایا کرے گا جو فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیل کے خلاف تشدد پر اکساتے ہوں۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ معاہدے میں فلسطینیوں کے خلاف فیس بک پر کیے جانے والے اسرائیلی سرکاری اور دیگر پروپیگنڈے کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کہا گیا ۔ دنیا بھر میں فیس بُک کے لاکھوں صارفین اور بیشتر ماہرین و محققین نے محسوس کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت فیس بُک کو ایک ’’ جدید ہتھیار‘‘ کے طور پر استعمال کر رہی ہے ۔
فیس بک کے وہ صارفین جو اسرائیل پر شدید تنقید کرتے ہیں اور اُس کی فلسطینیوں مخالف پالیسیوں اور فوجی اقدامات کو ’’ اپا تھائیڈ‘‘ قرار دیتے ہوئے اِن کی مذمت کرتے ہیں، انہیں فیس بک کی جانب سے ایسا پیغام بھی مل رہا ہے جس میں انہیں بتایا جاتا ہے کہ ’’ فیس بک کے مشترکہ معیارِ استعمال کی خلاف ورزی کیے جانے کی بنا پر اُن کا اکاؤنٹ بند کیا جا رہا ہے۔‘‘
پچھلے جمعہ کو عربی میڈیا کی مین سٹریم نیوز ایجنسی القدس اور الشباب کو نہ صرف ایسے پیغامات ملے اور کئی کئی ملین کی تعداد میں ان کی فیس بک کے صارفین کے اکاؤنٹ بھی متاثر ہو ئے ہیں ۔ فلسطین ( خود مختار علاقے) میں سینکڑوں فلسطینی صارفین کو اسرائیلی قابض سیکورٹی فورسز نے مہینوں سےحراست میں لے رکھا ہے۔ ان کا جرم یہ ہے کہ انہوں نے اپنی فیس بک پر اسرائیلی حکومت اور فوج کی کارروائیوں پر مذمت کی تھی۔ اور انہیں انسانی حقوق کے خلاف قرار دیا تھا۔ اوردنیا سے اپیل کی تھی کہ وہ اسرائیلی حکومت کی فلسطینیوں کے خلاف متعصبانہ پالیسی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ۔
معروف فلسطینی صحافی سماح دوویق کو چھ ماہ اسرائیلی جیل میں قید رکھنے کے بعد انہیں ہفتہ قبل ہی رہا کیا گیا ہے ۔ اُن پر الزام تھا کہ اُنہوں نے اپنی فیس بک پر فلسطینیوں کو ’’ تشدد پر اکسایا اور اس کی ترغیب دی تھی‘‘۔ لیکن دوسری جانب کم و بیش چار ملین اسرائیلیوں نے پچھلے سال سے اب تک اپنی فیس بک پر فلسطینیوں کے خلاف ہی نہیں بلکہ ان کی نسل تک کو نابود کرنے کے بارے میں ایسی تحریریں لکھی تھیں جن میں سے اکثر میں یہ جملہ کہ ’’عربوں کی موت ہو‘‘ بھی شامل تھا۔ لیکن فیس بک نے ایسے انتہاپسند اسرائیلی شدت پسندوں کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا۔ اور نہ ہی انہیں کسی قسم کاکوئی انتباہ کیا جاری گیا، کہ ان کے فیس بک اکاؤنٹس بند کر دیے جائیں گے ۔ عربوں کے لیے موت کا براہ راست مطالبہ کرنے والے فیس بک کے اسرائیلی شدت پسند صارفین کی تعداد ایک لاکھ 75 ہزار بتائی جاتی ہے ۔ اور ان انتہا پسندوں میں سے کسی ایک کا بھی فیس بک اکاؤنٹ نہ بند کیا گیا ہے اور نہ ہی اسے کوئی نوٹس دیا گیا ہے ۔
اس حوالے سے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیل تشدد و انتہاپرستی کو جس طرح اپنے زاویۂ نگاہ سے پیش کرتا اور اس کی وضاحت کرتا ہے وہ بہت وسیع ہے ۔ اب فیس بک جیسے مقبول میڈیم کو اس جال میں پھنسایا جارہا ہے۔ فی الوقت اسرائیل میں بر سراقتدار شدت پسند حکومت ’’سام دشمنی ‘‘ کی اصطلاح کو غلط استعمال کررہی ہے اور اسے اپنے مقاصد کے لیے اپنے ہی طور طریقے سے بروئے کار لاتی ہے۔ وہ یہ سب کچھ بڑی دیدہ دلیری سے کرنے میں کامیاب ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ’’سام دشمنی ‘‘ کا لیبل لگا کر وہ کسی کے خلاف کچھ بھی کرے اُس پر نہ تو مغربی و امریکی میڈیا کچھ لکھے گا اور نہ ہی امریکی و مغربی رہنما اس پرانگلی اٹھائیں گے۔
اسرائیل دعویٰ کرتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں صرف وہی ایک جمہوری ریاست ہے لیکن کون نہیں جانتا کہ سب سے زیادہ جمہوری حقوق کی دجھیاں اُڑانے اور فلسطینیوں کے جمہوری و بنیادی انسانی حقوق کو پامال کرنے والا ملک بھی اسرائیل ہی ہے ۔ جو مقبوضہ علاقوں کی اصل صورت حال کو سامنے لانے کے لیے کسی کو بولنے تک نہیں دیتا۔ یہاں تک کہ اب کوئی فیس بک پر بھی اس بارے میں اسرائیلی سامراجی روّیوں پر تنقید نہیں کر سکتا ۔
(نصر ملک ‘اُردو ہمعصر ڈاٹ ڈی کے‘ کے ایڈیتر ہیں)