عمران خان کا سیاسی جؤا

عمران خان اب ہر قیمت پر نواز شریف حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ محرم کے بعد انہوں نے ااسلام آباد کا گھیراؤ کرنے، شہر کو بند کرنے اور حکومت کو نہ چلنے دینے کا دبنگ اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے وزیرآعظم نواز شریف کے استعفی تک پارلیمنٹ کے بایئکاٹ کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاناما لیکس کے بعد وزیرآعظم نواز شریف حکومت کرنے کا قانونی اور اخلاقی حق کھو چکے ہیں۔  

عمران خان کے اعلان کردہ عزائم سے یہ قیاس کرنا مشکل نہیں کہ وہ محرم کے بعد سیاسی بحران اور خلفشار کو اس نہج تک پہنچانا چاہتے ہیں کہ ملک میں حکومت اور اس کا کوئی ادارہ کام نہ کرنے پائے۔ اپنے عزائم کی تکمیل کے لئے ان سے ہر قسم کے مثبت یا منفی اور پر تشدد حربے استعمال کرنے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ وہ سب کچھ داؤ پہ لگا کر نواز حکومت کو گرانے کا ہدف اس سال کے خاتمے سے پہلے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ 
عمران خان سیاسی بحران میں شدت پیدا کرنے کے لئے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں سے استعفوں کے ساتھ ساتھ صوبہ پختون خوا کی حکومت اور اسمبلی کو توڑنے جیسے انہتائی اقدام اٹھانے سے بھی گریز نیہں کریں گے۔

عمران خان ایک بار پھر کیوں حکومت گرانے کے لئے نکل رہے ہیں۔ اس پر سیاسی مبصر طرح طرح کے تبصرے اور سازشی تھیوریاں سامنے لا رہے ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ کشمیری عوام کی تحریک آزادی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے اور بھارت کی دھمکیوں کے جواب میں قومی اتحاد کا مظاہرہ کرنے کی بجائے عمران خان کا حکومت گرانے اور ملک کو سیاسی عدم استحکام کا شکار کرنے کی طرف چل پڑنا، ذہنوں میں کئی قسم کے شبہات کو جنم دیتا ہے۔ مگر اس تحریر میں ان مسائل پر تبصرہ نہ کرتے ہوئے صرف یہ جائزہ لینے کی کوشش کی جائے گی کہ مجوزہ نواز ہٹاؤ تحریک کس قدر کامیابی سے ہمکنار ہو پائے گی اورکیا عمران خان اس بار حکومت گرانے میں کامیاب ہو سکیں گے۔ 

پاکستان میں حکومت مخالف سیاسی تحریکوں کی اپنی تاریخ ہے۔ چار فوجی آمروں کے خلاف بحالی جمہوریت کی تحریکوں کے علاوہ پی پی پی اور مسلم لیگ کی سول منتخب حکومتوں کے خلاف لانگ مارچ اور تحریکیں بھی برپا کی جاتی رہی ہیں۔ فوجی آمروں ایوب خان، یحیی خان، ضیاالحق اور پرویزمشرف کے خلاف سیاسی جماعتوں نے متحدہ محاذ بنا کرتحریکیں چلائیں۔ مگر ان تحریکوں کے نتیجے میں ماسوائے جنرل ایوب خان کے کوئی فوجی آمر استعفی دے کر گھر نہیں گیا۔ جنرل یحییٰ خان کو ملک دولخت ہونے کے بعد اپنے ماتحت جرنیلوں کے دباؤ کی وجہ سے اقتدار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ جنرل ضیا زندگی کے آخری لمحے تک اقتدار سے چمٹا رہا۔ جبکہ جنرل مشرف کو تو گارڈ آف آنر دے کر رخصت کیا گیا۔

سول جمہوری حکومتوں کے خلاف سب سے منظم، پرتشدد اور طویل تحریک ذوالفقارعلی بھٹو کے خلاف متحدہ اپوزیشن کی نو سیاسی جماعتوں کے تحت چلائی گئی تھی۔ تحریک کے نتیجہ میں متحدہ اپوزیشن اور حکومت نے مذاکرات کے میز پر بیٹھ کر اختلافی سیاسی، قانونی اور آئینی مسائل کا حل تلاش کر لیا تو آرمی چیف جنرل ضیاالحق نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ متحدہ اپوزیشن کی تحریک کے نتیجہ میں پورے ملک کا نظام کئی ماہ تک معطل اور ناکارہ بنا دیا گیا تھا۔ اس تحریک کے ذریعے اندرونی اور بیرونی طاقتور خفیہ اور ظاہری عناصر وزیراعظم بھٹو کو مستعفی ہونے پر مجبور نہیں کر سکے۔

بے نظیر بھٹو کی دو حکومتوں کو گرانے کے لئے نواز شریف اور متحدہ اپوزیشن کی تحریکیں ان کا بال بیکا نہ کر سکیں۔ مگر اس وقت کے صدر نے  حاصل شدہ آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے، کرپشن اور سیاسی خلفشار کے نام پراسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی سے پارلیمنٹ توڑ کر بے نظیر بھٹو کی حکومتوں کا خاتمہ کیا۔ یہی بدنام زمانہ طریقہ کار نواز شریف کی پہلی حکومت کو ختم کرنے کے لئے استعمال کیا گیا۔ جبکہ نواز شریف کی دوسری حکومت کا تختہ جنرل مشرف نے الٹ کرانہیں گرفتار کر لیا۔ یہ سب بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ 1969 اور اس کے بعد کسی سیاسی تحریک کے نتیجہ میں کوئی حکومت نہ گرائی جاسکی اور نہ ہی کسی وزیراعظم کو استعفی دینے پر مجبور کیا جاسکا۔  اس سے قطع نظر کہ ان تحریکوں کی پشت پناہی  خواہ اندرونی اور بیرونی خفیہ ہاتھ ہی کررہے تھے۔

اہم سوال یہ ہے کہ عمران خان کی مجوزہ نواز ہٹاؤ تحریک اگر واقعتا ایک ایسی تحریک کی شکل اختیار کر لیتی ہے جس کے نتیجہ میں سارے ملک کا نظام درہم برہم  ہو کر رہ جاتا ہے، حکومت اور حکومتی اداروں کو پر تشدد مظاہروں کے ذریعے کام کرنے سے روک دیا جاتا ہے۔ اگر ملک میں  ریاستی اور سٹریٹ تشدد اپنی انتہا کو چھو لیتا ہے، تو کیا نواز شریف وزارت عظمی سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیں گے۔ یا مستعفی نہ ہونے کی صورت میں سیاسی خلفشار، قومی سلامتی اور ملکی استحکام کے نام پر حسب روایت فوجی مداخلت کا راستہ ہموار کیا جائے گا۔  یاد رہے کہ اب پاکستان کے صدر کے پاس پارلیمنٹ کو ختم کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

کیا عمران خان پاکستان کی سیاسی تحریکوں کی تاریخ سے آگاہ نہیں یا وہ خفیہ ہاتھوں کے اشارے پر موجودہ جمہوری نظام کے تسلسل کا تیا پانچا کر دینا چاہتے ہیں۔ ان سوالوں کا کوئی واضع اور ثبوت کے ساتھ جواب دینا قبل از وقت ہو گا۔  ماضی کی حکومت مخالف سیاسی تحریکوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ کہنا مشکل نیہں ہو گا کہ عمران خان اپنی عوامی مقبولیت، پی ٹی آئی اور صوبہ پختون خواہ حکومت کے وسائل کے بل بوتے پر ملک کے سارے نظام کو جامد وساقط کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں۔ شاید انہیں یاد ہو گا کہ نواز شریف پنجاب کے وزیر اعلی ہونے اور متحدہ اپوزیشن کی بے نظیر ہٹاؤ تحریک کے باوجود، بے نطیر بھٹو کی پہلی حکومت گرانے میں ناکام رہے تھے۔ بے نظیر حکومت کو ختم کرنے کے لئے بلآخر اس وقت کے صدر نے اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی سے پارلیمنٹ توڑ کر حکومت ختم کرنے کا راستہ اختیار کیا۔ یہ ممکن ہے کہ عمران خان کچھ وقت کے لئے امن و امان کے مسائل تو پیدا کر سکتے ہیں مگر یک و تنہا حکومت کو چلتا کرنا شاید ان کے لئے ممکن نیہں ہو گا۔

عمران خان نے ایک ایسا بلاینڈ سیاسی داؤ کھیلا ہے جس کا انجام ان کی عوامی مقبولیت، پی ٹی آئی اور جمہوری نظام کے تسلسل، ملکی ترقی اور خوشحالی کے لئے اچھا شگون ثابت نہیں ہو سکتا۔ ایسا اندھا سیاسی جؤا عمران خان کی سیاسی خود کشی بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ عمران خان اقتدار تک پہنچنے کے لئے کئی یوٹرن اورشارٹ کٹ آزما چکے ہیں۔ اگر وہ حقیقتا جمہوری عمل کے تسلسل پر یقین رکھتے ہیں تو انہیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ جمہوری نطام میں اقتدار کے حصول کا کوئی شارٹ کٹ ممکن نہیں ہوتا۔ انہیں ہر حال میں آیندہ انتخابات کا انتظار کرنا ہوگا۔ اگر وہ کسی شارٹ کٹ یا تھرڈ ایمپائر کی راہ تک رہے ہیں جو ان کو راج سنگھاسن پر براجمان کرانے آئے گا، تو وہ یہ غلط فہمی دل و دماغ سے نکال دیں کہ جمہوری نظام کا دھڑن تختہ کر نے والے طالع آزما انہیں اقتدار تک پہنچانے کے بعد، دوبارہ اپنے کام میں مگن ہو جائیں گئے۔ فوجی آمر کے تختہ الٹنے سے نواز شریف شہید جمہوریت کے رتبے پر تو فائیز ہو سکتے ہیں مگر عمران خان تو یہی کہتے رہ جائیں گے:
کھیر پکائی جتن سے چرخہ دیا جلا
آیا کتا کھا گیا تو بیٹھی ڈھول بجا

آخر میں یہ وضاحت ضروری ہے کہ ملک کے اندرونی و بیرونی حالات، کشمیری عوام کی تحریک آزادی اور مشرقی اور مغربی سرحدوں کی صورت حال کے تناظر میں جائزہ لیں تو اس وقت کسی طالع آزمائی اور فوجی مہم جوئی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔