بھارتی بڑکیں اور مقاصد

پشتو کا ایک محاورہ ہے کہ ’وادہ آسان دے خو ٹک ٹوک اے گران دے‘ (شادی تو آسان ہے لیکن اس اس کے چھوٹے چھوٹے کام پورے کرنے بڑے مشکل ہوجاتے ہیں)۔ ہر زبان کی اپنی ایک چاشنی ہوتی ہے جو لوگ کسی زبان کو جانتے ہیں وہی اس کی کسی بات کی اصل روح کو سمجھتے ہیں۔ اگر ہم اس محاورے کو بنانے والے سے معذرت کے ساتھ پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں دیکھیں تو یہ محاوہ کچھ یوں بنے گا ’جنگ آسان دے خو ٹک ٹوک اے گران دے ‘ یعنی جنگ شروع کرنا تو آسان ہے لیکن پھر اس کو انجام تک پہچانا نہ صرف مشکل ہوتا ہے بلکہ بعض حالات میں تو ناممکن بھی ہوتا ہے۔

 تاریخ اس کی شاہد ہے ۔ جنگ شروع تو اپنی مرضی سے کی جاسکتی ہے لیکن پھر اسے اپنی مرضی سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ بھارتی وزیراعظم نے وزارت اعظمیٰ حاصل کرنے کے لیے اپنے عوام کو جو سہانے سپنے دکھائے تھے اس میں پاکستان دشمنی بھی شامل تھی۔ وہ سپنے اب ٹوٹ چکے ہیں جس کی وجہ سے ان کی پوزیشن کو اس وقت بڑا دھچکہ لاحق  ہے۔ بھارت میں آئیندہ انتخابات ڈیرھ دو سال بعد ہونے والے ہیں۔ اس لیے مودی کو اب اپنی پوزیشن بہتر بنانے کی بھی پڑی ہے۔  پوزیشن بہتر بنانے کے لیے وہ ملک میں جنگی جنون پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اس میں کامیاب بھی ہوچکے ہیں۔ اس جنگی جنون کا ہی نتیجہ ہے کہ بھارتی انتہا پسند جماعت نے پاکستان کے وزیراعظم نوازشریف کے سر کی قیمت تک لگادی۔ اس کا جو نتیجہ نکلنا تھا سو وہی ہوا۔ جواب میں پاکستانیوں نے بھی مودی کے سر کی قیمت لگادی۔

قطع نظر اس کے کہ یہ ممکن ہے یا نہیں ، موجودہ صورتحال سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس خطے میں لوگوں کے جذبات کس حد تک مشتعل ہوچکے ہیں اور یہ اشتعال ایک فطری امر ہے مودی اس اشتعال کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے ۔ پاکستان اور بھارت میں حالیہ کشیدگی ، بھارت کی دھمکیوں ، جارحانہ رویوں،  سرجیکل اسڑائیک اورپاکستان کو تنہا کرنے کے دعوؤں اور پاک فوج کی متحرک پوزیشن اور حکومت کے ان ایکشن ہونے کے بعد لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات آچکی ہے کہ بھارت پاکستان پر جنگ مسلط کرے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی جنگ ہوگی ؟

آئیے دیکھتے ہیں۔ بھارت سلامتی کونسل کی نشست کے حصول کا خواہشمند ہے۔ وہ نیوکلئیر سپلائر گروپ کا حصہ بھی بننا چاہتاہے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ کشمیر کے مسلّے کو بین الاقوامی سطح پرپذیرائی نہ ملے۔ ایسی صورت میں اگر جنگ ہوتی ہے تو پوری دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ پاکستان اور بھارت میں کشمیر کے مسلّے پر جنگ ہورہی ہے۔ اس سے مسلّہ کشمیر فلش پوائنٹ بن جائے گا جو بھارت نہیں چاہتا۔ اس کے علاوہ بھارت کو پاکستان کی دفاعی صلاحیت کا بھی اندازہ ہے ۔ اس سے انکار ممکن نہیں کہ جنگ سے پاکستان کو بھی جانی ، مالی اور معاشی نقصان ہوگا۔ لیکن مودی یہ بھی جانتا ہے کہ بھارت کو پاکستان سے زیادہ نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔ اس جنگ میں ممکن ہے پاکستان71 کا بدلہ بھی چکائے جس کے لیے پاک فوج تیار بیٹھی ہے۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ پاکستان ایٹمی قوت ہے۔ اس کے علاوہ اگر بھارتی اور پاک فوج کا موزانہ کیا جائے تو  بڑکوں کے باوجود خود بھارتی اور عالمی سطح پر یہ بات تسلیم کی جا چکی ہے کہ بھارتی فوج پاک فوج کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ خود بھارتی میڈیا باامر مجبوری اس حقیقت کو تسلیم کررہا ہے۔

بھارت کے جنگ میں زخمی فوجیوں کے میڈیا پربیانات سے بھی اس حقیقت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ جنگ سے خوفزدہ بھارتی فوجیوں کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ پاک بھارت کشیدگی شروع ہونے کے بعد سے صرف ابتدائی دنوں میں چالیس ہزار فوجیوں نے چھٹی کے لیے درخوستیں دیں جبکہ پاک فوج کے جوانوں کا جوش و جذبہ ان ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکی ہیں۔ ان ویڈیوزمیں ایک جشن کا سا سماں نظر آرہا ہے ۔ بھارتی وزیراعظم یہ بھی جانتا ہے کہ یہ71 ء نہیں ہے۔ اکہتر میں پاکستان میں اپنوں کی غداری اور حکومتوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے دو عالمی طاقتوں کی پاکستان کے حصے بخرے کرنے میں دلچسپی سے یہ ممکن ہوا تھا۔ لیکن اب یہ ممکن نہیں۔ امریکہ کی اب بھی چین اور گودار کی وجہ سے دلچسپی ضرورہے تاہم روس اب اس کے حق میں نہیں۔ چین اور روس کی قربت کے باعث اب اس خطے کا منظرنامہ بدل رہا ہے۔ پاکستان بھی ایٹمی قوت ہے اور اس کی ایٹمی ٹیکنالوجی بھارت کے ساتھ امریکہ، اسرائیل کے تعاون کے باوجود اس سے بدر جہاں بہترہے۔ 

 بھارت یہ بھی اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ پاکستان میں دہشتگردی کو سپورٹ کررہا ہے ۔ اس لیے مودی جتنی بھی بڑکیں ماریں اور بھارت  بظاہر جتنی بھی جنگ کی تیاریاں کرلے، وہ جنگ کے لیے سامنے نہیں آئے گا۔ کیونکہ بین الاقوامی سطح پربھی کوئی ملک اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ اس نئے محاذ کی حمایت کرسکے۔ اس وقت بھارت کی جانب سے جو تند و تیز جملے یا جارحانہ رویہ نظر آرہا ہے وہ صرف اپنے عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے کیا جارہا ہے۔ تاکہ بھارت میں مودی کے آئندہ الیکشن میں کامیابی کے لیے راہ ہموار ہواور انہیں عوام کی ہمدریاں حاصل رہیں۔

پندرہ سال قبل2001 میں بھی پاکستان اور بھارت میں اسی طرح کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی۔ جنگ کا خطرہ منڈلا رہا تھا۔ عالمی طاقتیں بھی جنگ کے خطرے کو محسوس کررہی تھیں۔ لیکن جنگ نہیں ہوئی، کشیدہ ماحول آہستہ آہستہ نارمل ہوتا گیا۔ اب2016 میں جاری یہ کشیدگی بھی کچھ عرصہ جاری رہے گی۔ ممکن ہے کہ بھارتی انتخابات تک یہ جاری رہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ انتہائی محدود پیما نے پر جنگ بھی ہو، جس طرح آج کل سرحدی جھڑپیں جاری ہیں۔ تاہم کسی بڑی جنگ کا امکان کم ہی ہے ۔

جنگ سے جو تباہی وبربادی ہوگی دونوں ممالک اس کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ پاکستان تو ویسے بھی جنگ نہیں چاہتا۔ امن وامان کا خواہاں اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل چاہتا ہے۔ جبکہ بھارت اس خطے میں بالادستی کا خواہاں ہے اور وہ پاکستان کو ڈرادھمکا کر یہ مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ لیکن اسے اس میں کامیابی نہیں ملے گی۔