سی پیک پر سیاست چمکانے کا یہ انداز
- تحریر
- جمعہ 07 / اکتوبر / 2016
- 5402
‘سی پیک کا مغربی روٹ ہماری آئیندہ نسلوں کے مستقبل کی جنگ ہے۔ نواز شریف نے مغربی روٹ پر وعدہ خلافی کی، حق نہ ملا تو چھین کر لیں گے۔ وزیر اعظم نے ماضی میں وعدہ خلافی کی تو سعودی عرب جا کر جان چھڑائی۔ اب ہم خاموش نہیں رہیں گے۔ سی پیک بہت اچھا منصوبہ اور گیم چینجر منصوبہ ہے لیکن ہمیں بتایا جائے ہمارے لیے اس میں کیا ہے؟‘ یہ تھے ملفوظات اسفند یار ولی خان کے جو دو روز قبل صوابی میں ایک احتجاجی جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔
سیاسی ضرورت کا کیا دھرا تھا یا شان تغافل کی انتہا تھی کہ موصوف کو ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا کہ سی پیک کے منصوبے میں ہمارے لیے کیا ہے؟ ہمارے لیے سے ان کی مراد اگر صوبہ خیبر پختون خوا تھی تو اس موضوع پر آل پارٹیز کانفرنس ہوئی جس میں موصوف اور ان کے ایم این ایز اور سینیٹرز شامل ہوئے تھے۔ مختلف قائمہ کمیٹیوں میں سی پیک پر بار ہا بریفنگز ہوئیں، کے پی کے میں صوبائی اور وفاقی حکام اور سیا ست دانوں کے کئی اجلاس ہوئے، بعد ازاں صوبائی حکومت کے افسران ان کئی اجلاسوں میں شریک رہے جو پاکستان اور چین کی حکومت کے درمیان اسلام آباد اور چین میں ہوئے ۔ حیرت ہے اگر ان تمام بریفنگز، کانفرنسوں اور اجلاسوں کے بعد موصوف کو معلوم نہیں ہو سکا کہ سی پیک میں ‘ہمارے لیے‘ کیا ہے تو اور کون سا فورم اور طریقہ رہ جاتا ہے کہ انہیں ان کی حسب خواہش بتایا جائے۔ ہاں اگر ہمارے لیے سے مراد ان کی صرف اپنی ذات یا پارٹی ہے تو ہم کون ہوتے ہیں ان کے اس اعلانیہ اظہارِ تغافل اور بتائے جانے کی خواہش کا سرِ عام اظہار کرنے پر رائے زنی کریں۔ جن کے لیے اشارہ ہے وہ جانیں یا خان صاحب کا شانِ تغافل۔
ان کے اس انداز نے البتہ ان خدشات کو پھر سے زبان دے دی ہے کہ سی پیک راہداری منصوبہ سیاسی مفادات سے شاید ہی دامن بچا پائے۔ اور یہ کہ اگر سیاسی مفادات اور الزام تراشی کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہو گیا ، اور اسے میڈیا کے ہیجانی اینکرز کی سرپرستی بھی حاصل ہو گئی تو یہ اس منصوبے کے لیے تباہ کن ہو گا۔ ان ہی دنوں کے پی کے، کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے بھی اس منصوبے کے مغربی روٹ پر اپنی مبینہ حق تلفی پر کچھ ایسے ہی تلخ انداز میں احتجاج کیا۔ بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے بھی ہلکے پھلکے انداز میں سندھ کی حق تلفی کا تذکرہ میڈیا میں آ چکا ہے۔ تسلیم کہ اگلا الیکشن سر پر ہے۔ ہمارے ہاں الیکشن کی سیاست میں مسائل سے گریز اور ذاتیات اور سیاسی مفادات کے نام پر فروعی مسائل کو علاقائی اور گروہی رنگ دینے کی روایت بڑی مضبوط ہے۔ کالا باغ ڈیم اس کا شکار ہو چکا۔ یہ مصالحہ خوب بکتا ہے، جلسوں میں بھی، پریس کانفرنسوں میں بھی اور ٹی وی ٹاک شوز میں بھی۔ ہم تو صرف دعا ہی کر سکتے ہیں کہ یہ قومی منصوبہ دانستہ سیاسی مارا ماری کا شکار نہ ہو جائے۔ الیکشن کی رونق اور الزام تراشی کے لیے قدرت کوئی اور بھڑکتا ہوا موضوع عطا کر دے۔
اسفند یار ولی خان نے اپنے تئیں سی پیک کو پنجاب چین منصوبے کا نام دے ڈالا۔ اسلا م آباد میں چین کے سفارتخانے نے اگلے ہی روز غیرمعمولی سرعت سے ایک وضاحتی بیان جاری کیا۔ ڈپٹی چیف آف مشن ژاؤلی جیان نے منصوبے کی تفصیلات جاری کیں کہ ساڑھے اکیاون ارب ڈالرز کے منصوبوں میں سے بلوچستان میں 16 ، سندھ میں 13 ، پنجاب میں 12 اور کے پی کے میں 8 منصوبوں پر کام جاری ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اب بھی سی پیک پنجاب چین راہداری منصوبہ کہلائے گا؟ دوسری طرف گزشتہ روز کے پی اسمبلی میں سی پیک پر بحث ہوئی۔ سپیکر نے 7 اکتوبر کو پارلیمانی سربراہوں کا اسی موضوع پر اجلاس بلا لیا۔ لیکن اسمبلی میں ارکان کی دلچسپی کا عالم یہ تھا کہ کورم بمشکل پورا ہوا۔ اجلاس کے اختتام پر فقط22 ارکان اسمبلی میں موجود تھے۔ حکومت کے مشتاق غنی نے ایوان میں ارشاد فرمایا کہ وزیراعظم چین جاتے ہوئے پرویز خٹک کو ہمراہ نہیں لے جاتے لہٰذا ان کی حکومت کا خیال ہے کہ چین سے براہِ راست روابط بڑھائے جائیں۔ غالب کی زبان میں کہیں تو اس قدر حساس موضوع کو عوامی سیاست کے لیے استعمال کرنے کا یہ ڈھنگ بازیچہ ء اطفال ہی کہلائے گا۔
مغربی روٹ کے لیے مالی وسائل وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے فراہم کرنا ہیں۔ شاید ایک آدھ حصے کے لیے چین کی مالی معاونت حاصل ہو گی۔ اس منصوبے کے لیے مالی وسائل میں اگر وفاقی یا صوبائی حکومت پہلوتہی کر رہی ہے یا گریزاں ہے تو اسفند یار ولی خان کا حق ہے کہ حکومت سے وسائل کی جلد فراہمی کا مطالبہ کریں۔ صرف مغربی روٹ یا مشرقی روٹ کے برابر اہمیت قراقرم والے حصے کی بروقت تعمیر کی بھی ہے۔ بہتر ہو کہ خان صا حب اس حصے کی تعمیر پر بھی زور دیں کہ اس کے بغیر کوئی کارگو آ سکے گا نہ جا سکے گا۔ اس کے لیے بھی بہترین فورم ایوان اور قائمہ کمیٹیاں ہیں نہ کہ احتجاجی جلسہ۔ سنجیدہ مسائل کے لیے فورم کا انتخاب کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ میڈیا کی سستی شہرت یا جلسے کے ہجوم سے تالیاں پٹوانے سے سنجیدہ معاملات حل ہوتے، آج تک تو ہم نے دیکھے نہیں۔ خان صاحب کی کوشش کا انجام بھی دیکھے لیتے ہیں۔
سی پیک منصوبے کی بنیادی تعریف نے بھی کئی الجھاوے اور شکوک جنم دے رکھے ہیں۔ عام تاثر تو یہ تھا کہ سی پیک میں پورٹ، ہائی ویز، انڈسٹریل پارکس، ریلویز وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن پھر ایک روز اچانک اس میں سے ایک اورنج ٹرین بھی نکل آئی۔ چھیالیس ارب ڈالرز کے منصوبے میں سے بجلی کی پیداور کے لیے چونتیس ارب ڈالرز مختص کرنے کی وجہ سی پیک کا پھیلاؤ ملک بھر میں انرجی کے میگا پروجیکٹس پر بھی ہو گیا۔ گڈانی پاور پارک ہو یا ساہیوال کا کوئلہ بجلی منصوبہ، شیخوپورہ بھکی کا آر ایل این جی کا منصوبہ ہو یا جھنگ کا۔ سی پیک کا پھیلاؤ ملک بھر میں ہے۔ حال ہی میں ایشائی ترقیاتی بنک اور چین کی گارنٹی سے منظور ہونے والے ریلوے کے لیے آٹھ ارب ڈالرز قرضے کو بھی سی پیک میں شامل بتایا گیا۔ یوں اب سی پیک منصوبے کا حجم اس مالی معاونت کے بعد اکیاون ارب ڈالرز ہو گیا ہے۔
ایک طرف سی پیک منصوبے کا حجم کاغذوں میں پھیل رہا ہے لیکن دوسری طرف کئی جاری منصوبوں میں تکنیکی رکاوٹوں کی وجہ سے ان پروجیکٹس پر سرمایہ کاری خطرے میں ہے۔ گڈانی میں ایک بہت بڑا بجلی منصوبوں کا کمپلیکس جیٹی کی تعمیر کے وسائل کے تنازعے کی نذر ہو گیا۔ مٹیاری سے لاہور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا دو ارب ڈالر کا منصوبہ ٹیرف کے تنازعے کا شکار ہونے کی وجہ سے تعطل کا شکار ہو چکا۔ چینی سرمایہ کار نیپرا کے منظور شدہ ٹیرف سے تیس فی صد زیادہ کا تقاضا کر رہے ہیں۔ کلر کہار میں تعمیر کیا جانے والا کوئلہ بجلی گھر بھی لاگت اور ٹیرف کے انہی تنازعات کے وجہ سے رکا ہؤا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور سیاست دان اس منصوبے کی پیچیدگیوں اور ممکنہ رکاوٹوں کا ادراک کریں، ان کے حل میں مثبت سیاسی عمل سے معاونت کریں، نہ کہ میڈیا اور عوامی اجتماعات میں تالیاں پٹوانے اور سیاسی لین دین کے لیے بارگین چِپ کے طور پر استعمال کریں۔
ان میگا پروجیکٹس میں آنے والی رکاوٹوں سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ سی پیک کی یہ تمام سرمایہ کاری اور تمام پروجیکٹس یوں آسانی سے اپنے خوشگوار انجام تک نہیں پہنچیں گے ۔ ان رکاوٹوں کو مدبرانہ انداز میں حل کرنے کی ضرورت ہو گی۔ وفاقی حکومت کو بھی غیر جانبدار کردار ادا کرنا ہو گا اور صوبائی حکومتوں کو بھی اپنے حصے کا کام بروقت انجام دینا ہوگا۔ نہ کہ ہر کام وفاقی حکومت کے گلے ڈال کر ڈھول پیٹنے میں عافیت تلاش کی جائے۔
وفاقی حکومت کا پروجیکٹس کی بروقت کامیابی کا ریکارڈ کیا ہے؟ اس کا گوشوارہ اسی ہفتے ایشیائی ترقیاتی بنک سامنے لایا ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بنک کی طرف سے پاکستان کے لیے چھ ارب ڈالرز سے زائد مالی معاونت منظور کی گئی ہے جس کے لیے پروجیکٹس کی نشاندہی اور ان کے ڈیزائین سٹرکچر کی تیاری کی جا چکی ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بنک نے اس ہفتے جاری ہونے والی اپنی رپورٹ میں اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان کی ان منصوبوں پر عمل درآمد کی رفتار بہت آہستہ ہے۔ گذشتہ پانچ سال کا ریکارڈ گواہ ہے کہ پاکستان میں امداد کے حصول کے بعد پروجیکٹ کی باقاعدہ منظوری تک کا وقت کم از کم ایک سال رہا ہے۔ بجلی کی قلت کا رونا اپنی جگہ، بجلی منصوبے فاسٹ ٹریک پر مکمل کرنے کے دعوے اپنی جگہ، ایشیائی ترقیاتی بنک سے مالی معاونت حاصل ہونے کے بعد منصوبے کے لیے بنیادی دستاویزات کے دستخط میں اٹھارہ ماہ کا عرصہ لگا! یہ چشم کشا رپورٹ پڑھنے کے قابل ہے اور سرمایہ کاری منصوبوں کو عملی شکل دینے کی ہماری مایوس کن کارگزاری ، کاہلی اور بد انتظامی کی داستان ہے۔ کہیں PC 1 کی منظوری زلف یار کی سی طوالت اختیار کر لیتی ہے، کبھی پروجیکٹ ٹیم میں عین وقت پر انتظامی تبدیلییوں سے منصوبے کی تکمیل زلف گرہ گیر کے پھیر کا شکار ہو جاتی ہے۔ ایک اہم مسئلہ سرمایہ کاری منصوبے کی ذمہ داری اٹھانے کا ہے۔ ذمہ داری کی بال اگلے سے اگلے کورٹ میں پھینک دی جاتی ہے۔ اسے نہ اپنانے کے لیے ہزار جواز ہیں۔ قانونی مقدمات ان مسائل کے سوا ہیں۔
ایشیائی ترقیاتی بنک بھی عالمی بیورو کریسی کی طرح ہے۔ ہاتھی کا سا حجم اور کام میں سست رو۔ لیکن اس کے باوجود اگر اس نے منصوبوں کی تعمیر میں سست روی پر تشویش کا اظہار کیا ہے تو برداشت کے سب بند ٹوٹنے پر ہی کیا ہو گا۔ لہٰذا اس تشویش کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ اس تشویش پر ہمیں سی پیک منصوبوں کی بر وقت تکمیل اور سیاسی تنازعات سے ان کے بچاؤ پر دوہری تشویش ہو رہی ہے۔ اگر اسفند یار ولی خان جیسا کہنہ مشق سیاست دان ، صوبوں کے حکمران اور لیڈر اختلاف کے لیے یہ انداز اختیار کریں گے تو خوش فہمی کہاں سے آئے گی اور عملدرآمد کا جوش و خروش کیسے پیدا ہو گا۔