آمریت پسندوں کا محبوب، مائنس ون فارمولہ

‘جناح کو مائنس کر دیا جائے تو تحریک پاکستان دم توڑ دے گی‘۔ یہ آل انڈیا کانگرس کے راہنماوں کی سوچ تھی۔ پنڈت جواہر لال نہرو نے تو علامہ اقبال کو ان کے انتقال سے قبل لاہور میں ایک ملاقات کے دوران جناح کی بجائے آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت سنبھالنے کی ترغیب بھی دی تھی۔ شیخ مجیب الرحمان ملک میں بحران اور خلفشار کی جڑ ہے۔ ملک کے با اختیار ادارے اور ان کے ہمنوا سیاستدان یک زبان ہو کر بولے کہ شیخ مجیب کو سیاسی منظر سے ہٹا کر سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ جو نتیجہ نکلا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔

1971 میں پاکستان دولخت ہو گیا اور مشرقی پاکستان شیخ مجیب الرحمان کی قیادت میں ایک علیحدہ آزاد ملک بن گیا۔ ہم نے مائنس مجیب کے ساتھ ملک کے ایک حصے کو بھی مائنس کر دیا۔ بچے کھچے پاکستان کا اقتدار ذوالفقار علی بھٹو کے ہاتھ لگا۔ بھٹو عوام میں بہت مقبول تھے۔ اقتدار سے باہر رہ جانے والے بولے کہ بھٹو اور پاکستان ایک ساتھ نیہں چل سکتے۔ سندھی، پختون، بلوچ قوم پرستوں نے یک زبان ہو کر نعرہ بلند کیا کہ بھٹو کو ہرصورت اقتدار سے ہٹانا ضروری ہو چکا ہے۔ اصغر خان، پیر پگاڑہ، ابوالاعلی مودودی، ولی خان، مفتی محمود اور مولانا نورانی سب نے متحد ہو کر بھٹو سے نجات کی تحریک چلائی۔ جب جنرل ضیا نے بھٹو پر مائنس ون فامولے کا اطلاق کیا، ان سیاستدانوں نے جنرل ضیا کا کھل کر ساتھ دیا۔ بھٹو کو سولی پر چڑھا کر جنرل ضیا دس سال تک اقتدار پر قابض رہا۔ وہ زندگی کے آخری سانس تک اقتدار سے چمٹا رہا۔

جنرل مشرف نے بے نطیر بھٹو اور نواز شریف کو ملکی سیاست سے مائنس کرنے کے لئے انہیں ملک بدر ہونے پر مجبور کیا۔ مشرف نے بے نظیر بھٹو کے بغیر پی پی پی کو اقتدار میں شریک کرنے کی کوشش کی۔ جس میں ناکامی کے بعد پی پی پی کے ایک حصہ کو اقتدار کا لالچ دے کر اپنے ساتھ ملا لیا۔ بے نظیر بھٹو کو زندگی سےمحروم کر کے مائنس ون فارمولہ ایک بار پھر دہرایا گیا۔

ہمارے ملک کی سیاست میں عوام میں مقبول سیاستدانوں کو سازشوں، ریاستی طاقت یا ان کو زندگی سے محروم کر کے راستے سے ہٹایا جانا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ لیا قت علی خان، ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی شہادتیں اسی عوام دشمن اور جمہوریت مخالف سوچ کا شاخسانہ ہیں۔ فوجی جرنیلوں ایوب خان، یحییٰ خان، ضیا اور مشرف کا سول جمہوری حکومتوں کا خاتمہ کرنا، سیاسی راہنماؤں اور سیاسی جماعتوں پر پابندیاں لگا نا بھی مائنس فارمولے کا تسلسل تھا۔ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی حکومتوں کو اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی سے صدارتی اختیارت استعمال کرکے تحلیل کرنا بھی غیر جمہوری مائینس ون فارمولے کا اطلاق ہی تھا۔ 

کچھ عرصہ سے مائنس نواز شریف کی مہم زور و شور سے چلائی جا رہی ہے۔ عمران خان نے آج مائنس ون فارمولے میں آصف زرداری کو بھی شامل کر لیا ہے۔ عمران خان مائنس ون فارمولے کے محرک اور سرخیل بنے ہوئے ہیں۔  پاکستانی سیاسی تاریخ سے تو یہی سبق ملتا ہے کہ ریاستی طاقت سے سیاسی راہنماؤں یا سیاسی جماعتوں کو سیاسی منظر سے ہٹائے جانےکو کبھی بھی عوامی پذیرائی حاصل نہیں ہوئی۔ جس سیاسی راہنما کو مارشل لا کے ذریعے، ملک بدر یا قتل کر کے سیاسی منظر سے ہٹایا گیا، عوام اسی لیڈر یا اس کی سیاسی جماعت کو ایک بار پھر منتخب کر کے اقتدار کے ایوانوں میں واپس لے آئے۔ غیر جمہوری ہتھکنڈوں سے منتخب حکومت کو اقتدارسے محروم کرنے سے ملک میں سیاسی بحران، عدم استحکام اور خلفشار بڑھتا ہے۔ جس سے قومی یکجہتی اور اتحاد کو نقصان پہنچتا ہے۔ جمہوری تسلسل کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی ہوتی ہیں۔ معاشی ترقی اورعوامی خوشحالی متاثر ہوتی ہے۔

عمران خان کے لئے تاریخ کا یہی سبق ہے کہ وہ ریاستی اداروں کی پشت پناہی سے کسی سیاستدان یا سیاسی جماعت کو سیاسی منظر سے مائنس کرانے کی سوچ کو ذہن سے کھرچ ڈالیں۔ وہ جمہوری طرزعمل اپناتے ہوئے آئیندہ انتخابات کی تیاری کریں اور جمہوری تسلسل میں رکاوٹیں کھڑی کرنے سے گریز کریں۔ وہ کسی سیاستدان کو مائنس کروانے کی بجائے سیاسی راہنماوں اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ آئندہ انتخابی معرکہ میں مقابلہ کرنے کا حوصلہ پیدا کریں۔