پیپلزپارٹی کی ساکھ کیسے بحال ہو

پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت پر تول رہی ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کے ذریعے وہ اپنی کھوئی ہوئی ساکھ اور مقبولیت دوبارہ حاصل کرے۔ یہ شان دار خواہش ہے۔ لیکن اگر معاملات صرف خواہشات سے طے پاجاتے تو یہ دنیا بڑی مختلف ہوتی۔ کیا بلاول بھٹو پارٹی کو ذوالفقار علی بھٹو یا بے نظیر بھٹو کی قیادت میں چلنے والی پارٹی بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے؟

وہ ساکھ جو پارٹی نے 2008 میں اقتدار میں آنے کے بعد کھوئی، جب آصف علی زرداری صدر اور یوسف گیلانی و راجہ پرویز اشرف وزیراعظم تھے۔ یہ کام مشکل نہیں، بس اس کے لیے  وہ دل اور ظرف بلکہ حوصلہ چاہیے جو پارٹی کی ساکھ بحال کردے ۔ پارٹی کے اندر آج بھی وہ لوگ موجود ہیں جو اس پارٹی کو ایک مقبول اور ذوالفقار علی بھٹو یا بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی بنا سکتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی قیادت میں پارٹی کی ساخت کافی مختلف تھی۔ لیکن ایسا زوال کبھی دیکھنے کو نہیں ملا جو آج اس پارٹی کی جھولی میں سوراخ کیے ہوئے ہے۔ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کو وقت دیں۔ وہ رابطے کریں تو پارٹی کی ساکھ کافی حد تک بحال ہو جائے گی۔ بات ایسے نہیں بنے گی۔ ساکھ تب بحال ہو گی جب پارٹی اپنے فکری، نظریاتی اور سیاسی موقف میں تبدیلی لائے گی۔ یہ ایک یوٹوپیائی تصور ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کے پنجاب کے سفر سے پارٹی بدل جائے گی۔

اگر بلاول بھٹو پارٹی کی ساکھ کی بحالی اور مقبولیت کے خواہاں ہیں، تو اُن کو سیاسی، نظریاتی اور فکری سفر طے کرنا ہو گا۔ گاڑی گھمانے سے پاکستان پیپلز پارٹی نہیں بدل سکتی ۔ پارٹی کو اوپر سے نہیں نیچے سے تبدیل کرنا ہوگا۔ تحصیل سے بھی نیچے سے دوبارہ منظم کرنا ہو گا۔ ابھی وقت ہے نچلی سطح پر پارٹی کے ورکرز کنونشن کا انعقاد اور اس کے ساتھ ہی اپنے حقیقی فلسفے پر دل و جان سے عمل۔ سوشلزم اور عوامی جمہوریت کافلسفہ۔ سامراج کے خلاف آواز۔ بنیاد پرستی، دہشت گردی کے خلاف دلیرانہ فیصلہ دینا ہو گا۔ ملک کے 67%دیہاتی عوام کا مقدمہ سیاست میں اٹھانا ہو گا۔ دہقان اور کسان کو اپنی سیاست اور سیاسی ایجنڈے پر سرفہرست لانا ہوگا۔ زراعت اور زرعی معیشت پر اپنی بنیادی دستاویز کے مطابق کھل کر بات کرنا ہو گی اور اس کے لیے پارٹی کے دروازوں کو کھولنا ہوگا۔ تاکہ ایسے لوگ پارٹی کی تحصیل سے ضلع تک قیادت حاصل کرنے میں کامیاب ہوں جو اس دہقان ، کسان اور ترقی پسند سیاسی فلسفے کا پرچم بلند کر سکتے ہوں۔

پنچاب کے دوروں کے دوران ضلعی ہیڈکواٹرز میں روایتی اور نودولتیوں کے گھروں میں میٹنگز منعقد کرکے بلاول بھٹو کے ذریعے بھٹو کی پارٹی بحال کرنا ایک طفلانہ خواب یا خواہش ہے۔ ایسے میں زیادہ سے زیادہ پارٹی دوبارہ اقتدار میں شراکت دار ہونے کے قابل ہو جائے گی اور ایسی پارٹی اسٹیبلشمنٹ کے لئے موافق ہوگی۔ 

وہ لوگ جو بلاول بھٹو کو کامیاب اور پارٹی کی ساکھ کو بحال کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، اُن کوبڑی جرأت سے اُن جونکوں کو پارٹی کے جسم سے اتار پھینکنا ہوگا جو اس پارٹی کا خون چوس چوس کر خون سے لد چکی ہیں اور پھر بھی انہی پر بھروسہ کیا جارہا ہے۔ گلی محلوں، چھوٹے قصبات، دیہات، ضلع تک پھیلے بکھرے کارکنوں کو متحد کرنے سے ہی پارٹی دوبارہ ایک عوامی طاقت بن سکتی ہے ۔ وہ ہزاروں کارکن جو آج بھی متحرک ہونے کو تیار ہیں، اُن کو متحرک کرنے کے لیے پارٹی انہیں واپس کرنا پڑے گی۔ وہی اس پارٹی کے مالک و وارث ہیں۔ پنجاب کے تمام اضلاع میں آج پارٹی اُن لوگوں کے قبضے میں ہے، جو لوگ اس پارٹی کی بدولت خود طاقتوراور پارٹی کمزور ہوئی، جن کو یہ بکھرے کارکن اپنا مخالف سمجھتے ہیں، آج وہی سیاسی جونکیں اِن کارکنوں کی قیادت کررہی ہیں۔ پارٹی جب تک اپنے حقیقی مالکوں کو واپس نہیں کی جاتی، یہ ایک بار پھر 2008ء جیسی مفاہمت کے سوا کچھ نہیں کر پائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری کو بڑی محنت کرنا پڑے گی اور بڑے فیصلے کرنا ہوں گے۔ دل گردے سے اُن جونکوں کو پارٹی کے جسم سے نوچ کر علیحدہ کرنا ہوگا۔ اور اس فلسفے کی طرف آج کے حالات کے مطابق سفر کرنا ہوگا جس کے تحت یہ پارٹی معرضِ وجو د میں آئی۔ کسانوں، مزدوروں، طلباء، نوجوانوں، خواتین، محنت کشوں، درمیانے طبقات اور دانشوروں کی پارٹی۔ پارٹی کو اس سیاسی فلسفے کے بغیر آج کی قیادت صرف اس قابل بنا  سکتی ہے کہ آئندہ انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ اسے حکومت میں کتنا حصہ دار بنائے گی۔ اگر پی پی پی یہ چاہتی ہے کہ آئندہ انتخابات میں اسٹیبلیشمنٹ کی شرائط پر نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کی شرائط پر معاملات طے کرے تو پھر بڑے دل گردے سے پی پی پی کو ایک ترقی پسند، عوامی، روشن خیال، سامراج مخالف، جاگیرداری مخالف اور نیولبرل ایجنڈے کی مخالف پارٹی ثابت کرنا ہوگا۔ یہ سارا عمل دو سالوں میں مکمل ہو سکتا ہے۔ اوپری سطح پر پارٹی اپنی نظریاتی وفکری بحالی کا اعلان کرے اور نچلی سطح پر پارٹی کے لوگوں کو پارٹی کی تشکیل نو کا موقع فراہم کرے۔ پارٹی کا تنظیمی ڈھانچہ ایک ترقی پسند فکر و عمل کے ساتھ نیچے سے اوپر اٹھایا جائے۔ 

آج بھی پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب، خیبر پختوا اور بلوچستان میں ایک مقبول پارٹی کے طورپر ابھر کر سامنے آسکتی ہے۔ اس کے امکانات بدستور موجود ہیں۔ اس کے لیے درج بالا اقدامات درکار ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی پارٹی پاکستان کے عوام کی امیدوں پر پوری اترے تو آپ کو ذوالفقار علی بھٹو کا گہرا مطالعہ کرنا ہوگا کہ انہوں نے کیسے اور کن لوگوں کے ساتھ مل کر اس پارٹی کی تشکیل کے بعد اسے عوام میں قابل قبول بنایا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو آج کے بدلے ہوئے زمانے کے مطابق اپنے بنیادی فلسفے کو مدنظر رکھ کر اس سماج کا بھر پور تجزیہ کرنا ہوگا۔ سماج میں اٹھنے والے نئے مسائل اور اُن کا حل پیش کرنا ہوگا۔ نظریہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ آج بھی پارٹی کی نظریاتی اساس سوشلزم ہے۔ اسی سوشلسٹ فلسفے کے تحت پارٹی کو نئے سماجی تقاضوں کے مطابق فکر نو دینا ہوگی۔ آج بھی مزدور، کسان اور درمیانہ طبقہ ہی اس ریاست کی معاشی طاقت ہے اور وہی استحصال زدہ ہیں۔ وہی طبقات جو 1966ء میں اس سماج اور ریاست کو پیداوار فراہم کررہے تھے اور استحصال زدہ بھی تھے۔ لیکن سماج کے نئے ارتقائی مسائل ہیں جن کا پارٹی کو بدلے زمانے کے تقاضوں کے مطابق بغور تجزیہ کرنا ہوگا۔ 1966ء کی طرح جب پارٹی بنی تھی، آج بھی سامراج بے رحم ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اس مسئلے کو عوام میں اجاگر کرنا ہوگا۔ چوں کہ پی پی پی نے اس معاملے پر بھی مفاہمت کا راستہ اپنایا، سامراج کے خلاف زبان بندی کرلی، اسی لیے دہشت گرد گروہ سامراج مخالف سمجھے جانے لگے، حالاں کہ حقیقت میں یہ مسلح دہشت گرد سامراج کے ہی پیداکردہ ہیں۔

پی پی پی جب تک سامراج کے خلاف اور اندرونی استحصال کے خلاف اپنا مقدمہ عوام میں پیش نہیں کرتی، پارٹی اپنی اصل ساکھ بحال نہیں کرسکتی ۔  اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ دوبارہ ’’مفاہمت‘‘ کر کے چند لوگوں کو اقتدار میں حصہ دلوانے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ پارٹی کو ذوالفقار علی بھٹو کے قتل سے لے کر محترمہ بے نظیر بھٹو تک اپنی قیادت کے رویوں سے سبق سیکھنا ہوگا۔ ایک دانش مندانہ اور عوامی طرزِسیاست اپنانا ہوگا۔ پارٹی کے قتل ہو جانے والے لیڈر اپنی پارٹی کی ساکھ برقرار رکھنے میں کامیاب رہے لیکن جو مفاہمت میں پیش پیش تھے انہوں نے تو پارٹی کو ہی قتل کروا لیا۔