ریاست اور مذہبی انتہا پسندی

گیانا کے برساتی جنگل سے نومبر 1978ء میں سامنے آنے والی تصاویر نے  پُوری دُنیا کو ہلا کے رکھ دیا تھا۔ جونز ٹاون سے آنے والی تصویروں میں  دیکھا جا سکتا تھا کہ ٹاؤن کے مین ہال میں تقریباً ایک ہزار امریکی باشندے اپنے مسیحا نما قاتل، جس کے نام پر یہ نیا شہر آباد ہوا تھا، کے ساتھ ابدی نیند سوئے ہوئے تھے۔ جب تحقیقاتی اور صحافی ٹیمیں وہاں پہنچیں تو سُوجی ہوئی بدبُودار لاشوں اور اُجڑے ہوئے قصبے کے علاوہ وہاں کُچھ نہ تھا۔

جِم جونز اکثربڑے پیمانے پر ہجوم اکٹھا کر کے اپنے چیلوں کی مدد سے جعلی شفاعتی شعبدہ بازیوں سے سادہ لوح امریکیوں کو متاثر کیا کرتا تھا۔ اور اُن کو اپنا گرویدہ بنا لیتا تھا۔ وہ عیسائی رہنما تھا جو کہ اُس زمانے میں امریکہ میں جاری نسلی عدم مساوات کے خلاف بھرپور آواز بُلند کرتا۔ اُس کے پاس جادُوئی آواز کے ساتھ ساتھ نہایت عُمدہ اندازِ بیان بھی تھا جس کی وجہ سے لوگ ہزاروں کی تعداد میں اُس کے جلسوں میں شرکت کرتے۔ اُس کی اسی شہرت نے اُسے سیاسی حلقوں میں کافی پزیرائی دی اور کوئی بھی سیاسی جلسہ اُس کی شرکت کی وجہ سے زیادہ توجہ سمیٹ لیتا۔ اسی سیاسی اثرورسوخ کی وجہ سے وہ دو بار نہایت ہی اہمیت کے حامل حکومتی عہدوں پر بھی فائز رہا۔

جونز کی تیزی سے بڑھتی مقبولیت نے صحافتی تحقیقاتی ٹیموں کو اپنی طرف متوجہ کیا جس کے نتیجے میں عوام پر تیزی سے یہ عیاں ہونے لگا کہ جونز نشئی ہونے کے ساتھ ساتھ جنسی جرائم میں بھی ملوث تھا۔ ان خبروں کے منظرِ عام پر آنے کہ بعد امریکہ میں ایک سنسنی کی سی کیفیت تھی۔ جس سے چُھٹکارہ پانے کےلئے جونز اپنے پیروکاروں کو ہمراہ لے کر لاطینی امریکہ کے مُلک گیانا میں اپنے نئے قائم شُدہ قصبے، جونز ٹاون فرار ہو گیا۔ جونز جن پیروکاروں کو ساتھ لے کے فرار ہوا، اُن کے خاندانوں نے بڑے پیمانے پر حکومت مخالف احتجاج شُروع کر دیا کہ اُن کے رشتہ داروں کو زبردستی جونز ٹاون میں قید کیا گیا ہے۔ صورتحال کے پیشِ نذر، گانگریس کے رُکن ریین نے خُود جونز ٹاؤن جا کر تحقیقات کرنے کا اعلان کیا۔ مگر جب وہ وہاں پہنچا تو اُس کو جونز ٹاؤن کے قریب ایک فضائی پٹی پر گولیاں مار کر  ہلاک کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ  جونز نے ایک زہریلا محلول بنانے کا حُکم دیا اور تمام  لوگوں کو یہ کہہ کر پلا دیا کہ وقت آ گیا ہے کہ اس عارضی دُنیا کو چھوڑ کر، ہمیشہ قائم رہنے والی حقیقی دُنیا میں جا کر جونز ٹاون بنایا جائے۔

اس سانحے کے نتیجے میں امریکہ نے اپنے معاشرے میں موجود ہر مذہبی و فرقہ پرست جماعت کی چھان بین شروع کردی اور ساتھ ساتھ نئے قوانین وضع کئے جن کے تحت یہ یقینی بنایا گیا کہ کسی بھی گروہ کو کبھی بھی ریاست میں ایک علیحدہ قانون اور عمل کے تحت ایک نئی ریاست بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

‎تُرکی کا فتح اللہ گُلن، جس کی جماعت چند سال قبل تک ترک حُکمراں جماعت کی حامی تھی، نے جولائی 2016میں  ایک خُونی انقلاب کی کوشش کرکے اُوپر بیان شُدہ واقعہ کی طرح اپنے پیروکاروں کا کڑا امتحان لیا۔ اس میں وہ بُری طرح ناکام ہوگئے۔ بظاہر تو گُلن کی تنظیم تعلیم، صحت اور فلاح و بہبود کا لبادہ اوڑھے تھی مگر ناکام بغاوت کے دوران وہ بُری طرح بے نقاب ہو گئی۔ گُلن نے بھی اپنے حامیوں کے ساتھ مل کر ریاست کے اندر ایک خُفیہ ریاست قائم کر رکھی تھی جس کی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش میں گُلن بُری طرح ناکام ہو گیا۔

پاکستان میں بھی مذہبی تحریکیں تعلیم، صحت اور فلاح و بہبُود کا لبادہ اوڑھے کُچھ اسی نوعیت کا کام کر رہی ہیں۔ اسی طرح کی "ریاست کے اندر ریاست" کی مثال لال مسجد کے واقعہ سے ملتی ہے جس کو کامیابی کے ساتھ ختم کیا گیا۔ لال مسجد کے رہنماؤں کے بھی ماضی کی حکومتوں اور عسکریت پسندوں کے ساتھ مضبُوط تعلقات تھے۔ اور اسی طرح پروفیسر طاہرالقادری کی سربراہی میں منہاجُ القُرآن کے نام سے چلنے والا تعلیمی و فلاحی ادارہ بھی قابلِ زکر ہے۔ اُن کے پیروکاروں کی اندھی تقلید اور جنُونیت کوئی ڈھکی چُھپی نہیں۔ وہ بھی کئی بار اپنے پیروکاروں کو مذہب کی آڑ میں استعمال کر چُکے ہیں۔ ماضی قریب کے کفنی و قبری نعرے آج تک شہرِ اقتدار میں گُونج رہے ہیں۔ اگر ان مسائل کا سدِباب نہ کیا گیا تو وہ وقت دُور نہیں کے مذہب و فرقہ کی آڑ میں اپنے اپنے مقاصد کے حصول کے لئے شدید خُوں ریزی برپا ہو گی اور یہ ماں جیسی ریاست پاکستان، اپنے اندر موجود چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو بگڑی ہوئی اولاد کہنے پر مجبور ہوگی۔ مُستقبل قریب میں کسی بھی مجرمانہ جرات کے مظاہرے کی صورت میں یا تو کوئی "انقلابی خُودکشی" یا پھر کوئی "انقلابی حملہ" ضرور ہو گا اور دونوں صورتوں میں پاکستان کو شدید نتائج بُھگتنا ہوں گے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ترجیحی بنیادوں پر ایسے قوانین وضع کئے جائیں، جن کے تحت کوئی بھی فردِ واحد یا تنظیم اپنے سیاسی و تنظیمی مقاصد کے لئے مذہب و فرقہ کو استعمال نہ کر سکے۔ یہاں یہ واضع کرنا ضروری تصور کرتا ہوں کہ ریاست، مذہبی و فرقہ وارانہ  بنیادوں پر مزید کھینچا تانی سے کمزور ہوگی۔  ریاست کو چاہئیے کہ ایسے قوانین وضع کرے جن سے ہر اُس فردِ اور گروہ کو کٹہرے میں لایا جا سکے جو اپنی زاتی و تنظیمی آزادی کے لئے ساری قوم کی آزادی کو داؤ پر لگا دینا چاہتا ہے۔