کثرت آبادی ہمارے تمام مسائل کی جڑ
- تحریر سعد الرحمٰن ملک
- ہفتہ 08 / اکتوبر / 2016
- 6812
سائنس دانوں کی تحقیق کے مطابق بارہ ہزار قبل مسیح میں کل دنیا کی آبادی ایک کروڑ نفوس پر مشتمل تھی۔ 1650 میں یہ آبادی ساڑھے چون کروڑ ہو گئی۔ 1750 میں یہ تعداد 27کروڑ اسی لاکھ ، 1850 ایک ارب سترہ کروڑ دس لاکھ تھی اور 1950 میں آبادی دو ارب پچاس کروڑ تک جا پہنچی۔ 2011 میں انسانی آبادی نے سات ارب کا ہندسہ عبور کر لیا۔ اور اب پاپولیشن ریفرنس بیورو کی تازہ ترین رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ 2050 تک دنیا کی آبادی میں دس ارب نفوس پر مشتمل ہوگی۔
دنیا کی آبادی یوں ہی بڑھتی رہی تو اگلی صدی تک یہ تعداد سولہ ارب تک پہنچ جائے گی۔ موجودہ دور میں دنیا کی آبادی اس قدر تیز رفتاری کے ساتھ بڑھ رہی ہے کہ اس اضافہ آبادی کو دھماکہ خیز اضافہ آبادی Population Explosion کا نام دیا جا رہا ہے۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات کو پورا کرنا، ان کے لیے روزگار اور صحت کی سہولیات فراہم کرنا، دنیا کے لیے ایک گمبھیر مسئلہ کی صورت اختیار کرتا جارہا ہے۔ کثرت آبادی کے مسئلہ کو سماجی علوم بالخصوص معاشیات اورسماجیات میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اس موضوع پر سب سے پہلے تھامس مالتھس نے 1978 میں ایک مضمون شائع کیا جو بعد میں علم آبادیات کی بنیاد بنا۔ مالتھس کا کہنا ہے کہ انسانی آبادی میں اضافہ جیو میٹریکل (Geometrical)انداز میں ہوتاہے جیسے 2۔4۔8۔16 جبکہ اس کے بالمقابل غذائی اجناس کی پیداوار ارتھ میٹکل (Arithmetical) انداز میں ہوتی ہے جیسے 1۔2۔3۔4۔5۔ مالتھس کے مطابق انسانی آبادی ہر 25 سال میں دوگنا ہوجاتی ہے جبکہ زرعی پیدوار میں اس شرح سے اضافہ نہیں ہوتا۔ یعنی کسی ملک کی آبادی 2000 میں ایک ایک کروڑ تھی تو وہ 2025 میں دو کروڑ ہوجائے گی۔ اس لئے اگر آبادی کے اضافہ کی رفتار پر قابو پانے کے لیے اقدامات نہ کیے گئے تودنیا کو سخت بحرانی حالات سے دوچار ہونا پڑے گا۔
ایسے ممالک میں پاکستان سرفہرست ہے جہاں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کامسئلہ انتہائی سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے۔ ہمارے سیاستدان اور دانشور حضرات دہشت گردی، مہنگائی ، توانائی کا بحران اور بے روزگاری کو پاکستان کے بڑے مسائل قرار دیتے ہیں۔ لیکن کثرت آبادی کا مسئلہ جو ان تمام مسائل کی جڑ ہے، اس کی طرف کبھی خاطرخواہ توجہ نہیں دی گئی۔ قیام پاکستان کے وقت مغربی پاکستان کی کل آبادی تین کروڑ بیس لاکھ تھی جو اس وقت چھ گنا بڑھ چکی ہے۔ اس وقت پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے جس کی آبادی ایک محتاط اندازہ کے مطابق اٹھارہ کروڑ ہے۔ پاکستان کی آبادی میں سالانہ چالیس لاکھ نفوس کا اضافہ ہورہا ہے۔ اگر آبادی بڑھنے کی یہی رفتار رہی تو 2050 تک پاکستان 35 کروڑ کی آبادی کے ساتھ دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن جائے گا۔ پاکستان میں آبادی میں اضافہ کی شرح دو فیصد ہے جو بھارت ، سری لنکا، ملائشیا اور بنگلہ دیش سے بھی زیادہ ہے۔ کثرت آبادی کی وجہ سے اس وقت ملک میں 44 فیصد بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔ آبادی کا پانچواں حصہ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے جبکہ تعلیمی سہولیات کے فقدان کے باعث 46 فیصد سے زائد بالغ آبادی نا خواندہ ہے۔
آبادی میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی، بے روزگاری، تعلیمی مسائل، صحت کی ناکافی سہولیات، غذائی قلت، توانائی کا بحران، کرپشن اور غربت جیسے مسائل نے پاکستان کی معاشی و معاشرتی ترقی کو تباہ کر دیا ہے۔ آبادی میں بے ہنگم اضافہ کی وجہ سے سٹریٹ کرائمز، چوری، ڈکیتی، اغو اور قتل و غارت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ دہشت گردی، شدت پسندی ، طلاق اورخود کشیوں کی بڑھتی ہوئی شرح بھی آبادی میں اضافہ کے مضمرات میں شامل ہے۔ معیشت پر بے پناہ بوجھ پڑنے سے تعلیم، زارعت، صحت غرضیکہ تمام شعبے کسمپرسی کا شکار ہیں۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ملکی وسائل ناکافی ہوچکے ہیں ۔ ملکی نظام چلانے کے لیے ہم ورلڈ بنک، آئی ایم ایف اور یورپی یونین سے قرضہ لینے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ ہماری فی کس آمدنی ایک ہزار دو سو ڈالر سالانہ ہے جبکہ اعداد و شمار کے مطابق ہربچہ 600ڈالر کا مقروض ہے ۔ پاکستانی آبادی کا 63 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے جو ایک خوش آئند امر ہے لیکن کثرت آبادی کی وجہ سے نوجوان ترقی کے ثمرات سے محروم ہورہے ہیں۔ ملک میں بے روزگاری کی شرح سات فیصد ہے جبکہ نوجوانو ں میں یہ شرح دوگنی ہے۔
"چھوٹا کنبہ خوشحال گھرانہ " کے زریں اصول پر عمل کرتے ہوئے چین ، جاپان اور روس سمیت دیگر ترقی یافتہ ممالک نے آبادی کے جن پرکافی حد تک قابو پالیا ہے۔ لیکن پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے خاندانی نظام تباہ ہو چکا ہے۔ زیادہ بچے ہونے کی وجہ سے والدین بچوں کی تعلیم وصحت کے علاوہ دیگر بنیادی ضروریات پوری نہیں کر پاتے جس کے نتیجہ میں یہ بچے تعلیم سے محروم ہوکر ملک وقوم کے لیے بوجھ بن جاتے ہیں۔
دیگر شعبوں کی طرح خاندانی منصوبہ بندی کے پروگراموں بھی حکومتی سطح پر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ پاکستان میں اس وقت تولیدی صحت کی صرف 40 فیصد سہولیات میسر ہیں جبکہ مانع حمل طریقوں کا استعمال صرف 35 فیصد ہے، جس کی وجہ سے آبادی کے سیلاب کے آگے بند باندھنا مشکل ہوچکا ہے۔ آبادی میں ہوشربا اضافے کی ایک بڑی وجہ جہالت اور جنسی تعلیم کا فقدا ن ہے۔ اس ضمن میں عوامی سطح پر شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے میڈیا فعال کردار ادا کر سکتا ہے۔ تعلیمی نصاب میں گھر کی اقتصادیات اور آبادی کے متعلق مضامین شامل کیے جائیں جن میں اعداد و شمار کے ساتھ بچوں کو سمجھایا جائے کہ آبادی کس طرح گھریلو معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے ۔
ضعیف الاعتقادی اور ضبط تولید کی مخالفت کے باعث پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانا مشکل معلوم ہوتا ہے جس کے لیے حکومت اسلامی تعلیمات کی روشنی میں خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے مربوط ، منظم اور مدلل کوششوں کو فروغ دے۔ علمائے کرام اور مذہبی سکالرز حکومتی تعاون کے ساتھ اس معاملہ میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں کم عمری میں شادیاں عام ہیں جو زچہ و بچہ کی صحت کے مسائل کے علاوہ آبادی کے بوجھ میں اضافہ کا بھی باعث بنتا ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ کم عمری کی شادیوں کے خلاف قوانین کے نفاذ کو یقینی بنائے۔
جب تک اپنی ملک میں آبادی کے متعلق مکمل معلومات فراہم نہیں ہوں گی، ہم اس پر قابو پانے کے لیے موثر اقدامات نہیں کرسکتے۔ ہمارے ملک میں 1998 کے بعد سے مردم شماری نہیں ہوئی۔ کثرت آبادی پر قابو پانے کے لیے مردم شماری وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان میں آبادی کے اضافہ کی ایک اہم وجہ ملکی سرحدوں کا نرم ہونا بھی ہے۔ گزشتہ تیس سال کے عرصہ میں لاکھوں افغان بغیر دستاویز کے پاکستان آئے اور یہاں مستقل طور پر آباد ہوگئے۔ اسی طرح بنگالیوں، ہندوستانیوں اور مشرق وسطیٰ سے آنے والے لوگوں کی ایک کثیر تعداد پاکستان میں رہائش پذیر ہے۔ اس لیے ہمیں خاندانی منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ اپنے سرحدی نظام کو بھی مضبوط بنانا ہوگا ۔ حکومت کو چاہیے کہ پاپولیشن کمیشن کی ازسر نو تشکیل کرتے ہوئے مختلف سرگرم این جی اوز اور بہبود آبادی کے پروگراموں میں مصروف تمام اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرتے ہوئے مانیٹرنگ کا نظام قائم کرے۔ اور بڑھتی ہوئی آبادی کے پیچھے کارفرما عوامل کے سدباب کے لیے عملی اقدامات کرے۔