کشمیر پالیسی پر سینٹ کے 22 نکات

  • تحریر
  • اتوار 09 / اکتوبر / 2016
  • 3943

بھارت کے پاکستان کے خلاف مذموم عزائم اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایوان بالا سینٹ میں پارلیمنٹ کمیٹی کی پالیسی گائیڈ لائنز کے 22 نکات کی منظوری سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ ان اہم امور کے بارے میں پاکستان کی پالیسیاں خامیوں سے مبرا  نہیں ہیں۔ ان پارلیمانی سرگرمیوں سے اس حقیقت کا اعتراف بھی سامنے آیا ہے کہ ملک کے خارجہ اور دفاعی امور میں پارلیمنٹ ’’کمانڈنگ پوزیشن ‘‘ میں نہیں ہے۔ سینیٹ میں منظور کی جانے والی پالیسی گائیڈ لائنز کے نکات میں ایسے کئی اہم امور شامل ہیں جن پر عمل پیرا ہونے سے کشمیر کاز کے حوالے سے پاکستان کو مضبوط پوزیشن میں لایاجا سکتا ہے۔ تاہم اس پارلیمانی رپورٹ میں ایسے نکات بھی شامل ہیں جن سے ارکان پارلیمنٹ کی بھارتی ذہنیت سے لاعلمی اورارکان کی لاعلمی بھی سامنے آتی ہے جسے بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

سینیٹ میں منظور کی جانے والی پالیسی گائیڈ لائنز کے نکات میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ بھارت اور کشمیر سے متعلق ایک پائیدار اور قابل عمل پالیسی کی تیاری کےلئے ٹاسک فورس بنائی جائے اور وزارت خارجہ، چیدہ چیدہ صحافیوں، وزارت اطلاعات، پارلیمنٹ اور انٹیلی جنس اداروں کے نمائندوں پر مشتمل ایک میڈیا کوآرڈی نیشن کمیٹی قائم کی جائے جو کشمیر کی تحریک آزادی کو اجاگر کرنے اور بھارت کے پروپیگنڈے کا جواب دینے کے ساتھ ساتھ حقائق پر مبنی رپورٹس تیار کرے۔ سینٹ سے منظور شدہ نکات میں قومی سلامتی اور خارجہ امور کی نگرانی پارلیمنٹ کے ذریعے کرنے، پارلیمنٹ کی مشاورت سے قومی سلامتی کمیٹی کی تشکیل نو، حکومت کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے پالیسی گائیڈ لائنز لینے، ادارہ جاتی مشا ورتی طریقہ کار مرتب کرنے، سندھ طاس معاہدے پر واضح موقف اختیار کرنے، اس معاملے پر بھارتی کردار کو سامنے لانے، پاکستان کی سرزمین غیر ریاستی عناصر کو استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے، دنیا کو اس معاملے میں یقین دہانی کرانے، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو متحرک کرنے، بین الاقوامی سطح پر لابی گروپس کی خدمات حاصل کرنے، دفتر خارجہ میں پالیسی ڈپلومیسی آفس کے قیام، غیر ملکی میڈیا کے لئے باقاعدگی کے ساتھ خصوصی بریفنگز کے اہتمام، مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال، کشمیر سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس ، بالخصوص ہمسایہ ممالک، سارک ممالک اور شنگھائی تعاون تنظیم کے ممبران میں پاکستان کو تنہا کرنے اور اس کا مورال کمزور کرنے کے بھارتی اقدامات کا توڑکرنے کے امور بیان کئے گئے ہیں۔

منظور شدہ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی سیاسی قیاد ت کی طرف سے کنٹرول لائن پر امن برقرار رکھنے کے لئے طے شدہ طریقہ کار کا احترام کیا جائے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی انتہا پسندی اور اس کی پاکستان دشمن پالیسیوں کی مخالفت کرنے والے بھارتی رائے عامہ کے طبقات بشمول سیاسی جماعتوں، میڈیا، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور انسانی حقوق کے گروپوں تک  رسائی حاصل کی جائے۔  یہ بھی کہا گیا ہے کہ بیک چینل مذاکرات کی افادیت اور ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں بحال کیا جانا چاہیے۔ اور جموں و کشمیر سے متعلق اعتماد سازی کے لئے  اقدامات ہونے چاہئیں۔

کشمیر سے متعلق پائیدار اور قابل عمل پالیسی بنانے ، کشمیر کاز کواجاگر کرنے اور بھارتی پروپیگنڈے کا موثر جواب اور حقائق پر مبنی رپورٹس کی تیاری کے لئے میڈیا کوآرڈینیشن کمیٹی کے قیام اور اس کی ہیت بلاشبہ بنیادی اہمیت کے حامل ناگزیر امور ہیں۔ کمیٹی کی سینٹ سے منظور شدہ سفارشات میں لائن آف کنٹرول کی تقدیس کی بات کمزوری کا تاثر دیتی ہے۔ پارلیمنٹ کی ان سفارشات  یہ بات شامل کرنا کہ ’’ مودی کی پاکستان دشمن پالیسیوں کی مخالفت کرنے والے بھارتی رائے عامہ کے طبقات بشمول سیاسی جماعتوں، میڈیا، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور انسانی حقوق کے گروپوں تک رسائی ‘‘ کی بات سے ارکان پارلیمنٹ کی بھارت سے متعلق سمجھ بوجھ میں کمی ظاہر ہوتی ہے۔ پاکستان کی طرف سے بھارت کے موافق حلقوں سے رابطوں کی صورت میں، وہ بھارتی حلقے خود بھارت میں اپنی قبولیت اور ساکھ سے محروم ہو جائیں گے۔ اور ان پر الزام عائد ہو گا کہ ان کے پاکستان سے رابطے  ہیں۔ بھارت کے معتدل حلقوں سے دوررہتے ہوئے ہی مذکورہ بھارتی حلقوں کی بات بھارت میں قبولیت حاصل کر سکتی ہے۔ اگر ارکان پارلیمنٹ کو بھارتی ہندو ذہنیت کا ادراک و احساس ہوتا تو وہ کبھی ایسی بات کو اپنی سفارشات کا حصہ نہ بناتے۔

قومی سلامتی اور خارجہ امور کی نگرانی پارلیمنٹ کے ذریعے کرنے کا معاملہ اہم ہے کیونکہ اس وقت تک کشمیر کاز سے متعلق تمام امورغیر سیاسی بنیادوں پر چلائے جا رہے ہیں، جس سے کشمیر کاز کے علاوہ پاکستان کے مفادات کو بھی کئی بار شدید نقصانات سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ بلاشبہ پالیسی بنانے اور چلانے میں پارلیمنٹ کی بالادستی ناگز یر ہے تاہم اس کے لئے ارکان پارلیمنٹ کی اہلیت و قابلیت بہتر بنانے کے ساتھ پارلیمنٹ کے لئے کشمیریوں سے مشاورت کا سلسلہ شروع کرنے اور مشاورت کے عمل کو باقاعدہ شکل دینا بھی ضروری ہے۔ کشمیر کاز ، کشمیریوں کی اخلاقی ، سیاسی اور سفارتی حمایت کومکمل طور پر غیر سیاسی بنیادوں پر ہی نہ چلایا جائے۔ کشمیر کاز سے متعلق سیاسی امور، سیاسی ذرائع سے ہی بروئے کار لانا ضروری ہے۔ پاکستان خود کو کشمیریوں کا وکیل کہتا ہے اور پاکستان کی پارلیمنٹ عوامی جذبات اور رائے کی عکاس ہے۔ پارلیمنٹ نے بھارت اور کشمیر کاز کے حوالے سے مستقل بنیادوں پر پالیسی بنانے سے متعلق جن سفارشات کی منظوری دی ہے، ان سفارشات کی روشنی میں بھارت اور کشمیر کاز سے متعلق پالیسی بناتے ہوئے اگر کشمیریوں کو بھی مشاورت میں شامل کیا جائے تو بہتر ہوگا۔ ایسا کرنا کشمیر کاز ہی نہیں خود پاکستان کے بھی وسیع تر مفاد میں ہے۔ کشمیریوں سے مشاورت، کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی ، سفارتی مدد کو خامیوں اور خرابیوں سے محفوظ بنانے، کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے حوالے سے پاکستان کے کردار کے تعین سے متعلق مزید امور کی شمولیت سے پاکستان کی کشمیر پالیسی اوربھارت سے نمٹنے کے معاملات میں موثر طور پر پیش رفت کی جا سکتی ہے۔

موجودہ صورتحال میں اس بات کی  اشد ضرورت  ہے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حوالے سے مضبوطی سے ’’سٹینڈ‘‘ لے، اپنی پالیسی سے اقوام عالم پر یہ واضح کیا جائے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے لئے کیا کیا  اقدامات کرسکتا ہے۔ پاکستان کی طرف سے مسئلہ کشمیر کو اولین ترجیح قرار دینے سے ہی اقوام عالم مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی جانب راغب کیا جا سکتا ہے۔ ایسے وقت جبکہ بھارت نہتے کشمیریوں کے خلاف فوج کشی میں مصروف ہےاور پاکستان کے خلاف جنگی ماحول کا دباؤ ڈال رہا ہے، ہمیں بھارت سے متعلق مضبوط پالیسی اپنانے اور مضبوط اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس وقت کمزوری اور بھارتی شرائط پر مفاہمت کے رجحان سے گریز کرنا چاہئے۔