کوڑھ کا علاج اور سماجی تعصبات
مرض چاہے جیسا ہو اور جس حالت میں ہو، مریض کی دیکھ بھال اور علاج بنا کسی بھید بھاؤ کے کرنا چاہئے۔ یہ انسانی ہمدردی کا بنیادی تقاضہ ہے۔ لیکن آج بھی چند ملکوں میں کچھ بیماریاں ایسی ہیں جس کا نام سنتے ہی علاج کرنے والوں سےدوست احباب اور خاندان کے لوگ بھی منہ پھیر لیتے ہیں۔ اس باعث شرم رویہ سے ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم جی تو رہے ہیں لیکن ایک ایسی دنیا میں جہاں شاید جانور کو بھی اگر ہماری بے رحمی کا پتہ چل جائے تو وہ ہم سے منہ پھیرلے۔
آج ہم کوڑھ کی بیماری کے متعلق بات کرتے ہیں۔ دنیا کا سب سے گھنی آبادی والا ملک ہندوستان اس مرض میں مبتلا لوگوں کو نظر انداز کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ ہم اپنے رویہ پر بھی غور کریں کہ کیسے ہم اس مرض میں مبتلا لوگوں کو خاندان اور سماج سے الگ تھلگ کر دیتے ہیں۔ ہندوستان میں کوڑھ کے مرض کو ختم کرنے کے لئے ایک نیا لیپروسی ویکسن تیار کیا گیا ہے ۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ ہندوستانی حکومت نے کوڑھ مرض کو صفہ ہستی سے مٹانے کے لئے ایک نئے پروگرام کا آغاز کیا ہے جس سے لوگوں کو کافی امیدیں ہیں۔
محمد شفیق جو کہ پیشہ سے اردو زبان کے استاد ہیں ان کا کہنا ہے کہ جب میں سولہ برس کا تھا تو ایک دن میں جب اپنے گھر واپس آیا تو میرا بستر گھر والوں نے راستے پر پھینک دیا تھا۔ میرے گھر والوں نے مجھے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور میرے گاؤں والوں نے بھی مجھے دھتکار دیا تھا۔ محمد شفیق کو اس بات سے سخت صدمہ پہنچا تھا اور انہیں بحالتِ مجبوری اسی وقت اپنا گھر اور گاؤ ں چھوڑنا پڑا۔ جب سے محمد شفیق کو کوڑھ کا مرض لاحق ہؤا ہے، تب سے ان کی کمیونٹی نے انہیں نکال دیا ہے۔ اب محمد شفیق طاہر پور میں ایک پختہ مکان میں رہتے ہیں، جسے حکومت نے کوڑھ کے مریضوں کے رہنے کے لئے شمالی دلّی میں بنایا ہے۔
محمد شفیق کی طرح اور بھی کئی لوگ اس کالونی میں رہتے ہیں جو اس مرض سے دوچار ہیں ۔ ان میں ایک صدیق ہے جو صحت یاب ہوچکے ہیں لیکن ان کی جسمانی صورت کی وجہ سے وہ اب بھی اس کالونی میں رہنے پر مجبور ہیں۔ صدیق کے ٹیڑھے ناک، ہاتھ اور پاؤں اور سماجی کلنک کی وجہ سے وہ اب بھی اس مرض کا دھبہّ اپنے ساتھ لئے پھر رہے ہیں اور لوگ اب بھی ان سے دُور رہتے ہیں۔
کوڑھ کے مریضوں کے رہنے کے لئے ہندوستان میں آٹھ سو سے زیادہ کالونیاں ہیں جن میں صرف طاہر پور میں لگ بھگ پانچ ہزار کوڑھ کےمریض رہتے ہیں۔ زیادہ تر کوڑھ کے مریضوں کے رہنے کی جگہ تنگ رہائش، کھلے نالے اور کوڑوں کے ڈھیر کے درمیان ہوتی ہے جبکہ طاہر پور کی کالونی میں پختہ کٹیا، پانی کی فراہمی اور بیت الخلاء کی سہولیات میسر ہیں۔ یہ کالونی باقی کوڑھ کے کالونی سے بہتر کہی جاتی ہے۔ طاہرپور میں زیادہ تر مرد دن بھر تاش کھیلتے رہتے ہیں ، ساتھ ہی بچے کھیلتے رہتے ہیں اور عورتیں دروازے پر کھڑی گپ مارتی ہیں۔ کچھ لوگوں کے پاؤں اور ہاتھ میں سفید بینڈیج لگا ہوتا ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس آدمی کو کوڑھ کا مرض ہے۔
اسی طرح ایک کہانی سومو کمار کی ہے جو اٹھارہ سال کا ہے۔ وہ بہار سے دلّی اپنے کوڑھ کے علاج کے لئے آتا ہے۔ سومو کمار کی شکل پر ہوائیاں اُڑ رہی ہیں اور وہ بوکھلایا بھی دِکھ رہا ہے۔ وہ اپنی عمر سے بہت کم لگ رہا ہے۔ اس کے پاؤں پر بینڈیج لگے ہوئے ہیں اور وہ اپنی ہاتھوں کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔ سومو کمار کا کہنا ہے کہ جب وہ چھ سال کا تھا، تب سے اسے کوڑھ کا مرض ہوا ہے۔ اس نے تبھی سے ڈاکٹروں کے مشورے پر دوائیاں لینی شروع کردی ہے لیکن اس کا پیر بُری طرح اس مرض سے خراب ہوگیا ہے جو کہ کوڑھ کے مریضوں کے لئے ایک عام بات ہے۔ سومو کمار کا کہنا ہے کہ اس نے کسی طرح دسویں جماعت تک کی تعلیم مکمل کر لی ہے لیکن وہ اپنے گا ؤں والوں سے کافی دُکھی ہے جنہوں نے اسے الگ تھلگ کر رکھا ہے اور وہ ا سے اچھوت مانتے ہیں۔
آخر کار برسوں کی مایوسی کے بعد حکومتِ ہند نے کوڑھ کے مرض کے خاتمے کے لئے دنیا کی پہلی کوڑھ ویکسین Leprosy Vaccine ایجاد کی ہے۔ اس کا استعمال سب سے پہلے ہندوستان کے دو سب سے زیادہ کوڑھ سے متاثر صوبے بہار اور گجرات سے شروع ہوگا۔ مستقبل میں یہ پورے ملک میں فراہم کی جائے گی۔
پرو فیسر گرشرن پرساد تلوار نے 1980کی دہائی میں سب سے سے پہلے(MIP-Mycobacterium indicus ptani) ویکسین تیار کی تھی ۔ 2005 میں (National Institute of Immunology) نے اتر پردیش کے 24,000 لوگوں کو ٹرائل کے طور پر ویکسین دی تھی۔ اس کا نتیجہ کافی امید افزا ہوا تھا جس کی وجہ سے 68.6% فی صد لوگوں کو چار سال تک اور 59% فی صد لوگوں کو آٹھ سال تک اس مر ض سے محفوظ رکھا گیا تھا۔ تاہم اسی سال ورلڈ ہیلتھ آرگنائیزیشن نے کوڑھ کا سرکاری طور پر خاتمہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
The Leprosy Mission Trust India دی لیپروسی میشن ٹرسٹ انڈیا کی ڈاکٹر میری ورگیس نے بتایا کہ پہلے کوڑھ کا علاج ایک عمودی پروگرام تھا ۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ اس کے لئے خاص لوگ مقرر کئے جاتے تھے اور ایک خاص طریقے سے وہ مریضوں کا علاج کرتے تھے۔ لیکن 2005 سے کوڑھ کے مرض کے علاج کے لئے اسے جنرل ہیلتھ کئیر سروس میں شامل کر دیا گیا ہے، جس سے اب ایسے مریض کو دیکھنے کے لئے ہیلتھ ورکر کو ان کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ بلکہ کوڑھ کے مریض اب خود کلینک میں آتے تھے ۔ لیکن زیادہ تر کوڑھ کے مریض اپنے مرض کے آخری سٹیج میں آتے تھے اور انہیں علاج میں بڑی مایوسی ہوتی تھی۔ 2005 کے بعد کوڑھ کے مریضوں نے اس بات کو محسوس کیا کہ انہیں علاج کے لئے کلینک جانا چاہئے۔ ڈاکٹر میری ور گیس کا کہنا ہے کہ اب لگ بھگ 125,000نئے کوڑھ کے مریض ہر سال کلینک آرہے ہیں اور ہر سال کوڑھ کے مریضوں کی تعداد بھی بڑھتی جارہی ہے۔
کوڑھ کے مریضوں کے لئے کئی پیشہ وارانہ کورس کا انتظام بھی کیا جارہا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ سومو کمار جیسے لوگ اس میں ٹریننگ حاصل کرکے روزگار اور اعتماد حاصل کر یں۔ اس طرح کے پراجیکٹ کا ایک اور مقصد ہے کہ وہ لوگوں میں کوڑھ کے متعلق جانکاری کو بڑھائے اور لوگوں میں کوڑھ کے متعلق غلط فہمی کو بھی دور کرے۔ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے ڈائرکٹر سومیا سوامی ناتھن کا کہنا ہے کہ MIP vaccaine ایک کامیاب ویکسن بنائی گئی ہے جس سے امید کی جارہی ہے کہ یہ کوڑھ کا خاتمہ کر دےگی۔ فی الحال گھر گھر جا کر سروے کیا جارہا ہے اور 32 میلین سے زیادہ لوگوں کی کوڑھ سے متاثر علاقوں میں اسکریننگ کی جائےگی اور لوگوں کو نئی ویکسین کے بارے میں بتایا جائے گا۔ ڈاکٹر سوامی ناتھن کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ ویکسین بالکل محفوظ ہے اور بعض صورتوں میں کینسر جیسے مرض کے لئے بھی کافی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
لیکن ڈاکٹر اتپل سین گپتا کا کہنا ہے کہ ویکسی نیشن صرف ایک مسئلے کا حل ہے جب کہ اس کے لئے ضروری ہے کہ صاف صفائی کا بھی دھیان رکھا جائے۔ انسان سے انسان کے بیچ ٹرانسمیشن ہوتا ہے لیکن ماحول بھی اس میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ڈاکٹر سین گپتا نے کوڑھ کے مرض پر چالیس سال سے زیادہ تحقیق کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کوڑھ کے مرض میں بیکٹیریا ایک اہم وجہ ہے۔ جمے ہوئے پانی اور بھیگی ہوئی مٹی کی وجہ سے Mycobacterium leprae کا جنم ہوتا ہے۔ ڈاکٹر گپتا کا ماننا ہے کہ دیہاتوں میں لوگ ایک ہی تالاب میں نہاتے ہیں جس کی وجہ سے Mycobacterium leprae پانی میں منتقل ہوجاتا ہے اور جس سے لوگ کوڑھ جیسی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
ہندوستان میں انگریزوں کے دورِ حکومت کا قانون 1898 Lepers Act اب بھی ایک ایسا غلط فہمی پیدا کرنے والا قانون ہے جس کے تحت ایک مرد یا عورت کوڑھ کی تشخیص ہونے پر ایک دوسرے کو طلاق دے سکتے ہیں۔The Leprosy Mission Trust India حکومت کے ساتھ اس قانون کو ختم کرنے کے لئے صلاح و مشورہ کر رہا ہے۔
یہ مضمون کوڑھ کے مریضوں کی ایک ایسی ادھوری کہانی ہے جسے شاید ہم اور آپ نہ سمجھ پائیں گے۔ کوڑھ ایک مرض ہے لیکن کوڑھ کا مریض ہونا خاندان اور سماج میں ایک کلنک ہے، جس سے ہم اور آپ انکار نہیں کر سکتے۔ شفیق، صدیق اور سوموکمار جیسے لوگ شاید اپنی قسمت کو اس لئے کوستے ہوں گے کہ انہیں یہ مرض ہے ۔ لیکن اب ہمیں سوچنا چاہئے کہ ہمارا سماج جوکوڑھ کے مریضوں کو ایک کلنک مانتا ہے اسے کیسے درست کیا جائے۔ اور ہم کیسے اپنی سوچ کو بدلیں۔