گھر گھر کی نانی
- تحریر محمد شمشاد
- سوموار 10 / اکتوبر / 2016
- 7750
قاضیین نانی کی موت کی خبر سنتے ہی گاؤں کے سارے لوگ ان کے دروازے پر جمع ہو گئے اور سر جوڑ کر تجہیز و تکفین کے بارے میں غوروفکر کرنے لگے تو کچھ لوگ ان کی ماضی کی باتیں کرید نے لگے۔ کوئی کہتا ’’بے چاری مرنے کو مر گئیں لیکن کبھی آرام نہیں دیکھا‘‘ کوئی کہتا ’’نانی نے کیسی زندگی گزاری اور دیکھو! خدا نے ان لی موت کے لیے کتنا با برکت دن منتخب کیا تھا جمعہ کا دن اور رمضان کا مہینہ۔ خدا انہیں جنت الفردوس نصیب کرے آمین‘‘۔
قاضیین نانی جوانی میں ہی بیوہ ہو گئیں تھیں قاضی صاحب کی موت کے بعد انہوں نے دو بیٹے اور ایک بیٹی کی پرورش کی تھی۔ قاضی صاحب ایک غریب آدمی تھے۔وہ صرف چند ایکڑ زمین اور ایک مکان کے مالک تھے وہ گاؤں کے عام لوگوں کی طرح ہی پڑھے لکھے تھے ، لیکن وہ عام آدمی سے کچھ زیادہ ہی ذہین تھے۔ اسلام کا کوئی بھی مسئلہ ہوتا تو وہ رائے زنی سے کبھی نہیں چوکتے تھے۔ اس لئے ہر شخص ان سے ضرور مشورہ کرتا ۔ شاید اسی بنا پر گاؤں والے انہیں قاضی صاحب کہتے تھے۔
قاضی صاحب کی موت کے بعد قاضیین نانی نے کچھ دن تو ان کے غم میں گزاے اور پھر وہ اپنے بچوں کی فکر میں لگ گئیں۔ شروع شروع تو انہوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ پردے میں رہ کر وہ اپنی ساری ضرور یات پوری کرتی رہیں ۔لیکن قاضی صاحب کی چھوڑی ہوئی جائداد سے ہونے والی آمدنی گزر اوقات کے لیے ناکافی تھی۔ ساتھ ہی قاضی صاحب کا کوئی ایسا وارث یاہمدرد بھی نہ تھا جو ان کی مدد کرتا۔ شروع میں تو انہیں گھر سے باہر قدم نکالنے میں شرم آئی لیکن بچوں کی بھوک اور تڑپ نے شرم وحیا پر آنچل رکھ دیا ۔ وہ پاس پڑوس اور گاؤں کے گھروں میں جا کر کام کرنے لگیں جس سے انہیں دو وقت کی روٹی اور کچھ رقم حاصل ہو جاتی۔ اس طرح وہ اپنی ضروریات پوری کرتی تھیں اور پھر وہ قاضیین بوا بن گئیں۔
قاضیین بوا کی شرافت اور ایمانداری پورے گاؤں میں مشہور تھی۔۔ جب بھی کوئی معاملہ ہوتا ان کی شرافت کی مثال دی جاتی تھی۔ اسی وجہ سے تمام گھروں میں انہیں آسانی سے کام اوررہنے کے لئے ٹھکانہ مل جا تا تھا۔ وہ ہر کام ایمانداری سے کرتی تھیں ’مزدوری کے بدلے کام ‘ ان کا یہی ایک اصول تھا۔ وہ ہر روز سورج کے ساتھ ہی اپنے گھر سے نکلتیں اور رات گئے تک گھر گھر گھوم کر کام کرتیں تھیں۔ دن رات کی محنت و مشقت سے انہوں نے اپنے بال بچوں کو پال پوس کر جوان ہی نہیں بلکہ لکھنا پڑھنا بھی سکھایا تھا۔ وہ تھیں تو نپٹ جاہل لیکن تھیں قاضی صاحب کی بیوی وہ بار بار کہا کرتی تھیں ’’قاضی صاحب کے بچے ٹھپہ ماراورانگوٹھاچھاپ نہیں ہو سکتے‘‘ ۔ شاید اسی وجہ سے انہوں نے بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھایا تھا، حالانکہ گاؤں میں پڑھنے لکھنے کا رواج بہت کم تھا۔ غریب والدین کے اولاد یں سڑکوں پر ہی ماری ماری پھرا کرتیں اور کم عمر میں ہی کام پر لگ جاتے تھے۔ انہوں نے اپنے تمام بچے و بچیوں کی شادی کی۔ لیکن قاضی صاحب کی چھوڑی ہوئی جائداد کو آنچ نہیں آنے دی۔
قاضیین بوا کی عمر ڈھلنے کے ساتھ ہی ان کا جسم بھی ڈھلتا گیا اور وہ لاغر و ناتواں ایک بوڑھی عورت بن گئیں تھیں۔ جب تک ہاتھ پیر میں طاقت رہی، وہ کام کرتی رہیں۔ انہوں نے کبھی بیٹھ کر کھانا پسند نہیں کیا۔ جب بھی ان سے کسی نے کہا ’’کیا بوا! اب تو آرام کرلو۔ آپ کے بیٹے بھی کام کرکے اچھا خاصہ پیسہ کماتے ہیں‘‘ تویہ سن کر وہ جواب دیتی ’’جب تک ہاتھ پیر ساتھ دے رہے ہیں، کچھ کر لیتی ہوں اور جب تھک جاؤں گی تو ان کے بھروسے بیٹھ جاؤں گی‘‘۔
اور۔۔۔ اورپھر وہ وقت بھی آگیا جب وہ مجبور و لاچار اپنے گھر ہاتھ پیر موڑکر بیٹھ گئیں۔ قسمت کا لکھا کون مٹا سکتا ہے چند ہی دنوں میں وہ بیٹوں کے لیے بوجھ بن گئیں ۔جس گھر کو دن رات کی محنت ،لگن اور مشقت کے بعد انہوں نے سجایا تھا وہاں ایک کونا بھی انہیں نصیب نہ ہوا۔ انہوں نے جسے پال پوس کر جوان کیا اورا ن کا گھر بسایا، اس کی کمائی سے انہیں دو وقت کی روٹی بھی نہ مل سکی۔ وہاں سے نکل کر وہ بیٹی کے گھر بھاگیں لیکن وہاں بھی انہیں چین نہ ملا اور تب جا کر انہیں پرانے سہارے کو ہی اپنا ٹھکانا بنانا پڑا۔
اب گاؤں کے سارے بچے انہیں نانی کہا کرتے تھے اور وہ انہیں ناتی کہہ کربلاتیں ۔ ان کے لیے نانی اتنا عام ہو چکا تھا کہ بڑے بوڑھے بھی قاضیین بوا کے بدلے قاضیین نانی ہی کہنے لگے تھے۔ آخر وقت تک وہ اسی نام سے جانی جاتی رہیں ۔ کبھی کبھی تو ایسا ہوتا کہ لوگ ان سے یہ پوچھ بیٹھتے کہ ’’کیا آپ کا یہی نام ہے ‘ ‘ تو وہ ہاں میں ہاں ملا دیتی تھیں۔
ہاں قاضیین نانی نے بھی کسی ایک گھرکو اپنا ٹھکانہ نہیں بنایا تھا۔ بلکہ وہ پورے گاؤں میں گھوم گھوم کر کھاتی پیتی تھیں جس طرح وہ گھوم کر کام کرتی تھیں ۔ جہاں بھی انہیں کھانے کو مل جاتا، وہیں وہ رات گزار دیتی تھیں۔ اور کبھی انہیں کچھ فاضل مل جاتا تووہ اپنے پوتے ناتی کے لیے بھیج دیتی تھیں۔ اگر کوئی ان سے کہتا ’’نانی آپ ان کا اتنا زیادہ خیال کیوں رکھتی ہیں جبکہ وہ آپ کو تاکتے تک نہیں؟‘‘ تو وہ جواب دیے بنا نہ رہتیں ’’آخر کار وہ میری ہی اولاد ہیں ۔ کیا کوئی اپنی اولاد کو زندہ دفن کر سکتا ہے؟ نہیں! تو میں انہیں زندہ دفن کیسے کردوں۔ ایک اور بات جان لو ناتی! میں جب بھی مروں گی تو میری آخری رسم بھی وہی پورا کریں گے چاہے وہ مجھے کھانا دیں یا نہیں‘‘۔
قاضیین نانی تھیں تو غریب عورت لیکن وہ بہت صاف گو تھیں جب کبھی انہیں کسی سے تکلیف ہوتی تو وہ اس کے منہ پر ہی دے مارتی۔ وہ نہ کسی سے ڈرتی اور نہ ہی کسی سے متاثر ہوتی تھیں ۔ لیکن کسی کی پیٹھ پیچھے شکایت اورغیبت کرنا انہیں بالکل پسند نہ تھا۔ وہ اس مجلس میں کبھی نہ بیٹھیں جہاں شکایت و غیبت کا بازار گرم ہوتا۔ اسی بنا پر بہت سارے لوگ ان کی عزت کرتے تھے اور کچھ نفرت بھی۔
قاضیین نانی کو کسی نے کبھی نئے لباس میں نہیں دیکھا تھا بس وہی پرانے انداز کی ساری اور بلاؤز پہنتی تھیں، جس کے اوپر دو چار پیوند ضرور لگے ہوتے تھے۔ ہاتھ میں لاٹھی لیے وہ پورے گاؤں کا چکر لگاتی پھرتی تھیں۔ حالانکہ ان کی آنکھ کی بینائی غائب تھی۔ انہیں بہت ہی کم نظر آتا تھا لیکن دیوار پکڑ پکڑ کر ہر گھر میں جا پہنچتی تھیں۔ کبھی مشکل میں ہوتیں تو آہٹ پاتے ہی مدد طلب کرتیں۔ اور لوگ انہیں صحیح منزل تک پہنچا دیتے تھے۔
ایک بار انہوں نے آنکھ کا آپریشن بھی کروایا تھا جس سے آنکھ میں روشنی بھی آگئی تھی۔ جہاں ان کی آنکھ کا آپریشن ہوا تھا وہاں سے انہیں ایک جوڑاکپڑا اور کچھ رقم بھی ملی تھی، جسے انہوں نے اپنے بیٹے اور بیٹی کے گھر جا کران کے درمیان تقسیم کر دیا تھا ۔ یہی ان کا پرانا طریقہ تھا۔ جب کبھی انہیں کچھ ملتا تو وہ اپنے بچوں کو دے دیا کرتی تھیں ۔ اس کے باوجود انہیں اس کا ذرا بھی ملال نہیں تھا کہ انہوں نے اپنے بچوں کی کمائی میں سے کبھی کھانا نہیں کھایا اور نہ ہی کپڑا پہنا۔
اس روز بھی جب ان کی موت کا وقت قریب آچکا تھا تو وہ کسی دوسرے گھر میں بسترمرگ پر پڑیں تھیں۔
اور جب ان کا جنازہ گھر سے نکلا تو لوگ ان کے جنازہ کو دیکھ کر عش عش کرنے لگے ۔ جنہوں نے زندگی میں کبھی کوئی نیا کپڑا نہیں پہنا تھا ان کے جنازہ پر تین تین نئے کپڑے ڈالے گئے تھے۔ چھیٹ ساری ، چھاپی ہوئی ساری اور پھول بناہوا نیا دوپٹہ۔
شاید ان کی یہی وصیت تھی یا ان کے بچوں نے سوچا ہو گاکہ جیتے جی انہیں کبھی کپڑا تو نہیں دیا لیکن مرنے کے بعد انہیں ضرور کپڑے کا ایک ٹکڑا د کر ماں کی خواہش پوری کر دی جائے۔