اسلام کی حیات نو
10 محرم الحرام 61 ہجری کو امام حسین علیہ السلام بے دینی کے بھڑکتے شعلوں اور طاغوتی طاقتوں کو مٹانے کے لئے 72 نگینوں کو لے کر رزم گاہ حیات کے مقتل میں پہنچے اور ایک ایسی خوں فشاں داستان رقم کی جس کی مثال نہ ماضی پیش کر سکا ہے اور نہ مستقبل پیش کر سکے گا۔
شاہ ہست حسین بادشاہ ہست حسین
شاہ بھی حسین علیہ السلام ہیں بادشاہ بھی حسین علیہ السلام ہیں
دین ہست حسین دین پناہ ہست حسین
دین بھی حسین علیہ السلام ہیں ، دین کو پناہ دینے والے بھی حسین علیہ السلام ہیں
سر داد نداد دست در دست یزید
سر دے دیا مگر نہیں دیا اپنا ہاتھ یزید کے ہاتھ میں
حقا کہ بنائے لا الہ ہست حسین
حقیقت تو یہ ہے کہ لا الہ اللہ کی بنیاد ہی حسین علیہ السلام ہیں
جس روز سے امام حسین علیہ السلام کا کاروان کربلا کی سرزمیں پر اترا، اس وقت سے آج تک کربلا کو تاریخ اسلام میں وہ شہرت ملی جو مکہ کے بعد شاید ہی کسی اور شہر کو نصیب ہوئی ہو۔ جتنے آنسو شہادت امام حسین علیہ السلام کی یاد میں بہائے گئے ہیں اس قدر گریہ کسی اور واقعہ پر تاریخ عالم میں نہیں ہوا۔ شاید ہی کسی مسلمان شاعر نے کوئی قطعہ ، قصیدہ یا نظم نذر امام حسین علیہ السلام نہ کی ہو۔ کربلا اب صرف مزار امام حسین علیہ السلام نہیں بلکہ ایک ایسی سرزمین ہے جو حق کی باطل کے خلاف معرکہ آرائی اور حاکم وقت کے ظلم و جبر اور دین نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خلاف سازش کو نیست و نابود کرنے کی شاہد ہے۔ کربلا ان آزاد مردوں کی آرام گاہ ہے جنہوں نے ذلت پر موت کو ترجیح دی۔ یوم عاشور وہ روز ہے جس نے تا قیامت حق و باطل کو جدا جدا کر دیا۔ آج بھی مظلومیت اور حق کو حسینیت اور ظلم و جبر کو یزیدیت کا نام دیا جاتا ہے۔ یوم عاشور کو پیش آنے والے جانکاہ اور المناک واقعہ نے رنج و الم کی ایک دائمی فضا طاری کر دی ہے اور بلا شبہ یہ قیامت تک جاری رہے گی۔ امام حسین علیہ السلام اہل بیت کے وہ درخشاں نگینے ہیں جو تاقیامت اپنے خوں رنگ عکس جمال سے کفر و باطل کی آنکھوں کو خیرہ کرتے رہیں گے۔
ظلم سمجھا تھا کہ جل جائے گی شعلوں میں نماز
راکھ خیموں کی کریدی تو مصلے نکلے
شہادت حضرت امام حسین علیہ السلام تاریخ کا دھارا پلٹ دینے کی داستان ہے۔ واقعہ کربلا کے دو چہرے ہیں۔ ایک برائی، وحشت ، ظلمت ، ستم گری اور بے رحمی کا چہرہ ہے اور دوسرا چہرہ زیبا ،دل افروز ، روح افزا اور پر نور ہے۔ عزاداری امام مظلوم علیہ السلام کسی ایک فرقہ یا مذہب سے مخصوص نہیں رہی ہے بلکہ ہر وہ مسلمان جس کے دل میں اہل بیت علیہ السلام کی محبت رہی ہے وہ ان کے مصائب پر غمگین رہا ہے اور اس کے ساتھ ہندو ، عیسائی اور سکھ بھی اپنے اپنے طور پر عزاداری میں حصہ لے کر محبت اور عشق کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ مرثیہ خوانی کے ذریعہ ، مذہبی انجمنوں میں عزاداری بپا کر کے اور مجلس و ماتم کے اجتماع کی شکل میں۔ سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی عزاداری میں ایک سیاسی پیغام بھی ہے۔ عدالت و حریت و آزادی کے پیکر یعنی امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اصحاب کے لئے عزاداری برپا کرنا درحقیقت ظالموں کے خلاف احتجاج اور دنیا کے مظلوموں کی حمایت کا اعلان ہے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان ہے کہ ’’ ہم گروہ انبیا کو اپنے اپنے مراتب کے لحاظ سے امتحان کی صعوبتوں میں مبتلا کیا جاتا ہے‘‘۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک جلیل القدر نبی اور پیغمبر تھے اس لئے انہیں اپنے مرتبہ کے مطابق مختلف آزمائشوں سے گزرنا پڑا اور اللہ کی رضا کے لئے اپنے بیٹے کی قربانی بھی پیش کرنا پڑی ( اللہ تعالیٰ کی منشا سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ دبنے نے لے لی) اور وہ ہر امتحان میں کامل ثابت ہوئے۔ جس قربانی کی بنیاد حضرت اسماعیل علیہ السلام نے رکھی تھی اس کی تکمیل حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرزند حضرت امام حسین علیہ السلام کی ذات بابرکات پر آ کر ہوئی۔
چند ایسے لوگ جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے کہتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام نے اقتدار کے لئے جنگ کی۔ ایسے لوگوں نے شاید کھلے ذہن و قلب سے تاریخ کو نہیں پڑھا اور نہ ہی سمجھنے کی کوشش کی۔ امام حسین علیہ السلام وہ ہستی ہیں جن کے بارے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ حسین مجھ سے اور میں حسین سے ہوں‘‘۔ ’’ حسن اور حسین نوجوانان جنت کے سردار ہیں‘‘۔ امام حسین علیہ السلام وہ ہستی ہیں کہ جب پشت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سوار ہوتے تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سجدوں کو طول دے دیتے۔ سمجھنے والے سمجھیں کہ نبی کا ہر فعل اور قول وحی الٰہی کے تابع ہوتا ہے تو سجدوں کو طول بھی اسی خدائے واحد کی منشا سے دیا گیا جس کے قبضہ قدرت میں ہر انسان کی جان ہے۔ جو ہستی خدا کو اتنی عزیز ہو کہ جس کی وجہ سے ختم المرسلین اپنے سجدوں کو طول دے دیں اور جو جنت کے نوجوانوں کی سردار ہو ، کیا ایسی ہستی اقتدار کے لئے جنگ کر سکتی ہے؟ ۔ جنگ کرنے کے لئے کوئی بھی بچوں اور خواتین کو اپنے ساتھ لے کر نہیں جاتا۔
امام حسین علیہ السلام کے ساتھ اگرچہ مٹھی بھر یعنی 72 لوگ تھے مگر تمام کے تمام جذبہ شہادت سے سرشار اور اسلام کی سربلندی کے لئے جان دینے کو تیار تھے۔ شب عاشور امام حسین علیہ السلام نے تمام افراد پر سے بیعت اٹھا لی اور سب کو اجازت دی کہ جو جانا چاہے وہ چلا جائے مگر تمام افراد نے جان دے کر جنت خریدنے پر رضا مندی ظاہر کی۔ سب سے پہلے امام حسین علیہ السلام کے لشکر کا راستہ روکنے والے حر ابن یزید ریاحی کو خدائے بزرگ و برتر نے اس طرح راہ ہدایت دکھائی کہ وہ لشکر حسینی کا پہلا شہید بن گیا۔ امام حسین علیہ السلام کے لشکر میں ہر عمر کے افراد موجود تھے۔ حسینی لشکر کے بوڑھے سپاہی زہیر بن قین نے شب عاشور اپنے عشق کا اظہار ان الفاظ میں کیا ۔ ’’ خدا کی قسم! میں راضی ہوں اور تیار ہوں کہ قتل کر دیا جاؤں ، پھر زندہ کیا جاؤں ، دوبارہ قتل کیا جاؤں، یہاں تک کہ مجھے ہزار بار قتل کریں اور پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر قتل کیا جاؤں مگر میری تمنا یہی ہو گی کہ آپ علیہ السلام کا وجود اقدس اور اہلبیت کے جوان محفوظ رہیں۔‘‘
شاید بہت سارے لوگ یہ نہ جانتے ہوں کہ لشکر حسینی میں ایک عیسائی نوجوان بھی شامل تھے جن کا نام جون ابن حری اور وہ حضرت ابوذر غفاری کے غلام تھے۔ جو ان کے بعد اہل بیت کے خدمت گزار بن گئے اور مدینہ سے کربلا تک کے راستے میں امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ رہے اور یزیدی لشکر کے خلاف داد شجاعت دیتے ہوئے شہید ہوئے۔
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین علیہ السلام
امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پہلے سے آگاہ تھے اور اس حوالے سے بہت سی احادیث تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہیں۔ اس حوالے سے ایک مشہور حدیث ہے کہ (ترجمہ) حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ میں نے ایک دن دوپہر کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خواب میں دیکھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بال بکھرے ہوئے اور گرد آلود تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ میں خون کی ایک بوتل تھی۔ میں نے پوچھا: میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر قربان ہوں، یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ حسین اور ان کے ساتھیوں کا خون ہے ، میں اسے صبح سے اکٹھا کر رہا ہوں۔ راوی کہتا ہے کہ حساب لگایا گیا تو امام حسین علیہ السلام اسی دن شہید ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ام المومنین حضرت ام سلمیٰ علیہ السلام کو مٹی کی ایک شیشی دی اور فرمایا تھا کہ ’’ اس مٹی کا رنگ جس دن سرخ ہوا سمجھ جانا کہ حسین شہید ہو گئے ہیں‘‘ ۔ اور امر واقعہ یہی ہوا کہ دس محرم الحرام کو اس شیشی میں موجود مٹی کا رنگ سرخ ہو گیا تھا۔
آج ہمیں امام حسین علیہ السلام کے تاریخی فقرے کہ ’’ مجھ جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا‘‘ کے مفہوم کو بھی سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ امام علیہ السلام نے لفظ حسین کی بجائے مجھ جیسا اور باطل کے لئے یزید جیسا لفظ استعمال کر کے یہ سمجھا دیا کہ ہر فرد کو ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا چاہئے اور کسی جابر و فاسق حکمران کی بیعت نہیں کرنی چاہئے۔
تاریخ میں صبر ایوب علیہ السلام کی مثال دی جاتی ہے مگر صبر امام حسین علیہ السلام اپنی مثال آپ ہے۔ آپ علیہ السلام نے عاشورہ کے روز اپنے 6 ماہ کے فرزند حضرت علی اصغر علیہ السلام کی شہادت کے وقت ان کا خون اپنے ہاتھ میں لیا اور آسمان کی طرف اچھال کر فرمایا: (ترجمہ) ’’یہ مصیبت بھی میرے لئے آسان ہے کیونکہ خدا اسے دیکھ رہا ہے‘‘۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ عشق خدا ہی تھا کہ جس نے امام حسین علیہ السلام کو روز عاشورہ ہر چیز کو قربان کرنے پر آمادہ کیا۔ امام حسین علیہ السلام کے پاس جو کچھ تھا وہ انہوں نے خلوص کے ساتھ رضائے خدا کی خاطر قربان کر دیا اور بالآخر اپنا سر مبارک بھی انتہائی اخلاق کے ساتھ بارگاہ الٰہی میں پیش کر کے وہ قربانی دینے میں سرخرو ہوئے جس نے اسلام کو حیات نو بخشی۔ مولانا محمد علی جوہر نے کیا خوب کہا ہے کہ
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد