سفر امام حسین ؑ مکہ سے کربلا تک۔
- تحریر سید حیدر حسین
- منگل 11 / اکتوبر / 2016
- 63592
رجب 60ھ میں یزید کی جانب سے بذریعہ خط طلبِ بیعت کے وقت امام حسینؑ اور عبداللہ ابن زبیرؓ مدینہ میں موجود تھے۔ جس کے بعد پہلے ابن زبیرؓ اور پھر امام حسینؑ عازمِ مکہ ہوئے۔ امام حسینؑ نے 28 رجب کو مدینہ چھوڑا اور اپنی ولادت کے روز 3 شعبان کو آپ وارد مکہ ہوئے ۔ مکہ میں امام حسین کو کوفیوں کی جانب سے ہزاروں کی تعداد میں خط موصول ہوئے جس میں امام حسین کو کوفہ آنے کی دعوت دی گئی تھی۔ طبری نے اپنی تاریخ میں امام حسین کے مکہ چھوڑنے کی جو ایک وجہ بیان کی ہے وہ یہ ہے۔
’’بعض لوگوں کا بیان ہے کہ انہوں نے مکہ میں دیکھا کہ حسین بن علیؓ اور عبدللہ ابن زبیرؓ دونوں کھڑے ہوئے ہیں۔ ابن زبیرؓ نے حسینؓ سے کہا یا ابنِ فاطمہ ؑ میری بات سنو، حسینؓ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے چپکے چپکے باتیں کیں پھر ہم لوگوں کی طرف مڑ کر کہنے لگے۔ تم سمجھے ابن زبیرؓ کیا کہہ رہے ہیں۔ ہم لوگوں نے عرض کیا ہم آپ پر فدا ہوجائیں ہم کچھ نہیں سمجھے۔ حسینؓ نے کہا کہ ’ یہ کہتے ہیں آپ مسجد الحرام میں رہئے میں آپ کی نصرت کے لئے لوگوں کو جمع کروں گا’۔ یہ کہہ کر حسینؓ نے کہا، اگر ایک بالشت بھر اس مسجد کے باہر میں قتل ہوجاؤں تو واللہ! میں اس بات سے بہتر سمجھتا ہوں کہ ایک بالشت بھر اندر مسجد کے قتل ہوں۔ بخدا اگر میں حشرات الارض کے کسی سوراخ میں بھی چھپوں گا تو لوگ مجھے وہاں سے نکالیں گے اور جو سلوک میرے ساتھ کرنا چاہتے ہیں ، کریں گے۔ اور واللہ مجھ پر ایسا ظلم کریں گے جیسا یہود نے روز سبت کیا تھا’’۔ (تاریخ طبری حصہ چہارم ص ۲۱۰)
امام حسینؑ کے یہ جملے بتاتے ہیں کہ انہیں اپنی شہادت کا یقین تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ یزید کی بیعت ہرگز نہیں کریں گے جس کی پاداش میں انہیں شہید کردیا جائے گا۔ اور وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ مسجد الحرام میں ان کا قتل حرمتِ خانہ کعبہ کی پامالی کا سبب بنے۔ امام حسین کی فکر ان کی شہادت کے تین سال بعد 64 ھ میں اس وقت درست ثابت ہوئی جب یزیدی فوجوں نے ابن زبیر ؓ کو قتل کرنے کے لئے خانہ کعبہ پر منجنیقوں سے حملہ کیا جس سے خانہ کعبہ کے غلاف میں آگ لگ گئی اور یزیدی فوجوں کی سنگباری سے کعبہ کی ایک دیوار بھی ڈھے گئی، اسی لئے یزید کی موت کے بعد ابن زبیرؓ کو خانہ کعبہ منہدم کرکے اسے دوبارہ تعمیرکرنا پڑا ۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے تاریخ طبری حصہ چہارم ص ۳۲۳، تاریخ ابن کثیر جلد ہشتم ص ۲۸۶)
تاریخ کی اکثر کتابیں اس بات پر متفق ہیں کہ امام حسین نے مکہ یوم عرفہ کے دن 9 ذالحجہ 60 ھ کوچھوڑا۔ (مثلاً تاریخ طبری ص ۲۲۰ ، شیخ عباس قمی کی نفس المہوم ، ص ۲۲۹ ) ، جبکہ قزوینی کے مطابق ’’ جس روز آپ نے مکہ سے عزمِ سفر عراق کیا 8 ذی الحجہ 60ھ تھی’’(ریاض القدس، قزوینی ، ص ۳۰۷ )۔ تاہم جلال الدین سیوطی نے اپنی کتاب تاریخ الخلفاء میں لکھا ہے کہ’’حضرت حسینؓ 10 ذیالحجہ 60 ھ اپنے اہل بیت کے ساتھ جس میں مرد، عورتیں اور بچے شامل تھے، مکہ معظمہ سے عراق کی طرف روانہ ہوگئے۔’’ ( تاریخ الخلفاء ، مصنف جلال الدین سیوطی، صفحہ ۴۶۲)
اس سفر کے دوران امام حسین ؑ نے متعدد مقامات پر قیام کیا ۔ مختلف تاریخوں میں آپ کے قیام کی منازل کی تعداد میں اختلاف ہے۔ تاہم وہ مقامات جہاں امام حسین ؑ نے یا تو قیام کیا یا دوران سفر کوئی اہم واقعہ پیش آیا اور جن کے بارے میں مورخین کی اکثریت کا اتفاق ہے ، اس کی تفصیل کچھ یوں ہے۔
ابطح: طبری کے مطابق جب امام حسینؑ مکہ سے روانہ ہوئے تو ابھی آپ مکہ اور منیٰ کے درمیان ’ابطٰح’ نامی مقام پر ہی پہنچے تھے کہ آپ کی ملاقات یزید بن ثبیت سے ہوئی جو بصرہ کے رہنے والے تھے۔ اور امام حسینؑ کی مکہ آمد کا سن کر آپ ؑ کی خدمت میں حاضر ہونے چل پڑے تھے۔ یزید بن ثبیت قافلہ امام حسینؑ میں شامل ہوگئے اور روز عاشور اپنے دو بیٹوں کے ہمراہ کربلا میں امام ؑ کے ساتھ شہید ہوئے۔
تنعیم : اس کے بعد جب امام ؑ کا قافلہ’ تنعیم ’پہنچا تو اس مقام پرآپ نے یمن سے آنے والے ایک قافلے سے اونٹ کرائے پر لئے۔ ایک روایت کے مطابق اسی مقام پر آپ کی ملاقات حضرت عبداللہ ابن عمرؓ سے ہوئی، جنہوں نے آپ کو عراق کے سفر سے منع کیا۔
صفاح : یہ وہ مقام ہے جس کے بارے میں متعدد مورخین کا خیال ہے کہ یہاں آپ کی ملاقات عرب کے مشہور شاعر فرزدق بن غالب سے ہوئی، جس نے امام کے استفسار پر وہ تاریخی شعر کہا ، جس کا ترجمہ ہے کہ کوفہ کے عوام کے دل آپ ؑ کے اور تلواریں بنی امیہ کے ساتھ ہیں(طبری ص ۲۱۲)۔
وادی عقیق : ’’ اس علاقہ میں پانی اور سبزہ بہت ہے اور آبادیاں کثرت سے ہیں۔ اس منزل پر عبداللہ بن جعفر طیار ؑ کے دونوں صاحبزادے عون و محمد اپنے والد کا خط لے کر امام حسین ؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے’’۔ (حدیث کربلا، طالب جوہری، ص ۱۴۹)
وادی ِ صفراء : اس کے بعد امام ؑ وادیِ صفراء پہنچے جو مدینہ کے قریب واقع ہے۔ یہاں آپ کی ملاقات مجمع بن زیاد اور عباد بن مہاجر سے ہوئی جو کربلا میں آپ کے ساتھ شہید ہوئے ۔ (ایضاً ، ص ۱۵۰)
ذات عرق: ’’اس منزل پر بشر بن غالب نے، جو عراق سے آرہا تھا ، امام سے ملاقات کی۔
حاجریا بطن الرمہ : اس منزل پر ایک کنواں ہوا کرتا تھا۔ امام نے یہاں رُکنے کا فیصلہ کیا ۔ اور یہاں سے ایک خط لکھ کر قیس بن مسہر کے ہاتھوں کوفہ روانہ کیا، جس میں آپ نے وہاں کے لوگوں کو اپنے کوفہ آنے کی اطلاع دی۔ (طبری ، ص ۲۲۰) قاصد امام حسین ؑ ، قیس بن مسہر کو قادسیہ کے قریب حصین’’ا بن نمیر نے گرفتار کرکے گورنر کوفہ ابنِ زیاد کے پاس بھیج دیا۔ ابن زیاد نے اُن سے کہا کہ قصر پر چڑھ جا اور کذاب کو سب وشتم کر، قیس چڑھ گئے قصر پر اور کہا’ ایہاالناس حسینؓ بن علیؓ بہترین خلق اللہ فرزند فاطمہ بنت رسول اللہؐ ہیں اور میں ان کا قاصد ہوکر تم لوگوں کے پاس آیا ہوں ، میں نے ان کو مقام حاجر میں چھوڑا ہے۔ ان کی نصرت کے لئے تم سب جاؤ۔ یہ کہہ کر قیس نے ابن زیاد اور اس کے باپ پر لعنت کی اور علی ابن ابی طالب کے لئے مغفرت کی۔ ابن زیاد نے حکم دیا ، قصر پر سے وہ نیچے گرادئیے گئے۔ چورچور ہوگئے اور مر گئے’’ (طبری ، ص ۲۲۱ )۔ ( مزید تفصیل تاریخ ابن کثیر جلد ہشتم ص ۲۱۸ میں دیکھئے ۔)
فید: ایک مورخ(قزوینی) کے مطابق یہاں بھی امام حسین ؑ نے قیام کیا۔
اجفر: اس منزل پر صحابی رسولؐ عبداللہ ابن مطیع ؓ نے امام ؑ سے ملاقات کی۔ طبری کے مطابق ابن مطیع ؓ نے بھی امامِ عالی مقام کو کوفہ جانے سے منع کیا۔
خزیمیہ: ’’یہاں کنویں اور تالاب اور درختوں کی کثرت تھی۔ امام حسین ؑ نے یہاں ایک دن اور ایک رات قیام فرمایا’’۔ (حدیث کربلا، طالب جوہری، ص ۱۵۸)
زرود: ’’یہاں امام حسین ؑ نے ایک شب قیام فرمایا اور دوسری صبح سفر کرتے وقت پانی کا اضافی ذخیرہ اپنے ساتھ لیااور ’ ثعلبیہ’ کی طرف سفر اختیار کیا۔ (حدیث کربلا، طالب جوہری، ص ۱۶۰)۔ اسی منزل پر امام حسین ؑ کی ملاقات زہیر ابن قین سے ہوئی جو حج کرکے اپنے قافلے کے ساتھ جارہے تھے۔ اُن کی کوشش ہوتی تھی کہ ان کا سامنا امام حسین ؑ سے نہ ہو، اس لئے سفر کے دوران امام حسین ؑ سے تھوڑے فاصلے پر رہ کر سفر کرتے رہے ۔ زہیر کے ایک ساتھی کے مطابق ’’ ایک منزل پر ایسا اتفاق ہوا سوا اس کے کوئی چارہ ہی نہ تھا کہ ہم اور حسینؓ وہیں مقام کریں۔ حسینؓ ایک طرف اترے ہم لوگ دوسری جانب اترے ہم سب کھانا کھارہے تھے کہ حسینؓ کے پاس سے ایک پیامی آیااس نے سلام کیا، اندر پہنچا اور کہا اے زہیر ابن قین ابو عبداللہ حسینؓ بن علیؓ نے مجھے تمہارے پاس اس لئے بھیجا ہے کہ تم ان کے پاس چلو۔ یہ سنتے ہی سب نے نوالہ ہاتھ سے ڈال دیا۔ معلوم ہوا کہ ہاتھوں کے طوطے اڑگئے۔ ولہم زوجہ زہیر کہنے لگی۔ سبحان اللہ فرزند رسول ؐ تم کو بلائیں اورتم ان کے پاس نہ جاؤ، گئے ہوتے آپ سے باتیں کرتے پھر چلے آتے۔ زہیر آپ کے پاس گئے اور بہت جلد خوش خوش بشاش چہرے کے ساتھ واپس آئے، اپنا خیمہ ڈیرہ سازوسامان مال ومتاع اٹھواکر حسینؓ کی طرف بھجوادیا’’(طبری، ص ۲۲۲)۔ زہیر قافلہ امام ؑ میں شامل ہو کر عاشور کو امام ؑ کی نصرت کرتے ہوئے کربلا میں شہید ہوئے۔
ثعلبیہ: 22 ذالحجہ بروز منگل امام حسین ؑ ’ ثعلبیہ’ پہنچے جہاں آپ کوکوفہ میں حضرت مسلم بن عقیل اور ہانی بن عروہ کی شہادت کی اطلاع ملی۔ اسی مقام پر امام حسین ؑ ؑ نیاپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ ’’ تم میں سے جو جانا چاہے چلا جائے ۔میں نے تم سے اپنا ذمہ اٹھا لیا ۔ یہ سنتے ہی وہ سب متفرق ہوگئے۔ کوئی داہنے جانب چلا کوئی بائیں طرف۔ یہ نوبت پہنچی کہ جو لوگ مدینہ سے آپ کے ساتھ چلے تھے بس وہی رہ گئے ’’ (طبری، ص ۲۲۳، تاریخ ابن کثیر جلد ہشتم ص ۲۱۹ )۔
ایک روایت کے مطابق اسی مقام پر ایک عیسائی نوجوان وہب بن عبداللہ کلبی، اپنی ماں اور بیوی کے ہمراہ امام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مشرف بہ اسلام ہوئے اور کربلا میں شہید ہوئے (ریاض القدس، قزوینی ، ص ۳۵۱ ) ۔ وہب کلبی کی ماں پہلی خاتون تھیں جو بروز عاشورہ کربلا میں شہید ہوئیں،اُن کے سرپر شمر کے غلام رستم نے شمر کے حکم سے لٹھ مارکر انھیں شہید کیا(طبری، ص ۲۶۴)۔
زبالہ یا زہالہ: بعض مورخین کے مطابق اس مقام پر آپؑ کواپنے رضاعی بھائی عبداللہ ابن یقطر کی شہادت کی خبر ملی۔(طبری، ص ۲۲۴)
شراف: شراف وہ مقام ہے جہاں پانی کی فراوانی کے باعث کوفہ جانے والے اکثر قافلے قیام کرتے تھے۔’’ اس منزل پر امام ؑ نے حکم دیا کہ پانی بھر لو اور مشکیں اور چھاگلیں پُر کرلو۔اس منزل سے آگے بڑھے اور اب غالباً محرم 61 ھ کا چاند فلک پر نمودار ہوچکا تھا ’’(شہید انسانیت، علامہ سید علی نقی نقوی، ص ۲۶۸ )۔ یہاں ایک شب بسر کی اور صبح کے وقت امام ؑ نے جوانوں کو پانی ذخیرہ کرنے کا حکم دیااورپھر اسی راستے پر سفر جاری رکھا۔ (حدیث کربلا، طالب جوہری، ص ۱۷۲)
ذوحسم: ’’پہلی تاریخ دوپہر کو امام حسین ؑ کاقافلہ منزل شراف کے حدود سے آگے بڑھا تھا ’’(شہید انسانیت، علامہ سید علی نقی نقوی، ص ۲۶۸) ۔ ’’ دوپہر کا وقت تھا، دور سے گرد دیکھ کر ہمراہیوں میں سے کوئی تکبیر کہہ اٹھا۔ کسی نے تکبیر کہنے کی وجہ دریافت کی ۔ جواب دیا کہ گنجان درختوں کا باغ دکھائی دیتا ہے۔ بنی اسدکے دوشخصوں نے کہا اس میدان میں کہیں درخت نہیں ہے’’(تاریخ ابن خلدون ، حصہ دوم ص۱۰۰)۔ ’’انہوں نے کہا ہمیں تو مقدمہ لشکر کا رسالہ معلوم ہوتا ہے۔ آپ نے کہا مجھے بھی ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے لئے یہاں کوئی ایسی جگہ مل سکتی ہے کہ اس کوپسِ پشت رکھ کر ان لوگوں سے ایک ہی رخ سے سامنا کریں۔ دونوں شخصوں نے کہا آپ کے پہلوہی میں ذوحسم موجود ہے’’(طبری، ص ۲۲۶ ) ۔’’ سواروں سے پیشتر آپ ؑ ہی ذوحسم پہنچ گئے۔ اور وہیں اتر پڑے۔ حکم دیا خیمے نصب ہوگئے ۔ ہزار سواروں کا لشکر لے کر حراس جلتی دوپہر میں آپ کے مقابل آکر ٹہرا۔ دیکھا آپ ؑ اور آپ کے انصار عمامے باندھے ہوئے ہیں۔ آپ ؑ نے خادموں کو حکم دیا کہ سب لوگوں کو پانی پلا کر ان کی پیاس بجھادو۔ اور گھوڑوں کو بھی پانی دکھا دو۔ خدام اٹھ کھڑے ہوئے۔ رسالہ کے سواروں کو پانی پلاپلا کر سیراب کردیا۔ پھر کاسے کڑے طشت بھر بھر کر گھوڑوں کے سامنے لے گئے۔ گھوڑا جب تین یا چار یا پانچ دفعہ پانی میں منہ ڈال چکتا تھا تو ظرف کو ہٹاکردوسرے گھوڑے کو پانی پلاتے تھے اسی طرح سب گھوڑوں کو پانی پلایا ۔ ’’(طبری، ص ۲۲۷ ) ۔
امام ؑ کا حر کے ایک سپاہی سے حسن سلوک: ’’حر کے رسالہ کا ایک شخص پیچھے رہ گیا تھا۔ وہ بیان کرتا ہے کہ آپ ؑ نے جب میری اور گھوڑے کی حالت جو پیاس سے ہورہی تھی دیکھی توکہا راویہ کو بٹھاؤ۔ میں مشک کو راویہ سمجھا تو آپ ؑ نے کہا اے لڑکے اونٹ کو بٹھا میں نے اونٹ کو بٹھایا تو کہا پیو۔ جب میں پیتا تھا مشک سے پانی اونڈل اونڈل پڑتا تھا۔ آپؑ نے کہا مشک کے دہانے کو الٹ دو۔ مجھ سے الٹتے بن نہ پڑا ۔ آپ ؑ خود اٹھ کھڑے ہوئے اور دہانہ کو الٹ دیا۔ میں نے پانی پیا اپنے گھوڑے کو بھی پلایا’’(طبری، ص ۲۲۷ ) ۔
حر کا امام عالی مقام کے پاس آنے کا سبب یہ تھا کہ جب یزیدی فوج کے ایک سپہ سالار حصین بن نمیر کو قادسیہ میں امام ؑ کے کوفہ جانے کی اطلاع ملی تو ’’ حر کو حصین بن نمیر نے قادسیہ سے ایک ہزار سپاہیوں کا دستہ دے کر امام حسین ؑ کا راستہ روکنے کے لئے بھیجا تھا۔ ’’(طبری، ص ۲۲۷ ) ۔ ذوحسم میں جب ظہر کا وقت ہوا تو آپ نے اپنے ایک صحابی حجاج بن مسروق جعفی کواذان کا حکم دیا۔’’ موذن سے کہا اقامت کہو ۔ اس نے اقامت کہی تو امام حسینؓ نے حر سے پوچھا تم لوگ کیا الگ نماز پڑھو گے۔ حر نے کہا ’ نہیں ہم سب آپ ؑ کے ساتھ نماز پڑھیں گے۔ آپ ؑ نے سب کو نماز پڑھائی اور اپنے خیمے میں چلے گئے’’(طبری، ص ۲۲۸ ) ۔ اسی طرح آپ ؑ نے نماز عصر کی بھی امامت کی۔ جس کے بعد آپ نے حر کے لشکر سے خطاب فرمایا کہ وہ کوفہ والوں کے اصرار پر یہاں آئے ہیں۔ اب اگر کوفہ والوں کو امام ؑ کا کوفہ آنا منظور نہیں تو وہ واپس مدینہ چلے جاتے ہیں۔ امام ؑ نے وہ خطوط بھی حرکو دکھائے جو انہیں لکھے گئے تھے۔ حر نے جواب دیا کہ یہ خطوط جن لوگوں نے لکھے ہیں ہم ان میں سے نہیں ہیں۔ حر نے مزید کہا کہ نہ وہ امام حسین ؑ سے جنگ کرے گا اور نہ ہی انہیں مدینہ واپس جانے دے گا۔ حر نے کہا کہ وہ ابن زیاد کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے امام ؑ کو ابن زیاد تک لے جانا چاہتا ہے۔ تاہم امام ؑ کے انکار پر حر نے کہا کہ اگر امام ؑ اس کا کہا نہیں مانتے تو وہ کسی ایسے رستے پر چلیں جونہ کوفہ جاتا ہو اور نہ مدینہ ۔(طبری، ص ۲۲۸ ) اس گفتگو کے بعد امام ؑ پھر روانہ ہوئے تو حر بھی ان کے ساتھ روانہ ہوا۔
بیضہ: اس مقام پر بھی امام عالی مقام نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا۔ جس میں آپ نے لوگوں سے اپنا تعارف کرایا اور انہیں نصیحت کی۔
عذیب الہجانات: اس مقام پر امام ؑ کی ملاقات طرماح بن عدی ، نافع بن ہلال اور ان کے دو ساتھیوں سے ہوئی جو کوفہ سے آرہے تھے۔ حر نے طرماح اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کرنا چاہا لیکن امام ؑ کے اصرار پر انہیں چھوڑ دیا۔ طرماح نے کوفہ کا حال بیان کیا اور امام ؑ سے یہ کہہ کر رخصت ہوا میں کوفہ سے اپنے اہل وعیال کے لئے کچھ غلہ وغیرہ لے کرجا رہاہوں۔ میں یہ چیزیں انھیں پہنچا کر واپس امام ؑ کی خدمت میں حاضرہوں گا۔ تاہم جب طرماح واپس آرہے تھے انھیں راستے میں امام ؑ کی شہادت کی خبر ملی تو وہ واپس چلے گئے۔ (طبری، ص۲۳۳ )
قصر بن مقاتل: جب امام حسین ؑ یہاں پہنچے تو آپ ؑ نے یہاں ایک خیمہ لگا دیکھا ۔ جس کے دروازے پر ایک خوبصورت گھوڑا بندھا ہوا تھا۔ آپ ؑ نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ خیمہ کس کا ہے ۔ معلوم ہوا یہ خیمہ عبیداللہ بن الحرجعفی کا ہے۔ امام ؑ نے اسے بلایا تو اس نے امام ؑ کے پاس جانے سے انکار کیا۔ جب آپ ؑ کو اس کے انکار کا پتہ چلا تو آپ خود اس کے خیمہ میں چلے گئے۔ اور بعد سلام اس سے امام ؑ کا ساتھ دینے کی دعوت دی۔ اس نے انکار کیا تو امام ؑ نے فرمایا،’’واللہ جو شخص ہماری فریاد سن کر ہماری نصرت نہ کرے گا وہ ہلاک ہوجائے گا’’۔ (طبری، ص۲۳۴ ) ۔ اس کے بعد آپ نے پانی بھرنے کا حکم دیا اور قصر بنی مقاتل سے روانہ ہوگئے۔
نینوا : اما م حسین ؑ جب نینوا پہنچے تو ’’کیا دیکھتے ہیں کہ ایک سوار کمان کندھے پر رکھے کوفہ سے آیا ہے اور اس نے حر بن یزید کو سلام کیا ہے اور حضرت حسینؓ کو سلام نہیں کہا اور اس نے حر کو ابن زیاد کا خط دیا ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ وہ سفر میں عراق تک کسی بستی اور قلعے میں اترے بغیر برابر حضرت حسینؓ کے ساتھ رہے یہاں تک کہ اس کے ایلچی اور اس کی فوجیں اس کے پاس پہنچ جائیں اور یہ 2 محرم 61 ھ جمعرات کا روز تھا اور جب دوسرا دن ہوا تو عمر سعد چار ہزار فوج کے ساتھ آیا’’ ۔(تاریخ ابن کثیر جلد ہشتم ص ۲۲۶ )
’’مرحوم فضل قزوینی کے مطابق امام حسین ؑ بدھ کے روز محرم الحرام کی پہلی کو اس سرزمین پر وارد ہوئے’’۔ (حدیث کربلا، طالب جوہری، ص ۱۸۵)۔ طبری کے مطابق اس خط’ ’ میں لکھا تھا کہ میرا قاصد اور میرا خط جب تمہیں پہنچے تو حسین ؓ کو بہت تنگ کرنا ۔ ان کو ایسی جگہ اترنے دینا جہاں چٹیل میدان ہو، کوئی پناہ گاہ نہ ہو۔ دیکھو قاصد کو میں نے حکم دے دیا ہے کہ وہ تم پر نگراں رہے تمہارا ساتھ نہ چھوڑے جب تک کہ میرے پاس یہ خبرلے کر نہ آئے کہ تم نے میرے حکم کو پورا کردیا۔ والسلام ’’۔ (طبری، ص۲۳۵ )
یہ خط ملنے کے بعد ’’ حر نے سب لوگوں کو اسی جگہ اترنے کے لئے مجبور کیا ، جہاں نہ پانی تھا نہ کوئی بستی تھی۔ ان لوگوں نے کہا ہمیں نینوا میں یا غاضریہ میں شفیہ میں اتر جانے دو۔ حر نے کہا واللہ ایسا نہیں کرسکتا۔ دیکھو یہ شخص جاسوسی کے لئے میرے پاس بھیجا گیا ہے’’۔(ایضاً)
اس موقع پر زہیر ابن قین نے امام حسین ؑ سے حر سے جنگ کرنے کا مشورہ دیا مگر امام حسین ؑ نے کہا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ جنگ میں پہل نہیں کروں گا۔
کربلا (عقر): جب امام ؑ کربلاپہنچے تو’’ آپ نے پوچھا یہ کونسا قریہ ہے؟ کہا اس کا نام ’عقر’(زخم) ہے، آپ نے کہا خداونداعقر سے مجھ کو بچانا اور آپ وہیں اتر پڑے۔ یہ محر م 61 ھ کی دوسری تاریخ پنج شنبہ کا دن تھا۔ اس کے دوسرے دن صبح کو عمروبن سعد چار ہزار کی سپاہ لئے ہوئے کوفہ سے یہاں وارد ہوا’’۔(ایضاً ص ۲۳۶) مورخین کی اکثریت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ امام حسین ؑ 2 محرم کو کربلا پہنچے جہاں یزیدی فوجوں نے 10 محرم الحرام 61 ھ، آپ ؑ کو آپ کے خاندان والوں اور اصحاب کے ساتھ بے دردی سے شہید کردیا ۔
بہر حق در خاک و خوں غلتیدہ است پس بنای لا الہ گردیدہ است (علامہ اقبالؔ )