‘مردے کو باعزت رہا کیا جاتا ہے‘

حال ہی میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے نے پاکستان کے اندر عدل و انصاف کی کھڑی عمارت دھڑام سے گرادی ہے۔  ایک ایسا فیصلہ جس نے ہر باشعور پاکستانی کو غمگین کردیا ہے اور جس نے گھر میں خوشیوں کے شادیانے بجانے کی بجائے صف ماتم بچھا دی ۔ مقام افسوس کہ انصاف کرنے والے بھی نہیں جانتے تھے کہ وہ جس کو انصاف دے رہے ہیں وہ تو انصاف انصاف پکارتا اپنی جوانی سلاخوں کے پیچھے گزار کر زیر زمین جا چکا ہے۔

اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق سپریم کورٹ کے فاضل جج جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے فیصلے میں فلمی ڈائیلاگ کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ہم نے فلموں میں سنا تھا کہ ملزم کہا کرتے تھے جج صاحب میرے بارہ سال لوٹا دو ، فاضل عدالت نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ جس شخص نے بےگناہ ہوتے ہوئے19سال سزا کاٹی ہے اس کا ازالہ کیسے ہوگا۔

اس کیس کی جو تفصیلات اب تک منظر عام پر آئی ہیں ان کے مطابق ہے کہ 1997میں مظہر حسین نامی شخص اور دیگر دو افراد پر قتل کا الزام لگا اور اسی سال اس کی گرفتاری ہو گئی تھی۔ پولیس نے اپنی روائتی کارروائی کرتے ہوئے علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا اور ساتھ ہی پولیس کی ایف آئی آر اور ضمنیاں بھی پیش کر دی گئیں۔ یہ دونوں پاکستان میں ہمیشہ ہی غلط اور ناانصافی پر مبنی تصور کی جاتی ہیں۔ مقدمہ چلا اوانہی کاغذات پر انحصارکرتے ہوئے عدالت نے کیس کی مکمل چھان بین کرائے بغیر فیصلہ دیتے ہوئے سزائے موت سنا دی۔ اس کے بعد سیشن جج کی عدالت اور ہائی کورٹ تک یہی سزا بحال رکھی گئی۔ 2010 میں مظہر حسین کی فیملی نے انصاف کے لئے سپریم کورٹ میں عدل کی گھنٹی بجائی جوچھ سال تک بجتی رہ لیکن کچھ حاصل نہ ہوا۔

اس دوران انصاف کی جستجو کرتے کرتے مظہر حسین کے پیارے دنیا سے کوچ کرتے رہے۔ سب سے پہلے مظہر کا باپ بیٹے کی آزادی کی حسرت لئے دنیا سے روانہ ہو گیا ، اس کے بعد اس کے دو چچا بھی اپنے بھتیجے کے لئے انصاف کی تلاش میں مارے مارے پھرتے رہے اور بالاخر ہمت ہار گئے ۔ بیس مارچ2014 کو خود مظہر بھی اپنی بیوی بچوں کے ساتھ دوبارہ ملنے کی آس دل میں لئے سفر آخر پر روانہ ہو گیا۔ مظہر جب جیل گیا تھا اس وقت اس کے چھوٹے بیٹے کی عمر چھ ماہ تھی جو اب بیس سال کا ہو چکا ہے اور دوسرا بیٹا آٹھ سال کا تھا جو اب اٹھائیس سال کا ہو چکا ہے۔ وہ سب اپنے باپ کی رہائی کے لئے انصاف کی دہائیاں دیتے رہے لیکن کسی نے ان کی دہائیاں نہ سنیں۔ مظہر کی وفات کے بعد اہل خانہ کا کیس کی پیروی کرنے کا کوئی جواز نہ رہا تھا۔ لہذا وہ رو دھو کر خاموش ہو گئے۔ مظہر کی ماں کی آنکھوں کی بینائی روتے روتے  ختم ہو گئی۔ لیکن انصاف کی آنکھوں پر بندھی پٹی نہ اتر سکی۔ مظہر کی جوان بیوی اپنے بیگناہ شوہر کے ساتھ ملن کی آس لئے اس کے بچوں کو پالتی رہی۔ کہ ایک دن اس کے بچوں کا باپ آئے گا تو ان کی شادیاں کرے گا اور گھر میں خوشی کے شادیانے بجیں گے۔ لیکن یہ سب کچھ ایک خواب کی مانند ایک سپنا رہا۔ ایک دن مظہر آنکھیں بند کئے گھر پہنچ گیا اور خاموشی سے اگلی منزل کی طرف روانہ ہو گیا۔

انیس سال بعد پاکستان کی سب سے بڑی عدالت میں یہ آواز گونجتی ہے کہ مظہر پر قتل کا الزام ثابت نہ ہوسکا لہذا اس کو باعزت بری کر دیا جائے۔  یہ  فیصلہ عدلیہ ، ملکی انصاف اور فرسودہ عدالتی نظام کی قلعی کھولتا ہے۔ بعد از مرگ انصاف پورے ملکی نظام کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے۔ یہ ایک مظہر کا معاملہ نہیں تھا اس کے ساتھ پورا خاندان تھا جو ناقص ملکی نظام عدل نے بکھیرکر رکھ دیا ہے۔ یہ ایک عدالتی قتل کے مترادف ہے۔ ایک انسان کا قتل ہوا ۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی ایک اور کیس کا فیصلہ بھی سامنے آیا ہے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس سعید کھوسہ نے چند دن قبل ہی 15سال سے سلاخوں کے پیچھے قید ملزم اعجاز حسین شاہ کو رہا کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ اس کے خلاف قتل ثابت نہیں ہو سکا۔  اس کو بھی سزائے موت کا حکم سنایا گیا تھا۔ اورملزم نومبر2000 سے جیل میں ہے اور پندرہ سال کی قید کے بعد اس کے بیگناہ قرار دیا گیا۔

عدل اور انصاف کے بغیر ملک اور معاشرے برباد ہو جاتے ہیں اور اجڑ جاتے ہیں۔ وہاں نہ امن رہتا ہے اور نہ ہی رزق کی فراوانی ہوتی ہے۔ آج پاکستان کی حالت زار دیکھیں تو تمام مسائل کی بنیادی وجہ انصاف کا فقدان ہی دکھائی دے گی۔ یہ حالت ہے ہمارے عدالتی نظام اور انصاف کی۔ ہماری سوسائٹی میں احساس سے عاری لوگوں کا غلبہ ہوتا جا رہا ہے اور ایسے لوگوں اور پتھروں کے مابین زیادہ فرق نہیں رہتا دونوں ہی سخت ہوتے ہیں اور دونوں سے کسی کو فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ پاکستان میں عدل صرف طاقتوروں تک ہی محدود رہ گیا ہے۔ تاریخ عالم کے فلاسفروں کی زندگیوں پر نظر ڈالیں تو انہوں نے بھی اپنے دور میں انصاف اور عدل کو ہی اولیت دی اور سب باتوں ان کوپر فوقیت دی تھی۔ افلاطون کا مشہور قول ہے کہ انصاف ہی انسان کے لئے بہترین انعام اور صلہ ہے۔ سقراط نے کہا تھا کہ عدل کسی خاص طبقے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں معاشرے کے تمام طبقے برابر کے شریک ہیں۔ شیر شاہ سوری کا مشہور قول ہے کہ انصاف سب سے بڑا مذہبی فریضہ ہے۔

پاکستان کے اندر کے معاملات سنبھلتے اور سنورتے دکھائی نہیں دیتے۔ ہماری اجتماعی سوچ منفی ہو چکی ہے ہم سب اذیت پسند ہو چکے ہیں۔ دوسروں کو برباد اور تباہ کرنے کی تمنا اور خواہش نے معاشرے کے اندر منفی رویوں کو پروان چڑھایاہے۔  مذہب کو ریاستی مذہب قرار دے کر اب اسی کے سنہری اصولوں کی ریاستی سطح پر توہین کی جا رہی ہے۔ نظریاتی بنیاد پر کھڑی ہونی والی ریاستی عمارت کے درو دیوار میں رنگ برنگ کی اینٹیں لگانے سے اس عمارت کہ شکل ہی بدلتی جا رہی ہے۔ اور ہمارے ہاں ایک دو نہیں بیک وقت کئی قسم کے نظریات اور تصورات نے اس عمارت کے باسیوں کو اس کی حقیقی منزل سے دور کردیا ہے۔

کسی بھی ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں امن و امان کا قیام اولین فریضہ ہوتا ہے اور اس کے بعد ہر شہری کو تحفظ اور عدل و انصاف کی فراہمی ریاست کا کام ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ستر برس گزر جانے کے باوجود ہمارے ہاں تنزلی کا سفر جاری ہے۔ مختلف تجربے کئے جا چکے ہیں  لیکن ہر تجربہ ناکام رہا۔ فوجی حکومتیں بھی رہیں اور نگران بھی اور سیاسی و جمہوری بھی۔ لیکن ہر دور میں عوامی استحصال ہی ہوا۔ ہر دور میں سبز باغ ہی دکھائے گئے۔ مولویوں نے بھی اسلام کے نام سیاست میں  حصہ بانٹ رکھا ہے۔ لیکن زوال کا سفر ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ ہماری زبوں حالی کے نت نئے افسانے اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ ان کو پڑھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ 

اب سپریم کورٹ کے فیصلے نے عام آدمی کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ ہماری کوئی منزل نہیں ۔ ہمارے رہبر خود ایسی راہوں کے مسافر ہیں جس کی کوئی منزل نہیں ہوتی۔