کوفہ شہر کا آدمی اخبار دیکھتا ہے
- تحریر حسنین جمال
- منگل 11 / اکتوبر / 2016
- 5878
جب دس ہزار دینار زادوں نے اِمامؑ کے مقابل صف بندی کی تو یہ آدمی زیتون کے روغن میں اپنی روٹی چور چور کے کھا رہا تھا۔ پاس ہی دودھ سے بھرے پیالے میں حلب کے خرمے پڑے بھیگتے تھے اور شیشے کے ایک ظرف میں کوئی عرق تھا اور یہ ظرف یخ سے زیادہ سرد ہو رہا تھا۔
خبر ملی کہ اشرار آمادۂ فساد ہیں، تو اس آدمی نے روغن میں سَنے ہوئے دونوں ہاتھ طمانیت کے ساتھ اپنے چہرے پر مَلے اور کہنے لگا، ’’امامؑ حق کے ساتھ ہیں اور حق غالب آنے والا ہے‘‘۔ پھر اس نے ڈکار لی ، امامؑ کو یاد کیا اور ان کے لیے اور ان کی جماعت کے لیے اللہ کی نصرت طلب کی اور دسترخوان کے برابر پڑے تکیے سے ٹیک لگا لی۔ پھر وہیں کروٹ لے کر سو گیا۔
جب خبر آئی کہ سچّوں پر پانی بند کر دیا گیاہے تو روتے ہوئے اس نے اپنے ہاتھ کی ایک ضرب سے عرق کے ظروف اوندھا دیے اور پکار کر کہنے لگا کہ وائے افسوس! سگِ دنیا ابنِ زیاد نے اور اس کے زرخرید کتّوں نے اپنی جانوں کو ہلاکت میں ڈال دیا!اس بار وہ بہت دیر تک رویا اور کرب و انتشار میں جاگتا رہا۔ کہیں صبح ہوتے ہوتے اسے نیند آئی۔
پھر پتا چلا کہ ایک پاکیزہ خصلت جوان، بچّوں اور بیماروں کے لیے پھرا ہوا مشکیزہ لاتا تھا کہ بدخصالوں کے ہاتھوں شہید ہوا۔ یہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اب کے اس نے ایک پہر نالہ و شیون کیا اور سینہ زنی کی اور اب کے بھوک اور پیاس اور نینداس سے رخصت ہو گئے اور یہ سوچتا رہا کہ کچھ کرے، اس لیے کہ ان صادقوں کے لیے اس کا دل خون روتا تھا۔
سو اس نے کچھ اور نہ کیا، بس گڑ گڑ ا کر دعا کی کہ بار الہاٰ! تیرے محبوبؐ کی آل اپنے گھروں سے نکلی ہے اور تو جانتا ہے کہ وہ لوگ حق پر ہیں اور تو ہی ان کا حامی و ناصر ہے۔ پھر کیوں کہ اس تمام کاوش سے یہ کسل مند ہو گیا تھا اس لیے روتے روتے اس نے کچھ دیر کو آرام کیا اور دیوار سے ٹکے ٹکے سو گیا۔
شہر کوفے کا ایک آدمی، اسد محمد خاں کے اس افسانے میں وہ ہمیشگی نظر آتی ہے کہ جب جب کہیں سے بری خبریں آتی ہیں، اور پڑھنے والا آرام سے بستر پر لیٹا پڑھ رہا ہوتا ہے، تو خود کو یہی آدمی تصور کرتا ہے۔ افسانے کا یہ ٹکڑا اس کشمکش کو ظاہر کرتا ہے جس میں ہم سب ہر وقت گرفتار رہتے ہیں۔
ہم نے ہر دور میں ہر میڈیا پر سنسر شپ دیکھی۔ ہماری نسلیں صحافت اور ذرائع ابلاغ پر مختلف پابندیاں دیکھتی ہوئی جوان ہوئیں اور پھر بوڑھی ہو گئیں، پابندیاں لگانے والے جوان رہے۔ ہم نے فاطمہ جناح کی تقریر سنسر ہوتے دیکھی، ہم نے خبرناموں کو پریس ریلیز میں بدلتے دیکھا، ہم نے ڈراموں کے بیڈروم سین میں بھی خواتین کو اوڑھنی کی اوٹ میں چھپ کر اچکن پوش ہیرو سے اردوئے معلیٰ میں اخلاقی مکالمہ کرتے سنا۔ ہمیں سی این این پر چوکور ڈبیاں بنی دکھائی دیں، بارہا ہندوستانی فلموں پر پابندی کا ہمیں بتلایا گیا، یوٹیوب پر بندش دیکھنا ان آنکھوں کو نصیب ہوا، 2010 کے بعد سے ہم نے یہ بھی جانا کہ انٹرنیٹ پر کیا دیکھنا ہے اور کیا نہیں دیکھا جا سکتا، لوگوں کے ایس ایم ایس تک فلٹر ہوئے، ایک ہزار سے زیادہ الفاظ چنے گئے اور PTA کو حکم ہوا کہ انہیں فلٹر کریں، ہم نے مالک فلم پر پابندی لگتے دیکھی، ہم نے اڈاری ڈرامے پر اڑی دھول دیکھی اور اب ہم ایک نوجوان، ذہین اور صف اول کے ذمہ دار صحافی پر لگی پابندی کے گواہ ہوئے۔ ہم نے دیکھا کہ چوتھا حساس ترین علاقہ اس خطے کو قرار دیا گیا، جب جب صحافیوں کے تحفظ کی بات چلی۔
کتابوں میں لکھا ہے “اگر تمہارے بارے میں خبریں اُچھالی جاتی ہیں تو تمہارا اچھا چال چلن ان باتوں کو جھوٹا ثابت کر سکتا ہے۔” اور ”حکمت اپنے کاموں سے راست ثابت ہوتی ہے۔“ ہم نے ہر افواہ کو درست خبر اور اکثر تصدیق شدہ خبروں کو افواہ میں بدلتے دیکھا ہے۔ ہم نے بارہا دیکھا کہ تردید کرنے والا بھی جانتا تھا کہ خبر درست تھی، اور تصدیق کرنے والا بھی جانتا تھا کہ خبر غلط تھی۔ سرل المیڈہ کی اس خبر کو ہم کسی بھی خانے میں بٹھا سکتے تھے۔ تین روز گزرنے کے بعد ویسے بھی ایک خبر کی اہمیت کم ہو جاتی ہے، سو اس کی بھی ہو گئی تھی۔ ایک آدھ ہفتہ گزرنے دیا جاتا تو شاید اس کا اثر تحلیل ہو چکا ہوتا۔ لیکن پے در پے تردید اور اب سیرل پر لگائی گئی پابندی سے خبر پڑھنے والوں کو دوبارہ اس خبر کے بارے میں سوچنا پڑ رہا ہے۔ بیرونی دنیا میں بھی یہ خبر دلچسپی سے پڑھی گئی اور اس کی بنیاد پر رائے سازی شروع ہوئی لیکن ایک محدود حلقے میں یہ سب ہوا۔ پابندی کے بعد سے یہ خبر جنگل کی آگ بن چکی ہے، دنیا بھر کے میڈیا پر اس کا ذکر ہو رہا ہے، سرل المیڈہ سوشل میڈیا کے ٹاپ ٹرینڈ میں ہیں، جو ان پر پابندی کا پڑھتا ہے، وہ ڈھونڈ ڈھانڈ کر پوری خبر بھی دیکھتا ہے۔
اگر یہ پابندی سوچ سمجھ کر لگائی گئی ہے تو اس سے کیا فائدہ مطلوب تھا، اس سوال کا جواب شاید پچاس برس بعد کی کتابوں ملے۔
(بشکریہ ‘ہم سب‘ لاہور)